Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16234

566 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني [ ثنا أبي ] ثنا ابن لهيعة عن أبي الاسود عن عروة بن الزبير قال : وكان أول من بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم العقبة أبو الهيثم بن التيهان وقال Y يا رسول الله إن بيننا وبين الناس حبالا - والحبال الحلف والمواثيق - فلعلنا نقطعها ثم ترجع إلى قومك وقد قطعنا الحبال وحاربنا الناس قال : فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله وقال : ( الدم الدم الهدم الهدم ) فلما رضي أبو الهيثم بما رجع إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله أقبل على قومه [ فقال ] يا قوم هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم أشهد أنه لصادق وإنه اليوم في حرم الله وأمنه وبين ظهري قومه وعشيرته فاعلموا أنكم أن تخرجوه برتكم العرب عن قوس واحدة فإن كانت طابت أنفسكم بالقتال في سبيل الله وذهاب الاموال والأولاد فادعوه إلى أرضكم فإنه رسول الله صلى الله عليه و سلم حقا وإن خفتم خذلانا فمن الآن فقال عبد الله : قبلنا عن الله وعن رسوله ما أعطانا وقد أعطيناك من أنفسنا الذي سألتنا يا رسول الله فخل بيننا يا أبا الهيثم وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم فلنبايعه فقال أبو الهيثم : أنا أول من بايع ثم تبايعوا كلهم وصاح الشيطان من رأس الجبل فقال يا معشر قريش هذه الخزرج والأوس تحالف محمدا على قتالكم ففزعوا عند ذلك وراعهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يرعكم هذا الصوت فإنما هو عدو الله إبليس ليس يسمعه أحد ممن تخافون وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فصرخ بالشيطان فقال : ( يا ابن أرب هذا عملك فسأفرغ لك )

حضرت عرہ بن زبیر فرماتے ہیں: ( عقبہ کے دن سب سے پہلے جس شخصیت نے رسول کریم ﷺ کی بیعت کی وہ حضرت ابو الہیثم بن تیہان ہیں) عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے اور دوسرے ( قبیلوں کے لوگوں کے درمیان حبال ہیں( حبال کا معنی حلیف ہو نا اور معاہدے ہیں ) ہم وہ توڑ دیں گے پھر لوٹ کر آپ کی قوم کی طرف آئیں گے لوگوں سے تعلقات ہم آپ کی وجہ سے توڑیں گے اور ان سے لڑائی ہماری آپ کی وجہ سے ہو گی ۔ ان کی یہ بات سن کر رسول کریم ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: جن سے تمہاری لڑائی ہو گی ان سے ہماری لڑائی ہو گی اور جن سے تمہارا معاہدہ ہو گا ان سے ہمارا معاہدہ ہو گا۔ پس جب رسول کریم ﷺ کے جواب سے حضرت ابو الہیثم خوش ہوئے تو اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے میری قوم! یہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہ دیتا ہوں کہ یہ سچ بولنے والے ہیں۔ وہ آج اللہ کے حرم اور اس کے امن میں ہیں۔ اپنی قوم اور اپنے قریبی رشتہ داروں میں موجود ہیں۔ پس تم جان لو کہ اگر تم ان کو نکال کر اپنے پاس لے گئے تو پھر عرب والے تم سب کو ایک ہی کمان سے چھیلیں گے ۔ اگر تمہارے نفس اللہ( اور اس کے رسول) کی راہ میں لڑنا پسند کریں اپنے مال اور اولاد قربان کرنا گوارا کریں تب ان کو اپنے ملک میں تشریف لانے کی دعوت دو کیونکہ یہ اللہ کے برحق رسول ہیں اور اگر تمہیں رسوائی کا ڈر ہو تو اب وقت ہے ( مناسب فیصلہ کر لو)۔ پس حضرت عبداللہ نے کہا: ہمیں اللہ و رسول ﷺ کے حوالے سے جو ( دکھ یا سکھ ) ملے قبول ہے ۔ اے اللہ کےر سول! وہ جانیں ہم نے آپ کو دے دیں جو آپ نے ہم سے مانگی ہیں۔ اے ابو الہیثم ! ہمارے اور رسول کریم ﷺ کے درمیان سے راستہ خالی کر دو( حجاب نہ بنو ضمانت اُٹھانے کی ضڑورت نہیں) پس ( اب) ہمیں چاہیے کہ ( دیر کیے بغیر ) آپ ﷺ کی بیعت کریں۔ پس حضرت ابو الہیثم فرماتے ہیں: میں نے سب سے پہلے بیعت کی پھر تمام نے بیعت کی ۔ پہاڑ کی چوٹی سے شیطان کی چینخ نکل گئی ۔ اس نے کہا: اے گروہ قریش ! یہ بنو خزرج اور بنو اوس ہیں۔ یہ حضرت محمد ﷺ سے تمہارے خلاف لڑنے پر حلف دے رہے ہیں ۔ پس اس وقت وہ گھبرائے اور اس نے انہیں ڈرایا۔ پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا: یہ آواز تمہیں نہ ڈرائے یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے خوف ( خدا) رکھنے والوں میں سے اسے کوئی نہیں سنتا۔ رسول کریم ﷺ کھڑے ہوئے شیطان کی چینخ کا جواب دیا فرمایا: اے ازب کے بیٹے! یہ تیرا( میرے خلاف) عمل ہے ۔ اب میں تیرے لیے فارغ ہوتا ہوں( اور تیری خبر لیتا ہوں اس سے اس کی کاروائی بند ہو گئی )۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16234

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16235

567 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عبيد بن يعيش ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن يحيى بن عبيد الله عن أبيه عن أبي هريرة حدثني أبو بكر بن أبي قحافة قال Y فاتني العشاء ذات ليلة فجعلت أتقلب لا يأتيني النوم فقلت لو خرجت إلى المسجد فصليت ما قدر لي ففعلت ثم استندت إلى ناحية منه فدخل عمر فلما رآني أنكرني وقال : من هذا ؟ فقلت : أبو بكر قال : ما أخرجك هذه الساعة ؟ قلت : الجوع وأنا ما أخرجني إلا الذي أخرجك فلم يلبث أن أدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأى سوادنا أنكره فقال : ( من هذان ؟ ) فبدرني عمر فقال : هذا أبو بكر وهذا عمر فقال : ( ما أخرجكما هذه الساعة ؟ ) فأخبرناه الخبر قال : ( وأنا ما اخبرجني إلا الذي أخرجكما انطلقوا بنا إلى منزل الواقمي فأتيتا الباب فاستأذنا فخرجت المرأة فقال : ( أين فلان ؟ ) قالت : ذهب يستعذب لنا من حش بني حارثة ففتحت الباب فدخلنا فلم نلبث أن جاء حاملا قربة على ظهره حتى علقها في كرنفة من كرانف النخل ثم أقبل الينا فقال : مرحبا وأهلا ما زار الناس خير من زور زاوني الليلة ثم جاء بعذق بسر فجعلنا ننتقي في القمر ونأكل ثم أخذ الشفرة وجال في الغنم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إياك والحلوب - أو قال ذات الدر فذبح لنا شاة وسلخها وقطعها في القدر وأمر المرأة فعجنت وحبزت ثم جاءنا بثريدة ولحم فأكلنا ثم قام إلى القربة وقد تخفقها الريح فبردت فأسقانا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : الحمد لله خرجنا لم يخرجنا إلا الجوع ثم لم نرجع حتى أصبنا هذا هذا من النعيم الذي تسألون عنه يو القيامة ثم قال للواقمي : ( أما لك خادم يكفيك هذا ) قال : لا يا رسول الله قال : ( فانظر أول سبي يأتيني فائتني أمر لك بخادم فلم يلبث أن أتاه سبي فأتاه فقال : ما جاء بك ؟ قال : موعدك الذي وعدتني قال : قم فاختر منهم فقال : يا رسول الله كن أنت الذي تختار لي قال : خذ هذا الغلام فأحسن إليه فأتى امرأته فأخبرها بما قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم وما قال له فقالت : فقد أمرك أن تحسن إليه قال : وما الاح ؟ قالت : أن تعتقه قال : هو حر لوجه الله عز و جل

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک رات عشاء کے وقت میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ تمہارے پاس رات کا کھانا ہے ؟ گھر والوں نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم! ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے بستر پر آکر سو گیا۔ لیکن بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی میں نے کہا: اگر میں مسجد کی طرف جاؤں جو اللہ نے توفیق دی نماز پڑھوں گا میں ذکر کروں گا یہاں تک کہ صبح ہو جائے میں مسجد کی طرف نکلا میں نے نماز پڑھی جتنی اللہ نے توفیق دی ۔ پھر میں مسجد کے ستون کے ساتھ ٹیک لگا لی میں ایسی ہی حالت میں تھا اچانک میرے پاس حضرت عمر بن الخطاب آگئے آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: ابو بکر رضی اللہ عنہ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس وقت کیوں نکلے ہیں آپ میں نے ساری بات بتا دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بھی اس چیز نے نکالا جس نے آپ کو نکالا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھ گئے ۔ پس ہم دونوں ایسی حالت میں تھے کہ اچانک رسول پاک رضی اللہ عنہ تشریف لائے حضور رضی اللہ عنہ نے ہم کو نہیں پہچانا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کون ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جلدی ک ی عرض کی یا رسول اللہ! یہ عمر اور ابو بکر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں کو اس گھڑی میں کس چیز نے گھر سے نکالا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں گھر سے نکلا مسجد میں داخل ہوا میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ٹیک لگائے ہوئے دیکھا میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ابو بکر ہوں۔ میں نے عرض کی : اس گھڑی کس چیز نے آپ کو نکالا ہے آپ کو حضرت ابو بکر نے ساری بات بتلائی جو تھی میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس چیز نے آپ رضی اللہ عنہ کو نکالا ہے اسی چیز نے مجھے بھی نکالا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے ۔ جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے ۔چلو واقفی ابو ہثیم بن التیہان کے پاس۔ ہم اس کے پاس کوئی چیز پائیں گے جو ہم کھائیں گے ۔ پس ہم نکلے اور ہم چلے اور ہما س کی دیوار کے پاس پہنچے چاندنی رات تھی۔ ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا ان کی بیوی نے کہا: کون ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ رسول پاک ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا ہیں۔ ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا ہم اندر داخل ہوئے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: تمہارا شوہر کہاں ہے ؟ اس عورت نے کہا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے کے لیے گئے ہیں۔ بنی حارثہ کے باغ سے ابھی آجاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ پانی کا مشکیزہ لے کر آئے یہاں تک کہ کھجور کے درخت کے پاس آئے اس مشکیزہ کو کھجور کی ٹہنیوں کے ساتھ لٹکا دیا۔ پھر ہمارے پاس آئے اور عرض کی : مرحبا واھلا۔ خوش آمدید پھر کہا جس ہستیوں کی زیارت آج میں کر رہا ہوں لوگوں میں سے کوئی بھی ان کی نہیں کر رہا ہے ۔ پھر وہ ہمارے لیے تروتازہ کھجوریں توڑ کر لائے ۔ ہم ان کو چاند کی روشنی میں صاف کر رہے تھے ۔ پس ہم نے اس سے کھایا پھر اس نے چھری پکڑی اور بکری کو ذبح کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دودھ دینے والی کوئی ذبح نہ کرنا۔ یا یہ فرمایا کہ حاملہ بکری کو ذبح نہ کرنا۔ اس نے ایک بکری کو ذبح کیا اور گوشت کیا اور اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو پکا اور روٹیاں بھی پکا۔ انہوں نے گوشت کے ٹکڑے کر کے ہانڈی میں ڈالے اور اس کے نیچے آگ جلائی ۔ یہاں تک کہ گوشت اور روٹیاں پک گئیں۔ پھر انہوں نے روٹی کے ٹکڑے کیے اس کے اوپر گوشت اور گوشت کا شوربہ ڈالا۔ پھر وہ ہمارے پاس آئے اور ہمارے سامنے رکھ دیا۔ پس ہم نے کھایا اور یہاں تک کہ سیر ہو گئے ۔ پھر مشکیزے کی طرف گئے وہ ہوا کی وجہ سے ٹھنڈا وہ گیا تھا۔ پانی کوبرتن میں ڈالا پھر رسول پاک ﷺ کو دیا آپ ﷺ نے پیا پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے پیا پھر عمر رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے پیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم جب نکلے تھے تو بھوکے تھے جب واپس جانے لگے تو سیر ہو گئے ہیں۔ پھر فرمایا: قیامت کے دن اللہ پاک ضرور بضرور تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھے گا۔ پھر آپ ﷺ نےو اقفی سے کہا کیا تمہارا خادم ہے کہ وہ تمہیں پانی پلائے ؟ عرض کی یا رسول اللہ! نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب ہمارے پا س قیدی آئیں تو ہمارے پاس آنا ہم ایک خادم دیں گے ۔ تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس قیدی ائے ۔ حضرت واقفی آئے آپ ﷺ نے فرمایا: کس غرض کے لیے آئے ہو؟ عرض کی یا رسول اللہ! اس وعدہ کے پیش نظر جو آپ نے مجھ سے کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قیدی ہیں اٹھیے جس کو اختیار کرنا ہے اختیار کر لیجیے۔ حضرت واقفی نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ میرے لیے پسند کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس غلام کو پکڑ اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ انہوں نے غلام لیا اقور اس و اپنی بیوی کے پاس لے کر آئے اہلیہ نے کہا یہ کہا ہے ( فرماتے ہیں) میں نےسارا قصہ بیان کیا۔ بیوی نے کہا تو نے کوئی بات کی تھی ۔ میں نے کہا ہاں میں نے عرض کی تھی کہ آپ میرے لیے جس غلام کو پسند فرمائیں ۔ بیوی نے کہا تو نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے انہوں نے کہا احسان کیا ہے ؟ بیوی نے کہا کہ تو اس کو آزاد کر دے ۔ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کی رضا کے لیے اس کو آزاد کر دیا ۔

أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16235

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16236

568 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و جعفر بن محمد الفريابي قالا ثنا زكريا بن يحيى الرياشي ثنا عبد الله بن عيسى الخزاز ثنا يونس بن عبيد عن عكرمة عن ابن عباس أنه سمع عمر بن الخطاب يقول Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الظهر فوجد أبا بكر في المسجد فقال له : ( ما أخرجك هذه الساعة ؟ قال : أخرجني الذي أخرجك يا رسول الله وجاء عمر بن الخطاب فقال : ( يا ابن الخطاب ما أخرجك ؟ ) قال : أخرجني الذي أخرجكما فقعد عمر فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدثهما ثم قال : ( فيكما من قوة تنطلقان إلى هذا النخل فتصيبان طعاما وشرابا وطلاء ؟ ) قلنا نعم قال : ( مروا بنا إلى منزل أبي الهيثم بن التيهان الانصاري ) فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أيدينا فسلم واستأذن ثلاث مرات و أم الهيثم من وراء الباب تسمع سلامه تريد أن يزيدها رسول الله صلى الله عليه و سلم من السلام فلما أراد أن ينصرف خرجت أم الهيثم تسعى خلفهم فقالت : يا رسول الله قد والله سمعت تسليمك ولكني أردت أن تزيدنا من سلامك قال لها صلى الله عليه و سلم خيرا ثم قال : ( أين أبو الهيثم ؟ ) فقالت يا رسول الله هو قريب ذهب يستعذب لنا من الماء أدخلوا فإنه يأتي الساعة إن شاء الله فبسطت لهم بساطا تحت الشجرة وجاء ابو الهيثم ففرح بهم وقرت عيناه بهم وصعد على نخلة فصرم لهم أعذاقا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( احتسب يا أبا الهيثم فقال : يا رسول الله تأكلون من بسره ومن رطبه ومن تذنوبه ثم أتاهم بماء فشربوا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هذا من النعيم الذي تسألون عنه فقام أبو الهيثم ليذبح لهم شاة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إياك واللبون ) وقامت أم الهيثم تعجن وتخبز لهم ووضع رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر رضي الله عنهما رؤوسهم للقائلة فأيقظوا وقد أدرك طعامهم فوضع الطعام بين أيديهم فأكلوا وشبعوا ورد عليهم أبو الهيثم بقية الاعذاق فأكلوا من رطبه وتذبونه فسلم عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ودعا لهم بخير

حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ دوپہر کے وقت نکلے۔ آپ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں پایا آپ نے فرمایا: اس کو اس وقت کس نے نکالا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ! جس نے آپ کو نکالا ہے اُسی نے مجھے نکالا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! تمہیں کس نے نکالا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے اُس نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے حضور ﷺ متوجہ ہوئے دونوں گفتگو کرنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم دونوں کو کھانے کی ضرورت ہے ؟ ہم اس باغ کی طرف چلتے ہیں وہاں کھانا اور پانی اور سایہ پاتے ہیں؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں! ہم ابن تیہان ابو الہیثیم انصاری کے گھر کے پاس سے گزرے ۔ حضور ﷺ ہمارے درمیان سے آگے بڑھے آپ نے سلام کیا تین مرتبہ اجازت مانگی اُم ہثیم دروازے کے پیچھے گفتگو سن رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ آپ اور زیادہ گفتگو کریں۔ جب حضور ﷺ نے جانے کا ارادہ ک یاتو اُم ہثیم نکلیں اور جلدی سے ان کے پیچھے چلیں۔ حضرت اُم ہثیم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم! میں آپ کا سلام سن رہی تھی لیکن میں چاہتی تھی کہ آپ ہم ر سلام زیادہ کریں۔ حضور ﷺ نے اسے فرمایا: اچھا! اور فرمایا: ابو ہثیم کہاں ہیں کہ میں ان کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟ اُم ہثیم نے عرض کی : وہ قریب ہی ہیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے کے لئے گئے ہیں آپ داخل ہوں! وہ تھوڑی دیر تک آجائیں گے اگر اللہ نے چاہا۔ ان حضرات کے لیے درخت کے نیچے بستر بچھا دیا ابو ہثیم آئے اور ان کو دیکھ کر خوش ہوئے اپنی آنکھیں ان کے ذریعے ٹھنڈی کرنے لگے اور کھجور کے درخت پر چڑھے اور ان کے لیے کھجوریں توڑنے لگے۔حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابو ہثیم! کافی ہیں۔ ابو ہثیم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ خشک اور تر کھائیں! پھر نیم پختہ کھجور کھائیں گے پھر ان کے پاس پانی لائے ان حضرات نے نوش کیا حضور ﷺ نے فرمایا:ان نعمتوں کے متعلق آپ سے پوچھا جائے گا حضرت ابو ہثیم اٹھے تاکہ ان کے لیے بکری ذبح کریں حضور ﷺ نے فرمایا: دودھ دینے والی سے بچنا! اُم ہثیم کھڑی ہوئیں ان کے لیے آٹا گوندھنے لگیں اور روٹیاں پکانے لگیں۔ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا قیلولہ کر رہے تھے یہ حضرات اٹھے تو کھانا آگے پایا کھانا ان کے آگے رکھ دیا گیا تو انہوں نے کھایا اورت سیر ہو گئے اللہ عزو جل کی تعریف کی باقی کھجوروں کا ٹوکرا اُم ہثیم کی طرف بھیج دیا کچھ تازہ کھجوریں کچھ نیم پختہ کھجوریں کھا لیں اس کے بعد حضور ﷺ نے ان کو سلام کیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الرِّيَاشِيُّ ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و جعفر بن محمد الفريابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16236

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16237

569 - حدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا بكار بن محمد السيرينني ثنا عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج في ساعة لم يكن يخرج فيها ثم خرج أبو بكر فقال له : ماأخرجك يا أبا بكر قال : أخرجني الجوع قال : وأنا أخرجني الذي أخرجك قال : ثم خرج عمر فقال له : ( ما أخرجك يا عمر ؟ ) قال : أخرجني والذي بعثك بالحق الجوع ثم سار إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ناس من أصحابه فقال لهم : ( انطلقوا بنا إلى منزل أبي الهيثم بن التيهان فانطلقوا فلما انتهوا إلى منزل أبي الهيثم قالت امرأته أن أبا الهيثم قد ذهب يستعذب لنا من الماء فدوروا إلى الحائط ففتحت لهم باب الحائط فجلسوا فجاء أبو الهيثم فقالت له امرأته : تدري من عندك ؟ فقال : لا فقالت : عندك رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه فدخل فعلق فرسه على نخلة ثم أتاهم فسلم عليهم حيى ورحب ثم أتى مخرفا له فأتى عذقا فاخترف لهم رطبا فأتاهم به فصبه بين أيديهم ثم أن أبا الهيثم أهوى إلى غنيمة له في ناحية الحائط ليذبح لهم منها شاة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أما ذات در فلا ) فأخذ شاة فذبحها وسلخها وقطعها أعضاء فطبخها بالماء والملح ثم أتى امرأته فسألها هل عنك من شيء ؟ فقالت : نعم عندنا شيء من شعير كنا نؤخره فطحناه بينهما ثم عجنته وخبزته فكسره أبو الهيثم وأكفأ عليه ذلك اللحم الذي طبخه ثم اتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه فأكلوا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أبا الهيثم أما لك من خادم ؟ ) قال : لا والذي بعثك بالحق ما لنا خادم قال : فإذا بلغك أنه جاءنا سبي فأتنا نخدمك فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم سبي فأتاه أبو الهيثم وبين يديه غلامان أو قال وصيفان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا الهيثم اختر منهما - أو قال - تخاير منهما فقال أبو الهيثم : يا رسول الله خر لي فاحتاط رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى حسر عن ذراعيه وقال : ( المستشار مؤتمن يا أبا الهيثم خذ هذا ) فلما ولى به أبو الهيثم قال : ( يا أبا الهيثم أحسن إليه فإني رأيته يصلي ) قال : نعم نطعمه مما نأكل ونلبسه مما نلبس ولا نكلفه من العمل ما لا يطيق فانطلق أبو الهيثم إلى أهله ففرحوا به فرحا شديدا وقالوا : الحمد لله الذي رزقنا خادما يخدمنا ويعيننا على ضيعننا فقال أبو الهيثم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أوصاني به قالت امرأته : نعم تطعمه مما نأكل ونلبسه مما نلبس ولا نكلفه من العمل ما لا يطيق قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أوصاني به قالت امرأته : سبحان الله خادم أخدمنا الله ورسوله تريد أن تحرمناه ؟ فقال أبو الهيثم للغلام : أنت حر لوجه الله فإن أحببت أن تقيم معنا نطعمك مما نأكل ونلبسك مما نلبس ولا نكلفك من العمل إلا ما تطيق وإن شئت فاذهب حيث شئت

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ ( ایک دن ) ایسی گھڑی میں نکلے جس میں کبھی نہ نکلے تھے پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نکلے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے ابو بکر ! آپ کو کس چیز نے نکالا ؟ عرض کی : بھوک نے ۔ فرمایا: مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے آپ کو نکالا۔ راوی کا بیان ہے : پھر حضرت عمر نکلے پس آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: آپ کو کس چیز نے نکالا؟ اے عمر! عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! مجھے بھوک نے نکالا ہے ۔ پھر رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چلو! ابو الہیثم بن تیہان کے گھر چلتے ہیں۔ پس سارے چل کر حضرت ابو الہیثم کے گھر گئے ۔ ان کی زوجہ محترمہ نے عرض کی : ابو الہیثم ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ پس انہوں نے باغ کے اردگرد ایک چکر لگایا ۔ اس خوش نصیب خاتون نے ان کیلئے دروازہ کھولا۔ سب بیٹھ گئے پس حضرت ابو الہیثم آئے تو ان کی بیوی نے عرض کی : تجھے معلوم ہے کہ تیرے گھر میں کون ہیں؟ فرمایا: نہیں! عرض کی : تیرے پاس اللہ کے رسولﷺ ہیں اور ان کے ساتھ ان کے صحابہ پس انہوں نے اندر آکر گھوڑ ے کو کھجور کے درخت سے باند دیا پھر ان کے پاس آکر سلام کیا: السلام علیکم! خوش آمدید ! پھر آپ چھوٹی ٹوکری ( جس میں تازہ پھل توڑ کر ڈالے ہوئے تھے ) کے پاس آئے پھر کھجور کے درخت کی طرف ائے اس سے تازہ کھجوریں لیں وہ لا کر ان کے سامنے بکھیر دیں( خوشی سے ) پھر حضرت ابو الہیثم اپنی بکریوں کے پاس آئے جو اتفاق سے باغ کے ایک کونے میں تھیں تاکہ ان سب کیلئے ذبح کریں ان میں سے ایک بکری۔ پس انہوں نے ( ایک دوسری ) بکری پکڑ کر ذبح کی کھال اتار کر ٹکڑے کیے ان میں پانی اور نمک ڈال کر پلایا پھر اپنی بیوی کے پاس آکر کہا: کیا تیرے پا اس کوئی چیز ہے ؟ ( روٹی ) اس نے کہا: ہاں! ہمارے پاس کچھ جو ہیں جو ہم نے بچا کر رکھے تھے ۔ پس ان دونوں نے پیسا پھر اس عورت نے آٹا گوندھ کر روٹیاں بنائیں۔ حضرت ابو الہیثم نے ان کے ٹکرے کر کے ان پر وہ پکا ہوا گوشت ڈالا۔ پھر رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے پاس لائے پس انہوں نے کھایا: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابو الہیثم! کیا تیرے پاس خادم نہیں ہے ؟ عرض کی : نہیں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ۔ فرمایا: جب تجھے پتہ چلے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں تو ہمارے پاس آنا ہم تمہیں خادم دیں گے ۔ پس رسول کریم ﷺ کے پاس قیدی ائے تو حضرت ابو الیثم حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے سامنے دو غلام تھے ( یا غلامان کی بجائے وصیفان کہا) رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابو الہیثم ! ا ن میں سے چن لے ( یا تخایر کا لفظ فرمایا)حضرت ابو الہیثم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ ہی میرے لیے انتخاب فرمائیں۔ پس رسول کریم ﷺ نے بازوؤن سے کپڑا ہٹایا حتیٰ کہ اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہوتا ہے اےا بو الہیثم! یہ پکڑ لو!( ایک کی طرف پیارا سا اشارہ فرمایا) پس جب حضرت ابو الہیثم اس کو لے کر واسپ چلے تو فرمایا: اے ابو الہیثم! اس سے نیک سلوک کرنا کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ عرض کی : جی ہاں! ( فرمایا: ) اسے کھلانا اس سے جو آپ کھائیں اور اس سے پہنانا جس سے آپ پہنیں۔ اس کو ایسا کام نہ کہنا جس کی اس میں طاقت نہ ہو۔ پس حضرت ابو الہیثم اسے لے کر اپنے گھر والوں کی طرف چلے گئے ۔ پس وہ بہت خوش ہوئے اور کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں خادم عطا کیا وہ ہماری خدمت کرے گا اور ہمارا سامان( اُٹھانے یا اس کی حفاظت کرنے میں) ہماری معاونت کرے گا۔ پس حضرت ابو الہیثم نے فرمایا: بے شک رسول کریمﷺ نے مجھے وصیت فرمائی۔ ان کی بیوی نے کہا: جی ہاں! ہم اسے وہی کھلائیں گے جو خود کھائیں گے وہی پہنائیں گے جو خود پہنیں گے اسے تکلیف مالا یطاق نہیں دیں گے ۔ فرمایا: رسول کریمﷺ نے مجھے اس کے حق میں وصیت کی ہے ۔ اُن کی بیوی نے عرض کی : سبحان اللہ ! اللہ اور رسول ﷺ نے ہمیں خادم دیا ہے آپ ہمیںا س سے محروم کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت ابو الہیثم نے غلام سے فرمایا:تپو اللہ کیلئے آزاد ہے اگر تُو پسند کرے تو ہمارے پاس رہ ہم تمہیں وہی کھلائیں گے جو خود کھائیں گے اور وہی پہنائیں گے جو خود پہنیں گے اور تمہیں ایسا کام نہیں بتائیں گے جس کی تم میں طاقت نہیں ہے اگر تم چاہو تو چلے جاؤ جہاں چاہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← بكار بن محمد السيرينني ← محمد بن زكريا الغلابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16237

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16238

570 - حدثنا هاشم بن مرثد البغوي ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شيبان عن عبد الملك بن عمير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في ساعة لا يخرج فيها ولا يلقاه فيها أحد فأتاه أبو بكر فقال : ( ما أخرجك يا أبا بكر ؟ ) قال : خرجت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم والنظر في وجهه والتسليم عليه فلم يلبث إن جاء عمر فقال : ( ما أخرجك يا عمر ؟ ) قال : الجوع قال : وأنا قد وجدت بعض الذي تجد فانطلقوا بنا إلى أبي الهيثم بن التيهان الانصاري - وكان رجلا كثير الخيل والشياه ولم يكن له خادم - فأتوه فلم يجدوه ووجدوا امرأته فقال : ( أين صاحبكم ؟ ) قالت انطلق غدوة ليستعذب من الماء من قناة بني فلان فلم يلبث أن جاء بقربة ثم وضعها ثم أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم يلزمه ويفديه بأبيه وأمه فانطلق بهم إلى ظل حديقته فبسط لهم بساطا ثم انطلق إلى نخلة فجاء بعذق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فهلا تنقيت من رطبه ؟ ) فقال : أردت أن تحسون من رطبه وبسره فأكلوا وشربوا من ذلك الماء فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( هذا والذي نفسي بيده من النعيم الذي تسألون عنه يوم القيامة هذا الظل البارد والرطب الباد عليه الماء ) انطلق فضع لهم طعاما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا تذبح ذات در ) فذبح لهم عناقا أو جديا ثم أتاهم فأكلوا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هل لك خادم ؟ ) قال : لا قال : ( فإذا أتانا سبي فائتنا ) فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسان ليس لهما ثالث فقال : ( اخترهما ) فقال : يا رسول الله خر لي فقال : ( المستشار مؤتمن خذ هذا فأني قد رأيته يصلي واستوصي به معروفا ) فأتى امرأته فحدثها حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : ما شيء هما به قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خير من عتقه قال : فهو عتيق فقال أبو سلمة بن عبد الرحمن : إنما يسأل عنه لم يسم الله على أوله ولم يحمده الله على آخره فأما من سمى في أوله وحمد في آخره فقد أدى شكره

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک ایسی گھڑی میں گھر سے باہر تشریف لائے جس میں تشریف لایا کرتے تھےا ور نہ ہی اس میں کبھی کسی سے ملا کرتے تھے ۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے فرمایا: اے ابو بکر تمہیں کس چیز نے نکالا؟ عرض کی: میں اللہ کے رسول کی طرف آیا تاکہ ان کے چہرے کی زیارت کروں اور ان پر سلام کرنے کی سعادت حاصل کروں پس وہ تھوڑی دیر ٹھہرے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے فرمایا: اے عمر! تجھے کس چیز نے نکالا عرض کی : بھوک نے ! فرمایا: میں بھی تھوڑی وہی چیز پاتا ہوں جو تم پاتے ہو۔ پس ہم حضرت ابو الہیثم بن تیھان انصاری کے پاس جاتے ہیں۔( اس آدمی کے پاس گھوڑے اور بکریاں بہت تھے لیکن ( اس کے باوجود) خادم کوئی نہ تھا۔ یہ حضرات مل کر تشریف لائے لیکن ( سر دست) وہ موجود نہ تھے لیکن ان کی بیوی گھر میں موجود تھیں ۔ فرمایا: تمہارا ساتھی کہا ں ہے؟ اس نے عرض کی : وہ صبح گئے تاکہ بنو فلاں کے کنویں سے میٹھا پانی لے کر آئیں ۔ ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ وہ پانی کی مشک لے کر آگئے پھر اسے رکھا پھر رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں آکر آپ کی مجلس کو لازم پکڑا ( کہا:) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! پس وہ ان سب کو اپنے باغ کے سائے میں لے گئے ان کیلئے قالین بچھائی پھر کھجوروں کی طرف گئے پس تر کھجوریں لے کر آئے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں! تُو نے تازہ کھجوروں سے دوسری الگ کیوں نہ کیں؟ عرض کی : میں نے ارادہ کیا کہ آپ تر اور خشک دونوں سے لطف اندوز ہوں۔ پس ان حضرا ت نے کھائیں اور اس پانی سے پیا( جو وہ بھر کر لائے تھے)۔ پس جب رسول کریم ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! ان کا تع؛ق ان نعتموں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا یہ ٹھنڈا سایہ یہ تروتازہ کھجوریں اس پر مستزاد پانی جاؤ ان کیلئے کھانا( دسترخوان پر ) رکھ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا ۔ پس انہوں نے سال کے قریب عمر کا بکری کا بچہ یا بچی ذبح کی پھر وہ ان حضرات کی طرف لے کر آئے تو انہوں نے تناول فرمایا۔ رسول کریم ﷺ نے ان سے پوچھا : کوئی خادم ہے ؟ عرض کی : نہیں! فرمایا: جب قیدی آئیں تو میرے پاس آنا پس رسول کریم ﷺ کے پاس دو قیدی آئیں جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا فرمایا: چن لو! عرض کی : اے اللہ کے رسول! اپ میرے لیے انتخاب فرمائیں! فرمایا: جس ست مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہوتا ہے ! ( ایک غلام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:) اسے پکڑ لو کیونکہ اسے میں نے نماز پڑھتے دیکھا ہے اس کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی وہ اپنی بیوی کے پاس آئے پس اس کو وہ ساری بات بتائی جو رسول کریم ﷺ نے فرمائی اس نے عرض کی : کوئی شی مشکل نہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اس کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔ حضرت ابو الہیثم نے کہا: یہ آزاد ہے ۔ پس حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں: ( نعمت ) اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا اس سے جس نے ابتداء میں بسم اللہ نہ پڑھی اور آخر میں اللہ کا شکر ادا نہ کیا لیکن جس نے پہلے بسم اللہ پڑھی اور آخر میں اللہ کا شکر ادا کیا( اسے نہیں پوچھا جائے گا)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← هاشم بن مرثد البغوي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16238

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16239

571 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي ثنا خلف بن خليفة عن يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة رضي الله عنه قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فإذا هو بأبي بكر و عمر رضي الله عنهما فقال : ما أخرجكما من بيوتكما ؟ قالا : الجوع قال : وأنا والذي نفسي بيده ما أخرجني إلا الذي أخرجكما قوموا فقاموا معه وأتى رجلا من الانصار فإذا الانصاري ليس ثم وإذا هو بالمرأة فقال لها : ( أين فلان ؟ ) قالت : انطلق يستعذب لنا من الماء فبينما هو كذلك إذ جاء الانصاري وعليه قربة من ماء فلما نظر إلى النبي صلى الله عليه و سلم وصاحبيه قال : الله أكبر ما أحد من الناس أكرم من أضيافنا قال : فعلق القربة وقطع لهم عذقا فيه بسر ورطب وتمر فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لو انتقيت ؟ ) قال : تخيروا يا رسول الله على أعينكم قال : وأخذ المدية فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إياك والحلوب ) فذبح لهم فأكلوا فلما فرغوا قال لهم النبي صلى الله عليه و سلم : ( لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع ثم لم ترجعوا حتى أصبتم من هذا النعيم )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نکلے تو ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف رکھتے ہیں۔ فرمایا: تمہیں تمہارے گھروں سے کس چیز نے نکال دیا؟ عرض کی : بھوک نے ۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جا ن ہے ! مجھے بھی اسی چیز نے ہی نکالا جس نے آپ دونوں کو نکالا( اب ) اُٹھو! پس وہ آپ ﷺ کی معیت میں اُٹھے تو انصار میں سے ایک آدمی کے پاس آئے۔ دیکھا تو وہ وہاں ( اپنے گھر میں) موجود نہیں۔ ہاں اس کی زوجہ محترمہ ہے پس آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: فلاں ( نام لے کر) کہا ہے ؟ اس نے عرض کی : ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ اس دوران آپ اسی طرح تھے وہ انصاری آئے اس حال میں کہ ان کے کندھوں پر پانی کی مشک تھی ۔ پس جب اس کی نظر نبی کریمﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں ساتھیوں کی طرف گئی تو اس نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ لوگوں میں سے کوئی نہ ہوگا جو میرے مہمانوں سے زیادہ معزز ہو۔ راوی کا بیان ہے : انہوںن ے مشک لٹکا دی( اپنی جگہ اور ان حضرات کیلئے کھجوریں توڑیں جن میں خشک تر اور پکی کھجور بھی تھے ۔ پس رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: کاش ! آپ الگ الگ کرتے ؟ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں( جومن کو بھائے اسے ) انتخاب کر لیں۔ راوی کہتا ہے : انہوں نے بڑی چھری کو پکڑا تو رسول کریمﷺ نے اس سے فرمایا: دودھ دینے والی سے پر ہیز کرنا ۔ پس انہوں نے ان حضرات کیلئے ذبح کی اور ان حضرات نے کھائی ۔ پس جب فارغ ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ان نعمتوں کے بارے پوچھا جائے گا( دیکھو!) بھوک نے تمہیں اپنئ گھروں سے نکالا پھر اب نہ لوٹو گے یہاں تک کہ تم نے ان نعمتوں میں سے اپنا حصہ لے لیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16239

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مالك مالك بن التيهان أبو الهيثم الانصاري عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين من أخباره · حديث 16240

572 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا إبراهيم بن الحجاج السامي ( ح ) وحدثنا سليمان بن الحسن العطار ثنا هدبة بن خالد قالا ثنا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار عن جابر بن عبد الله الانصاري قال Y جاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر فأطعمناهم رطبا وسقيناهم من الماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هذا من النعيم الذي تسألون عنه يوم القيامة )

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول کریم ﷺ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے پس ہم نے ان کو تر کھجوریں کھلائیں اور انہیں پانی پلایا۔ پس رسول کریمﷺ نے فرمایا: یہ ان نعمتوں میں سے ہے جس کے بارے تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16240

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ ما أسند مالك بن التيهان · حديث 16241

573 - حدثنا محمد بن النضر الازدي ثنا شهاب بن عباد العبدي ثنا محمد بن بشر عن داود بن أبي عبد الله أخو شقيق بن أبي عبد الله مولى الحسن بن أبي عبد الله بن أبي طالب حدثني عبد الرحمن بن محمد بن زيد بن جدعان عن جدته عن أبي الهيثم بن التيهان Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( المستشار مؤتمن )

حضرت ابو الہیثم بن تیھان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:(مشورہ امانت ہوتا ہے ) جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے ۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16241

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ ما أسند مالك بن التيهان · حديث 16242

574 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن سهل الحناط ( ح ) وحدثنا عبيد العجلي ثنا الحسن بن علي الحلواني قالا ثنا أبو أسامة عن موسى بن عبيدة عن أيوب بن خالد عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن مالك بن التيهان قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من قال السلام عليكم كتبت له عشر حسنات ومن قال السلام عليكم ورحمة الله كتبت له عشرون حسنة ومن قال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته كتبت له خمسون حسنة )

حضرت مالک بن تیھان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ نے فرمایا: جس نے السلام علیکم کہا اُس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی جس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا اُس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی جس نے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا ا ُس کے لیے پچاس نیکیاں لکھی جائیں گی۔

مَالِكِ بْنِ التَّيْهَانِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← موسى بن عبيدة ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← وحدثنا عبيد العجلي ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16242

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ مالك بن ربيعة أبو أسد الانصاري ثم الخزرجي ثم الساعدي بدري · حديث 16243

575 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام السدوسي ثنا زياد بن عبد الله عن محمد بن إسحاق Y في تسمية من شهد بدرا أبو أسيد مالك بن ربيعة بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثة بن عمرو بن الخرزج بن ساعدة بن كعب بن الخزرج بن حارثة بن ثعلبة بن عمرو بن عامر

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: جو بدر میں شریک ہوئے اُن کے ناموں میں سے ایک نام ابو اسید مالک بن ربیعہ بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن الخزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عامر کا بھی ہے ۔

زياد بن عبد الله ← عبد الملك بن هشام السدوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16243

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ مالك بن ربيعة أبو أسد الانصاري ثم الخزرجي ثم الساعدي بدري · حديث 16244

576 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن يزيد بن حازم عن سليمان بن يسار أن أبا أسيد الساعدي Y أصيب بصره قبل قتل عثمان فقال الحمد لله الذي متعني ببصري في حياة النبي صلى الله عليه و سلم فلما أراد الله الفتنة في عباده كف بصري عنها

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے حضرت ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بینائی چلی گئی آپ نے یہ دعا کی : تمام خوبیاں اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے میری آنکھوں کے ساتھ حضور ﷺ کی زندگی میں نفع اُٹھانے کی توفیق دی جب اللہ نے اپنے بندوں کو آزمانے کا ارادہ کیا تو میری بینائی لے گیا۔

سليمان بن يسار أن أبا أسيد الساعدي أصيب بصره قبل قتل عثمان ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16244

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ مالك بن ربيعة أبو أسد الانصاري ثم الخزرجي ثم الساعدي بدري · حديث 16245

577 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح ثنا يحيى بن بكير قال Y توفي أبو أسيد الساعدي واسمه مالك بن ربيعة سنة ثلاثين وسنه تسعون سنة

حضرت یحییٰ بن بکیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اُسید الساعدی کا وصال 30 ہجری کو 90 سال کی عمر کو ہوا آپ کا اسم گرامی مالک بن ربیعہ تھا۔

يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16245

chevron_left Previous
1…678…50
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter