Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 417 - ذو اليدين ويقال اسمه الخرباق ويكنى أبا العريان · حديث 4225

4224 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن المثنى ثنا معدي بن سليمان ثنا شعيب بن مطير Y عن أبيه مطير و مطير حاضر يصدقه بمقالته قال : كيف كنت أخبرتك ؟ قال : يا أبتاه أخبرتني أنه لقيك ذو اليدين بذي خشب فأخبرك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بهم إحدى صلاتي العشي وهي العصر فصلى ركعتين ثم سلم وخرج سرعان الناس وهم يقولون : قصرت الصلاة وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم واتبعه أبو بكر و عمر رحمها الله فلحقه ذو اليدين فقال : يا رسول الله أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فقال : ما قصرت الصلاة وما نسيت ثم أقبل على أبي بكر و عمر رضي الله عنهما فقال : ما يقول ذو اليدين ؟ فقالا : صدق يا رسول الله فرجع رسول الله صلى الله عليه و سلم وثاب الناس فصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو

حضرت مطیر فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ فرمایا: اے ابو جان! آپ نے مجھے بتایا کہ آپ سے مقام ذی خشب میں ذوالیدین ملے ہیں ؟انہوںنے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رات کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی، یا وہ وہ نماز عصر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا ، لوگ جلدی سے نکلے ، وہ کہنے لگے : نماز میں کمی کا حکم ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ کے پیچھے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی آئے ، ان کو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ ملے ، عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کیا نماز میں کمی ہوئی ہے یا آپ بھلا دئیے گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز میں کمی ہوئی ہے نہ میں بھلایا گیا ہوں ! پھر آپ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ذولیدین کیا کہتا ہے ؟ دونوں نے کہا : سچ کہتا ہے ! حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم واپس تشریف لائے اور لوگوں میں واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو رکعتیں دوبارہ پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے سہو کے کیے۔

يا أبتاه أخبرتني أنه لقيك ذو اليدين بذي خشب فأخبرك ← كَيْفَ كُنْتُ أَخْبَرْتُكَ ← أبيه مطير و مطير حاضر يصدقه بمقالته ← شعيب بن مطير ← مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Hadith 4225

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 417 - ذو اليدين ويقال اسمه الخرباق ويكنى أبا العريان · حديث 4226

4225 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا يزيد بن زريع عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الملهب Y عن عمران بن حصين قال : سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم في ثلاث ركعات من العصر فدخل فقال له رجل يقال له الخرباق وكان طويل اليدين فقال : أقصرت الصلاة يا رسول الله ؟ فخرج مغضبا يجر رداءه فقال : أصدق ؟ قالوا : نعم فقام فصلى تلك الركعة فذكر مثله

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عصر کی تین رکعتیں پڑھائیں اور آپ گھر داخل ہوئے ، ایک آدمی نے عرض کی جس کا نام خرباق تھا، ان کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کیا نماز میں کمی کا حکم ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا یہ سچ بولتا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! جی ہاں! آپ نے اور رکعت پڑھائی ، اس کے بعد اوپر والی حدیث ذکر کی۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أبي الملهب ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 4226

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 417 - ذو اليدين ويقال اسمه الخرباق ويكنى أبا العريان · حديث 4227

4226 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا قطن بن نسير حدثنا جعفر بن سليمان ثنا المعلى بن زياد القردوسي Y ثنا عبد العزيز بن صهيب قال : كنت مع الحسن فمر به رجل فحدثه قال قال ذو اليدين : يا معشر الأنصار أليس أمركم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تصبروا حتى تلقوه ؟

حضرت عبدالعزیز بن صہیب فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا اس نے بتایا کہ حضرت ذولیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انصار کے گروہ ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمکو صبر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا یہاں تک کہ آپ سے تم ملو؟

كنت مع الحسن فمر به رجل ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4227

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4228

4227 - حدثنا أبو زيد أحمد بن يزيد الحوطي ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع ثنا حريز بن عثمان عن راشد بن سعد عن أبي حي المؤذن Y عن ذي مخبر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كان هذا الأمر في حمير فنزعه الله منهم فصيره في قريش

حضرت مخبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یہ معاملہ اصل میں حمیر میں تھا، ان سےلے کر قریش میں رکھ دیا ۔

ذِي مِخْبَرٍ ← أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ،

Hadith 4228

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4229

4228 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا قيس بن حفص الدارمي ثنا مسلمة بن علقمة المازني ثنا داود بن أبي هند عن العباس بن عبد الرحمن مولى بني هاشم Y ثنا ذو مخمر ابن أخي النجاشي قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة فسروا من الليل ما سروا ثم نزلوا فأتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا ذا مخمر قلت : لبيك رسول الله وسعديك فأخذ برأس ناقتي وقال : اقعد ههنا ولا تكونن لكاعا الليلة فأخذت برأس الناقة فغلبتني عيناي فنمت وانسلت الناقة فذهبت فلم أستقيظ إلا بحر الشمس فأتاني النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا ذا مخمر قلت : لبيك يا رسول الله وسعديك قال : كنت والله الليلة لكع كما قلت فتنحينا عن ذلك المكان فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما قضى الصلاة دعا أن ترد الناقة فجاءت بها عصار ريح تسوقها فلما كان من الغد حين برق الفجر أمر بلالا فأذن ثم أمره فأقام ثم صلى بنا فلما قضى الصلاة قال هذه صلاتنا بالأمس ثم ائتنف صلاة يومه ذلك

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ رات کو چلے جتنا چلے ، پھر اترے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے مخبر ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! حاضر ہوں اور سعادتآپ کے لیے ہے ،آپ نے میری اونٹنی کا سر پکڑا اور فرمایا: یہاں بیٹھو! رات کو حفاظت کرو! میں نے اونٹنی کا سر پکڑا ،مجھ پر نیند غالب آئی، میں سو گیا، اونٹنی کی نکیل چھوڑی وہ چلی گئی، میں سورج کی گرمی سے جاگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے مخمر ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! حاضر ہوں اور سعادت آپ کے لیے ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! آج رات تم نے حفاظت ایسے کی جس طرح میں نے کہا تھا، اس جگہ سے ہم نے کوچ کا ارادہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب نماز مکمل فرمائی تو آپ نے اونٹنی کے واپس آنے کی دعا کی ، وہ اس حالت میں آئی کہ اس کے تیز چلنے کی آواز آ رہی تھی، جب دوسرے دن کی فجر طلوع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا ، پھر آپ نے اقامت کا حکم دیا، پھر آپ نے ہم کو نماز پڑھائی، جب نماز مکمل فرمائی تو آپ نے فرمایا: یہ ہماری کل والی نماز ہے ، پھر اس دن کی نماز پڑھائی۔

ذو مخمر ابن أخي النجاشي ← العباس بن عبد الرحمن مولى بنى هاشم ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Hadith 4229

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4230

4229 - حدثنا موسى بن عيسى بن المنذر الحمصي ثنا أبي ثنا بقية بن الوليد عن صفوان بن عمرو قال حدثني راشد بن سعد Y حدثني ذو مخمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصالحون الروم صلحا آمنا حتى تغزون أنتم وهم عدوا فتنصرون فتنزلون في مرج ذي تلول

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: روم والوں سے آپ لوگ امن والی صلح کریں گے یہاں کہ تم اور وہ مل کر دشمن سے لڑائی کرو گے ، تمہاری مدد کی جائے گی تم ٹیلوں والی ، کشادہ اور چرا گاہوں والی زمین مرج میں اترو گے۔

ذُو مِخْمَرٍ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ،

Hadith 4230

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4231

4230 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية ثنا خالد بن معدان عن جبير بن نفير Y عن ذي مخبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ستصالحون الروم صلحا آمنا ثم تغزون أنتم وهم عدوا فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم تنصرفون حتى تنزلوا مرجا ذي تلول فيرفع رجل من أهل النصرانية صليبا فيقول غلب الصليب فيغضب رجل من المسلمين فيقوم إليه فيدقه فعند ذلك تغدر الروم ويجتمعون للملحمة

حضرت ذی مخبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: روم والوں سے عنقریب آپ آمن والی صلح کریں گے ، لوگ اور وہ دونوں مل کر ایک دشمن سے لڑوگے ، تمہاری مدد کی جائے گی، مال غنیمت ملے گا اور تم سلامت رہو گے ، پھر تم واپس چلو گے اور تم ٹیلوں والی کھلی چرا گاہ میں اترو گے ، نصرانیوں میں سے ایک آدمی صلیب لے کر چڑھے گا ، وہ کہے گا : صلیب غالب آ گئی ! مسلمانوں میں سے ایک آدمی غصہ میں آئے گا، وہ اس کی طرف اٹھ کھڑا ہو گا، وہ اس کو توڑ دے گا، روم کے لوگ غداری کریں گے ، بڑی جنگ کے لیے جمع ہوں گے۔

ذِي مِخْبَرٍ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 4231

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4232

4231 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة ثنا أبي ثنا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن أبي عمرو السيباني Y عن ذي مخبر ابن أخي النجاشي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تصالحون الروم عشر سنين صلحا آمنا يفون سنتين ويغدرون في الثالثة أو يفون أربعا ويغدرون في الخامسة فينزل جيشا منكم في مدينتهم فتغزون أنتم وهم عدوا من ورائكم وورائهم فتقاتلون ذلك العدو فيفتح الله لكم فتنصرفون بما أصبتم من أجر وغنيمة فتنزلون بمرج ذي تلول فيقول قائلكم : الله غلب ويقول قائلهم : الصليب غلب فيتداولونها فيغضب المسلمون وصليبهم منهم غير بعيد فيثور ذلك المسلم إلى صليبهم فيدقه ويبرزون إلى كاسر صليبهم فيضربون عنقه فتثور تلك العصابة من المسلمين إلى أسلحتهم ويثور الروم إلى أسلحتهم فيقتلون تلك العصابة من المسلمين يستشهدون فيأتون ملكهم فيقولون : قد كفيناك حد العرب وبأسهم فماذا ننتظر ؟ فيجمع لكم حمل امرأة ثم يأتونكم تحت ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر ألفا

حضرت ذی مخبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم روم سے دس سال کے لیے امن کی صلح کرو گے ، دو سال وہ وفا کریں گے ، تیسرے سال میں غداری کریں گے یا چار سال وفا کریں گے اور پانچویں سال میں غداری کریں گے ، تم میں سے ایک گروہ ان کے شہر میں اترے گا، تم اور وہ ایک دشمن سے جہاد کرو گے ، اللہ تمہیں فتح دے گا، وہ تمہارے پیچھے اور تم ان کے پیچھے ہوگے، تم اس دشمن سے لڑو گے، اللہ عزوجل تم کو فتح دے گا۔تم واپس آؤ گے اس کے ساتھ جو تم کو ثواب اور غنیمت ملے گا، پھر تم ٹیلوں والی کھلی زمین میں اترو گے ، تمہارا کہنے والا کہے گا: اللہ غالب آیا ہے ۔ ان کا کہنے والا کہے گا: صلیب غالب آ گئی ، وہ مسلسل اس بات کا ذکر کریں گے ۔ مسلمان غصہ میں آئیں گے ، صلیب ان سے دور نہ ہوگی ، مسلمان صلیب تک پہنچیں گے ، اس کو توڑ دیں گے اور صلیب توڑنے والے کی طرف کو اٹھا کر آئیں گے ، اس کی گردن اڑائیں گے ، مسلمانوں میں سے ایک گروہ اسلحہ کی طرف آئے گا اور وہ بھی اپنے اسلحہ کی طرف آئیں گے ، مسلمانوں کے ایک گروہ کو قتل کریں گے،شہید کیے جائیں گے ، وہ اپنے بادشاہ کے پاس آئیں گے ، وہ کہیں گے : ہم عرب کی حد اور ان کی جنگ کے لیے آپ کو کافی ہیں ، ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں ؟ تمہارے لیے ایک عورت کو اٹھانے کے لیے جمع ہوں گے، پھر اسی مقاصد کے تحت آئیں گے ، ہر غایت کے تحت بارہ ہزار تک ہوں گے ۔

ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ

Hadith 4232

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4233

4232 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ثنا إسماعيل بن عياش عن إسماعيل بن رافع عن ابن محيريز Y عن ذي مخبر ابن أخي النجاشي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت ذی مخبر رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Hadith 4233

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4234

4233 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا محمد بن شعيب ( ح ) وحدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم قالا ثنا حريز بن عثمان عن يزيد بن صليح Y عن ذي مخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت ذی مخبر رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← ذِي مِخْبَرٍ ← يزيد بن صليح ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Hadith 4234

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 418 - ذو مخمر ويقال مخبر بن أخي النجاشي · حديث 4235

4234 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي المصيصي ثنا محمد بن عوف الحمصي ثنا هاشم بن عمرو الحمصي حدثنا إسماعيل بن عياش حدثني سعيد بن سنان عن أبي الزهرية Y عن ذي مخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل اطلع إلى أهل المدينة وهي بطحاء قبل أن تعمر ليس فيها مدرة ولا وبر فقال : يا أهل يثرب إني مشترط عليكم ثلاثا وسائق إليكم من كل الثمرات لا تعصي ولا تغلي ولا تكبري فإن فعلت شيئا من ذلك تركتك كالجزور لا يمتنع من آكله

حضرت ذی مخبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مدینہ والوں کی طرف رحمت کی توجہ فرمائی ، وہ بطحاء میں تھے ، اس کو آباد کرنے سے پہلے اس میں کوئی مٹی کا گھر اور دیہات ڈیرہ وغیرہ نہیں تھا ، فرمایا: اے یثرت کے رہنے والو! میں تم پر تین شرطیں لگاتا ہوں ، تم پر ہر قسم کا پھل بھیجوں گا، تم نافرمانی نہ کرنا اور غلو اور تکبر نہ کرنا، اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تم کو چھوڑ دوں گا جس طرح کہ ایک اونٹ اس کے کھانے سے کسی کو روکا نہیں جاتا۔

ذِي مِخْبَرٍ ← أبي الزهرية ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هاشم بن عمرو الحمصي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ،

Hadith 4235

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الذال ‹ 419 - ذو اللحية الكلابي بن عمرو بن قرط بن أبي بكر بن عبد الله بن كلاب · حديث 4236

4235 - حدثنا محمد بن حمويه أيو سيار التستري ثنا شباب العصفري ثنا سهل بن أسلم العدوي ثنا يزيد بن أبي منصور Y عن ذي اللحية الكلابي أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم أنعمل في أمر مستأنف أو أمر قد فرغ منه ؟ قال : بل في أمر قد فرغ منه قال : ففيم العمل ؟ قال : اعملوا فكل ميسر لما خلق له

حضرت ذی اللحیہ الکلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کیا ہم ایسے معاملہ میں عمل کریں یا ایسے کام کے متعلق جو لکھ دیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ معاملہ کرو جس کو لکھ دیا گیا ہے ، عرض کی : پھر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ، وہ عمل اس کے لیے آسان کر دیا جائے گا۔

ذي اللحية الكلابى. ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ ← محمد بن حمويه أيو سيار التستري

Hadith 4236

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter