Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو سلمة عن ابن عباس ] · حديث 10747

10727 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن الموصلي قالا : ثنا عبده بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن ابن عباس Y { ولقد رآه نزلة أخرى } قال : رأى ربه عز و جل

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانے کا حکم دیا ‘کھجور یا جَو سے ایک صاع (ساڑھے چار سیر ) یا گندم کے دو مُد ( قدیم پیمانہ) ہر شہری اور دیہاتی پر ‘چھوٹے اور بڑے ‘آزاد اور غلام پر۔

رأى ربه عز و جل ← ابْنِ عَبَّاسٍ {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن الموصلي ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10747

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو سلمة عن ابن عباس ] · حديث 10748

10728 - حدثنا احمد بن داود المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا عبد الله بن عبد الله الأموي عن عبد الله بن أبي أسيد عن أبي سلمة عن ابن عباس قال Y ليس للنساء في عقدة النكاح شيء وجعلت ميمونة أمرها إلى أم الفضل فجعلته أم الفضل إلى العباس فأنكحها رسول الله صلى الله عليه و سلم

مروان نے اپنے دربان سے کہا: اے ابو رافع ! ابن عباس کی طرف جاؤ! پس آپ سے عرض کی گئی: اگر ہم میں سے ہر ایک خوش ہو ‘اسی کے ساتھ جو اسے عطا کیا گیا ہے اور پسند کرے کہ اس کی تعریف کی جائے ‘اس پر جو وہ کرتا ہے تو عذاب دیا جائے تو اس طرح ہم سب کو عذاب ضرور دیا جائے گا ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے اور یہ حکم کیا ہے؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوا ‘پھر تلاوت کی : ’’ واذ اخذ اللّٰه ميثاق الذين الٰى آخرہٖ “ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کسی چیز کے بارے سوال کیا تو اُنہوں نے حسد کیا اور اس کو چھپا کر دوسری بات کی خبر دی۔ پس وہ خوش ہو کر باہر نکل گئے اور اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی باور کرایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُنہوں نے وہی جواب دیا ہے جو آپ نے ان سے پوچھا اور وہ اس وجہ سے تعریف و توصیف کے طالب ہوئے اور خوش اس بات پہ ہوئے جو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کرنے پر اصل بات کو چھپایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عبد الله بن أبي أسيد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُمَوِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10748

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو سلمة عن ابن عباس ] · حديث 10749

10729 - حدثنا حجاج بن عمران السدوسي ثنا سليمان بن داود الشاذكوني ثنا محمد بن عمر الواقدي عن عبد الحميد بن جعفر عن عمران بن ابي أنس عن أبيه عن ابي سلمة عن عبد الرحمن عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بزكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو مدان قمحا على كل حاضر وباد صغير أو كبير حر أو عبد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کسی جگہ اتنی نہیں کی گئی جتنی اُحد کے میدان میں کی گئی ‘ان پر اعتراض ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے اور اعتراض کرنے والے کے درمیان کیا ‘اسے فیصلہ کرے گی ‘بے شک اللہ فرماتا ہے: ’’ اور بے شک اللہ نے تمہیں اپنا (مدد کا )وعدہ سچا کر دکھایا کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرے تھے ‘‘۔ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”حسّ “ کا معنی قتل ہے ‘ ” یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی ‘‘اللہ کے اس قول تک : ” اور بے شک اس نے تم سے درگز رفرمایا اور اللہ ایمان والوں پر فضل فرمانے والا ہے‘‘۔ اس سے مراد وہ تیراندازوں کا دستہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گھات میں کھڑا کیا ‘پھر فرمایا: ہماری پیٹھوں کی حفاظت کرنا ‘پس اگر تم ہمیں قتل ہوتا دیکھو تو ہماری مدد کو مت آنا اور اگر مالِ غنیمت حاصل کرتا دیکھو تو ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ پس جب اللہ نے اپنے نبی کو مالِ غنیمت عطا فرمایا اور مشرکین کے لشکر کو مباح فرما دیا ‘تیرانداز اپنی جگہ چھوڑ کر تمام لشکر میں شمال ہو کر مالِ غنیمت حاصل کرنے لگے۔ پس جب صحابہ کرام کی صفیں متوجہ ہوئیں تو وہ اسی حال میں تھے ‘آپ نے اپنی دائیں انگلیوں کو بائیں انگلیوں میں داخل کیا ‘پس جب تیراندازوں نے وہ گلہ خالی چھوڑ دیا ‘جس میں وہ موجود تھے تو اُس جگہ سے گھڑ سوار صحابہ کرام پر ٹوٹ پڑے تو وہ ایک دوسرے کو (بھول میں اور جلدی )میں مارنے لگے ‘مسلمانوں میں سے کثیر لوگ شہید کر دیئے گئے جبکہ دن کی ابتداء سے لے کر (اب تک) سات یا نو شہید ہوئے تھے یہاں تک کہ مشرکین کے سامنے جھنڈا اُٹھانے والے مسلمان ‘گھڑ سواروں کی طرف پھرے ‘لیکن وہ اس جگہ تک نہ پہنچ سکے جہاں لوگ حملے کی بات کر رہے تھے۔ وہ ٹوٹ پڑنے والے اونٹوں کے نیچے تھے۔ اسی دوران شیطان نے چیخ ماری: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیئے گئے۔ پس ہم نے اس میں شک نہ کیا کہ وہ سچ ہے۔ فرماتے ہیں: بے شک اسی طرح ہم شک نہ کرتے کہ یہ بات سچ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گھاٹیوں کے درمیان ظاہر ہوئے ‘پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت چال سے پہچان لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے ‘فرماتے ہیں: ہم خوش ہو گئے یہاں تک کہ گویا ہم لوگوں کو کوئی مصیبت ہی نہیں پہنچی جو پہنچی تھی۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانب بلند ہوئے ‘اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہو اس قوم پر جس نے اللہ کے رسول کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار کہا: اے اللہ ! ان کے حق میں فیصلہ نہ کرنا کہ وہ ہم پر غالب ہو کر ہم تک پہنچ جائیں۔ پس ایک گھڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرئے ‘اچانک پہاڑ کے نیچے سے ابو سفیان چیخنے لگا: ’’ اُعلُ هبل “ یعنی اس کے جھوٹے معبود ( ان کا نعرہ لگایا ) ‘ابو کبشہ کا بیٹا (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم )کہاں ہیں ؟ ابن ابو قحافہ کہاں ہیں؟ ابن خطاب کہاں ہیں؟ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اسے جواب نہ دوں؟ فرمایا: کیوں نہیں! (ضرور جواب دو ! ) ۔ راوی فرماتے ہیں: پس جب ( ابو سفیان نے پھر )کہا: ’’ اعلُ هبلُ “ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: اللہ سب سے بلند اور بزرگ ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو ابو سفیان نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے ! بے شک تُو نے انعام کیا تو آپ نے پھر اس کی طرح کہا تو ابو سفیان نے کہا: کہاں ہے ابو کبشہ کا بیٹا ؟ کہاں ہے ابو قحافہ کا بیٹا ؟ کہاں ہے خطاب کا بیٹا ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ہیں اللہ کے رسول ! یہ ہیں ابو بکر ! اور یہ میں عمر ہوں۔ تو ابو سفیان نے کہا: یہ دن بدر کے دن کا بدلہ ہو گیا ( آج دیکھی جائے گی ) دن پھرتے رہتے ہیں اور جنگ کبھی تم اور کبھی ہم جیت لیتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں ! برابری کوئی نہیں ‘ہمارے شہید جنت میں اور تمہارے مقتول دوزخ میں ہیں۔ تو اس نے کہا: بے شک تم گمان کرتے ہو کہ ہم خائب و خاسر ہیں (یعنی نامراد ہیں)۔ پھر سفیان نے کہا: لیکن تم اپنے مقتولوں میں ایسے بھی دیکھو گے جن کا ہم نے مثلہ کر دیا ہے حالانکہ ہمارے بڑوں کا یہ خیال نہیں ہے ‘ہم نے دیکھا ہے کہ پھر اسے جاہلیت کے تعصب نے آلیا تو کہنے لگا: بہر حال ہم اس کو نا پسند نہیں کرتے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10749

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ حميد بن عبد الرحمن عن ابن عباس ] · حديث 10750

10730 - حدثنا أبو سعيد جعفر بن سنيد بن داود ثنا ابي ثنا حجاج ابن محمد عن ابن جريج أخبرني ابن أبي مليكة أن حميد بن عبد الرحمن Y أخبره أن مروان قال : اذهب يا ابا رافع لبوابه إلى ابن عباس فقيل له : لئن كان كل امرئ منا فرح بما أوتي و أحب أن يحمد بما يفعل معذبا لنعذبن أجمعين فقال ابن عباس : ما لكم ولهذه ؟ إنما أنزل هذا في أهل الكتاب ثم تلا ابن عباس ( [ وإذا أخذ الله ] ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ) إلى قوله { لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا } وقال ابن عباس : سألهم النبي صلى الله عليه و سلم عن شيء فحسدوه فكتموه وأخبروه بغيره ففرحوا وخرجوا وقد أروه أنهم أخبروه بما سألهم عنه واستحمدوا إليه بذلك وفرحوا بما أوتوا من كتمانهم إياه عما سألهم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ” وہ آدمی جو فیصلہ نہ کرے اس کے ساتھ جو اللہ نے اُتار ہے تو وہ کافر ہے“ الىٰ ’’ ظالمون ...... فاسقون “ تک۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں ان آیات کو نازل فرمایا جن میں سے ایک زمانۂ جاہلیت میں دوسرے پر غالب تھا یہاں تک کہ وہ راضی ہوئے اور صلح کی اس بات پر کہ ہر وہ مقتول جس کو عزت والے ذلیلوں میں سے قتل کریں گے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور ہر وہ جس کو اکثریت میں سے اقلیت قتل کریں گے اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ پس وہ اسی معاہدہ کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی۔ پس ان کے دونوں گروہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو نہ مانا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان پر غالب نہ تھے اور نہ ہی ان سے صلح کا معاہدہ ہوا تھا۔ (ہوا یوں کہ ) اکثریت سے اقلیت نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تو غالب اکثریت والوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ سو وسق ہماری طرف بھیج دو۔ اقلیت نے کہا: ایسا بھی کبھی ہوا ‘ان دونوں کا دینو نسب ایک ہے تو ان میں سے بعض کی دیت دوسرے بعض کا نصف کیوں ہے ‘یہ ہم جو تمہیں دے چکے ہیں یہ بھی تمہاری طرف سے ہم پر ظلم ہے اور تمہاری طرف سے فرق کا باعث ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ بھڑک اُٹھتی پھر وہ سارے اس بات پر رضامند ہوئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ اکثریت گہری سوچ میں پڑ گئی ‘انہوں نے کہا: قسم بخدا! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان سے دو گنا دیت بالکل نہیں دلوائیں گے (وہ تو عدل کرتے ہیں ‘وہ کہیں گے : )تحقیق یہ سچے ہیں ‘اُنہوں نے جو ہمیں دیا ہے وہ ان پر ظلم ہے اور زبر دستی ہے۔ پس تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسا آدمی بھیجو جو ان کی رائے معلوم کر کے تمہیں بتائے۔ پس اگر وہ تمہیں وہ کچھ دے جو تم چاہتے ہو تو پھر ان کو ثالث مان لو اور اگر وہ تمہیں نہ دیں تو احتیاط سے کام لو اور ان کو ثالث نہ بناؤ ‘پس اُنہوں نے منافقین میں سے چند آدمیوں کو بھیجا جو ان کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کی خبر لائیں۔ پس جب منافقین کا ٹولہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے معاملے ( پلان ) سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرما دیا اور جو ان کا ارادہ تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ”اے رسول کریم ! آپ کو پریشان نہ کریں وہ لوگ جو کفر میں جانے کی جلدی کر رہے ہیں ‘اُن میں سے جنہوں نے کہا ‘‘اللہ کے اس قول تک : ” اور جو فیصلہ نہ کرے اس کے ساتھ جو اُتارا ہے اللہ نے تو وہ فاسق ہے‘‘۔ پھر فرمایا: قسم بخدا! یہ آیات انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں اور اللہ کی مراد یہی لوگ ہیں۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج ابن محمد ← أَبِي ← أبو سعيد جعفر بن سنيد بن داود

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10750

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10751

10731 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا سليمان بن داو الهاشمي ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال Y ما نصر رسول الله صلى الله عليه و سلم في موطن نصره في أحد فأنكر ذلك عليه فقال ابن عباس : بيني وبين من ينكر كتاب الله أن الله يقول ( ولقد صدقكم الله وعده إذا تحسونهم بإذنه ) فقال ابن عباس : والحس القتل ( حتى إذا فشلتم ) إلى قوله ( ولقد عفا الله عنكم والله ذو فضل على المؤمنين ) وإنما عنى بهذا الرماة وذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم أقامهم في مرصد ثم قال : ( احموا ظهورنا فإن رأيتمونا نقتل فلا تنصرونا وإن رأيتمونا قد غنمنا فلا تشركونا ) فلم غنم الله النبي صلى الله عليه و سلم وأباحه عسكر المشركين انكفت الرماة جميعا فدخلوا العسكر يتنهبون وقد التفت صفوف اصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فهم هكذا وشبك بين أصابعه اليمنى واليسرى فلما أخلت الرماة تلك الحلة التي كانوا فيها دخلت الخيل من ذلك الموضع على أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فضرب بعضهم بعضا وقتل من المسلمين ناس كثير وقد كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم واصحابه من أول النهار حتى من أصحاب لواء المشركين سبعة أو تسعة وجال المسلمون جولة نحو الخيل ولم يبلغوا حيث يقول الناس الغار إنما كانوا تحت المهراس وصاح الشيطان : قتل محمد فلم نشك فيه أنه حق قال : وإنا كذلك لا نشك أنه حق قد قتل حتى طلع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الشعبين فعرفته بتكفئه إذا مشى قال : ففرحنا حتى كأنه لم يصيبا ما أصابنا قال : فرقى نحونا وهو يقول : ( اشتد غضب الله على قوم دموا وجه رسول الله صلى ) صلى الله عليه و سلم قال : ويقول مرة أخرى : ( اللهم إنه ليس لهم أن يعلونا حتى ينتهوا إلينا ) فمكث ساعة وإذا أبو سفيان يصيح من أسفل الجبل : أعل هبل يعني آلهته أين ابن ابي كبيشة ؟ أين ابن أبي قحافة ؟ أين ابن الخطاب ؟ قال : فقال عمر : يا رسول الله أفلا أجيبه ؟ قال : بلى قال : فلما قال : أعل هبل قال عمر بن الخطاب : الله أعز وأجل قال : فقال أبو سفيان : يا ابن الخطاب إنك قد أنعمت فعاد لمثلها فقال : أين ابن أبي كبشة ؟ أين ابن أبي قحافة ؟ أين ابن الخطاب ؟ فقال عمر : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا أبو بكر وهذا عمر فقال أبو سفيان : يوم بيوم بدر إن الأيام دول وإن الحرب سجال قال : فقال : عمر : لا سواء قتلانا في الجنة وقتلاكم في النار فقال : إنكم لتزعمون ذلك لقد خبنا إذا وخسرنا ثم قال أبو سفيان : إما إنكم ستجدون في قتلاكم مثلا ن ولم يكن ذلك عن رأي كبرائنا ن ثم أدركته حمية الجاهلية فقال : أما إنه كان ذلك لم نكرهه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار بدر کے دن بطور انعام دی ‘اس کے بارے میں آپ نے اُحد کے دن خواب دیکھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سليمان بن داو الهاشمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10751

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10752

10732 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا داود بن عمرو الضبي ثنا عبد الرحمن أبي الزناد عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال Y غن الله عز و جل أنزل ( ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون الظالمون الفاسقون ) قال ابن عباس : أنزلها في طائفتين من اليهود وكانت أحدهما قد قهرت الأخرى في الجاهلية حتى ارتضوا واصطلحوا على أن كل قتيل قتلته العزيزة من الذليلة فديته خمسون وسقا وكل قتيل قتلته الذليلة من العزيزة فديته مئة وسق فكانوا على ذلك حتى قد رسول الله صلى الله عليه و سلم فدلت الطائفتان لحكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ورسوله الله صلى الله عليه و سلم يومئذ لم يظهر عليهم ولم يوطئهما وهو الصلح فقتلت الذليلة من العزيزة قتيلا وهل كان هذا قط دينهما واحد ونسبهما واحد دية بعضهما نصف دية بعض إنما أعطيناكم هذا ضيما منكم لنا وفرقا منكم فلما إذ قدم محمد صلى الله عليه و سلم فلا نعطيكم ذلك فكادت الحرب تهيج بينهما ثم ارتضوا على أن جعلوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم ففكرت العزيزة فقالت : والله ما محمد بمعطيكم منهم ضعف ما يعطيهم منكم ولقد صدقوا ما أعطونا هذا إلا ضيما وقهرا لهم فدسوا إلى محمد صلى الله عليه و سلم من يخبر لكم رأيه فإن أعطاكم ما تريدون حكمتموه وإن لم يعطكموه حذرتموه فلم تحكموه فدسوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ناسا من المنافقين يختبروا لهم رأي رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما جاؤوا رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبر الله رسوله بأمرهم كله وماذا أرادوا فأنزل الله عز و جل يا أيها الرسول { ولا يحزنك الذين يسارعون في الكفر } إلى قوله { ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون } ثم قال : فيهم والله أنزلت و إياهم عنى الله

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں چاند کے دوٹکڑے ہوئے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبِي الزِّنَادِ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10752

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10753

10733 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الوطي ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ( ح ) وحدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا يوسف بن عدي قالا : ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن عبد الله عن ابن عباس رضي الله عنهما قال Y تنفل رسول الله صلى الله عليه و سلم سيفه ذا الفقار يوم بدر وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن ٹھہرئے ‘آپ ان دنوں میں نماز قصر پڑھتے رہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الوطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10753

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10754

10734 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا أبي و إسحاق بن بكر بن مضر ( ح ) وحدثنا أبو الزنباع بن الفرج ثنا يحيى بن بكير قالوا : ينا بكر بن مضر عن جعفر بن ربيعة عن عراك بن مالك عن عبيد الله بن عبد عتبة عن ابن عباس قال Y انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن کی سب سے آخری سوره ’’ اذا جاء نصر اللّٰه والفتح ‘‘۔

انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبيد الله بن عبد عتبة ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← ينا بكر بن مضر ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← وحدثنا أبو الزنباع بن الفرج ← أبي و إسحاق بن بكر بن مضر ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10754

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10755

10735 - حدثنا محمود بن محمد المروزي ثنا إبراهيم بن عبد الله الخلال المروزي ثنا عبد الله بن المبارك ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن حبيب عن عراك بن مالك عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أقام بمكة عام الفتح خمس عشرة يقصر الصلاة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قسامت ( قسم لینا) کا رواج جاہلیت کے زمانہ میں بھی تھا اور لوگوں کے درمیان ایک رکاوٹ تھا اور جو آدمی یمینِ صبر پر قسم دیتا اور وہ اس میں گناہ گار ہوتا تو خیال کیا جاتا کہ اس کو اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی اور حرام کام پر جرات کرنے کی وجہ سے اسے دُہرا عذاب ہو گا ‘پس لوگ صبر کی قسموں سے بچتے اور ڈرتے تھے ‘پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو آپ نے قسامت کے طریقے کو برقرار رکھا جبکہ مسلمان اس سے اُن لوگوں کی نسبت زیادہ ڈرنے لگے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن کو یہ چیز سکھا دی تھی ‘پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے دو قبیلوں کے درمیان قسامت کے ساتھ فیصلہ فرمایا جن کو بنو حارثہ کہا جاتا تھا ‘واقعہ یہ تھا کہ یہودیوں نے محیصہ کو قتل کر دیا ( جب اُن سے پوچھا گیا) تو یہودیوں نے انکار کر دیا ‘تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اُن کی قسامت کے لیے طلب کیا کیونکہ وہی خون کا دعویٰ کرنے والے تھے ‘پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پچاس آدمیوں سے پچاس قسمیں دلوائیں اس بات کی کہ وہ اس آدمی کے قتل سے بری الذمہ ہیں تو یہودیوں نے قسمیں دینے سے انکار کر دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارثہ کو بلا کر حکم دیا کہ اُن کے پچاس آدمی ‘پچاس قسمیں دیں کہ یہودیوں کے اُن کے آدمی کو دھوکے سے قتل کیا ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں جو وہ گمان کرتے ہیں کہ اُس نے ان کے ساتھی کو قتل کیا ہے ‘پس بنو حارثہ نے بھی قسمیں دینے سے انکار کر دیا ‘پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو یہودیوں کے خلاف اس آدمی کی دیت کا فیصلہ فرما دیا کیونکہ وہ آدمی اُن کے علاقے میں اُن کے درمیان مقتول پایا گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← إبراهيم بن عبد الله الخلال المروزي ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10755

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10756

10736 - حدثنا إبراهيم بن أحمد بن عمر الوكيعي حدثني أبي ثنا جعفر بن عون عن أبي الغميس عن أبي بكر بن أبي الجهم عن عبيد الله ابن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال Y آخر سورة نزلت من القرآن جميعا ( إذا جاء نصر الله [ و الفتح ] )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو جب اس بات کا پتا چلا اس وقت جب وہ بصرہ کی طرف چلے کہ بصرہ والے حضرت طلحہ اور زبیر کے حق میں اکٹھے ہو چکے ہیں تو ان پر یہ بات گراں ہوئی اور ان کے دل میں شک پڑ گیا ‘پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ بصرہ والوں پر غلبہ پالیا جائے گا اور طلحہ و زبیر قتل ہوں گے اور تمہاری طرف کوفہ سے چھ لاکھ پانچ سو پچاس یا پانچ لاکھ پانچ سو پچاس آدمی ضرور نکل کر آئیں گے۔ (اجلج کو شک ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس بات نے میرے دل میں شک ڈال دیا ‘پس جب کوفہ والے آئے تو میں بصرہ سے نکل گیا۔ پس میں نے دل میں کہا: میں ضرور دیکھوں گا۔ پس اگر اسی طرح ہوا جس طرح آپ کہتے ہو تو یہ ایسی بات ہے جس کو اُنہوں نے سنا ہے ورنہ یہ جنگی فن ہے۔ پس میں لشکر کے ایک آدمی کو ملا تو اس سے سوال کیا ‘قسم بخدا! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلا توقف جو بات کہی وہ ہو گئی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس بات کا تعلق بھی ان باتوں سے تھا جن کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے تھے۔

آخر سورة نزلت من القرآن جميعا إذا جاء نصر الله و الفتح ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبيد الله ابن عبد الله بن عتبة ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← أبي الغميس ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10756

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10757

10737 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا أبو صالح و عبد الله ابن يوسف قالا : ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال Y كانت القسامة في الجاهلية حجازا بين الناس وكان من حلف على يمين صبر اثم فيها أرى عقوبة من الله ينكل بها من الجرأة على المحارم فكانوا يتورعون عن إيمان الصبر ويخافونها فلما بعث الله محمدا صلى الله عليه و سلم أقر القسامة وكان المسلمون هم أهيب لها لما علمهم الله من ذلك فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالقسامة بين حيين من الأنصار يقال لهم بنو حارثة وذلك أن يهود قتلت محيصة فأنكرت اليهود فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم اليهود لقسامتهم لأنهم الذين ادعوا الدم فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يحلفوا خمسين يمينا خمسين رجلا أنهم لبراء من قتله فنكلت يهود عن الأيمان فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بني حارثة فأمرهم أن يحلفوا خمسين يمينا خمسين رجلا أن يهود قتلته غيلة ويستحقون بذلك الذين يزعمون أنه الذي قتل صاحبهم فنكلت بنو حارثة عن الإيمان فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بعقله على يهود لأنه وجد بين أظهرهم وفي ديارهم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ حج تمتع کے لیے آئے ‘حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أبو صالح و عبد الله ابن يوسف ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10757

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ علي بن الحسين عن ابن عباس ] · حديث 10758

10738 - حدثنا إبراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا إسماعيل بن عمرو البجلي ثنا نوح بن دراج عن الأجلح بن عبد الله عن زيد بن علي عن أبيه عن ابن عباس قال Y لما بلغ أصحاب علي حين ساروا إلى البصرة أن أهل البصرة قد اجتمعوا لطلحة و الزبير شق عليهم ووقع في قلوبهم فقال علي : والذي لا إله غيره ليظهرن على أهل البصرة وليقتلن طلحة و الزبير وليخرجن إليكم من الكوفة ستة آلاف وخمس مئة وخمسون رجلا أو خمسة آلاف وخمس مئة رجلا شك الأجلح قال ابن عباس : فوقع ذلك في نفسي فلما أتى أهل الكوفة خرجت فقلت لانظرن فإن كان كما تقول فهو أمر سمعه وإلا فهي خديعة الحرب فلقيت رجلا من الجيش فسألته فو الله ما عتم أن قال ما قال علي قال ابن عباس : وهو مما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخبره

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آپ کے خراٹوں کی آواز سنی گئی ‘پھر آپ کھڑے ہوئے اور بغیر وضو کے مکمل نماز پڑھائی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← الْأَجْلَحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← نُوحِ بْنِ دَرَّاجٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10758

chevron_left Previous
1…808182…90
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter