Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10627

10607 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عبد الله بن رجاء ثنا يزيد بن أبي سلمة أبو يوسف قال سمعت وهب بن منبه يقول Y صحبت ابن عباس قبل أن يصاب بصره وبعدما أصيب فسئل عن القدر فقال : وجدت أصوب الناس فيه حديثا أجهلهم به وأضعفهم فيه حديثا أعلمهم به ووجدت الناظر فيه كالناظر في شعاع الشمس كلما ازداد فيه نظرا ازداد بصره فيه تحيرا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر مجھے فرعون کہے: اللہ تجھے برکت دے! تو میں کہوں: اور تجھے بھی ! حالانکہ فرعون مرچکا ہے۔

القدر ← صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ، فَسُئِلَ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← يزيد بن أبي سلمة أبو يوسف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10627

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10628

10608 - حدثنا علي ثنا أبو نعيم ثنا عبد الله بن الوليد العجلي عن بكير بن شهاب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y المساجد بيوت الله في الأرض تضيء لأهل السماء كما تضيء نجوم السماء لأهل الأرض

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں کے پر ایسا وقت آئے گا کہ وہ لوگ بدعت ایجاد کریں گے اور سنت کو چھوڑ دیں گے ‘بدعتیں آتی جائیں گی اور سنتیں ختم ہوتی جائیں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيٍّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10628

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10629

10609 - حدثنا علي ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : لو قال لي فرعون Y بارك الله فيك قلت : وفيك وفرعون قد مات

حضرت عبد الحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے انار کے دانہ کو پکڑا اور کھایا آپ سے عرض کی گئی: اے ابن عباس! آپ ایسے کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ زمین میں انار نہیں تھا تو جنت سے اس کا بیج لایا گیا ‘شاید وہ یہی ہو۔

لِي فِرْعَوْنُ‏:‏ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، قُلْتُ‏:‏ وَفِيكَ، وَفِرْعَوْنُ قَدْ مَاتَ‏.‏ ← لَوْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيٍّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10629

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10630

10610 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا عبد المؤمن أبو عبيد حدثني مهدي بن مهدي عن عكرمة عن ابن عباس قال Y ما أتى علي الناس عام إلا أحدثوا فيه بدعة وأماتوا فيه سنة حتى تحيى البدع وتموت السنن

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے زرد رنگ کی جوتی پہنی ‘وہ جب تک پہنے رکھے اُس وقت تک خوش نہیں ہوگا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← مهدي بن مهدي ← عبد المؤمن أبو عبيد ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10630

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10631

10611 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عاصم عن عبد الحميد بن جعفر عن أبيه أن ابن عباس Y كان يأخذ الحبة من الرمان فيأكلها قيل له : يا ابن عباس لم تفعل هذا ؟ قال : إنه بلغني أنه ليس في الأرض رمانة تلقح إلا بحبة من حب الجنة فعلها هذه

حضرت زهدم جرمی فرماتے ہیں: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گروہ میں تھے تو آپ نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو نہ سّر اور نہ اعلان ہے ‘بے شک جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہوا (جب وہ شہید ہوئے) تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ الگ ہو جا ئیں! پس اگر آپ کسی سوراخ میں بھی ہوئے تو آپ کو تلاش کر کے نکال لیا جائے گا۔ پس اُنہوں نے میری بات نہ مانی ‘قسم بخدا! ہمارے اوپر حضرت معاویہ ضرور امیر بنیں گے ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ( اور جو شخص ظلم سے ناحق ) قتل کیا جائے تو بے شک ہم نے اس کے وارث کے لیے (عدالت کے ذریعے قاتل سے قصاص لینے کا ) حق ٹھہرایا تو وارث کو چاہیے کہ قتل ( کا بدلہ لینے ) میں حد سے نہ بڑھے بے شک وہ مدد کیا ہوا ہے‘‘۔ اور قریش تم کو ضرور فارس اور روم کے طریقے پر چلائیں گے اور تمہارے اوپر نصاری ‘یہودی اور مجوسی احسان جتلائیں گے ‘پس جس آدمی نے اس دن نیکی کو اختیار کیا اُس نے نجات پائی اور جس نے چھوڑ دیا اور تم بھی چھوڑنے والے ہو تم پہلے گروہوں میں سے ایک گروہ کی طرح ہو جو ہلاک ہو گئے۔

عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10631

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10632

10612 - حدثنا موسى بن هارون ثنا سهل بن عثمان ثنا ابن العذراء عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال Y من لبس نعلا صفراء لم يزل في سرور مادام لابسها

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے رکھا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی : میں نے ! آپ نے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور عرض کی : اے اللہ ! اس کو دین کی سمجھ دے اور قرآن کا علم دے۔

من لبس نعلا صفراء لم يزل في سرور مادام لابسها ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابن العذراء ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10632

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10633

10613 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي الأذني ثنا أبو عمير بن النحاس ثنا ضمرة بن ربيعة عن ابن شوذب عن مطر الوراق عن زهدم الجرمي قال Y كنا في سمرا بن عباس فقال : إني محدثكم بحديث ليس بسر ولا علانية إنه لما كان من أمر هذا الرجل ما كان يعني عثمان قلت لعلي : اعتزل فلو كنت في جحر طلبت حتى تستخرج فعصاني وأيم الله ليتأمرن عليكم معاوية وذلك أن الله عز و جل يقول { ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف في القتل إنه كان منصورا } ولتحملنكم قريش على سنة فارس والروم وليتمنن عليكم النصارى واليهود والمجوس فمن أخذ منكم يومئذ بما يعرف نجا ومن ترك وأنتم تاركون كنتم كقرن من القرون فمن هلك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دو مرتبہ دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دو مرتبہ حکمت کی دعا کی۔

كنا في سمرا بن عباس ← زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10633

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10634

10614 - حدثنا علي بن العباس البجلي الكوفي ثنا مقدم بن محمد الواسطي ثنا عمي القاسم بن يحيى عن داود بن أبي هند عن سعيد بن جبير عن ابن عباس Y أه كان في بيت ميمونة فوضع للنبي صلى الله عليه و سلم طهورا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من وضعه ؟ قال ابن عباس : أنا فضرب على منكبي وقال : اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے پوچھا کرتے تھے جبکہ وہ صحابہ کی معیت میں تھے ‘پس حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے اُن سے کہا: آپ ان سے کیوں پوچھتے ہیں؟ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک اُن کی حیثیت آپ جانتے ہیں ‘پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی فتح آجائے‘‘۔ پس میں نے کہا: بے شک یہ نبی کریم ’’ اے اللہ ! تُو ربِ عظیم ہے اگر تُو اپنی اطاعت کرانا چاہے تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تُو چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے تو تیری نافرمانی نہ کی جائے اور تُو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے حالانکہ اس چیز میں تیری نافرمانی کی جاتی ہے ‘اے میرے رب! اس میں کیا حکمت ہے؟ تو اللہ نے ان کی طرف وحی کی : جو کام میں کرتا ہوں ‘اس کے بارے مجھ سے پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی ‘البتہ لوگوں کی پوچھ گچھ ہوگی۔ کے وصال کی خبر ہے اور اُنہوں نے اس سورت کو (کان تو ابا ) تک پڑھا ‘تو حضرت عمر نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَی ← مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10634

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10635

10615 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا زيد بن المبارك ثنا يحيى بن آدم عن أبي كدينة يحيى بن المهلب عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال Y رأيت جبريل مرتين ودعا لي رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحكمة مرتين

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے بدری صحابہ کی معیت میں داخل کرتے تھے ‘ان میں سے کسی نے کہا: آپ اس جوان کو ہمارے ساتھ کیوں شامل کرتے ہیں حالانکہ ان کی عمر کے ہمارے بیٹے ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جن کو تم جانتے ہو ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور مجھے بھی بلایا اور میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے اس دن ان لوگوں کو میرا علم دکھانے کے لیے مجھے بلایا ‘فرمایا: (اذاء جاء نصر اللّٰه والفتح الٰى آخرهٖ ) یہاں تک کہ پوری سورت پڑھی اور کہا کہ اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو ان میں سے ایک نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی حمد کریں اور اس سے بخشش طلب کریں جب ہماری مدد کی جائے اور ہمیں فتوحات حاصل ہوں اور اُن میں سے بعض نے کہا: ہم نہیں جانتے اور ان میں سے بعض نے اس بارے کوئی بات بھی نہ کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم بھی اسی طرح کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں! فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بتایا: جب اللہ تعالیٰ کی مدد آ جائے اور فتح یعنی فتح مکہ حاصل ہو جائے تو یہ آپ کے وصال کی نشانی ہے۔ پس آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے بخشش مانگیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو آپ جانتے ہیں ‘اس سورت کے حوالے سے میں بھی اس سے زیادہ نہیں جانتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← أَبِي كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنِ الْمُهَلَّبِ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10635

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10636

10616 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنه قال Y كان عمر يسألني مع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له عبد الرحمن بن عوف تسأله فقال : إنه من حيث تعلم فسألهم عن { إذا جاء نصر الله والفتح } فقلت : إنما هو أجل النبي صلى الله عليه و سلم وقرأ السورة إلى آخرها إلى { كان توابا } فقال عمر : صدقت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بلا کر شب قدر کے بارے میں سوال کیا تو سب نے اسی بات پر اجماع کیا کہ وہ آخری عشرہ میں ہے ‘حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: بے شک میں زیادہ جانتا ہوں اور میں نے حساب لگا رکھا ہے کہ وہ کون سی رات ہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بتاؤ! تو میں نے کہا: ساتویں جو گزر جائے (یعنی ستائیسویں) یا ساتویں جو آخرہ عشرہ سے باقی رہ جائے ( یعنی تئیسویں)۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آپ نے کہاں سے معلوم کیا ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے سات آسمان ‘سات زمینیں اور سات دن پیدا فرمائے اور مہینہ سات میں گھومتا ہے اور انسان کو سات سے پیدا کیا اور وہ سات چیزوں سے کھاتا ہے ‘سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے ‘بیت اللہ کے چکر سات ہیں اور شیطان کو سات کنکریاں مارتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت ساری چیزوں کا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے ایسی چیز کو سمجھا جو ہمیں سمجھ نہ آئی۔ اور حضرت قتادہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول : ” اور وہ سات سے کھاتا ہے ‘‘میں اضافہ نقل کیا ‘فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ’’ پھر ہم نے اس میں اناج اُگایا اور انگور اور تازہ گھاس“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10636

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10637

10617 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y كان عمر يدخلني مع أشياخ بدر فقال بعضهم : لم تدخل هذا الفتى معنا ولنا أبناء مثله ؟ فقال : إنه ممن قد علمتم قال : فدعاهم ذات يوم ودعاني وما رأيته دعاني يومئذ إلا ليريهم مني فقال : ما تقولون { إذا جاء نصر الله والفتح * ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجا } حتى ختم السورة فقال بعضهم : أمرنا أن نحمد الله ونستغفره إذا نصرنا وفتح علينا وقال بعضهم : لا ندري ولم يقل بعضهم شيئا فقال لي : يا ابن عباس كذلك تقول ؟ قلت : لا قال : فما تقول ؟ قلت : هو أجل رسول الله صلى الله عليه و سلم علمه الله إذا جاء نصر الله والفتح في مكة فذاك علامة أجلك فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا فقال عمر : ما أعلم منها إلا ما تعلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : حضرت عباس نے مجھے فرمایا: اے میرے بیٹے ! بے شک امیرالمؤمنین آپ کو بلاتے ہیں اور اپنے قریب کر کے صحابہ کی موجودگی میں آپ سے مشورہ لیتے ہیں ‘تو میری طرف سے تین باتیں یاد رکھ لے: تقویٰ اختیار کر تجھ پر جھوٹ مسلط نہیں ہو گا ‘ان کا راز فاش نہ کرنا اور ان کے پاس کسی کی غیبت نہ کرنا۔ حضرت عامر فرماتے ہیں: پس میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی : ان میں سے ہر ایک دس ہزار سے بہتر ہے۔

بَعْضُهُمْ: لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ؟ ← کَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10637

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10638

10618 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبدالرزاق أنا معمر عن قتادة و عاصم أنهما سمعا عكرمة يقول : قال ابن عباس Y دعا عمر بن الخطاب أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم فسألهم عن ليلة القدر فأجمعوا أنها في العشر الأواخر قال ابن عباس : فقلت لعمر : إني لأعمل وإني لأظن أي ليلة هي فقال عمر : وأي ليلة هي ؟ فقلت : سابعة تمضى أو سابعة تبقى من العشر الأواخر فقال عمر : ومن أين علمت ذلك ؟ فقال ابن عباس : قلت : خلق الله سبع سماوات وسبع أرضين وسبعة أيام وإن الشهر يدور في سبع وخلق الأنسان من سبع ويأكل من سبع ويسجد على سبع والطواف بالبيت سبع ورمي الجمار سبع لأشياء ذكرها فقال عمر : لقد فطنت لأمر [ ما فطنا له ] وكان قتادة يزيد عن ابن عباس في قوله ويأكل من سبع هو قول الله عز و جل ( فأنبتنا فيها حبا وعنبا وقضا ) الآية

حضرت ابو بکر ہذلی فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: بے شک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کے حوالے سے اس مقام پر ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے ہیں: تمہارا یہ جوان بہت مضبوط ہے ( بوڑھے لوگوں کی طرح) بے شک اس کے پاس سوال کرنے والی زبان اور سمجھنے والا دل ہے ‘وہ کھڑا ہوتا ہے ہمارے اس منبر پر کہتا ہے (میرے خیال میں یہ بات ہے ) نویں ذوالحجہ کی رات۔ پس وہ سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی پہلے تلاوت کرتے پھر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتے اور آپ رضی اللہ عنہ شعلہ بیان خطیب ‘باہمات آدمی ( ہر کام کر گزرنے والے ) اور خوشحال آدمی تھے ۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُالرَّزَّاقِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10638

chevron_left Previous
1…707172…90
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter