Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ ما أسند أبو أسيد سهل بن سعد الساعدي عن أبي أسيد · حديث 16246

578 - حدثنا موسى بن هارون و زكريا بن يحيى الساجي قالا ثنا محمد بن عزيز الأبلي ثنا سلامة بن روح عن عقيل و خالد عن ابن شهاب أخبرني أبو حازم [ عن سهل ] بن سعد قال Y قال لي أبو أسيد الساعدي بعد ما ذهب بصره يا ابن أخي لو كنت أنا وأنت الآن ببدر ثم اطلق الله لي بصري لأريتك الشعب الذي خرجت علينا منه الملائكة غير شك ولا تمار

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابو اسید الساعدی رضی اللہ عنہ نے آنکھ کی بینائی جانے کے بعد فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر چہ میں اور آپ بدر میں شریک ہوئے تھے پھر اللہ نے میری بینائی لے لی ہے میں آپ کو وہ گھاٹی دکھاؤں جس سے ہم پر فرشتے نکلے تھے بغیر شک و شبہ کے ۔

أبو حازم بن سعد ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عقيل و خالد ← سلامة بن روح ← محمد بن عزيز الأبلي ← موسى بن هارون و زكريا بن يحيى الساجي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16246

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ أنس بن مالك عن أبي أسيد · حديث 16247

579 - حدثنا أحمد بن محمد التنوخي ثنا عفان بن مسلم ثنا شعبة عن قتادة عن أنس عن أبي أسيد الأنصاري قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( خير دور الانصار بنو النجار ثم بنو عبد الأشهل ثم بنو الحارث بن الخزرج ثم بنو ساعدة وفي كل دور الانصار خير ) فقال سعد بن عبادة : ما أرى رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا قد فضل علينا قال : ( قد فضلتم على كثير )

حضرت ابو اسی انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: بنو نجار انصار کے گھر والوں میں بہترین ہیں پھر بنو عبدالا شہل پھر بنو حارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ والے بہترین ہیں انصار کے تمام گھروں میں بہتری ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضور ﷺ نے ہم پر فضیلت دی اور تم کو بڑی تعداد پر فضیلت دی ۔

أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أحمد بن محمد التنوخي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16247

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16248

580 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عبد العزيز بن محمد عن أبي اليمان النبال عن شداد بن أبي عمرو بن حماس عن حمزة بن أبي أسيد الانصاري عن أبيه Y انه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( استأخرن فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق عليكن لحافات الطريق ) وكانت المرأة تلصق بالجدار حتى أن ثوبها ليتعلق بالشيء من الجدار من لصوقها

حضرت ابو اُسید انصاری رضی اللہ عنہ سمیروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے سنا جبکہ وہ مسجد سے باہر تھے پس راستے میں مرد عورتوں سے خلط ملط ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا:(اے عورتو!) تم پیچھے ہو جاؤ! کیونکہ راستوں کا درمیان تمہارا حق نہیں ہے ۔تم پر لازم ہے کہ راستوں کے کناروں پر چلو۔ ( اس کے بعد عادت یہ بن گئی کہ ) عورت دیوار کے ساتھ لگ کر چلتی تھی حتیٰ کہ اس کا کپڑا دیوار کی کسی شی سے لٹک جاتا کیونکہ وہ دیوار کے ساتھ چپٹی ہوئی ہوتی تھی ۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدَ الأَنْصَارِيِّ ← شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ ← أَبِي الْيَمَانِ النَّبَّالِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16248

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16249

581 - حدثنا ابو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا أبو نعيم ثنا عبد الرحمن بن الغسيل عن حمزة بن أبي أسيد عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر حين صففنا للقتال : ( إن اكثبوكم فارموهم بالنبل )

حضرت حمزہ بنا بو اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن جب ہم نے جہاد کے لیے صف بندی کی فرمایا : جب کافر تمہارے نزدیک ہو جائیں تو تم ان پر تیر اندازی کرنا۔

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16249

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16250

582 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا عبد الرحمن بن الغسيل حدثني العباس بن سهل [ عن أبيه ] و حمزة بن أبي أسيد عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا اكثبوكم فارموهم بالنبل )

حضرت حمزہ بنا بو اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن جب ہم نے جہاد کے لیے صف بندی کی فرمایا : جب کافر تمہارے نزدیک ہو جائیں تو تم ان پر تیر اندازی کرنا۔

أَبِيهِ ← أبيه و حمزة بن أبي أسيد ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16250

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16251

583 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالا ثنا عبد الرحمن بن الغسيل حدثني عباس بن سهل و حمزة بن أبي أسيد عن أبيه قال Y مر بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحاب له فخرجنا معه فانطلقنا حتى انتهينا إلى حائط يقال له الشوط حتى انتهينا إلى حائطين فجلسنا بينهما فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( اجلسوا ههنا ) وقد أتى بالجونية فعزلت في بيت أميمة بنت الحارث بن شراحيل ومعها داية لها فلما دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( هبي إلي نفسك ) قالت : وهل تهب الملكة نفسها للسوقة ؟ فأهوى بيده إليها ليضعها عليها فقالت إني أعوذ بالله منك قال : ( لقد عذت بمعاذ ثم خرج علينا فقال : ( يا أبا أسيد اكسها رازقيتين وألحقها بأهلها )

حضرت ابو اُسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ہمارے پاس سے گزرے تو ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلے پس ہم چل کر ایک کھجوروں کے باغ کی چار دیوار تک پہنچے جسے ایک شوط( چکر ) کہا جاتا تھا پھر ہم دو چار دیوار یوں تک پہنچے پس ہم ان کے درمیان بیٹھ گئے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:( چلو!) یہیں بیٹھو۔ جونیہ لائی گئی پس وہ حضرت میمونہ بنت حارث بن شراحیل کے گھر میں اکیلی تھی صرف اس کی دایہ اس کے ساتھ تھی پس جب رسول کریم ﷺ اندر آئے آپ ﷺ نے فرمایا: ( اگر تُو چاہے تو ) اپنا آپ میرے حوالے کر دے ( یعنی مجھ سے نکاح کر لے ) اس نے جواب دیا : کیا کبھی کسی ملکہ ( بادشاہ زادی ) نے بھی اپنا آپ عام لوگوں( رعیت ) کے حوالے کیا؟ آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھنے کیلئے آگے کیا تو وہ بولی : میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ فرمایا: تُو نے تو حضرت معاذ کی پناہ لی ہے ۔ پھرآپ ﷺ وہاں سے نکل کر ہمارے پاس آئے فرمایا: اے ابو اپسید ! اسے ٹسر کے دو کپڑے پہناؤ اور اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا آؤ۔

أَبِيهِ ← عباس بن سهل و حمزة بن أبي أسيد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16251

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16252

584 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي ثنا عبد الله بن عثمان بن إسحاق بن سعد بن أبي وقاص حدثني جدي أبو أمي مالك بن حمزة بن أبي أسيد الساعدي عن أبيه عن جده أبي أسيد الساعدي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للعباس بن عبد المطلب : ( يا أبا الفضل لا ترم منزلك انت وبنوك غدا حتى آتيكم ) فانتظروه حتى جاء بعدما أضحى فدخل عليهم فقال : ( السلام عليكم ) قال : وعليك السلام ورحمة الله وبركاته قال : ( كيف أصبحتم ؟ ) قال : بخير أحمد الله فقال : ( تقاربوا تقاربوا تقاربوا يزحف بعضكم إلى بعض ) حتى إذا أمكنوه اشتمل عليهم بملاءته ثم قال : ( يا رب هذا عمي وصنو أبي وهؤلاء أهل بيتي فاسترهم من النار كستري إياهم بملاءتي هذه ) قال : فأمنت أسكفة الباب وحوائط البيت فقالت آمين آمين آمين

حضرت ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا: اے ابو الفضل! کل صبح اپ اور آپ کے بیٹے اپنے گھر جانے کا ارادہ نہ کریں یہاں تک کہ میرے پاس آئیں پس وہ حضرات انتظار میں ہو گئے حتیٰ کہ آپ چاشت کے بعد تشریف لائے ۔ ان کے پاس داخل ہوئے ۔ فرمایا: السلام علیکم! جواب دیا: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! فرمایا: تم لوگوں نے صبح کیسے کی ؟ عرض کی : خیرت سے میں اللہ کی حمد کرتا ہوں۔ فرمایا: باہم قریب ہو جاؤ! تین بار( انتہائی پیار سے) فرمایا: تم ایک دوسرے کی طرف آہستہ آہستہ ہو جاؤ۔ حتیٰ کہ جب اُنہوں نے اس پر عمل کیا تو ان کو اپنی چادر اوڑھادی پھر دعا کی : اےا للہ! یہ میرے چچا اور میرے باپ کی نشانی ہیں اور یہ میرے اہل بیت ہیں۔ پس ان کو آگ سے پردے میں رکھنا جیسے میں نے ان کو اپنی اس چادر کا پردہ دیا۔ راوی کا بیان ہے : دروازے کی دہلیز اور گھر کی دیوار وں نے بھی آمین کہی۔ پس کہا: آمین آمین آمین!

جده أبي أسيد الساعدي ← أَبِيهِ ← جدي أبو أمي مالك بن حمزة بن أبي أسيد الساعدي ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16252

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ حمزة بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16253

585 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي حدثني عبد الله بن عثمان بن إسحاق بن سعد بن أبي وقاص قال سمعت من أبي أمي مالك بن حمزة بن أبي أسيد يحدث عن أبيه عن جده أبي أسيد الساعدي الخزرجي قال Y وله بئر بالمدينة يقال لها بئر بضاعة قد بصق فيها النبي صلى الله عليه و سلم فهو يبشر بها ويتيمن بها قال : فلما قطع أبو أسيد تمرة حائطه جعلها في غرفة له فكانت الغول تخالفه إلى مشربته فتسرق تمره وتفسده عليه فشكا ذلك إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( تلك الغول يا أبا أسيد فاستمع عليها فإذا سمعت اقتحامها يعني وجبتها فقل : بسم الله حبسني رسول الله فقالت الغول : يا أبا أسيد اعفني أن تكلفني أذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأعطيك موثقا من الله أن لا أخالفك إلى بيتك ولا أسرق تمرك فأدلك على آية من كتاب الله فتقرأ بها على بيتك فلا نخالف إلى أهلك ولا نكشف غطاءه فأعطته الموثق الذي رضي به منها فقالت : الآية التي أدلك عليها هي آية الكرسي ثم حكت أستها تضرط فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقص عليه القصة حيث ولت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( صدقت وهي كذوب )

حضرت ابو اسید ساعدی خزرجی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کا ایک کنواں تھا جس کا نام بئر بضاعہ تھا رسول کریم ﷺ نے اس میں پانی تھوک مبارک ڈالی تھی وہ اس سے خؤشی اور برکت حاصل کیا کرتے تھے ۔ راوی کا بیان ہے : جب حضرت ابو اُسید نے اپنے باغ کا پھل کاٹ اتو اس کو ایک کمرے میں رکھ دیا ۔ غول ( جن شیطان ہر وہ چیز جو بے خبری میں آکر انسان کو ہلاک کر دے) ان کے مشرب و مسلک کے خلاف تھے وہ ان کا پھل چوری کر لیا کرتے تھے اور ان کو خراب کر دیتے ۔ پس انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی فرمایا: اے ابو اسید ! یہ غول ( جن شیطان ) ہے ذرا غور سے سننا۔ پس جب تُو ان کا کھسکنا سنے گا تو فوراً کہنا: بسم اللہ جسنی رسول اللہ پس غول نے کہا: اے ابو اُسید ! ( ایک بار) مجھے رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں لے جانے سے معاف کر دے میں تجھے پختہ وعدہ دیتا ہوں کہ دوبارہ تیرے گھر نہ آؤں گا اور نہ ہی تیری کھجوریں چوری کروں گا پس میں تیری راہنمائی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کی طرف کرتا ہوں اسے اپنے گھر پر پڑھنا تیرے گھر والوں کے پاس جن و شیطان نہ آئیں گے اسے اپنے برتنوں پر پڑھنا اور ان کو ڈھانپ کر رکھنا۔ پس اس نے حضرت اُسید کو پختہ وعدہ دیا جس سے وہ راضی ہو گئے ۔ اس نے کہا: جس آیت پر میں تیری راہنمائی کرنا چاہتا ہوں وہ آیتہ الکرسی ہے پھر اس نے حکایت کی کہ ( اس کے پڑھنے سے ) اس کا گوز نکل جاتا ہے ۔ پس حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ائے آپ ﷺ کو سارا قصہ بتایا جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ تھا تو جھوٹا لیکن اس نے سچ بولا۔

جده أبي أسيد الساعدي الخزرجي ← أَبِيهِ ← من أبي أمي مالك بن حمزة بن أبي أسيد ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16253

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ الزبير بن أبي أسيد عن أبيه · حديث 16254

586 - حدثنا مسعدة بن سعد العطار المكي ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون ثنا أبو موسى الانصاري قالا ثنا الحسن بن علي بن حسن بن أبي حسن البراد المديني حدثني أبي علي بن حسن أخبرني الزبير بن أبي أسيد عن أبيه Y أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : بأبي أنت وأمي إني قد رأيت موضعا للسوق أفلا تنظر إليه ؟ قال : ( بلى ) فقام معه حتى جاء موضع السوق فلما رآه أعجبه وركضه برجله ثم قال : ( نعم سوقكم هذا فلا ينتقض ولا يضربن عليه خراج )

حضرت ابو اُسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! بے شک میں نے بازار کیلئے ایک جگہ دیکھی ہے کیا آپ ملاحظہ کرنا پسند فرمائیں گے ؟ فرمایا: کیوں نہیں! پس اس کے ساتھ آپ اُٹھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ بازار کی جگہ آئے پس جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو بہت پسند کیا اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری پھر فرمایا: تمہارا یہ بازار کتنا اچھا ہے نہ کمی ہو گی اور نہ اس پر ٹیکس ہو گا۔

أَبِيهِ ← الزبير بن أبي أسيد ← أبي علي بن حسن ← الحسن بن علي بن حسن بن أبي حسن البراد المديني ← أبو موسى الأنصاري ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16254

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ يزيد بن زيد عن أبي أسيد · حديث 16255

587 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ثنا محمد بن صالح التمار عن يزيد بن زيد عن أبي أسيد الساعدي قال Y أنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على قبر حمزة بن عبد المطلب فجعلوا يجرون النمرة على وجهه فتنكشف قدماه ويجرونها على قدميه فينكشف وجهه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اجعلوها على وجهه واجعلوا على قدميه من هذا الشجر قال : فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه فإذا أصحابه يبكون فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إنه يأتي على الناس زمان يخرجون إلى الأرياف فيصيبون بها مطعما ومسكنا ومركبا أو قال مراكب فيكتبون إلى أهليهم هلم إلينا فأنكم بأرض مجاز جدوبة والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ولا يصبر على لأوائها وشدتها أحد إلا كنت له شفيعا وشهيدا يوم القيامة )

حضرت ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر حمزہ بن عبدالمطلب کی قبر پر میں رسول کریم ﷺ کی معیت میں تھا( جب ان کو دفن کیا جا رہا تھا) صحابہ کرام کفن کی چادر کو کھینچ کر ان کے قدموں پر ڈالتے تھے تو چہرہ ننگا ہو جاتا تھا۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا: کفن ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر درخت کے ہتے ( یا گھاس ) ڈال دو۔ راوی کا بیان ہے : پس رسول کریم ﷺ نے اپنا سر اوپر اُٹھایا دیکھا تو صحابہ کرام رو رہے ہیں۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ کھلے سر سبز مقامات کی طرف نکلیں گے وہاں کھانا لباس اور سواری یا فرمایا: سواریاں پائیں گے اپنے گھر والوں کی طرف لکھیں گے کہ ہماری طرف آجاوں کیونکہ تم جس زمین پر ہو وہ گزر گاہ سی اور خشکی کی ماری ہوئی قحط زدہ ہے حالانکہ شہر ان کیلئے بہترین ہے اگر وہ جان لیں جو آدمی بھی اس کی مصیبت و سختی پر صبر کرے گا میںا س کیلئے قیامت کے دن سفارشی اور گواہ ہوں گا۔

أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16255

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ غزية أبو عمارة عن أبي أسيد · حديث 16256

588 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح و أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان الرقي قالا ثنا يحيى بن بكير ثنا ابن لهيعة حدثني عمارة بن غزية عن أبيه Y أنه حدث أن فتية سألوا أبا أسيد عن تخيير رسول الله صلى الله عليه و سلم الانصار قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( خير قبائل الانصار دور بني النجار ثم بني عبد الأشهل ثم بني الحارث بن الخزرج ثم بني ساعدة وفي كل الانصار خير قال أبو أسيد لو كنت قائلا غير الحق لبدأت بجدي وكان أبو أسيد ساعديا

حضرت عمارہ بن غزیہ فرماتے ہیں کہ کچھ نوجوانوں نے حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ نے انصار کو پسند فرمانے کے متعلق کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ میں حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: انصار میں بنی نجار پھر بنی عبدالا شہل پھر بنی حارث بن خزرج پھر بنی ساعدہ والے بہتر ہیں انصار کے تمام گھر والے بہتر ہیں۔ حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں حق بات کے علاوہ کہتا تو اپنے دادا سے شروع کرتا۔ حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ تھے۔

أَبِيهِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح و أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان الرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16256

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ أبو سلمة بن عبد الرحمن عن أبي أسيد · حديث 16257

589 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف أن أبا أسيد صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أخبره قال Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( خير دور الانصار [ دور ] بني النجار ثم بني عبد الأشهل ثم دار الحارث بن الخزرج له دارين ساعدة وفي كل دور الانصار خير ) قال أبو أسيد : لو كنت كاذبا لبدأت بقومي بني ساعدة فبلغ ذلك سعد بن عبادة فوجد في نفسه من ذلك فقال خلقنا فكنا أهم الاربعة أسرجوا لي حماري أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له ابن أخيه سهل : أتذهب ترد على رسول الله صلى الله عليه و سلم قوله ؟ والله ورسوله أعلم فأمر بحماره فحل عنه

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے کہ صحابی رسول حضرت ابو اُسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت عمارہ بن غزیہ فرماتے ہیں کہ کچھ نوجوانوں نے حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ نے انصار کو پسند فرمانے کے متعلق کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: انصار میں بنی نجار پھر بنی عبدالاشہل پھر بنی حارث بن خزرج پھر بنی ساعدہ والے بہتر ہیں انصار کے تمام گھر والے بہتر ہیں۔ حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں حق بات کے علاوہ کہتا تو اپنے دادا سے شروع کرتا۔ حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ تھے پس یہ بات حضرت سعد بن عبادہ کو پہنچی انہیں غصہ آیا فرمایا: ہمیں پیدا کیا گیا پس ہم چار میں سے زیادہ اہمیت والے تھے ۔ میری سواری ( گدھا) تیار کرو ( زین ڈالو) میں رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں جاتا ہوں پس ان سے ان کے بھتیجے حضرت سہل نے کہا: کیا آپ رسول کریمﷺ کا رد کرنے جائیں گے ؟ ان کے قول: واللہ ورسولہ اعلم پس انہوں نے دوبارہ حکم دیا کہ ان کے گدھے سے زین اتار لی جائے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16257

chevron_left Previous
1…789…50
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter