المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ من اسمه مسلم مسلم الخزاعي · حديث 16717
1049 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا زيد بن الحريش ( ح ) وحدثنا علي بن الوزير الاصبهاني ثنا محمد بن منصور المكي ( ح ) وحدثنا بكر بن مقبل البصري ثنا محمد بن المؤمل بن الصباح قالوا ثنا يعقوب بن محمد الزهري ثنا يزيد بن عمرو بن مسلم الخزاعي حدثني أبي عن أبيه قال Y كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنشدته قول سويد بن عامر المصطلقي : ( لا تأمنن وان أمسيت في حرم ... ان المنايا بجنبي كل إنسان ) ( والسلك طريقك تمشي غير مختشع ... حتى تلاقي مايمني لك الماني ) ( وكل ذي صاحب يوما مفارقه ... وكل زاد وان أبقيته فاني ) ( والخير والشر مقرونان في قرن ... بكل ذاك يأتيك الجديدان ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لو أدركني هذا لأسلم ) فبكى أبي فقلت : با أبتاه ما يبكيك من مشرك مات في الجاهلية ؟ فقال : اني ما رأيت من مشرك خيرا من سويد
حضرت مسلم خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا تو میں نے سوید بن عامر مصطلقی کے اشعار سنائے: ’’تو امن نہ پا سکے گا اگرچہ حرم میں شام کرے کیونکہ موتیں ہرانسان کے پہلوؤں میں ہیں‘ اپنا راستہ لے اور بے خوف ہو کر چل یہاں تک کہ تو ملاقات کرے جو موت دینے والے نے تیرے لیے لکھ دیا‘ ایک دن ہر ساتھی والا (اپنے ساتھی سے) جدا ہونے والا ہے اور ہر زاد راہ ختم ہونے والا ہے‘ اگرچہ اسے باقی رکھنے کی تو سر توڑ کوشش کرے‘ خیر اور شر ایک ہی زمانے میں باہم ملے ہوئے ہیں‘ ہر ایک کے ساتھ وہ تیرے پاس نئی شکل میں آئیں گے‘‘۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے مجھے پا لیا ہوتا تو ضرور اسلام لایا ہوتا‘ پس میرے باپ رو پڑے تو میں نے عرض کی: اے میرے باپ! وہ مشرک جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہو گیا‘ اس کیلئے آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا: بے شک میں نے سوید کے علاوہ کسی مشرک میں بھلائی نہیں دیکھی۔
أَبِيهِ ← أَبِي ← يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخُزَاعِيُّ؛ ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَکِّيُّ ← علي بن الوزير الاصبهاني ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16717
