المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ 445 - ربيعة بن كعب الأسلمي يكنى أبا فراس · حديث 4579
4577 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا اسد بن موسى ( ح ) وحدثنا يوسف القاضي ثنا عمرو بن مروزق قالا ثنا مبارك بن فضالة ثنا أبو عمران الجوني عن ربيعة الأسلمي قال Y كنت أخدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاني أرضا وأعطى أبا بكر أرضا وجاءت الدنيا فاختلفنا في عذق نخلة فقال أبو بكر رضي الله عنه : هي في حد أرضي وقلت أنا هي في حدي وكان بيني وبين أبي بكر كلام فقال لي أبو بكر كلمة كرهتها وندم فقال لي : يا ربيعة رد علي مثلها حتى يكون قصاصا قلت : لا أفعل فقال أبو بكر : لتقولن أو لأستعدين عليك رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : ما أنا بفاعل قال : ورفض الأرض فانطلق أبو بكر رضي الله عنه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فانطلقت أتلوه فجاء أناس من أسلم فقالوا : رحم الله أبا بكر في أي شيء يستعدي عليك رسول الله وهو ثاني اثنين وهو ذو شيبة المسلمين فأياكم يلتفت فيراكم تنصروني عليه فيغضب فيأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيغضب لغضبه فيغضب الله لغضبهما فيهلك ربيعة قالوا : فما تأمرنا ؟ قال : ارجعوا فانطلق أبو بكر رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وتبعته وحدي وجعلت أتلوا حتى أتى النبي صلى الله عليه و سلم فحدثه الحديث كما كان فرفع إلي رأسه فقال : يا ربيعة مالك و للصديق قلت : يا رسول الله كان كذا وكان كذا : فقال لي كلمة كرهتها فقال لي : قل كما قلت لك حتى يكون قصاصا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أجل فلا ترد عليه ولكن قل غفر الله لك يا أبا بكر غفر الله لك يا أبا بكر قال : فولى أبو بكر رحمه الله وهو يبكي
حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زمین دی، حضرت ابوبکر کو زمین دی، اور دنیا یوں آئی کہ ہمارا کھجور کے گچھے ( خوشے) میں اختلاف ہوا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری زمین کی حد میں ہے ، میں نے کہا : میری حد میں ہے ، میرے اور ابو بکر کے درمیان گرما گرم گفتگو ہوئی ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بات کی تو میں نے اس کو نا پسند کیا اور اس پر شرمندہ ہوا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ربیعہ ! مجھے ایسی بات کرتا کہ اس کا بدلہ ہو جائے ۔ میں نے عرض کی: میں ایسا نہیں کروں گا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ضرور کہیں گے ورنہ میں آپ کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد طلب کروں گا، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا۔ راوی کا بیان ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زمین چھوڑ دی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے ، میں ان کے پیچھے آیا، بنو اسلم سے کچھ لوگ آئے ، انہوں نے کہا: اللہ ابوبکر پر رحم کرے ! کون سی شے حضرت ابوبکر کس چیز میں مدد مانگیں تیرے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ وہی ہیں جنہوں نے کہا ہے جو کہا ہے ؟ میں نے کہا : کیا آپ اس کو جانتے ہیں ؟ یہ ابو بکر صدیق ہے ، یہ ثانی اثنین ہے، مسلمانوں کے بڑے آدمی ہیں ، پس تم اللہ سے ڈرو ، وہ متوجہ ہو کر تمہیں دیکھ رہے ہیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو، وہ ناراض ہوں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں گے اور اللہ ان دونوں کے غضب کی وجہ سے غصب کرے گا، ربیعہ ہلاک ہوگا۔ انہوں نے کہا: ہمیں کیا حکم کرے ، ربیعہ ہلاک ہوگا ۔ انہوں نے کہا : ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آئے اور میں بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل کر آیا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی جیسے ہوئی ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے طرف سر اٹھایا اور فرمایا: اے ربیعہ ! آپ کو اور ابو بکر کو کیا ہے ؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ایسے ایسے بات ہوئی ہے ، مجھے ایسی بات کہی جسے میں ناپسند کرتا ہوں اور مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے ایسی بات کہو جس طرح میں نے آپ کو کہا تاکہ بدلہ ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا، ان کی بات کا جواب نہیں دیا لیکن تم کہو: اے ابوبکر ! اللہ آپ کو بخشے! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ واپس گئے، اس حال میں کہ رو رہے تھے۔
رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← عمرو بن مروزق ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4579
