Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 773 - أحاديث عبد الله بن العباس بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف يكنى أبا العباس ومن أخباره ووفاته رضي الله عنهما · حديث 10603

10583 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا بسام الصيرفي عن عبد الله بن يامين أخبرني أبي Y أنه لما مر بجنازة ابن عباس بالحيرة وهو واد لهم جاء طائر أبيض يقال له : الغرنوق فدخل في النعش فلم ير بعد

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک عبداللہ بن عباس کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی: اے اللہ ! اسے حکمت عطا کر دے اور اس کو تفسیر کا علم عطا فرما اور اپنا ہاتھ حضرت ابن عباس کے سینے پر رکھا ‘پس حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ‘پھر کہا: اے اللہ ! اس کے اندر (یعنی دل ) کو حکمت اور علم سے بھر دے ‘(اُس کے بعد ساری زندگی ) آپ نے لوگوں میں سے کسی کے سوال کا خوف اپنے دل میں محسوس نہیں کیا ‘ہمیشہ اس اُمت کے بڑے عالم بن کے رہے ‘یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کو اپنے پاس بلا لیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، ← بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10603

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10604

10584 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا : ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة أنا عمار بن أبي عمار عن ابن عباس قال Y كنت مع أبي عند النبي صلى الله عليه و سلم ومع النبي صلى الله عليه و سلم رجل يناجيه فكان كالمعرض عن أبي فخرجنا من عنده فقال أبي : ألم تر إلى ابن عمك كالمعرض عني ؟ فقلت : يا أبه كان عنده رجل يناجيه فقال : فكان عنده أحد ؟ قلت : نعم فرجعنا فقال : يا رسول الله إني قلت لعبد الله كذا وكذا ؟ قلت : نعم فقال لي كذا وكذا هل كان عندك أحد ؟ قال : نعم رأيته يا عبد الله ؟ قلت : نعم قال : ذاك جبريل عليه السلام هو الذي شغلني عنك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس حال میں گزرا کہ میرے اوپر سفید چادر تھی ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت دحیہ کلبی بن خلیفہ سے سرگوشی (آہستہ آہستہ باتیں) کر رہے تھے حالانکہ وہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے ‘مجھے معلوم نہ تھا۔ پس میں نے سلام نہ کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے چچا کا بیٹا ہے ‘یہ ابن عباس ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید ہیں جبکہ ان کے بعد ان کی اولاد کالے کپڑے پہنے گی ‘اگر یہ ہمیں سلام کرتے تو ہم ان کے سلام کا جواب ان پر لوٹاتے۔ پس جب میں لوٹ کر آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابن عباس! آپ کو سلام کرنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! میں نے آپ کو حضرت دحیہ بن خلیفہ سے سرگوشی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے پسند نہ کیا کہ آپ دونوں کی سرگوشی کا سلسلہ توڑ دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے واقعی اس (سرگوشی کرنے والے) کو دیکھا؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: بہر حال عنقریب آپ کی بینائی چلی جائے گی اور تیری موت کے وقت تجھے واپس کر دی جائے گی۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں: پس جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی جان قبض کی گئی اور آپ کو چارپائی پر رکھا گیا تو انتہائی نورانی ایک پرندہ آیا تو وہ آپ کے کفن میں سمایا‘پس لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے کفن کو کھولنا چاہا تو حضرت عکرمہ نے کہا: کیا کرتے ہو؟ یہ تو (ان کیلئے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ‘پس جب ان کو قبر میں رکھا گیا تو چند کلمات کے ذریعے آپ کو تلقین کی گئی ‘جس کو ہر اُس آدمی نے سنا جو بھی آپ رضی اللہ عنہ کی قبر کے کنارے موجود تھا: ’’ يا ايتها النفس المطمئنة الٰى آخرہٖ ‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10604

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10605

10585 - حدثنتا عبد الله بن سعد بن يحيى الرقي ثنا عامر بن سيار قال ثنا فرات بن السائب عن ميمون بن مهران عن عبد الله بن العباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وضع يده على رأس عبد الله بن العباس فقال : اللهم اعطه الحكمة وعلمه التأويل ووضع يده على صدره فوجد عبد الله بن العباس بردها في ظهره ثم قال : اللهم احش جوفه حكما وعلما فلم يستوحش في نفسه إلى مسألة أحد من الناس ولم يزل حبر هذه الأمة حتى قبضه الله إليه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت میمونہ بنت حارث کے گھر میں تھا ‘میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کا پانی رکھا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے رکھا ہے؟ حضرت میمونہ نے عرض کی : عبداللہ نے رکھا ہے ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! اس کو قرآن کا علم دے اور دین کی سمجھ دے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ العباس، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، ← عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ ← حدثنتا عبد الله بن سعد بن يحيى الرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10605

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10606

10586 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا المنهال بن بحر أبو سلمة العقيلي ثنا العلاء بن برد ثنا الفضل بن حبيب عن فرات عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال Y مررت برسول الله صلى الله عليه و سلم وعلي ثياب بيض وهو يناجي دحية بن خليفة الكلبي وهو جبريل عليه السلام وأنا لا أعلم فلم أسلم فقال جبريل : يا محمد من هذا ؟ قال : هذا ابن عمي هذا ابن عباس قال : ما أشد وضح ثيابه إما إن ذريته ستسود بعده لو سلم علينا رددنا عليه فلما رجعت قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ابن عباس ما منعك أن تسلم ؟ قلت : بأبي أنت وأمي رأيتك تناجي دحية بن خليفة فكرهت أن تنقطع عليكما مناجاتكما قال : وقد رأيته ؟ قلت : نعم قال : أما إنه سيذهب بصرك ويرد عليك في موتك قال عكرمة : فلما قبض ابن عباس ووضع على سريره جاء طائر شديد الوهج فدخل في في أكفانه فأرادوا نشر أكفانه فقال عكرمة : ما تصنعون ؟ هذه بشرى رسول الله صلى الله عليه و سلم التي قال له : فلما وضع في لحده تلقي بكلمة فسمعها من علي شفير قبره ( يا أيتها النفس المطمئنة ارجعي إلى ربك راضية مرضية فادخلي في عبادي وادخلي جنتي )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ مبارک سے لگایا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! اس کو حکمت سکھا دے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← فُرَاتٍ ← الْفَضْلُ بْنُ حَبِيبٍ ← الْعَلَاءُ بْنُ بُرْدٍ، ← الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ أَبُو سَلَمَةَ الْعُقَيْلِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10606

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10607

10587 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا : ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة أنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y كنت في بيت ميمونة بنت الحارث فوضعت للنبي صلى الله عليه و سلم وضوءا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من وضع هذا ؟ فقالت ميمونة : وضعه عبد الله فقال : اللهم علمه التأويل وفقهه في الدين

حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت امیر معاویہ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی جبکہ ان کے پاس بڑے بڑے قریشی تھے اور حضرت سعید بن عاص ان کے دائیں طرف بیٹھے تھے ‘پس جب حضرت امیر معاویہ کی ان پر نظر پڑی تو کہا: اے سعید! قسم بخدا! میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر ایسے سوال کروں گا کہ ان کے جواب سے عاجز ہوں گے۔ پس حضرت سعید نے ان سے کہا : حضرت ابن عباس جیسا آدمی تیرے سوالوں سے عاجز نہیں آسکتا۔ پس جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت امیر معاویہ نے ان سے کہا: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو! قسم بخدا! وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے ‘کجی دُور ہونے والے ‘فحش کلام کو بھولے ہوئے ‘بُرائی سے روکنے والے ‘اپنے دین کو جانے والے ‘ان سے ڈرنے والے ‘مہلکات سے پہلو بچانے والے ‘رات کو قیام کرنے والے ‘دن کو روزہ رکھنے والے ‘اپنی دنیا کے نقصان سے محفوظ و مامون ‘لوگوں کے ساتھ عدل کرنے کا پکا ارادہ رکھنے والے ‘نیکی کا حکم دینے والے ‘اللہ کیلئے صبر کرنے والے ‘ہر حال میں اللہ کا شکر بجالانے والے ‘صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے والے ‘اپنی ذات کیلئے مصلحتوں پر قابو پانے والے ‘اپنے دوستوں پر فوقیت لیے اور عمدہ ہوئے پرہیز گاری اور کفایت کے لحاظ سے ‘زہد اور پاکیزہ ہونے کے لحاظ سے ‘نیکی اور احتیاط کے اعتبار سے ‘بڑے زاہد ‘خدا رسیدہ بزرگ ہونے اور کفایت کے اعتبار سے سب دوستوں سے آگے تھے ‘پس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک ہر اُس بندے کو سزا دے گا جس لعین نے بھی آپ کے عیب نکالنے کی کوشش کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10607

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10608

10588 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا عاصم بن علي حدثني أبي علي بن عاصم عن خالد الحذاء عن عكرمة عن ابن عباس قال Y ضمني النبي صلى الله عليه و سلم إليه فقال : اللهم علمه الحكمة

حضرت ابان بن ولید فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیعت کے حوالے سے خط لکھا ‘اُنہوں نے ان کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ پس یزید بن معاویہ نے گمان کیا کہ آپ نے صرف اس وجہ سے ان کی بیعت نہیں کی کہ آپ کا مرتبہ و مقام بلند و بالا ہے ‘تو یزید بن معاویہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا: حمد و ثناء کے بعد مجھے پتا چلا ہے کہ بے دین ابن زبیر نے آپ کو اپنی بیعت کی دعوت دی ہے تا کہ وہ آپ کو اپنی اطاعت میں داخل کر سکے اور آپ باطل پر اس کے مددگار بن جائیں اور گناہ میں اس کے شریک ہو جائیں ‘پس آپ بیعت کرنے سے رُک گئے ہیں اور آپ گرفتہ ہیں ‘اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمارے حق میں اپنی ذات کا عرفان عطا فرمایا ہے۔ اے اہل بیت ! پس اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! اس سے زیادہ فضیلت والی جو وہ صلہ رحمی کرنے والوں اور اپنے وعدے پورے کرنے والوں کو عطا فرماتا ہے۔ پس اگر وہ کئی چیزیں بھول گیا ہے تو میں تو آپ کی نیکی اور صلہ رحمی اور اچھے انعام کو نہیں بھولا ‘بد لے اس ذات کے ہم میں سے جس کے آپ اہل ہیں ‘اطاعت ‘بزرگی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کے۔ پس آپ اپنی طرف سے اس کو دیکھیں جو آپکی قوم سے ہے اور ایک وہ ہے جو اہلِ آفاق سے آپ پر طاری ہو رہا ہے ‘اس کا تعلق اس سے ہے جس پر ابن زبیر کی زبان اور اس کی چکنی چپڑی باتوں کا جدو چل گیا ہے۔ پس آپ ان کی رسوارئی کریں کیونکہ وہ آپ کیلئے زیادہ اطاعت کرنے والے اور آپ سے زیادہ سننے والے ہیں ‘بے دین ‘خرابی کرنے والے اور اسلام سے نکلنے والے کیلئے ان میں سے لوگ ہیں۔ والسلام ! پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (جواب میں ) اس کی طرف لکھا: حمد و ثناء کے بعد ! پس میرے پاس تیرا خط آیا ‘تُو نے لکھا اس بات کو جو ابن زبیر نے مجھے اپنی طرف دعوت دی ہے اور آپ نے لکھا ہے کہ میں تیرے حق کی وجہ سے اس کی بیعت کرنے سے رُک گیا ہوں۔ پس (بفرض ناممکن ) اگر یہ بات اسی طرح ہے تو میں تجھ سے نیکی کرنے والا نہیں ہوں کہ میں اس چیز سے جہاد کروں گا بلکہ جو میں نے نیت کی اس چیز سے جہاد کروں گا بلکہ جو میں نے نیت کی ہے ‘میرا غیب جاننے خدا جانتا ہے اور تُو نے میری طرف یہ بھی لکھا ہے کہ میں لوگوں کو تیری طرف اُکساتا ہوں اور ان کو ابن زبیر سے برگشتہ کروں گا (ایسا نہیں ہے) پس کوئی خوشی کی بات نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مسرت ہے ‘حاکم بدہن ( تیرے منہ میں مٹی ) تیرے حصے میں عیب نکالنا ہی لکھا ہے ‘تُو اکیلا ہونے والا ہے ‘اگر تیرے نفس نے تجھے پُھلا دیا ہے ‘تُو ہی بربادی کا شکار ہو کر ختم ہونے والا ہے اور تُو نے میری طرف لکھا ہے کہ میں جلدی تجھے اپنی نیکی اور صلہ رحمی کی خبر دوں۔ پس اے انسان! تُو نے اپنی نیکی اور صلہ رحمی مجھ سے (روک لی ‘یا) روک لے کیونکہ میں تجھ سے اپنی محبت اور مدد روکنے والا ہوں ‘مجھے میری عمر کی قسم ! جو تیرے قبضے میں ہمارا حق ہے ‘وہ تو ہمیں کم ہی دیتا ہے اور بہت زیادہ روک لیتا ہے ‘تیرے اوپر افسوس! کیا تُو خیال کرتا ہے کہ میں یہ بات بھول گیا ہوں کہ تُو نے حضرت امام حسین کو قتل کیا اور بنو عبدالمطلب کے دوسرے جوانوں کو جو اندھیرے میں چراغ تھے اور نشانیوں کے ستارے۔ تیرے لشکر نے تیرے حکم سے ان کے ساتھ غدر کیا۔ پس ایک ہی سرزمین پر اُنہوں نے اپنی جان کی قربانیاں پیش کر دیں۔ خون کی خوبصورت چادریں اوڑھ لیں ‘دریا کے کنارے (ان کے کفن )چھین لئے گئے ‘ان کو کفن نہ ملے اور نہ ہی قبروں میں لگانے کو تکیے۔ گرد آلود ہوائیں ان پر چلتی رہیں اور بھیڑیے ان سے لڑتے رہے ‘ان کے پاس گھاٹے کا سودا کرنے والے بار بار آتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے ان کیلئے اس قوم کو تیار کیا جو ان کے خونوں میں شریک نہ تھی ‘پس اُنہوں نے ان کو کفن دیا اور دفن کیا۔ قسم بخدا ! اللہ تعالیٰ نے انہیں کے سبب اور میری وجہ سے تیرے اوپر کرم کیا تھا ‘پس اس مجلس میں بیٹھنے کے قابل ہوا جس میں تُو ہے اور کبھی میں بعض چیزیں بھول جاتا ہوں لیکن میں اس بات کو بالکل نہیں بھولا ہوں کہ تُو نے ان پر مسلط کیا حرامی ابن حرامی کو ‘جو زانیہ اور فاسق و فاجرہ کا بیٹا تھا ‘رحم سے دور تھا ‘ماں اور باپ دونوں کے لحاظ سے کمینہ یعنی کمینے آدمی اور کمینی عورت کا کمینہ (لڑکا) تھا اور وہ چیز جس کو تیرے باپ نے حاصل کیا تھا ‘اپنے لئے عار ‘گناہ اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کا دعویٰ کرنے میں۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ ‘بستر والے کا ہے اور زانی کا نہیں ہے اور تیرے باپ نے گمان کیا کہ بچہ ‘اس کا بھی ہو سکتا ہے جو بستر والا نہ ہو اور زانی کو یہ بات نقصان نہیں دیتی اور اسکا بچہ اس سے مل سکتا ہے جیسے پیشہ ور زانیہ کا بچہ مل سکتا ہے ‘اپنی جہالت کی وجہ سے تیرے باپ نے ایک سنت کو ختم کر دیا اور جان بوجھ کر ایک گمراہ کرنے والی بدعت کو جاری کیا اور کبھی میں بعض چیزیں بھول جاتا ہوں لیکن میں اس بات کو نہیں بھولا کہ تُو نے پہلے حضرت امام حسین کو حرم رسول سے حرمِ خدا کی طرف جانے پر مجبور کیا پھر ان کی طرف ایسے لوگوں کو بھیجا اور ان پر اپنا حکم ٹھونسنے کی کوشش کی کہ وہ تم سے ہوشیار رہیں ‘پس ان لوگوں نے جلدی کی۔ تو مسلسل اپنی کارروائیاں کرتا رہا حتیٰ کہ تُو ان کو مکہ کی مقدس سرزمین سے ‘کوفہ کی زمین تک لایا۔ تیرے گھڑ سوار اور تیرے لشکروں نے ان پر ایسے ہلّہ بول دیا جیسے شیر کسی چیز پر دھاڑتے ہوئے آجاتے ہیں ‘تیری اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی واضح ہو گئی۔ پھر تُو نے ہی ابن مرجانہ کو خط لکھا کہ وہ گھڑ سوار اور پیدل دستوں ‘نیزوں اور تلواروں کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تُو نے اس کی طرف لکھا کہ جلدی کرنی ہے اور ان کی طرف سے ٹال مٹول کو قبول نہیں کرنا یعنی مہلت نہیں دینی یہاں تک کہ تُو نے ان کو اور بنو عبدالمطلب کے دوسرے جوانوں کو قتل کر ڈالا جو ایسے گھر والے ہیں جن سے اللہ نے پلیدی کو دور رکھا اور ان کو خوب پاک کیا ہم وہی ہیں ‘تیرے آباء و اجداد کی طرح نہیں جو خشک مزاج اور گدھوں کے جگر پگھلانے والے تھے ‘یعنی اکثر گدھوں پر سوار ہو کر سفر کرتے ۔ تجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ وادیٔ بطحاء قدیم اور جدید میں سے سب سے زیادہ عزت والے تھے۔ تیرے گماشتوں نے حرمین شریفین کی عزت کو پامال کیا ‘وہاں پر جنگ و قتال کو حلال قرار دیا ‘لیکن اُس ہستی (امام عالی مقام ) نے اس بات کو نا پسند کیا کہ ان کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم اور بیت الحرام کی حرمت کو حلال سمجھا جائے۔ پس آپ نے تم سے یہ بھی مطالبہ کیا تو تم انہیں الوداع کہہ دو ( یعنی حجاز سے جائے دو) اور ان کو واپس جانے دو ‘یہ بھی اُنہوں نے تم سے کہا: تم نے ان کے انصار کے کم ہونے سے فائدہ اُٹھایا اور ان کے اہل بیت کے ساتھ ہونے سے ‘گویا تم ترکیوں کے گھر والوں یا کابل کے گھر والوں کو قتل کرتے ہو ‘تم کیسے ہو! مجھے اپنی محبت کی دعوت دیتے ہو اور مطالبہ کرتا ہے کہ میں تیری مدد کروں جبکہ تُو میرے باپ کے بیٹوں کا قاتل ہے۔ تیری تلوار میرا خون بہاتی ہے اور تُو میرا بدلہ لینے والا ہے؟ اگر تُو ان کی وجہ سے ہم پر سبقت لے گیا تو ہم بھی اس چیز کو قبول کریں گے ‘جس کو نبیوں اور ان کی اولاد نے قبول کیا ہے ‘دنیا میں ان کے خون بہے اور یہ اللہ کا وعدہ تھا جن پر ظلم ڈھایا گیا، ان کی مدد کرنے کو اللہ کافی ہے ‘ان کا ظالموں سے انتقام لینے کو اللہ بہت ہے ‘انتہائی تعجب کی جاہے ‘زمانے کے رب کی قسم ! تو زندہ نہیں رہے گا ‘تعجب خیز بات ہے کہ عبدالمطلب کی بیٹیوں اور ان کے بیٹوں پر تُو نے چھوکروں کو مسلط کیا ‘تیرے اوپر لازم ہے کہ اب شام میں ہی رہے ‘تُو لوگوں کو یہ بات دکھاتا ہے کہ تُو ہم پر غالب ہے ‘تو ہمیں ذلت کا شکار کرتا ہے انہیں کی وجہ سے اور میرے سبب تیرے اوپر ‘تیرے باپ اور عورتوں میں سے تیری ماں پر قسم بخدا! مہربانی ہوئی ہے۔ قسم بخدا! تُو شام اور صبح اس حال میں کرتا ہے کہ تُو میرے ہاتھ کے زخم سے محفوظ ہے ‘لیکن میری زبان سے جو زخم آئے گا یقینا ًوہ بڑا ہوگا جو میں نے سوالات کیے ہیں اور جو میں تجھے زچ کر رہا ہوں ‘یہ جنگ و جدال تجھے ڈگمگا دے گا ‘پس اللہ رب العزت تجھے مہلت نہیں دے گا مگر بہت تھوڑی بعد اس کے کہ تُو اللہ کے رسول کی اولاد کا قاتل ہے یہاں تک کہ وہ تجھے درد ناک گرفت سے پکڑے گا اور تجھے دنیا سے اس حال میں نکالے گا کہ تُو گنہگار ہوگا اور ملامت کیا ہوا شرمندہ۔ تیرا بُرا ہو ‘زندہ رہ لے جو تُو چاہتا ہے ‘جو کرتوت تُو نے کیے ہیں ان کے سبب اللہ کے پاس تیری ہلاکت ہے ‘پس جب یزید نے یہ خط پڑھا تو کہا: یقینا ًابن عباس شر کو بھڑکانے والے ہیں۔

ضمني النبي صلى الله عليه و سلم إليه فقال اللهم علمه الحكمة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← أبي علي بن عاصم ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10608

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10609

10589 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا هاشم بن محمد بن سعيد بن خثيم الهلالي ثنا أبو عامر الأسدي ثنا موسى بن عبد الملك بن عمير عن أبيه عن ربعي بن حراش قال Y استأذن عبد الله بن عباس على معاوية وقدتحلفت عنده بطون قريش و سعيد بن العاص جالس عن يمينه فلما نظر إليه معاوية قال : يا سعيد والله لألقين على ابن عباس مسائل يعيى بجوابها فقال له سعيد : ليس مثل ابن عباس يعيى بمسائلك فلما جلس قال له معاوية : ما تقول في أبي بكر قال : رحم الله أبا بكر كان والله للقرآن تاليا وعن الميل نائيا وعن الفحشاء ساهيا وعن المنكر ناهيا وبدينه عارفا ومن الله خائفا وعن المهلكات جانفا وبالليل قائما وبالنهار صائما ومن دنياه سالما وعلى عدل البرية عازما وبالمعروف آمرا وإليه صابرا وفي الأحوال شاكرا ولله في الغدو والأصال ذاكرا ولنفسه بالمصالح قاهرا فاق وراق أصحابه ورعا وكفافا وزهدا وعفافا وبرا وحياطة وزهادة وكفاية فأعقب الله من ثلبه اللعائن إلى يوم القيامة قال معاوية : فما تقول في عمر بن الخطاب ؟ قال : رحم الله أبا حفص كان والله حليف الإسلام ومأوى الأيتام ومحل الإيمان وملاذ الضعفاء ومعقل الحنفاء للخق حصنا وللناس عونا قام لحق الله صابرا ومحتبسا حتى أظهر الله به الدين وفتح الديار وذكر الله في الأقطار والمناهل وعلى التلال وفي الضواحي والبقاع وعند الخنا وقورا وفي الرخاء والشدة شكورا ولله في كل وقت وآناء ذكورا فأعقب الله من تنقصه اللعنة إلى يوم الحسرة قال معاوية : فما تقول في عثمان بن عفان ؟ قال : رحم الله أبا عمرو كان والله أكرم الحفدة وأفضل البررة واصبر القراء هجادا بالأسحار كثير الدموع عند ذكر الله دائم الفكر فيما يعنيه الليل والنهار نهاضا إلى كل مكرمة سعاء إلى كل منجية فرارا من كل موبقة وصاحب الجيش والبئر وختن المصطفى على ابنتيه فأعقب الله من سبه الندامة إلى يوم القيامة قال معاوية : فما تقول في علي بن أبي طالب ؟ قال : رحم الله أبا الحسن كان والله علم الهدى وكهف التقى ومحل الحجا وطود النهى ونور السرى في ظلم الدجى وداعية إلى الحجة العظمى عالما بما في الصحف الأولى وقائما بالتأويل والذكرى متعلقا بأسباب الهدى وتاركا للجور والأذى وحائدا عن طرقات الردى وخير من آمن واتقى وسيد من تقمص وارتدى وأفضل من حج وسعى وأسمح من عدل وسى وأخطب أهل الدنيا إلا الأنبياء والنبي المصطفى وصاحب القبلتين فهل يوازيه موحد وزوج خير النساء وأبو السبطين لم ترعيني مثله ولا ترى حتى القيامة واللقاء فمن لعنه فعليه لعنة الله والعباد إلى يوم القيامة قال : فما تقول في طلحة و الزبير ؟ قال : رحمة الله عليهما كانا والله عفيفين مسلمين برين طاهرين مطهرين شهيدين عالمين زلا زلة والله غافر لهما إن شاء الله بالنصرة القديمة والصحبة القديمة والأفعال الجميلة قال معاوية : فما تقول في العباس ؟ قال : رحم الله أبا الفضل كان والله صنو رسول الله وقرة عين صفي الله لهم الأقوام وسيد الأعمام قدعلاه بصر بالأمور ونظر في العواقب قد زانه علم قد تلاشت الأحساب عند ذكر فضيلته وتباعدت الأنساب عند فخر عشيرته ولم لا يكون كذلك وقد ساسه أكرم من دب وهب عبد المطلب ؟ أخر من مشي من قريب وركب قال معاوية : فلم سميت قريشا ؟ قال : بدابة تكون في البحر هي أعظم دواب البحر خطرا لا يظفر بشيء من دواب البحر إلا أكلته فسميت قريش لأنها أعظم العرب فعالا فقال : هل تروى في ذلك شيئا ؟ فأنشده قول الجمحي : وقريش هي التي تسكن البحر بها سميت قريش قريشا تأكل الغث والسمين ولا تت رك فيها لذي جناحين ريشا هكذا في الكتاب حي قريش يأكلون البلاد أكلا كشيشا ولهم آخر الزمان نبي يكثر القتل فيهم والخموش علا الأرض خيله ورجاله يحشرون المطي حشرا كميشا قال معاوية : صدقت يا ابن عياس أشهد أنك لسان أهل بيتك فلما خرج ابن عباس من عنده قال لمن عنده : ما كلمته قط إلا وجدته مستعدا

حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا روایت فرماتے ہیں کہ ھرقل بادشاہ نے حضرت معاویہ کی طرف خط لکھا اور کہا: اگر ان میں نبوت میں سے کوئی شی باقی ہے تو جو میں سوال کر رہا ہوں ان کے جوابات دیں۔ فرماتے ہیں کہ پس اس نے لکھا: میں مجرہ اور قوس کے بارے سوال کرتا ہوں اور میں اس بُقعہ کے بارے سوال کرتا ہوں جس تک صدف ایک گھڑی کیلئے طلوع ہوتا ہے ‘فرماتے ہیں: پس جب حضرت معاویہ کے پاس وہ خط اور اس کا قاصد آیا تو کہا: بے شک یہ ایک ایسی چیز ہے ‘میرا خیال ہے آج تک اس کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے۔ کون اس کا جواب دے سکتا ہے؟ عرض کی گئی: حضرت عبداللہ بن عباس! پس حضرت امیر معاویہ نے ھرقل کے خط کو لپیٹ دیا اور حضرت ابن عباس کی طرف بھیج دیا۔ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (جواب میں ) اس کی طرف لکھا: بے شک قوس (کمان) زمین والوں کیلئے ڈوبنے ( غرق ہونے) سے امان ہے۔ مجرہ ‘آسمان کا وہ دروازہ ہے جس سے (قیامت کے دن ) وہ پھٹے گا اور جہاں تک تعلق ہے ‘بقعہ (ٹکڑہ) کا جس تک سورج دن کی صرف ایک گھڑی پہنچتا ہے ‘پس وہ سمندر ہے جس کو بنی اسرائیل کیلئے کھولا گیا ۔

رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْأَسَدِيُّ، ← هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10609

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10610

10590 - حدثنا أحمد بن حمدان بن موسى الخلال التستري ثنا علي بن حرب الجنديسابوري ثنا إسحاق بن إبراهيم بن داحة ثنا أبو خداش عبد الرحمن بن طلحة بن يزيد بن عمرو بن الأهتم التميمي ثنا أبان بن الوليد قال : كتب عبد الله بن الزبير إلى ابن عباس في البيعة فأبى أن يبايعه فظن يزيد بن معاوية أنه إنما امتنع عليه لمكانه فكتب يزيد بن معاوية إلى ابن عباس Y أما بعد فقد بلغني أن الملحد ابن الزبير دعاك إلى بيعته ليدخلك في طاعته فتكون على الباطل ظهيرا وفي المائم شريكا فامتنعت عليه وانقبضت لما عرفك الله من نفسك في حقنا أهل البيت فجزاك الله أفضل ما يجزي الواصلين من أرحامهم الموفين بعودهم فمهما أنسى من الأشياء فلست أنسى برك وصلتك وحسن جائزتك بالذي أنت أهله منا في الطاعة والشرف والقرابة لرسول الله صلى الله عليه و سلم فانظر من قبلك من قومك ومن يطرأ عليك من أهل الآفاق ممن يسحره ابن الزبير بلسانه وزخرف قوله فخذلهم عنه فإنهم لك أطوع ومنك أسمع منهم للملحد الخارب المارق والسلام فكتب ابن عباس إليه : أما بعد فقد جاءني كتابك تذكر دعاء ابن الزبير للذي دعاني إليه وإني امتنعت معرفة لحقك فإن يكن ذلك كذلك فلست برك أغزو بذلك ولكن الله بما أنوي به عليم وكتبت إلى أن أحث الناس عليك وأخذلهم عن ابن الزبير فلا سرورا ولا حبورا نفسك الكثكث ولك الأثلب إنك لعازب إن منتك نفسك وإنك لأنت المنفود المثبور وكتبت إلي تذكر تعجيل بري وصلتي فاحبس أيها الانسان عني برك وصلتك فإني حابس عنك ودي ونصرتي ولعمري ما تعطينا مما في يديك لنا إلا القليل وتحبس منه العريض الطويل إلا أبالك أتراني أنسى قتلك حسينا وفتيان بني عبد المطلب مصابيح الدجى ونجوم الأعلام غادرتهم جنودك بأمرك فأصبحوا مصرعين في صعيد واحد مزملين في الدماء مسلوبين بالعراء لا مكفنين ولا موسدين تسفيهم الرياح وتغزوهم الذئاب وتتابهم عرج الضباع حتى أتاح الله لهم قوما لم يشركوا في دمائهم فكفنوهم وأجنوهم وبهم والله وبي من الله عليك فجلست في مجلسك الذي أنت فيه ومهما أنسى من الأشياء فلست أنسى تسليطك عليهم الدعي ابن الدعي للعاهرة الفاجرة البعيد رحما اللئيم أبا وأما الذي اكتسب أبوك في ادعائه لنفسه العار والمأثم والمذلة والخزي في الدنيا والآخرة لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الولد للفراش وللعاهر الحجر وإن أباك زعم أن الولد لغير الفراش ولا يضر العاهر ويلحق به ولده كما يلحق ولد البغي المرشد ولقد أمات أبوك السنة جهلا واحيى الأحداث المضلة عمدا ومهما أنسى من الأشياء فلست أنسى تسييرك حسينا من حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حرم الله وتسييرك إليهم الرجال وإدساسك إليهم إن هو نذر بكم فعاجلوه فما زلت بذلك حتى أشخصته من مكة إلى أرض الكوفة تزأر إليه خيلك وجنودك زئير الأسد عداوة مثلك لله ولرسوله ولأهل بيته ثم كتبت إلى ابن مرجانة يستقبله بالخيل والرجال والأسنة والسيوف ثم كتبت إليه بمعاجلته وترك مطاولته حتى قتلته ومن معه من فتيان بني عبد المطلب هل البيت الذين أذهب الله عنهم الرجس وطهرهم تطيهرا نحن أولئك لا كآبائك الأجلاف الجفاة أكباد الحمير ولقد علمت أنه كان أعز أهل البطحاء بالبطحاء قديما وأعزه بها حديثا لوثوا بالحرمين مقاما واستحل بها قتالا ولكنه كره أن يكون هو الذي يستحل به حرم الله وحرم رسول الله وحرمة البيت الحرام فطلب إليكم الحسين الموادعة وسألكم الرجعة فاغتنتم قلة نصاره واستئصال أهل بيته كأنكم تقتلون أهل بيت من الترك أو كابل فكيف تجدوني على ودك ؟ وتطلب نصرتي وقد قتلت بني أبي وسيفك يقطر من دمي وأنت آخذ ثأري ؟ فإن يشأ الله لا يطل لديك دمي ولا تسبقني بثأري وإن تسبقنا به فقبلنا ما قبلت النبيون وآل النبيين فظلت دماؤهم في الدنيا وكان الموعد الله فكفى بالله للمظلومين ناصرا ومن الظالمين منتقما والعجب كل العجب وما عشت بربك الدهر العجب حملك بنات عبد المطلب وحملك أبناءهم أغيلمة صغارا إليك بالشام تري الناس أنك قد قهرتنا وأنك تذلنا وبهم والله وبي من الله عليك وعلى أبيك وأمك من النساء وأيم الله إنك لتمسي وتصبح آمنا لجراح يدي وليعظمن جرحك بلساني ونقضي وإبرامي فلا يستفزنك الجدل فلن يمهلك الله بعد قتلك عترة رسوله إلا قليلا حتى يأخذك أخذا أليما ويخرجك من الدنيا آثما مذموما فعش لا أبالك ما شئت فقد أرداك عند الله ما اقترفت فلما قرأ يزيد الرسالة قال : لقد كان ابن عباس مضيا على الشر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں نے ایک آدمی سے کہا: آؤ! ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے پاس جا کر علم حاصل کریں۔ ہم ان سے پوچھیں کیونکہ ابھی تو وہ بہت ہیں ‘تو اس نے کہا: قسم بخدا! اے ابن عباس! حیرانی کی بات ہے ‘کیا تیرا خیال یہ ہے کہ لوگوں کو تیری ضرورت پڑے گی حالانکہ لوگوں میں تُو دیکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام موجود ہیں؟ پس میں نے اسے چھوڑ دیا اور اس مسئلہ کی طرف متوجہ ہوا ‘میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو تلاش کیا (ان کی تحقیقات سے فائدہ اُٹھایا ) پس اگر میں حدیث کے سلسلہ میں کسی آدمی کے پاس آتا اور مجھے پتا چلتا کہ فلاں آدمی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہے (تُو میں اس کے گھر جاتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ ) میں اسے پاتا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں تو میں اس کے دروازے پر اپنی چادر کو سر کے نیچے لے کر سو جاتا ‘ہوائیں گرد و غبار اُٹھا کر میرے منہ پر ڈالتیں یہاں تک کہ وہ صاحب خود بخود میرے پاس کو تشریف لاتے ‘پس جب وہ مجھے اس حال میں پاتے تو بے اختیار ان کی زبان پہ آتی: اے اللہ کے رسول کے چچا کے بیٹے ! آپ کا کیا ہے؟ میں کہتا: ایک حدیث کے بارے پتا چلا ہے کہ آپ اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے ہیں تو مجھے پسند ہے کہ میں آپ کی زبان سے سنوں (کہ آپ نے کیسے سنی ہے ) پس وہ کہتے : آپ نے میری طرف پیغام کیوں نہیں بھجوا دیا ‘میں خود حاضر ِخدمت ہو جاتا۔ میں کہتا: میرے اوپر ہی یہ حق تھا کہ میں آپ کے پاس آتا اور وہ آدمی (جس کو میں نے دعوت دی تھی) مجھے دیکھتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ دنیا سے تشریف لے گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پیش آئی ‘پس وہ کہتا : آپ مجھ سے زیادہ حقدار ٹھہرے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ، فَأَبَى ← أَبَانَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أبو خداش عبد الرحمن بن طلحة بن يزيد بن عمرو بن الأهتم التميمي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاحَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى الْخَلاَّلُ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10610

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10611

10591 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس Y أن هرقل كتب إلى معاوية وقال : إن كان بقي فيهم شيء من النبوة فسيخبرني عما أسألهم عنه قال : فكتب إليه يسأله عن المجرة والقوس وعن البقعة التي لم تصبها الشمس إلا ساعة واحدة قال : فلما أتي معاوية الكتاب والرسول قال : إن هذا لشيء ما كنت أراه أن أسأل عنه إلى يومي هذا من لهذا ؟ قيل ابن عباس فطوى معاوية كتاب هرقل فبعث به إلى ابن عباس فكتب إليه إن القوس أمان لأهل الأرض من الغرق والمجرة باب السماء الذي تنشق منه وأما البقعة التي لم تصبها الشمس إلا ساعة من نهار فالبحر الذي أفرج عن بني إسرائيل

حضرت طاؤس فرماتے ہیں: میں ستّر یا اسّی صحابہ کرام سے ہم مجلس ہوا لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مخالف نہیں پایا ‘پس وہ دونوں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور وہ صحابی )ملے تو اس صحابی نے یہی کہا: بات وہی معتبر ہے جو آپ نے کی ‘یا کہا: آپ نے سچ فرمایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10611

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10612

10592 - حدثنا إبراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت يعلى بن حكي يحدث عن عكرمة عن ابن عباس قال Y لما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت لرجل : هلم فلنتعلم من أحصاب رسول الله صلى الله عليه و سلم نسألهم فإنهم كثير فقال : العجب والله لك يا ابن عباس أترى الناس يحتاجون إليك وفي الناس من ترى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فتركت ذلك وأقبلت على المسألة وتتبع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن كنت لآتي الرجل في الحديث يبلغني أنه سمعه من رسول الله صلى الله عليه و سلم فأجده قائلا فأتوسد ردائي على باب داره تسفي الرياح على وجهي حتى يخرج إلي فإذا رآني قال : يا ابن عم رسول الله مالك قلت : حديث بلغني أنك تحدثه عن رسول الله فأحببت أن أسمعه منك فيقول : هلا أرسلت إلي فآتيك فأقول : أنا كنت أحق أن آتيك وكان ذلك الرجل يراني قد ذهب أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد احتاج الناس إلي فيقول : أنت كنت أحق مني

حضرت سعید بن جبیر سے مروی ‘ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا روایت فرماتے ہیں: حضرت سعید نے کہا: اے ابن عباس ! مجھے قرآن میں کچھ چیزیں ایک دوسرے سے مختلف لگتی ہیں تو میرے دل میں شک داخل ہو گیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا : کیا کوئی قرآن کو جھٹلانے والی بات ہے؟ تو اس آدمی نے عرض کی: جھٹلانے والی کوئی بات نہیں ہے ‘بس یہ اختلاف کی صورت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پیش کرو جو تمہارے دل میں داخل ہوا ہے۔ اس آدمی نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنتا ہوں: ’’ تُو نہ ان میں رشتے رہیں گے اس دن اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے“۔ اور دوسری آیت میں ہے: ” اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا آپس میں پوچھتے ہوئے ‘‘۔ ایک آیت میں ہے: ’’ اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں‘‘۔ ایک آیت میں فرمایا ہے: ’’ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم ! ہم مشرک نہ تھے ‘‘۔ پس اس آیت میں ان لوگوں نے چھپایا ہے ‘اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ’’ آسمان ‘اللہ نے اسے بنایا ‘اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا ‘اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی اور اس کے بعد زمین پھیلائی‘‘۔ پس اس آیت میں ذکر فرمایا کہ آسمانوں کو زمینوں سے پہلے پیدا کیا پھر اس دوسری آیت میں فرمایا: ’’ کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے دو دنوں میں زمین بنائی اور اس کیلئے ہمسر مقرر کرتے ہو ‘وہ عظمت والا تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ پیدا کئے ‘اس میں برکت رکھی اور اس میں اس کے رہنے والوں کی روزیاں مقرر کیں ‘زمین کو پیدا کرنے سمیت یہ تمام کام چار دنوں میں کیے ‘پوچھنے والوں کیلئے پورے چار دن ‘پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی جبکہ وہ دھواں تھا ‘پس اسے اور زمین کو فرمایا: تم خوشی یا نا خوشی سے حاضر ہو جاؤ ‘دونوں نے کہا: ہم بخوشی حاضر ہیں‘‘۔ پس اس آیت میں ذکر فرمایا کہ اللہ نے زمین کو آسمان سے پہلے پیدا فرمایا ۔ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے ‘‘۔ ’’اور اللہ بڑا غالب اور عظیم حکمت والا ہے ‘‘۔ اور اللہ سب کچھ خوب سننے اور خوب سیکھنے والا ہے‘‘۔پس گویا وہ موجود تھا ‘پھر وہ گزر گیا ‘پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لا و! جو تمہارے دل میں ہے۔ سائل نے کہا: پس آپ مجھے یہی بتا دیں تو مجھے کافی ہو گا۔ پس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا ارشاد: ’’ تُو اس دن نہ تو ان کے درمیان رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ ہی ان رشتہ داریوں کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے‘‘۔ پس یہ اس وقت ہوگا جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا ‘صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں اور زمین میں ہوگا ‘ بے ہوش ہو جائے گا مگر جس کو اللہ چاہے گا تو اس دن نہ تو رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ ہی ان رشتہ داریوں کے بارے میں پوچھیں گے‘‘۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہو جائیں گے۔ ’’بعض جنتی سوال کرتے ہوئے ‘دوسرے بعض کی طرف متوجہ ہوں گے‘‘۔ لیکن اللہ کے اس ارشاد کا مطلب : ’’ ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم ! ہم ہرگز مشرک نہیں تھے‘‘۔ اور ارشاد: ’’اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے‘‘۔ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خلوص والوں کو ان کے گناہ بخش دے گا اور اللہ پر کوئی گناہ بخشنا کوئی مشکل بھی نہیں ہے ‘لیکن شرک کو نہیں بخشے گا ‘پس جب مشرک دیکھیں گے تو کہیں گے: ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم گناہ گار تھے ‘ہم مشرک نہ تھے ۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لیکن تم نے شرک کو چھپایا (اے فرشتو!) ان کے منہ پر مہر لگا دو ! پس ان کے مونہوں پر مہر لگ جائے گی ‘ان کے ہاتھ اور پاؤں بول کر بتائیں گے جو وہ کرتے تھے۔ اس وقت مشرک اس بات کو پہچان لیں گے کہ اللہ کے سامنے کوئی بات چھپائی نہیں جاسکتی ‘پس اسی وقت کے بارے فرمایا: ’’ اس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی ‘اس بات کو پسند کریں گے کہ کاش (انہیں مٹی میں دبا کر )ان پر زمین برابر کر دی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے‘‘۔ لیکن اللہ کا ارشاد: ’’آسمان ‘اللہ نے اسے بنایا اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا ‘اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی اور اس کے بعد زمین پھیلائی‘‘۔ کیونکہ اس نے زمین کو آسمان سے پہلے دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی ‘پس اسے دوسرے دو دن میں ٹھیک کیا ‘پھر زمین کی طرف نزولِ اجلال فرما کر اُس کو پھیلایا۔ اور پھیلانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پانی نکالا اور چراگاہیں بنائیں ‘دریا جاری فرمائے ‘پس اس میں راستے بنائے ‘پہاڑ ‘ریت ‘ٹیلے اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ‘پیدا فرمایا۔ پس یہ مفہوم ہے: ’’ اور زمین کو اس کے بعد پھیلایا‘‘۔ اور اس کا ارشاد: ’’ کیا تم اس اللہ کا ضرور انکار کرتے ہو جس نے حکمت کے تحت دو دنوں میں زمین بنائی ‘(اگر وہ چاہتا تو اسے ایک لمحے سے بھی کم وقت میں بنا دیتا ) اور تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ‘وہ سارے جہانوں کا رب (ہی عبادت کا حقدار )ہے اور اس نے زمین میں زمین کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں برکت رکھی اور اس نے زمین میں اس کی (بسنے والی مخلوق کی دو دنوں میں ) روزیاں مقرر کیں ( یہ سب کچھ ) چار دنوں میں ( کیا اور اس نے زمین کی پیداوار میں ) ضرورت مندوں کیلئے برابر (حق رکھا ہے)۔ پس زمین اور اس میں جو کوئی چیز ہے ‘وہ چار دنوں میں ہوگئی اور سارے آسمان ‘دو دنوں میں بنائے گئے ‘لیکن اللہ کا ارشاد: ’’ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘۔ ’’ اور اللہ بڑا غالب اور عظیم حکمت والا ہے ‘‘۔ ’’ اور اللہ سب کچھ خوب سننے اور خوب دیکھنے والا ہے ‘‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھی یہ نام رکھے ہیں اور پھر اپنے غیر کو بھی دیئے ہیں ۔ ’’ وکان اللّٰه‘‘ کا مطلب : وہ ہمیشہ سے اسی طرح ہے۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آدمی سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیرے سامنے بیان کیا ہے ‘اسے میری طرف سے یاد کر لے اور جان لے کہ جو چیزیں قرآن کریم میں سے تیرے اوپر مختلف ہوئیں ‘میں نے ساری بیان نہیں کر دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں فرمائی مگر وہ اسی کو پہنچی ہے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے ‘لیکن لوگ نہیں جانتے ‘پس کوئی چیز تیرے اوپر مختلف نہ ہو کیونکہ ہر ایک چیز اللہ کی طرف سے ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يعلى بن حكي ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10612

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10613

10593 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد بن داود عن الأعمش عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس قال Y جالست سبعين أو ثمانين شخصا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أحد منهم خالف ابن عباس فيلتقيان إلا قال : القول كما قلت أو قال : صدقت

ہمیں حدیث سنائی احمد بن رشدین نے ‘ہمیں حدیث بیان کی ابو صالح حرانی نے ‘ 223 ہجری کے سال میں ‘ہمیں حدیث بیان کی حیان بن عبیداللہ بن زہیر مصری ابو زہیر نے ساٹھ سال سے ‘فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے حضرت ضحاک بن مزاحم سے سوال کیا: ’’ (لوگو!) زمین میں اور تمہاری جانوں میں (تمہیں) کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے ‘اس سے پہیل کہ اس سے پیدا کریں وہ (ہماری) کتاب (لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے ‘بے شک یہ ( پہلے سے لکھ دینا) اللہ پر آسان ہے ‘‘۔ اور مزید اس ارشاد کے متعلق ’’ بے شک ہم ہر وہ چیز لکھتے تھے جو تم (دنیا میں ) کرتے تھے‘‘۔ اور اس کے اس ارشاد کے بارے میں: ”بے شک (تمہارے لیے یہ عذاب بھی تمہارے گناہ کے مطابق ہے کیونکہ ) ہم نے ہر چیز کو (اپنی حکمت و دانائی کے مطابق) ایک اندازے سے پیدا کیا ‘‘۔ پس اُنہوں نے جواب میں فرمایا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: بے شک اللہ نے عرش کو پیدا کر کے اس پر (اپنی شان کے لائق ) استویٰ فرمایا ‘پھر اس نے قلم کو پیدا کر کے اسے حکم فرمایا کہ وہ اس کی اجازت سے چلے اور قلم کو بڑا کیا ‘جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے ‘پس قلم نے عرض کی: اے میرے رب ! میں کس چیز کو لکھوں؟ فرمایا: ہر وہ چیز لکھے جس کو میں پیدا کرنے والا ہوں اور جو پیدا کرنے والا ہوں ‘وہ یہ ہے: نباتات ‘جان ‘اثر یعنی اس کے ساتھ عمل ‘رزق ‘عمر ‘پس قلم چلی اور اس نے لکھ دیا جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا ‘لکھ دیا تو اللہ نے اسے ایک پوشیدہ کتاب میں ثبت فرمایا جو عرش کے نیچے اس کے پاس ہے۔ بہر حال اس کا ارشاد: ’’ بے شک ہم ہر وہ چیز لکھتے ہیں جو تم ( دنیا میں ) کرتے تھے‘‘۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے کہ وہ ہر سال یہ رمضان المبارک کی شبِ قدر میں اس کتاب سے لکھ لاتے ہیں ‘جو آنے والے سال تک زمین میں ہونے والا ہے پھر ہر جمعرات کی رات کو وہ بندوں پر مقرر فرشتوں سے موازنہ کرتے ہیں تو وہ پاتے ہیں کہ جو کچھ کراماً کاتبین نے لکھا ہے بالکل ان کی اس کتاب کے مطابق ہے نہ اس میں کوئی زیادتی ہے اور نہ کمی۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ’’ بےشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ‘‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کیلئے اس کی خلقت اور اس کی صلاحیت کے مطابق اس کا رزق پیدا کیا ہے ‘(مثلاً) اور اس نے اونٹ کی ایسی خلقت بنائی کہ جانوروں میں سے اس کی مخلوق میں سے کوئی شی بھی اس کے اوپر صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہی حال اس کی مخلوق میں سے ہرشی کا ہے۔ اس نے خشکی کے جانوروں اور پرندوں کیلئے وہ رزق پیدا فرمایا ہے جو خشکی میں ان کی صلاحیت کے مطابق ہے اور اس نے سمندر کے جانوروں اور پرندوں کیلئے ایسا رزق پیدا کیا جو سمندر میں ان کی صلاحیت کے مطابق ہے ‘پس اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازہ سے پیدا کیا ہے ‘‘ کا مفہوم یہی ہے۔

طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مسدد بن داود ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10613

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ومن مناقب عبد الله بن عباس و أخباره · حديث 10614

10594 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا يوسف بن عدي إملاء في كتابه سنة [ مئتين ] وعشرين ثنا عبيد الله بن عمرو الرقي عن زيد بن أبي أنيسة عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال سعيد Y يا ابن عباس إني أجد في القرآن أشياء تختلف علي فقد وقع في صدري فقال ابن عباس تكذيب ؟ فقال الرجل : ما هو بتكذيب ولكن اختلاف قال ابن عباس : فهلم ما وقع في نفسك فقال له الرجل : أسمع الله يقول : { فلا أنساب بينهم يومئذ ولا يتساءلون } وقال في آية أخرى ( ولا يكتمون الله حديثا ) وقال في آية أخرى { والله ربنا ما كنا مشركين } فقد كتموا في هذه الآية وفي قوله { أأنتم أشد خلقا أم السماء بناها * رفع سمكها فسواها * وأغطش ليلها وأخرج ضحاها * والأرض بعد ذلك دحاها } فذكر في هذه الآية خلق السماوات قبل خلق الأرض ثم قال في هذه الآية الأخرى ( قل أئنكم لتكفرون بالذي خلق الأرض في يومين وتجعلون له أندادا ذلك رب العالمين * وجعل فيها رواسي من فوقها وبارك فيها وقدر فيها أقواتها في أربعة أيام سواء للسائلين * ثم استوى إلى السماء وهي دخان فقال لها وللأرض ائتيا طوعا أو كرها قالتا أتينا طائعين ) فذكر في هذه الأية خلق الأرض قبل خلق السماء ( وكان الله غفورا رحيما ) ( وكان الله عزيزا حكيما ) ( وكان الله سمعيا بصيرا ) فكأنه كان ثم مضى فقال ابن عباس : هات ما في نفسك قال السائل : إذا أنبأتني بهذا فحسبي فقال ابن عباس قوله ( فلا أنساب بينهم ويومئذ ولا يتساءلون ) فهذا في النفخة الأولى ينفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الأرض إلا من شاء الله فلا أنساب بينهم عند ذلك ولا يتساءلون ثم إذا كان في النفخة الأخرى قاموا فأقبل بعضهم على بعض يتساءلون فأما قوله ( والله ربنا ما كنا مشركين ) وقوله ( ولا يكتمون الله حديثا ) فإن الله عز و جل يغفر يوم القيامة لأهل الاخلاص ذنوبهم ولا يتعاظم عليه ذنب أن يغفره ولا يغفر شركا فلما رأى المشركون ذلك قالوا : إن ربنا يغفر الذنوب ولا يغفر الشرك فقالوا : نقول : إنما كنا أهل ذنوب ولم نكن مشركين فقال الله عز و جل : أماإذ كتمتم الشرك فاختموا على أفواههم فختم على أفواههم فتنطق أيديهم وتشهد أرجلهم بما كانوا يكسبون فعند ذلك عرف المشركون أن الله لا يكتم حديثا فعند ذلك ( يومئذ يود الذين كفروا وعصوا الرسول لو تسوى بهم الأرض ولا يكتمون الله حديثا ) وأما قوله ( والسماء بناها رفع سمكها فسواها وأغطش ليلها وأخرج ضحاها والأرض بعد ذلك دحاها ) فإنه خلق الأرض في يومين قبل خلق السماء ثم استوى إلى السماء فسواهن في يومين آخرين ثم نزل إلى الأرض فدحاها ودحاها أن أخرج فيها الماء والمرعى وشق فيها الأنهار فجعل فيها السبل وخلق الجبال والرمال والأكام وما بينهما في يومين آخرين فذلك قوله ( والأرض بعد ذلك دحاها ) وقوله ( أئنكم لتكفرون بالذي خلق الارض في يومين وتجعلون له أندادا ذلك رب العالمين وجعل فيها رواسي من فوقها وبارك فيها وقدر فيها أقواتها في أربعة أيام سواء للسائلين ) فجعلت الأرض وما فيها من شيء في أربعة أيام وجعلت السماوات في يومين وأ رضي الله عنه ا قوله { وكان الله غفورا رحيما } { وكان الله عزيزا حكيما } { وكان الله سميعا بصيرا } فإن الله عز و جل سمى نفسه ذلك ولم ينحله غيره وكان الله أي لم يزل كذلك ثم قال للرجل : احفظ عني ما حدثتك واعلم أن ما اختلف عليك من القرآن أشياء ما حدثتك فإن الله عز و جل لم ينزل شيئا إلا قد أصاب به الذي أراد ولكن الناس لا يعلمون فلا يختلفن عليك فإن كلا من عند الله

حضرت رزین فرماتے ہیں: حضرت نافع بن ازرق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کیا پانچ نمازوں کے اوقات ‘آپ کتاب اللہ میں پاتے ہیں؟ فرمایا: جی ہاں! پس آپ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی ‘‘پس جب تم شام کرد تو ( مغرب اور عشاء کی )نماز پڑھو ‘‘مغرب ہوئی ’’اور جب صبح کرو ‘‘صبح ہوئی ’’اور شام ‘‘عصر ہوئی ’’اور جب دوپہر کرو ‘‘۔ فرمایا: ’’ اس میں ظہر کے وقت کا بیان ہے ‘‘۔ ( فرمایا: ) ’’اور عشاء کی نماز کے بعد ‘‘۔ فرمایا: ’’ دیکھو! اس میں عشاء کی نماز کا واضح بیان ہے‘‘۔ حضرت ضحاک بن مزاحم ہلالی فرماتے ہیں: حضرت نافع بن ازرق اور نجد بن عویمر ‘خارجیوں کے سرداروں میں سے ایک گروہ میں نکلے اور اسے تلاش کریں یہاں تک کہ مکہ آئے ‘اچانک اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو زمزم کے قریب بیٹھے ہوئے دیکھا جبکہ آپ کے او پر سرخ رنگ کی چادر اور ایک قمیص تھی اور وہاں لوگ بیٹھ کر ان سے سوال کر رہے تھے ‘تفسیر کے بارے میں ‘وہ کہہ رہے تھے: اے ابن عباس! اس اور اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ پس وہ فرماتے: یہ اس اس طرح ہے۔ پس نافع بن ازرق نے ان کی خدمت میں عرض کیا: اے ابن عباس ! کس نے آپ کو اس پر جرات دی ہے جو آج کے دن سے آپ جسارت کر رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا: اے نافع! تیری ماں ہے روئے اور وہ تجھے نہ پائے! کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ مجھے سے زیادہ جرات کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: وہ آدمی جو ایسی بات کرے جس کا اسے علم نہ ہو اور وہ آدمی جس کے پاس علم ہو اور وہ چھپائے ۔ کہنے لگا: اے ابن عباس ! آپ نے سچ فرمایا ‘میں تیرے پاس کچھ پوچھنے کے لیے آیا ہوں۔ فرمایا: اے ابن ازرق! پوچھ! کہا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں مجھے بتائیں: ’’تم دونوں (کے نافرمانوں) پر آگ کا خالص شعلہ چھوڑا جائے گا ‘‘۔ اس میں لفظ ’’ شواظ ‘‘فرمایا: آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو ۔ کہا: کیا عرب لوگ ‘قرآن شریف کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے سے پہلے اسے جانتے تھے؟ فرمایا ؟ وہاں کیا آپ نے اُمیہ بن ابو صلت کا قول نہیں سنا: ”خبردار! کون ہے جو میری طرف سے حسان کو پہنچانے والا ہو ‘ایک پیغام یا خط جو آہستہ آہستہ ‘عکاظ کی طرف چلنے والا ہے ‘کیا تیرا باپ لوہار نہ تھا‘ہم میں تھا ‘باندیوں یا بناؤ سنگھار کرنے والی خادماؤں کی طرف ‘حفاظت و دفاع میں بے مروّت آدمی ہے ‘یمنی تھا ‘پھونکنی سے آگ جلانے لگتا ہے اور بے دھواں شعلوں کو مسلسل پھونکیں مارتا رہتا ہے‘‘۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق بتائیں : ” اور بغیر شعلہ خالص کالا دھواں چھوڑا جائے گا تو تم ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بچو ‘‘۔ نحاس کیا ہے؟ فرمایا: ایسا دھواں جس میں شعلہ نہ ہو۔ عرض کی : کیا عرب اس سے واقف تھے؟ فرمایا: جی ! کیا تو نے نابغہ بن ذبیان کا قول نہیں سنا: ’’وہ تیل والے چراغ کی روشنی کی مانند ‘روشنی کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شعلہ نہیں بنایا‘‘۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اس ارشاد کے بارے: ’’ ملی جلی (منی) سے پیدا کہ ہم اسے آزمائیں ‘‘۔فرمایا: مرد کا پانی اور عورت کا پانی جب دونوں بچہ دانی میں اکٹھے ہو جائیں تو یہ ’’ مشج‘‘ ہے (جس کی جمع امشاج ہے)۔ عرض کی : کیا عرب لوگ ‘حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے اس سے واقف تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے ابو ذؤیب ہذلی کا قول نہیں سنا ‘وہ کہتا ہے: ’’ گویا بھالا اور تیر کے دونوں سونار (جہاں کمان کا تانت ٹھہرتا ہے) پر لگانے کے درمیان ‘اس کے ساتھ ملتے ہیں‘‘۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اس ارشاد کے بارے میں: ” اور (موت کے وقت اس کی ) پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی“۔ فرمایا: جنگ مراد ہے۔ عرض کی : کیا عرب اس کو پہچانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے ابو ذؤیب ہذلی کا قول نہیں سنا: ’’ اگر جنگ ‘جنگجو کو کاٹے تو وہ اسے کاٹتا ہے اور اگر جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا اُتار دے تو جنگجو بھی اپنی پنڈلی سے کپڑا اُتار دیتا ہے‘‘۔ عرض کی : تُو نے سچ کہا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے : ” بیٹے اور پوتے‘‘۔ بنون اور حفده کیا ہے؟ فرمایا: تیرے بیٹے کیونکہ وہ تیری صفت میں خدمت کرتے ہیں اور ’’ حفدتک ‘‘کیونکہ وہ تیرے خادم ہیں ۔ کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عربی لوگ اس کو پہچانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا آپ نے نہیں سنا امیہ بن ابو صلت ثقفی کا قول : ” ان عورتوں کے گرد بچے اکٹھے ہوئے اور حملوں کی زما میں ‘ان کی ہتھیلیوں سے پھینکی گئیں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے آپ خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” (اے صالح!) تم تو جادو کیے ہوؤں میں سے ہی ہو ‘‘۔ مسحرون کیا ہیں؟ فرمایا: ’’ مخلوقین ‘‘میں ہے۔ اس نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو پہچانتے تھے ؟ فرمایا : جی ہاں! کیا تُو نے نہیں سنا امیہ بن ابو صلت کو کہ وہ کہتا ہے: ’’ پس اگر تُو ہم سے پوچھے کہ ہم کس سے ہیں تو بے شک ہم اس جادو کی گئی دنیا کی چڑیاں (یا پرندے) ہیں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے بتا ئیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’پھر انہیں دریا میں ڈال دیا ‘اس حال میں کہ وہ (اپنے آپ کو )ملامت کرنے والے تھے‘‘۔ ملیم کیا ہے؟ فرمایا: جس پر الزام لگایا گیا ہو۔ فرمایا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا آپ نے امیہ بن ابو صلت کا قول نہیں سنا ‘وہ کہتا ہے: ’’ آفات و بلیات سے دُور ہے ‘اس اس کا اہل نہیں ہے لیکن گناہ کرنے والا وہ ہے جسے ملامت کی گئی ہے‘‘۔ عرض کی: مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ تم کہو کہ میں صبح کے (پیدا کرنے والے) رب کی پناہ لیتا ہوں ‘‘۔ فلق کیا ہے؟ فرمایا: صبح کی روشنی ۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا : جی ہاں! کیا تُو نے لبید بن ربیعہ کا قول نہیں سنا: ’’ غم کا بند کھولنے والا ہے اس کے لشکر کام میں لگے ہوئے ہیں جیسے صبح ‘تاریکی کا پردہ چاک کر دیتی ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ تاکہ تم اس ( دنیا کی چیز ) کا غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی ہے اور جو اللہ نے تمہیں (دنیا کا سامان) دیا ‘اس پر خوش (ہو کر مست ) نہ ہو‘‘۔ ’’ اسٰی ‘‘ کیا ہے؟ فرمایا: تاکہ تم پریشان نہ ہو۔ اس نے کہا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا : جی ہاں! کیا تُو نے لبید بن ربیعہ کا قول نہیں سنا: ’’ وہ تھوڑا غم کرنے والا اس چیز کے بارے میں جو مصیبت زمانہ لائے ‘اچھی خبر والا ‘خوشگوار خصلتوں کا مالک اور خوش کر دینے والا ہے ‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: وہ سمجھتا تھا کہ وہ (اپنے رب کی طرف ) ہرگز نہیں لوٹے گا ‘‘۔ ’’ یحور “ کیا ہے؟ فرمایا: وو لوٹتا ہے۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے لبید بن ربیعہ کا قول نہیں سنا:’’ اور نہیں ہے آدمی مگر ٹوٹنے والے ستارے اور اس کی روشنی کی طرح ‘پہلے وہ پھیلتا ہے جبکہ بعد میں راکھ بن جاتا ہے ‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں لالہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ وہ جہنم کے درمیان اور (آس کے )سخت کھولتے پانی کے درمیان چکر لگایا کریں گے‘‘۔ الآن کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: وہ جس کی گرمی ختم ہو گئی ہو۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے نابغہ ذبیانی کا قول نہیں سنا: ’’ پس اگر ابو قبیس ‘تیرے اوپر قبضہ کرلے تو تیری وجہ سے موت ( یا خواہش ) ذلت میں گر جائے گی ‘اور رنگین ہو جائے گی وہ داڑھی جس نے دھو کہ کیا اور خیانت کی ‘احمر (سرخ) کے ساتھ‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے بتائیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ تو وہ باغ (جل کر ) سیاہ رات کی طرح ہو گئے ‘‘۔ ’’ صریم“ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: تاریک رات کی مانند۔ عرض کی: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اللہ نازل ہونے سے پہلے بھی عربی اس کو پہچانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے نابغہ ذبیانی کا قول نہیں سنا: ’’ تم مت جھڑکو اس آدمی کو جس کا چہرہ ہم پلّہ لوگوں میں سے زیادہ پھینکا ہے ‘یعنی شگفتہ اور خنداں نہیں ہے ‘رات کی طرح جو اندھیروں کے اندھیروں کے ساتھ ملنے سے بنتی ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’ رات کے اندھیرے تک‘‘۔ ’’ غسق لیل“ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: جب وہ تاریک ہو جائے۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے نابغہ کا قول نہیں سنا: ’’ گویا بڑی بات تھی جو اُنہوں نے کہی اور بڑا وعدہ کیا ‘وہ ایسا سراب ہے جو زائل ہونے والی تاریکی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے“۔ ابوخلیفہ کا قول ہے کہ ’’الآل“ کا معنی سراب ہے۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” اور اللہ ہر چیز کا محافظ اور اس پر قادر ہے ‘‘۔ ’’ مقیت ‘‘ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: قادر۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے امرء القیس کا قول نہیں سنا: ’’اور کینہ والا ہے ‘(لیکن) میں نے اس سے کینہ کو روک لیا ہے اور میں اس کی تکلیف میں اس کی حفاظت پر قدرت رکھنے والا ہوں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’ اور رات کی قسم جب (اندھیرے کے ساتھ آئے یا ) جائے‘‘۔ فرمایا: اس کا اپنی سیاہی کے ساتھ آنا۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں ! کیا تو نے امر القیس کا قول نہیں سنا: ’’ وہ سیاہی کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہا گروہ چاہتا تو ہم کو تیز چلاتا ‘اس کے نور کی روشنی سے ہمارے لیے لینے کا موقعہ ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ” اور میں اس (بوجھ ) کا ضامن ہوں“۔ فرمایا: ’’ زعیم ‘‘کا معنی کفیل (ضامن) ہے۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے امر القیس کا قول نہیں سنا: اور میں ضامن ہوں ‘اگر میں اس حال میں مملوک بن کر واپس آؤں ایسی سیر کے ساتھ کہ تُو دیکھے گا اس سے شیر (لشکر یا ڈاک کے رسید کو )‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” اور اس کی گندم ‘‘۔ ’’ فوم ‘‘ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: گندم۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے ابو ذؤیب ہذلی کا قول نہیں سنا: ’’ تُو مجھ پر احسان کرتا تھا ‘گروہ کے سب سے زیادہ مالدار کی طرح جو تھوم کاشت کرنے کیلئے شہر پہنچا ہو‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” اور پانسے (بے پَر کے تیر جن میں سے بعض پر تم نے لکھ رکھا ہے ‘اللہ نے مجھے حکم دیا اور بعض پر اللہ نے مجھے منع کیا اور بعض خالی ہیں ان سے فال نکالنا ) ۔ ’’ ازلام ‘‘ کیا ہے؟ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کتاب اللہ نازل ہونے سے پہلے عرب اس سے واقف تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے حطیئہ کا قول نہیں سنا: ’’ وہ پرندے کو نہیں جھڑکتا ہے ‘اگر وہ اس کے پاس سے گزرے کہ اس کی دائیں طرف سے آ کر بائیں طرف اس طرح گزرتا ہے کہ اس کا دایاں حصہ اس کے سامنے ہو اور اس کیلئے پیالوں کے ساتھ پیالہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ”اور (دوسرے ) بائیں طرف (کے ہاتھ میں عمل نامہ دیئے جانے) والے (دوزخی ) کیا (ہی بُرے) ہیں بائیں طرف والے“۔ فرمایا: دائیں ہاتھ والے ۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پے کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: کیا تُو نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا قول نہیں سنا: ’’ بڑھاپا آیا بائیں سے قریب ہی اس حال میں کہ حوادثات زمانہ عادت بن گئیں اور بہت چھوٹی معلوم ہونے لگیں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘آپ مجھے بتائیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” جب سمندر بھڑکائے جائیں گے ‘‘۔ میں نے کہا: ان کا پانی ‘زمین کے پانیوں سے مل جائے گا۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ! کیا تُو نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا قول نہیں سنا: ’’ تحقیق کوڑھ کی بیماری میں بھی ربیعہ نے اپنے ماموں اور ضرار کے دونوں بیٹوں کو پہچان لیا ‘تحقیق پرانے حسب سے لڑ پڑے اس حال میں کہ ان کے سمندر میرے سمندر میں مل چکے تھے‘‘۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ” (ستاروں کی) خوبصورتی والے آسمان کی قسم ! ‘‘۔ ’’ حبك ‘‘ کیا ہے؟ فرمایا: راستوں والا۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا قول نہیں سنا: ’’ ستاروں کی جڑوں سے گھرا ہوا بادل ہے ‘شمال کی ہوا ‘اس کے پانی کو آہستہ آہستہ بہانے کیلئے راستے بناتی ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ”ہمارے رب کی شان ‘‘۔ ’’ جدّ ربنا “ کیا ہے؟ فرمایا: اس کی شان بلند ہے۔ اس نے کہا: کیا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے طرفہ بن عبد کا قول نہیں سنا جو اُس نے نعمان بن منذر کے لیے کہا: ”بادشاہ کی طرف جو زرہ پوشوں کو مارتا ہے ‘اُس بڑھاپے نے رائے کو کم نہیں کیا (یا کمزور نہیں کیا) ‘تو اپنی بزرگی پر اِترا بے شک میں ایسا آدمی ہوں جس کو دشمن نے ڈول کے ڈول پلائے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” یہاں تک کہ آپ مرنے کے قریب ہو جائیں گے ‘‘۔ فرمایا: ’’ حرض ‘‘ کا معنی ہے: ’’ البالی ‘‘(پرانا ) ۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں ! کیا تُو نے طرفہ بن عبد کا قول نہیں سنا: ’’ کیا لیلیٰ کے ذکر سے اگر اس کی وجہ سے سفر دور ہو تو میں معقول اُجرت کی وجہ سے تھک کر چور ہو جاؤں گا“۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’اور تم کھیل اور غفلت میں پڑے ہو تو“۔ آپ نے فرمایا: ’’ لاهون ‘‘( غافل)۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے ہزیلہ بنت بکر کا قول نہیں سنا جو اس نے عاد کو روتے ہوئے کہا ہے: ’’عاد نے لقیم (لقمہ دینے والے) کو بھیجا اور سعد آیا اس حال میں کہ وہ دور ہونے والا ہے ‘کہا گیا: اُٹھ ! ان کی طرف دیکھ پھر اپنے سے سستی کی چادر اُتار کر پھینک دے۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘ پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” جب وہ (روشنی کے لحاظ سے اکٹھا ہو کر پورا ) ہو ‘‘۔ ’’ اتساق “ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: جب وہ اکٹھی ہو جائے۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے ابو صرمہ انصاری کا قول نہیں سنا: ”بے شک ہمارے پاس اونٹنیاں ہیں ‘دوڑنے والیاں اگر وہ سوار پالیں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ” بے نیاز‘‘۔ بہر حال ’’ الاحد ‘‘ کا معنی تو ہم جانتے ہیں لیکن ’’ الصمد‘‘ کا معنی کیا ہے؟ فرمایا: وہ ذات جس کی طرف لوگ اپنے تمام کاموں میں محتاج ہیں۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے اسدیہ کا قول نہیں سنا: ’’ خبردار! موت کی خبر دینے والے نے صبح کے وقت بنو اسد قبیلے کے اچھے لوگوں کی موت کی خبر دی ‘یعنی عمرو بن مسعود اور سید صمد کے ساتھ‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ وہ (اپنے) گناہ ( کی سزا )سے جا ملے گا ‘‘۔ ’’ اثام ‘‘کیا ہے؟ فرمایا: جزاء ۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں ! کیا تُو نے بشر بن ابو حازم اسدی کا قول نہیں سنا: ’’ اور بے شک ہم اپنی جگہ ان کے خلاف دعا کرتے ہیں ‘وادیٔ ابطح میں جس میں گناہ کرنے والوں کو گناہ (جوا ‘شراب ) اجازت دی گئی ہے‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا‘آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ” اور وہ غم و غصے سے بھرا ہوتا ہے‘‘۔ فرمایا: ساکت! اس نے کہا: کیا عرب لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے اس کو جانتے تھے؟ فرمایا : جی ہاں! کیا تُو نے زہیر بن جذیمہ عبسی کا قول نہیں سنا: ’’ پس اگر آپ غصہ پی جانے والے میں ‘دلیری (یا نخوت) پہنچنے کے ساتھ تو میں آج ہی اپنی زبان چلانے والا ہوں۔ عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’ یا کسی کی ہلکی آواز تک سنتے ہو ‘‘۔ فرمایا: (معنی ہے:) صواب (درست)۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: کیا تُو نے خداش بن زہیر کا قول نہیں سنا: ’’ پس اگر تم نے کسی اترنے والے کے ملاط سے جاہل ہونے یا کسی قوم کے قبیلے کی بات سنی ہے تو تم لوگ دھیمی آواز یا آہٹ کو چھپاؤ اور پوشیدہ رکھو‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘پس آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں : ’’ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے ۔ فرمایا: (مراد ہے) جب تم اس کے حکم سے ان کو قتل کرتے ہو۔ اس نے کہا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے عرب اس کو جانتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! کیا تُو نے عتبہ لیثی کا قول نہیں سنا: ’’ ہم انہیں چمکتی تلواروں سے قتل کرتے ہیں یہاں تک کہ گویا ہم ان میں سے لکڑی کے پیالوں کے ساتھ کوڑتمبے کو پھاڑتے ہیں‘‘۔ عرض کی: آپ نے سچ فرمایا ‘آپ مجھے خبر دیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں: ’’ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم اُمت سے فرما دیجئے !) جب تم (ان) عورتوں کو طلاق دینا چاہو ( جن کو حیض آتا ہے )‘‘۔ کیا زمانۂ جاہلیت میں طلاق کا تصور تھا؟ فرمایا: جی ہاں! تین طلاقِ بائنہ ! کیا تُو نے سنا نہیں ہے بنو قیس بن ثعلبہ سے اعشی کا قول جب اس کے سسرال عنزہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس سے کہا: تم نے ہماری صاحبہ کو تکلیف دی ہے ‘ہم قسم کھاتے ہیں کہ جب تک تُو طلاق نہیں دے گا تیرے سر سے ڈنڈا نہ ہٹائیں گے ‘پس جب اس نے دیکھا کہ وہ سنجیدہ ہیں اور ایسا کر دیں گے تو کہا: ’’ کیونکہ تجھے طلاق دے دی گئی ہے ‘اسی طرح لوگوں کے کام صبح اور شام ہوتے ہیں‘‘۔ تو اُنہوں نے کہا: قسم بخدا! تُو ضرور اس کیلئے طلاق کا معاملہ واضح کرے گا یہاں تک کہ ہم تجھ سے ڈنڈے کو اُتار دیں ۔ تو اس نے کہا: ’’ پس مجھ سے اس حال میں جدا ہو کہ تیری فرج پاک ہے اور تیری بُرائی بیان نہیں کی گئی اور ہماری طرف سے کوئی ہلاکت یا پاگل پن نہیں ہے جیسے تو پیار کرنے والی ہے۔ تو اُنہوں نے کہا قسم بخدا! تُو طلاق دے گا تو ہم ڈنڈا تیرے سر سے نہیں ہٹا ئیں گے ۔ تو اُس نے کہا: ’’ اور تُو جدا ہوجا کیونکہ تیری جدائی ڈنڈے سے بہتر ہے ‘اگرچہ تُو اپنے سر پر ہمیشہ چمکانے والی نہیں ہے‘‘۔ پس اس نے اُسے تین طلاقوں کے ساتھ جدا کر دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← يوسف بن عدي إملاء في كتابه ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10614

chevron_left Previous
1…686970…90
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter