المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ أبو قزعة سويد بن حجير عن حكيم بن معاوية · حديث 16705
1037 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن عقال الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ( ح ) وحدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي قالا ثنا زهير بن معاوية ثنا محمد بن جحادة حدثني الحجاج الباهلي ثنا سويد بن حجير عن حكيم بن معاوية عن أبيه قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : ( إني حلفت عدد هؤلاء - وأوما إلى أصابعه - إني لا أتبعك ولا أتبع ما جئت به فأنشدك الله ما دينك الذي بعثك الله به ؟ قال : ( بعثني بالاسلام ) قلت : فما الاسلام ؟ قال : ( إن تقول أسلمت نفسي لله [ و ] وجهت وجهي إليه وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة أخوان نصيران لا يقبل من أحد توبه أشرك بعد اسلامه ) قلت : ما حق أزواجنا علينا ؟ قال : أطعم إذا اطعمت واكس إذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت ) ثم قال : ( ههنا تحشرون ( وأومأ إلى الشام - مشاة وركبانا وتجرون على وجوهكم تأتون الله يوم تأتونه وعلى أفواهكم الفدام فيكون أول ما يعرب عن أحدكم فخذه توفون سبعين أمة أنتم آخرها وأكرمها على الله وما من مولى يأتي مولى فيسأله من فضل عنده فيمنعه إلا أتاه يوم القيامة شجاعا يلمظ وإن رجلا ممن كان قبلكم رعسه الله مالا وولدا حتى مضى عصار وبقي عصار فلما حضره الموت قال لاهله : أي رجل كنت لكم ؟ قالوا خير رجل قال : لأنزعن كل شيء أعطيتكموه أو لتفعلن ما آمركم به فقالوا كلنا نفعل ما امرتنا قال : فإذا أنا مت فاحرقوني في النار فإذا كنت فحما فاسحقوني ثم أذروني في يوم ريح فدعى الله به كما كان فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : مخافتك يا رب فتلافيه وربي )
حضرت حکیم بن معاویہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کی: بے شک میں نے ان کی تعداد کے برابر قسم اٹھائی اور اشارہ اپنی انگلیوں کی طرف کیا کہ میں آپ کی پیروی نہ کروں گا اور نہ ہی اس چیز کی جو آپ لائے ہیں‘ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ وہ دین کیا ہے جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے ہیں؟ فرمایا: اس کا نام اسلام ہے۔ میں نے عرض کی: اسلام کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ تو کہے کہ میں نے اپنی جان اللہ کے حوالے اور کی اور اپنا چہرہ تیری طرف کیا‘ نماز قائم کرے‘ زکوٰۃ ادا کرے‘ دو بھائی مدد کرنے والے ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اس بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا جس نے اسلام لانے کے بعد شرک کیا۔ میں نے عرض کی : ہم پر ہماری بیویوں کے کیا حقوق ہیں؟ فرمایا: جب اپنے آپ کو کھلا تو ان کو بھی کھلا‘ جب اپنے آپ کو پہنا تو ان کو بھی پہنا‘ اس کے چہرے پر نہ مار‘ اس کی قباحت بیان نہ کر‘ اسے اکیلا مت چھوڑ‘ ہاں اگر اپنے گھر میں ہو۔پھر فرمایا: یہاں پر تم جمع کیے جاؤ گے‘ اشارہ ملک شام کی طرف فرمایا‘ پیدل‘ سوار اور اپنے مونہوں کے بل گھسیٹ کر‘ تم اپنے رب کے پاس حاضر ہو گے‘ جب حاضر ہو گے اس حال میں کہ تم اپنے سرخ چہروں پر ہو گے‘ سب سے پہلے تم میں سے کسی ایک کی ران سب سے پہیل اس کے بارے میں کلام کرے گی‘ ستر گروہ بنائے جائیں گے‘ تم ان میں سے آخری اور اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والے ہو گے‘ جو غلام اپنے غلام سے وہ رزق مانگنے کیلئے آتا ہے جو اس کے پاس موجود ہے اور وہ نہیں دیتا تو قیامت کے دن اس کے پاس گنجا سانپ آئے گا جو اسے ڈنگ مارے گا۔تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے خوب نوازا تھا حتٰی کہ ایک زمانہ گزر گیا اور ایک زمانہ باقی رہ گیا‘ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میں تمہارے حق میں کیسا آدمی تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بہترین آدمی۔اس نے کہا: جو کچھ میں نے (آج تک) تمہیں دیا ہے‘ تم سے چھین لوں گا ورنہ جو کام میں تم سے کہوں‘ وہ کرو۔ کہا: ہم سب وہ کام کریں گے جو تو نے ہمیں حکم دیا۔ اس نے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں ڈال کر جلا دینا۔ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو اسے پیس لینا پھر مجھے آندھی والے دن ہوا میں اڑا دینا۔ پس اللہ تعالیٰ اس بندے کو بلائے گا جیسے وہ تھا‘ فرمائے گا: یہ کام کرنے (کروانے) پر تجھے کس چیز نے ابھارا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں پڑھا:’’وربی“ میرے رب کی قسم۔
أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ ← الْحَجَّاجُ الْبَاهِلِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16705
