Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أنس بن مالك عن زيد بن ثابت · حديث 4803

4799 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا حرمي بن عمارة ثنا الضحاك بن نبراس ثنا ثابت البناني عن أنس بن مالك عن زيد بن ثابت قال Y كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نريد الصلاة فكان يقارب الخطى فقال : أتدري لم أقارب الخطى ؟ فقلت : الله ورسوله أعلم فقال : لا يزال العبد في صلاة ما دام في طلب الصلاة

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہم نماز کے لیے جارہےتھے ، آپ ایک دوسرے کے قریب اپنے قدم رکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ میں نے قدم کیوں ایک دوسرے کے قریب رکھے ہیں ؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب تک نماز کی طلب میں ہوتا ہے تو نماز ہی میں ہوتا ہے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← الضحاك بن نبراس ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4803

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أنس بن مالك عن زيد بن ثابت · حديث 4804

4800 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا أبو حفص عمرو بن علي ثنا أبو داود الطيالسي ثنا محمد بن ثابت البناني عن أبيه عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال Y كنت أمشي مع زيد بن ثابت إلى المسجد فقارب بين الخطى ثم قال : أتدري لم مشيت بك هذه المشية قلت : لا قال : كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقارب بين الخطى فقال : أتدري لم مشيت بك هذه المشية ؟ قلت : لا قال : لتكثر خطانا في المشي إلى الصلاة

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں زید بن ثابت کے ساتھ مسجد کی طرف چل رہا تھا، پھر قدم ایک دوسرے کے قریب رکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو کہ میں ایسے کیوں چلا ہوں ؟ میں نے عرض کی: نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تا کہ نماز کے لیے جاتے وقت زیادہ سے زیادہ قدم لکھے جائیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن ثابت البناني ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4804

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو هريرة عن زيد بن ثابت · حديث 4805

4801 - حدثنا محمد بن الحسين الأنماطي ثنا مصعب بن عبد الله الزبيري ثنا ابن أبي حازم عن عبد الله بن عامر عن الأعرج عن أبي هريرة رضى الله عنه زيد بن ثابت عن رسول الله قال Y لا يزال الله في حاجة العبد ما كان العبد في حاجة أخيه

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب تک اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے ، اللہ عزوجل اس بندے کی ضرورت پوری کرتا رہتا ہے ۔

لا يزال الله في حاجة العبد ما كان العبد في حاجة أخيه ← رَسُولِ اللَّهِ ← أبي هريرة زيد بن ثابت ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4805

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو هريرة عن زيد بن ثابت · حديث 4806

4802 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ثنا عبد الله بن عامر الأسلمي عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يزال الله في حاجة العبد مادام حاجة أخيه

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب تک اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے ، اللہ عزوجل اس بندے کی ضرورت پوری کرتا رہتا ہے ۔

لا يزال الله في حاجة العبد مادام حاجة أخيه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4806

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو الدرداء عن زيد بن ثابت · حديث 4807

4803 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا أبو بكر بن أبي مريم عن ضمرة بن حبيب عن أبي الدرداء عن زيد بن ثابت Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم علمه هذا الدعاء وأمره أن يتعلمه ويتعاهد به أهله في كل يوم يقول حين يصبح لبيك اللهم لبيك وسعيديك الخير في يديك ومنك وبك وإليك اللهم ما قلت من قول أو حلفت من حلف أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يديه ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن ولا حول ولا قوة إلا بك إنك على كل شيء قدير اللهم ما صليت من صلاة فعلى من صليت وما لعنت من لعنة فعلى من لعنت إنك وليي في الدنا والآخرة توفني مسلما وألحقني بالصالحين اللهم إني أسألك الرضى بعد القضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر في وجهك الكريم وشوقا إلى لقائك من غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة أعوذ بك اللهم أن أظلم أو أظلم أو أعتدي أو يعتدى علي أو أكسب خطيئة مخطئة أو ذنبا لا يغفر اللهم فاطر السماوات والأرض عالم الغيب والشهادة ذا الجلال والإكرام فإني أعهد إليك في هذه الحياة الدنيا وأشهدك وكفى بك شهيدا إني أشهد أن لا إله إلا الله وحدك لا شريك لك لك الملك ولك الحمد وأنت على كل شيء قدير وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك وأشهد أن وعدك حق ولقاءك حق والساعة آتية لا ريب فيها وإنك تبعث من في القبور وأشهد أنك إن تكلني إلى نفسي تكلني إلى ضعف وعورة وذنب وخلل وخطيئة إني لا أثق إلا برحمتك وأغفر لي ذنبي كله إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت وتب علي إنك أنت التواب الرحيم

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا سکھائی اور اگے سکھانے کا حکم دیا اور ہر دن گھر والوں کو پڑھنے کے متعلق یاد کروانے کا حکم دیا جس وقت صبح ہو وہ دعا یہ ہے کہ " میں حاضر ہوں " اے اللہ ! میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، تیری طرف سے ہے ، ساتھ ساتھ ہے اور تیری طرف ہے ، اے اللہ ! جو بات میں نے کہی، جو حلف میں نے اٹھایا یا جو نذر میں نے مانی پس تیری مشیت اس سے آگے ہو جو تو نے چاہا وہ ہوا اور جو تو نے نہ چاہا وہ نہ ہوسکا۔ ہر قسم کی قوت و طاقت تیری دی ہوئی توفیق سے ہے ، بے شک تو ہر چاہت پر قادر ہے ۔ اے اللہ! جو میں نے نماز پڑھی ، پس وہ اس پر ہے جس پر تو نے رحمت فرمائی ، جو تو نے لعنت فرمائی وہ اسی پر ہے جس پر تونے لعنت کی۔ دنیا و آخرت میں تو مدد گار ہے ۔ مجھے موت دینا اس حال میں کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے نیکوں کے ساتھ ملانا ۔ اے اللہ ! میں قضا کے بعد تیری رضا کا سوالی ہوں ، موت کے بعد ٹھنڈی زندگی کا، تیرے دیدار کا اور بغیر کسی نقصان اور گمراہ کن فتنہ کے تیری ملاقات کے شوق کا ( سوال ہے) ۔ میں تیری پناہ کا طلبگار ہوں ، اے اللہ ! اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر کیا جائے ، میں زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے، میں خطا کروں یا کوئی میرے حق میں خطا کرے اور ایسا گناہ جس کی بخشش نہیں ۔ اے اللہ ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ، غیب و حاضر کے جاننے والے اور جلال و اکرام والے ! میں اس دنیوی زندگی میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں ، تجھے گواہ بناتا ہوں اور تو گواہ کافی ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، بادشاہیاں تیرے لیے ہیں ، حمد تیرے لیے ہے اور تو ہر شے پر قادر ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچ ہے ، تیری ملاقات برحق ہے اور قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔ قبروں والو خو تو جلا کر اٹھائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کے حوالے کیا تو مجھے ایک کمزور کے حوالے کیا، عورت ، گناہ ، خلل اور خطاء کے ( حوالے کیا) میں تو صرف تیری رحمت پر یقین رکھتا ہوں ، میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ تو ہی گناہ بخشنے والا ہے ، میری تو بہ قبول فرما، کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرماتے والا ہے " ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4807

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبد الله بن يزيد الخطمي عن زيد بن ثابت · حديث 4808

4804 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حرب و عمرو بن رزوق قالا ثنا شعبة عن عدي بن ثابت عن عبد الله بن يزيد قال سمعت زيد بن ثابت يقول Y لما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أحد رجع قوم من الطريق فكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم فرقتين فرقة تقول : أقبلهم فرقة تقول : لا تقبلهم فأنزل الله عز و جل { فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا }

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے کچھ لوگ راستے سے واپس آئے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اس بارے میں دو گروہ ہو گئے ، ایک گروہ کہنے لگا: ان کو قبول کر لو! ایک کہنے لگا: ان کو قبول نہ کرو، اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : " فما لکم فی المنافقین الیٰ آخرہٖ"۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سليمان بن حرب و عمرو بن رزوق ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4808

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبد الله بن يزيد الخطمي عن زيد بن ثابت · حديث 4809

4805 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا إبراهيم بن أبي الليث ثنا الأشجعي عن سفيان عن جابر عن عدي بن ثابت عن عبد الله ابن يزيد عن زيد بن ثابت { فما لكم في المنافقين فئتين } قال Y كان المنافقون وأصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في بيت فقالت طائفة : لوددنا أنهم برزوا لنا فقاتلناهم وكرهت طائفة ذلك حتى علت أصواتهم فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لزيد : اكتبها { فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا }

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد: " فما لکم فی المنافقین فئتین" کی تفسیر کرتے ہیں : منافق لوگ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک گھر میں تھے ، ایک گروہ نے کہا: ہماری خواہش یہ ہے کہ ان کو ہمارے سامنے لایا جائے اور ہم ان کو قتل کریں ، ایک گروہ نے ناپسند کیا یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوئی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے ، مجھے فرمایا: لکھو "" فما لکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسوا" تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو گئے اور اللہ نے انہیں اوندھا کر دیا۔

طائفة لوددنا ← كان المنافقون وأصحاب النبي صلى الله عليه و سلم في بيت ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عبد الله ابن يزيد ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4809

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبد الله بن يزيد الخطمي عن زيد بن ثابت · حديث 4810

4806 - حدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا علي بن نصر ابن علي ثنا عثمان بن اليمان ثنا عبد الصمد بن سليمان قال حدثني يحيى بن عبد الحميد عن عبد الله بن يزيد عن زيد بن ثابت قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا زيد أعط زكاة رأسك مع الناس وإن لم تجد إلا صاعا من حنطة

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زید ! لوگوں کے ساتھ اپنے سر کی زکوٰۃ دے اور اگر نہ پائے تو ایک صاع گندم دے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← يحيى بن عبد الحميد ← عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ، ← علي بن نصر ابن علي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4810

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عدي بن عميرة الكندي عن زيد بن ثابت · حديث 4811

4807 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن عدي بن عدي عن أبيه أو عمه Y أن مملوكا كان يقال له كيسان فسمى نفسه قيسا وادعى إلى مولاه ولحق بالكوفة فركب أبوه إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال : يا أمير المؤمنين ابني ولد على فراشي ثم رغب عني وادعى إلى مولاه ومولاي فقال عمر لزيد بن ثابت : أما تعلم إنا كنا نقرأ ( ا ترغبوا عن آبائكم فإنه كفر بكم ) فقال زيد : بلى فقال له عمر : انطلق فاقرن ابنك إلى بعيرك فانطلق فاضرب بعيرك سوطا وابنك سوطا حتى تأتي به أهلك

حضرت عدی بن عدی اپنے والد سے ، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں : ان کا غلام تھا جس کا نام کیسان تھا، اس نے اپنا نام قیس رکھ لیا، اپنے مولا سے منسوب ہونے کا دعویٰ کیا، کوفہ چلا گیا، اس کا باپ سوار ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، عرض کی: اے امیر المؤمنین ! میرا بیٹا میرے بستر پر پیدا ہوا ہے ، پھر مجھ سے بے رغبت ہوا، اپنے مولا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس کا اور میرا آقا ایک ہی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم پڑھا کرتے تھے کہ تم اپنے آباء سے بے رغبت نہ ہو، کیونکہ یہ کفر ہے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیوں نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جاؤ ! اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ پر سوار کرو، جاؤ اور ایک ڈنڈا اپنے اونٹ کو اور ایک ڈنڈا اپنے بیٹے کو مارو یہاں تک کہ اس کو اپنے گھر لے آؤ۔

أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4811

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت · حديث 4812

4808 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمد بن المثنى ثنا عثمان ابن عثمان الغطفاني قال أخبرني ابن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال Y كنت مع قوم اختلفوا في صلاة الوسطى وأنا أصغر القوم فبعثوني إلى زيد بن ثابت لأسأله عن صلاة الوسطى قال : فأتيته فسألته فقال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر بالهاجرة والناس في قائلتهم وأسواقهم فلم يكن يصلي وراء رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا الصف والصف فأنزل الله عز و جل { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لينتهين أقوام أو لأحرقن بيوتهم

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا جنہوں نے نماز وسطیٰ میں اختلاف کیا ، میں لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا، مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف نماز وسطیٰ کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا، جب آپ کے پاس آیا تو میں نے آپ سے پوچھا ، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہر دوپہر کے وقت پڑھتے اور لوگ قیلولہ میں ہوتے اور بازاروں میں پھر رہے ہوتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک صف ہوتی تھی ، اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :" ساری نمازیں پڑھو اور نماز وسطیٰ خاص کرکے اور اللہ کے حضور عاجزی کرو" حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ نماز چھوڑنے سے باز آجائیں ! ورنہ ان کو ان کے گھروں میں چلا دیا جائے گا۔

فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، ← صلاة الوسطى ← أصغر القوم فبعثوني إلى زيد بن ثابت لأسأله ← كنت مع قوم اختلفوا في صلاة الوسطى ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عثمان ابن عثمان الغطفاني ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4812

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت · حديث 4813

4809 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ثنا عبد الله بن عامر عن أبي الزناد عن سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : ألا أدلكم على كنز من كنوز الجنة تكثرون من قول لا حول ولا قوة إلا بالله

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے : کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ کے متعلق نہ بتاؤں ! کثرت سے لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھو۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4813

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت · حديث 4814

4810 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا أبو مصعب ( ح ) وحدثنا أبو حصين القاضي ثنا يحيى بن الحماني قالا ثنا عبد العزيز بن محمد بن يونس بن يوسف بن خماس عن سعيد بن المسيب عن زيد بن ثابت Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم هنى عن بيع الثمار حتى تنجو من العاهة

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا: تاکہ وہ آفت سے بچ جائیں۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عبد العزيز بن محمد بن يونس بن يوسف بن خماس ← يَحْيَى بْنُ الْحِمَّانِيِّ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4814

chevron_left Previous
1…131415…56
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter