Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10639

10619 - حدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا علي بن المديني ثنا أبو أسامة حماد بن أسامة حدثني مجالد أنا عامر الشعبي عن ابن عباس قال قال لي العباس Y أي بني إن أمير المؤمنين يدعوك ويقربك ويستشيرك مع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحفظ عني ثلاث خصال اتق لا يجربن عليك كذبة ولا تفشين له سرا ولا تغتابن عنده احدا قال عامر فقلت لابن عباس كل واحدة خير من عشرة آلاف

حضرت ابن بریدہ اسلمی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بُرا بھلا کہا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تُو مجھے بُرا بھلا کہتا ہے حالانکہ میرے اندر تین خوبیاں ہیں: بے شک میں کتاب اللہ کی ہر آیت کی تفسیر کر سکتا ہوں ‘پس میں پسند کرتا ہوں کہ تمام لوگ اس کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں ‘میں اس سے زیادہ جاننے والا بنوں ‘بے شک میں مسلمانوں کے حاکموں میں سے ہر ایک کو کہتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلے میں عدل کرے تو میں اس کے ساتھ خوش ہوتا ہوں اور شاید میں کبھی بھی اس کی طرف فیصلہ نہ لے جاؤں ‘بے شک میں بادل کی آواز سنتا ہوں جو مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر پر برسے اور خوش ہوتا ہوں حالانکہ میرے پاس گھاس چر نے والا کوئی جانور نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← مجالد ← أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10639

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10640

10620 - حدثنا إسحاق الدبري عن عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي بكر الهذلي قال : دخلت على الحسن فقال : إن ابن عباس Y كان من القرآن بمنزل كان عمر يقول ذاكم فتى الكهول إن له لسانا سؤولا وقلبا عقولا كان يقوم [ يقول ] على منبرنا هذا أحسبه قال : عشية عرفة فيقرأ سورة البقرة وسورة آل عمران ثم يفسرها آية آية وكان مثجة نجدا غربا

حضرت عمرو بن میمون ‘اپنے والد گرامی سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جب جواب دے گئی تو ہاتھ پکڑنے والے کو فرمایا کرتے تھے : جب تُو مجھے حضرت معاویہ کے پاس لے جائے تو ان کے بستر سے مجھے روک لینا پھر میرا ہاتھ ان کی طرف کر ‘وہ میری تکلیف پر خوش نہ ہوں گے ۔ پس اس آدمی نے ایک دن ایسا ہی کیا تو حضرت امیر معاویہ نے اپنے کسی ہم مجلس سے کہا: ( ان کی بینائی کے جانے کا ) بڑا غم ہے۔ پس جب آپ ان کے ساتھ ان کے بستر پر بیٹھ گئے۔ حضرت امیر معاویہ نے کہا: اے ابن عباس ! حضرت حسن بن علی کے حوالے سے اللہ آپ کو اجر عطا فرمائے! تو آپ نے فرمایا: کیا ان کا وصال ہو گیا ہے؟ فرمایا: جی ہاں ! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ان پر اللہ کی رحمت اور رضا ہو ‘اللہ ان کو اپنے پہلے نیک لوگوں سے ملا دے! لیکن اے معاویہ ! قسم بخدا! وہ آپ کے گڑھے کو نہیں بھر سکتے اور آپ ان کا رزق نہیں کھا سکتے ‘ان کے بعد آپ بھی ہمیشہ نہ رہیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یقیناً ان کے جانے کی وجہ سے ہمیں بہت بڑی تکلیف پہنچائی گئی ہے ‘پس ان کے بعد اللہ ہمیں رسوا نہ کرے ۔

على منبرنا هذا أحسبه ← ذاكم فتى الكهول إن له لسانا سؤولا وقلبا عقولا كان يقوم ← إن ابن عباس كان من القرآن بمنزل كان عمر ← دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ ← أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10640

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10641

10621 - حدثنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن كهمس بن الحسن عن ابن بريدة الأسلمي قال Y شتم رجل ابن عباس فقال ابن عباس : إنك لتشتمني وفي ثلاث خصال إني لآتي على الآية من كتاب الله عز و جل فلوددت أن جميع الناس يعلمون منها ما أعلم منها وإني لأسمع بالحاكم من حكام المسلمين يعدل في حكمه فأفرح به ولعلي لا أقاضي إليه أبدا وإني لأسمع بالغيث قد أصاب البلد من بلاد المسلمين فأفرح ومالي به من سائمة

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ سے عرض کی : اے امیر المؤمنین ! اللہ آپ کو اچھی جزاء دے! آپ کے لیے خوشخبری! آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ‘اللہ آپ کے ذریعے دین کو عزت دے حالانکہ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں ‘جب آپ اسلام لائے تو آپ کا اسلام لانا عزت ہوا اور آپ کے ذریعے اسلام ‘رسول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ نے غالب کر دیا ‘آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ‘آپ کی ہجرت فتح تھی ‘پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ وہ آپ سے راضی تھے۔

شَتَمَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10641

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10642

10622 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبادة الواسطي ثنا يعقوب بن محمد الزهري ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن ميمون عن أبيه قال Y كان ابن عباس لما كف بصره يقول لقائده : إذا أدخلتني إلى معاوية فسددني لفراشه ثم أرسل يدي لا يشمت بي معاوية ففعل ذلك يوما فقال معاوية لبعض جلسائه ليغتمن فلما جلس معه على فراشه قال : يا ابن عباس آجرك الله في الحسن بن علي فقال : أمات ؟ قال : نعم قال : رحمة الله ورضوانه عليه وألحقه بصالح سلفه أما والله يا معاوية لا يسد حفرتك ولا تأكل رزقه ولا تخلد بعده ولقد رزئنا بأعظم فقدا منه رسول الله صلى الله عليه و سلم فما خذلنا الله بعده

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے فرمایا: تُو مجھے زیادہ اچھا اور زیادہ محبوب ہے ‘اگر مجھے تیرے رہنے والے نہ نکالتے تو میں تیرے علاوہ کسی اور جگہ نہ رہتا۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10642

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ وما أسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما [ عبد الله بن عمر عن ابن عباس ] · حديث 10643

10623 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري و محمد بن الفضل السقطي قالا : ثنا سعيد بن سليمان الواسطي ثنا مبارك بن فضالة عن عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال Y لما طعن عمر قال له ابن عباس : يا أمير المؤمنين جزاك الله خيرا ابشر قد دعا لك رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعز الله بك الدين والناس مختلفون فلما أسلمت كان إسلامك عزا وأظهر الله بك الاسلام ورسول الله واصحابه وهاجرت إلى المدينة فكانت هجرت فتحا ثم قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو عنك راض

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے ‘میں نے عرض کی: اے ابو عباس! یا ابن عباس! آپ کی قوم والوں کا گمان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور وہ سنت ہے۔ فرمایا: اُنہوں نے سچی بات بھی کی اور جھوٹی بات بھی کی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو کیا لیکن یہ سنت نہیں ہے ‘لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ( مکہ میں ) تشریف لائے تو مشرکین ‘قعیقعان کے پہاڑ پر تھے ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور ہیں اور آپ کے صحابہ بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کو دکھائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاقتور ہیں ۔

لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري و محمد بن الفضل السقطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10643

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10644

10624 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا أبو كامل الجحدري ثنا فضيل بن سليمان النميري ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن جبير و أبي الطفيل عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لمكة : ما أطيبك وأحبك إلي ولوا أن قومك أخرجوني منك ما سكنت غيرك

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی اس کے بعد اس کی مثل حدیث ذکر کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سعيد بن جبير و أبي الطفيل ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← فضيل بن سليمان النميري ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10644

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10645

10625 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا بشر بن موسى ثنا خلاد بن يحيى قالا : ثنا فطر بن خليفة عن أبي الطفيل قال : دخل علي ابن عباس فقلت : يا ابن عباس أو يا ابن عباس Y إن قومك يزعمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رمل وأنها سنة قال : صدقوا وكذبوا [ ف ] قد رمل وليست بسنة ولكن قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم واصحابه والمشركون على جبل قعيقان فبلغه أنهم يقولون إن به هزلا وبأصحابه فأمرهم أن يرملوا ليريهم أن به قوة

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی : آپ کی قوم کیا خیال کرتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ کعبہ اور صفا و مروہ پر سعی کرتے ہوئے عمل کیا ‘یہ سنت ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اُنہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا ‘سنت نہیں ہے۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرِ بن خليفة ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10645

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10646

10626 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا علي بن المديني ثنا سفيان عن فطر عن أبي الطفيل قال : قلت لابن عباس Y فذكر مثله

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم گمان کرتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے وقت رمل کیا کہ یہ سنت ہے۔ آپ نے فرمایا: اُنہوں نے ایک بات سچی کی اور ایک میں جھوٹ بولا۔ میں نے عرض کی: اُن کا سچ اور جھوٹ کیا ہے؟ فرمایا: اُنہوں نے سچ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور اُنہوں نے جھوٹ بولا کہ یہ سنت ہے۔ بے شک قریش نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کو چھوڑ دو ‘وہ کمزور ہیں حدیبیہ سے یہاں تک کہ کیڑے کی موت مر جائیں ‘جب اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی کہ صحابہ کرام اگلے سال آئیں گے تو مکہ میں تین دن رہیں گے ‘پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال آئے جبکہ مشرک دور دور سے دیکھنے والے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: بیت اللہ شریف میں رمل کرو لیکن یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کی : آپ کی قوم گمان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر چکر لگائے اور یہ بھی سنت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اُنہوں نے جھوٹ اور سچ کو ملا دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی: ان کا جھوٹ اور سچ کیا ہے؟ فرمایا: اُنہوں نے سچ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر چکر لگائے اور اُنہوں نے جھوٹ بولا کہ یہ سنت ہے ‘بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اپنے سے دور نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ہی اُن کو مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا جاتا تھا۔ پس آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تا کہ لوگ آپ کا کلام اور مقام سنیں اور اس جگہ کو دیکھیں جبکہ ان لوگوں کے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ رہے تھے ‘میں نے عرض کی: آپ کی قوم گمان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: اُنہوں نے سچ کہا ‘بے شک جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کے حج کا حکم دیا گیا تو سعی کے مقام پر شیطان آپ کے سامنے آ گیا اور آپ سے مقابلہ کرنے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس سے سبقت لے گئے ‘پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کو جمرۂ عقبہ پر لے گئے تو شیطان اُن کے سامنے آ گیا ‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ بھاگ گیا اور درمیانی جمرہ پر پھر آ گیا تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ بھاگ گیا پھر اُنہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا جبکہ ان پر سفید قمیص تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کی : اے ابا جان! اس قمیص میں مجھے کفن دینا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام متوجہ ہوئے ‘اچانک موٹی آنکھوں والا سفید رنگ والا سینگوں والا مینڈھا ذبح کر دیا ‘پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کو لے کر جمرہ قصویٰ پر لائے تو پھر شیطان اُن کے سامنے آ گیا آپ نے سات کنکریاں ماریں تو وہ بھاگ گیا۔ پھر حضرت جبرائیل اُن کو منٰی میں لے گئے اور کہا: یہ مشعر حرام ہے۔ پھر اُن کو عرفات کے میدان میں لے گئے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا نام عرفہ کیوں پڑا؟ میں نے عرض کی: اس کا نام عرفہ کیوں پڑا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: (اے ابراہیم !) کیا آپ نے پہنچانا کہ اُنہوں نے کہا: جی ہاں ! پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تُو جانتا ہے کہ تلبیہ کیسے ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی: تلبیہ کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا: بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو پہاڑوں نے سر جھکا لیے اور وادیوں نے اپنے سر بلند کیے تو حضرت ابراہیم نے لوگوں میں اعلان کیا۔

قلت لابن عباس فذكر مثله ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرٍ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10646

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10647

10627 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ( ح ) وحدثنا محمد بن ثنا علي بن المديني قالا : ثنا سفيان عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي الحسين عن أبي الطفيل قال Y قلت لابن عباس إن قومك يزعمون أن النبي صلى الله عليه و سلم رمل بالبيت وبين الصفا والمروة وأنها سنة قال : صدقوا وكذبوا [ ليست بسنة ]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: مشرکین خیال کرتے ہیں کہ یہ بھوک کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں ‘جب تم داخل ہو تو رمل کرنا اور تین چکروں میں استلام کرنا ۔ صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو مکہ والوں نے کہا: یہ لوگ تو طاقت ور نظر آتے ہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ یہ لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي الحسين ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← وحدثنا محمد بن ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10647

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10648

10628 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن أبي غانم الغنوي عن أبي الطفيل قال : قلت لابن عباس Y يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رمل بالبيت فإن ذلك سنة قال : صدقوا وكذبوا قلت : ما صدقوا وما كذبوا ؟ قال : صدقوا إنه قد رمل وكذبوا ليست بسنة إن قريشا قالت : دعوا محمدا وأصحابه من الحديبية حتى يموتوا موت النغف فلما صالحوا رسول الله صلى الله عليه و سلم أين يجيئوا من العام المقبل فيقيموا بمكة ثلاثة أيام فقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم من العام المقبل والمشركون من قبل قعيقان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه : ارملوا بالبيت وليست بسنة قلت : يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طاف بين الصفا والمروة على بعير وأن ذلك سنة قال : صدقوا وكذبوا قال : قلت : ما صدقوا وما كذبوا ؟ قال : صدقوا قد طاف على بعير وكذبوا ليست بسنة إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يدفع عنه الناس ولا يضربوا عنه فطاف على بعير ليسمعوا كلامه ويروا مكانه ولا تناله أيديهم قلت : يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سعى بين الصفا والمروة وأن ذلك سنة قال : صدقوا إن إبراهيم عليه السلام لما أمر بالمناسك اعترض عليه الشيطان عند المسعى فسابقه فسبقه إبراهيم عليه السلام ثم ذهب به جبريل عليه السلام إلى جمرة العقبة فعرض له الشيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب [ وعرض عند الجمرة الوسطى فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ] ثم تله للحبين وعلى إسماعيل قميص أبيض فقال له : يا أبه إنه ليس قميص فكفني فيه والتفت إبراهيم عليه السلام فإذا هو بكبش أعين أبيض أقرن فذبحه ثم ثم ذهب به جبريل عليه السلام غلى الجمرة القصوى فعرض له الشيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم ذهب به إلى منى فقال : هذا المشعر الحرام ثم ذهب به إلى عرفة فقال ابن عباس : هل تدري لم سميت عرفة قلت : لم سميت عرفة ؟ قال : إن جبريل عليه السلام قال : هل عرفت ؟ قال : نعم ثم قال ابن عباس : هل تدري كيف كانت التلبية ؟ قلت : وكيف كانت التلبية ؟ قال : إن إبراهيم صلى الله عليه و سلم لما أن أمر أن يؤذي في الناس بالحج خفضت له الجبال رؤوسها رفعت له القرى فأذن في الناس

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور پیدل طوافِ کعبہ کیا ۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أبي غانم الغنوي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10648

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10649

10629 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن عمران بن أبي ليلى حدثني أبي عن ابن أبي ليلى عن عبد الكريم عن أبي الطفيل عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم حين دخل مكة قال : إن القوم قد زعموا أنكم قد هلكتم هزلا وجوعا فأرملوا إذا دخلتم واستلمتم ثلاثة أشواط ففعلوا فقال أهل مكة ما نرى القوم إلا أقوياء وقد زعمتم أنهم قد هلكوا هزلا

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر پر تھا ‘دونوں طوافِ کعبہ کر رہے تھے ‘حضرت معاویہ جس رکن کے پاس سے گزرتے اس کو چوما کرتے تھے ‘حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف رکن یمانی کو چوم رہے تھے ‘حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : طوافِ کعبہ کے وقت کسی رکن کو نہیں چھوڑتا ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10649

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ أبو الطفيل عن ابن عباس ] · حديث 10650

10630 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبه بن خالد حماد بن سلمة عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن أبي الطفيل عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم اعتمر من الجعرانه فطاف بالبيت ماشيا

حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ کو طوافِ کعبہ کرتے ہوئے دیکھا ‘آپ کی بائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے ‘میں ان دونوں کے پیچھے چل رہا تھا ‘ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا ‘حضرت ابن معاویہ نے دونوں رکنوں کو چھونے لگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کو فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں رکنوں کو چوما نہیں کرتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! آپ مجھے چھوڑیں ‘کیونکہ اس سے کوئی شی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← هدبه بن خالد حماد بن سلمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10650

chevron_left Previous
1…717273…90
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter