المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ ما أسند معن بن يزيد السلمي · حديث 16741
1073 - حدثنا أبو زرعة الدمشقي ثنا عفان بن مسلم ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا فهد بن عوف أبو ربيعة قالا ثنا أبو عوانة عن عاصم بن كليب عن أبي الجويرية الجرمي قال Y كنا بأرض الروم فأمر علينا رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من بني سليم يقال له معن بن يزيد السلمي قال : قأصبت جرة حمراء فيها دنانير فأتيته بها فخمسها وقال : لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا نفل إلا من الخمس ) لاعطيتك قال : فعرض على من نصيبه فقلت : لا حاجة لي فيه
حضرت ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں کہ ہم ملک روم میں تھے‘ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارا امیر بنایا گیا جس کا تعلق بنو سلیم سے تھا‘ نام معن بن یزید تھا۔ فرماتے ہیں: مجھے سرخ رنگ کی ایک تھیلی ملی جس میں دینار تھے۔ پس میں ان کے پاس لے کر آیا‘ انہوں نے اس سے خمس نکالا اور فرمایا: اگر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مال غنیمت کا استعمال خمس لینے کے بعد ہی جائز ہے‘ تو میں تجھے دے دیتا‘ فرماتے ہیں : انہوں نے مجھے میرا حصہ دیا۔ پس میں نے عرض کی : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
أَبِي الْجَوْيرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16741
