المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16234
566 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني [ ثنا أبي ] ثنا ابن لهيعة عن أبي الاسود عن عروة بن الزبير قال : وكان أول من بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم العقبة أبو الهيثم بن التيهان وقال Y يا رسول الله إن بيننا وبين الناس حبالا - والحبال الحلف والمواثيق - فلعلنا نقطعها ثم ترجع إلى قومك وقد قطعنا الحبال وحاربنا الناس قال : فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله وقال : ( الدم الدم الهدم الهدم ) فلما رضي أبو الهيثم بما رجع إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله أقبل على قومه [ فقال ] يا قوم هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم أشهد أنه لصادق وإنه اليوم في حرم الله وأمنه وبين ظهري قومه وعشيرته فاعلموا أنكم أن تخرجوه برتكم العرب عن قوس واحدة فإن كانت طابت أنفسكم بالقتال في سبيل الله وذهاب الاموال والأولاد فادعوه إلى أرضكم فإنه رسول الله صلى الله عليه و سلم حقا وإن خفتم خذلانا فمن الآن فقال عبد الله : قبلنا عن الله وعن رسوله ما أعطانا وقد أعطيناك من أنفسنا الذي سألتنا يا رسول الله فخل بيننا يا أبا الهيثم وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم فلنبايعه فقال أبو الهيثم : أنا أول من بايع ثم تبايعوا كلهم وصاح الشيطان من رأس الجبل فقال يا معشر قريش هذه الخزرج والأوس تحالف محمدا على قتالكم ففزعوا عند ذلك وراعهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يرعكم هذا الصوت فإنما هو عدو الله إبليس ليس يسمعه أحد ممن تخافون وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فصرخ بالشيطان فقال : ( يا ابن أرب هذا عملك فسأفرغ لك )
حضرت عرہ بن زبیر فرماتے ہیں: ( عقبہ کے دن سب سے پہلے جس شخصیت نے رسول کریم ﷺ کی بیعت کی وہ حضرت ابو الہیثم بن تیہان ہیں) عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے اور دوسرے ( قبیلوں کے لوگوں کے درمیان حبال ہیں( حبال کا معنی حلیف ہو نا اور معاہدے ہیں ) ہم وہ توڑ دیں گے پھر لوٹ کر آپ کی قوم کی طرف آئیں گے لوگوں سے تعلقات ہم آپ کی وجہ سے توڑیں گے اور ان سے لڑائی ہماری آپ کی وجہ سے ہو گی ۔ ان کی یہ بات سن کر رسول کریم ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: جن سے تمہاری لڑائی ہو گی ان سے ہماری لڑائی ہو گی اور جن سے تمہارا معاہدہ ہو گا ان سے ہمارا معاہدہ ہو گا۔ پس جب رسول کریم ﷺ کے جواب سے حضرت ابو الہیثم خوش ہوئے تو اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے میری قوم! یہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہ دیتا ہوں کہ یہ سچ بولنے والے ہیں۔ وہ آج اللہ کے حرم اور اس کے امن میں ہیں۔ اپنی قوم اور اپنے قریبی رشتہ داروں میں موجود ہیں۔ پس تم جان لو کہ اگر تم ان کو نکال کر اپنے پاس لے گئے تو پھر عرب والے تم سب کو ایک ہی کمان سے چھیلیں گے ۔ اگر تمہارے نفس اللہ( اور اس کے رسول) کی راہ میں لڑنا پسند کریں اپنے مال اور اولاد قربان کرنا گوارا کریں تب ان کو اپنے ملک میں تشریف لانے کی دعوت دو کیونکہ یہ اللہ کے برحق رسول ہیں اور اگر تمہیں رسوائی کا ڈر ہو تو اب وقت ہے ( مناسب فیصلہ کر لو)۔ پس حضرت عبداللہ نے کہا: ہمیں اللہ و رسول ﷺ کے حوالے سے جو ( دکھ یا سکھ ) ملے قبول ہے ۔ اے اللہ کےر سول! وہ جانیں ہم نے آپ کو دے دیں جو آپ نے ہم سے مانگی ہیں۔ اے ابو الہیثم ! ہمارے اور رسول کریم ﷺ کے درمیان سے راستہ خالی کر دو( حجاب نہ بنو ضمانت اُٹھانے کی ضڑورت نہیں) پس ( اب) ہمیں چاہیے کہ ( دیر کیے بغیر ) آپ ﷺ کی بیعت کریں۔ پس حضرت ابو الہیثم فرماتے ہیں: میں نے سب سے پہلے بیعت کی پھر تمام نے بیعت کی ۔ پہاڑ کی چوٹی سے شیطان کی چینخ نکل گئی ۔ اس نے کہا: اے گروہ قریش ! یہ بنو خزرج اور بنو اوس ہیں۔ یہ حضرت محمد ﷺ سے تمہارے خلاف لڑنے پر حلف دے رہے ہیں ۔ پس اس وقت وہ گھبرائے اور اس نے انہیں ڈرایا۔ پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا: یہ آواز تمہیں نہ ڈرائے یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے خوف ( خدا) رکھنے والوں میں سے اسے کوئی نہیں سنتا۔ رسول کریم ﷺ کھڑے ہوئے شیطان کی چینخ کا جواب دیا فرمایا: اے ازب کے بیٹے! یہ تیرا( میرے خلاف) عمل ہے ۔ اب میں تیرے لیے فارغ ہوتا ہوں( اور تیری خبر لیتا ہوں اس سے اس کی کاروائی بند ہو گئی )۔
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16234
