المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب · حديث 10207
10188 - حدثنا هاشم بن مرثد الطبراني ثنا محمد بن إسماعيل بن عياش حدثني أبي ثنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يسلم عن يمينه وعن يساره
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی‘ جب فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز شامل ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! میں بظاہر تمہاری طرح انسان ہوں‘ پس جب دیکھو کہ مجھے بھلایا گیا ہے تو مجھے یاد دلایا کرو۔ پس آپ نے قبلہ کی طرف منہ کر کے اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی اللہ اکبر کہا‘ پھر آپ نے سجدہ کیا اور صحابہ نے بھی ساتھ سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ نے سجدہ کیا‘ پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا۔
عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10207
