Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16609

941 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا الأوزاعي ثنا يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي ميمونة حدثني عطاء بن يسار حدثني معاوية بن الحكم السلمي قال Y قلت يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا كنا حديث عهد الجاهلية فجاء الله بالاسلام وإن رجالا منا يتطيرون فقال : ( ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم ) قال : يا رسول الله ورجال منا يأتون الكهان ) قال : لا فلا تأتوهم ) قال : ورجال منا يخطون قال : ( قد كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك )

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم میں کچھ مرد ہیں جو فال لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو‘ تم کو نقصان نہیں دے گی۔ انہوں نے عرض کی: ہم میں کچھ مرد ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔ فرمایا: ہم میں سے بھی لوگ لکیریں لگاتے ہیں۔ فرمایا : نبی الانبیاء بھی لکیریں لگاتے ہیں‘ پس جس کی لکیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لکیر کے موافق ہو گئی وہ کامیاب ہوا۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16609

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16610

942 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم قال : Y قلت يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أ منا رجالا يتطيرون فقال : ( ذاك شيء تجدونه في صدوركم فلا يضركم ) قلت : ومنا رجال يأتون الكهان ) قال : لا فلا تأتوهم ) قلت : ومنا رجال يخطون قال : ( خط نبي فمن وافق علمه علم )

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم میں کچھ مرد ہیں جو فال لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو‘ تم کو نقصان نہیں دے گی۔ انہوں نے عرض کی: ہم میں کچھ مرد ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔ فرمایا: ہم میں سے بھی لوگ لکیریں لگاتے ہیں۔فرمایا: نبی الانبیاء بھی لکیریں لگاتے ہیں‘ پس جس کی لکیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لکیر کے موافق ہو گئی وہ کامیاب ہوا۔

قُلْتُ ← مُعَاويَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16610

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16611

943 - حدثنا عبد الله بن حمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد قالا ثنا يحيى بن سعيد عن حجاج الصواف حدثني يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي مميونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم قال Y قلت يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا قوم حديث عهد بالجاهلية وقد جاء الله بالاسلام وإن منا رجال يأتون الكهان ) قال : لا فلا تأتوهم ) قلت : ومنا رجال يتطيرون قال : ( ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يضرهم ) قلت : و منا رجال يخطون قال : ( كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك )

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم میں کچھ مرد ہیں جو فال لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو‘ تم کو نقصان نہیں دے گی۔ انہوں نے عرض کی: ہم میں کچھ مرد ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ۔ فرمایا: ہم میں سے بھی لوگ لکیریں لگاتے ہیں۔فرمایا: نبی الانبیاء بھی لکیریں لگاتے ہیں‘ پس جس کی لکیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لکیر کے موافق ہو گئی وہ کامیاب ہوا۔

قُلْتُ ← مُعَاويَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هلال بن أبي مميونة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبِي ← عبد الله بن حمد بن حنبل

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16611

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16612

944 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا أبو معمر المقعد ثنا عبد الوارث بن سعيد عن حسين المعلم عن يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي مميونة حدثني عطاء بن يسار أن معاوية بن الحكم السلمي قال : قلت Y يا رسول الله أنا قوم حديث عهد بالجاهلية وإن الله عز و جل قد جاء بالاسلام وإن رجالا منا يخطون فقال ( قد كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك ) قال : وإن منا رجالا يتطيرون قال : ذاك شيء تجدونه في صدورهم ولكن لا يضرهم قلت : ومنا رجالا يأتون الكهان قال : ( فلا تأتوهم )

حضرت عطاء بن یسار‘ حضرت معاویہ بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو حدیث بیان کی‘ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم نئے نئے دور جاہلیت سے نکلے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہم پر اسلام لایا اور ہم میں سے کچھ لکیریں کھینچتے ہیں (بطور مال کے) پس سرکار علیہ السلام نے ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے‘ پس جن کی لکیر ان کی لکیر سے موافقت کر گئی تو یہ اس نبی کی تعمیل ہے۔ انہوں نے عرض کی کہ ہم میں سے کچھ لوگ فال لیتے ہیں‘ یہ وہ چیز ہے جو ہم ان کے دلوں میں پاتے ہیں لیکن وہ ان کو نقصان نہیں دیتی‘ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں‘ فرمایا: ان کے پاس نہ جاؤ۔

قُلْتُ ← عطاء بن يسار أن معاوية بن الحكم السلمي ← هلال بن أبي مميونة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16612

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16613

945 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الخزاني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا الأوزاعي حدثني يحيى بن أبي كثير ثنا هلال بن أبي مميونة حدثني عطاء بن يسار حدثني معاوية بن الحكم السلمي قال Y بينما أن مع النبي صلى الله عليه و سلم إذ عطس رجل من القوم فقلت : يرحمك الله فحدقني القوم بأبصارهم قلت : وا لكل أماه ما لكم تنظرون إلي ؟ قال : فضرب القوم بأيديهم على أفخاذهم فلما رأيتهم يسكتوني لكني سكت فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم بأبي هو وأمي ما رأيت معلما قبله ولا بعده أحسن تعليما منه والله ما ضربني ولا كهرني ولا سبني ولكن قال : ( إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس وإنما هي التسبيح والتكبير وتلاوة القرآن )

حضرت عطاء بن یسار‘ حضرت معاویہ بن حکم سے روایت کرتے ہیں اس اثناء میں کہ میں (نماز میں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو صحابہ میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (بلند آواز میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! تو صحابہ کرام نے مجھے اپنی آنکھوں سے گھورا تو میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں روئیں! تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہے ہو۔ راوی فرماتے ہیں: پس صحابہ نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کروا رہے ہیں‘ لیکن میں خاموش نہیں ہو رہا تھا‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کہ میں نے آپ سے اچھا کوئی استاد نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا‘ نہ کوئی سخت لفظ کہا‘ بلکہ فرمایا کہ بے شک یہ ہماری نماز ہے‘ نہیں درست ہے اس میں لوگوں کا کسی طرح کی بات کرنا‘ بے شک یہ نماز تو تسبیں‘ تکبیر اور تلاوت قرآن پاک کا نام ہے۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هلال بن أبي مميونة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أبو شعيب عبد الله بن الحسن الخزاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16613

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16614

946 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد ثنا هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم قال Y صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فعطس رجل من القوم فذكر الحديث

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی‘ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی‘ اس کے بعد حدیث ذکر کی۔

مُعَاويَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16614

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16615

947 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد قالا ثنا يحيى بن سعيد عن الحجاج الصواف حدثني يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم السلمي قال Y صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فعطس رجل من القوم فقلت : يرحمك الله فرماني القوم بأبصارهم فقلت : واثكل أمياه ما شأنكم تنظرون إلي ؟ فجعلوا يضربون بأيديهم على أفخاذهم فعرفت أنهم يصمتوني لكني سكت فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بأبي هو وأمي ما ضربني وما كهرني ولا سبني ثم قال : ( إن هذه الصلاة لا يحل فيها شيء من كلام الناس هذا إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن ) أو كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عطاء بن یسار‘ حضرت معاویہ بن حکم سے روایت کرتے ہیں اس اثناء میں کہ میں (نماز میں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو صحابہ میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (بلند آواز میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! تو صحابہ کرام نے مجھے اپنی آنکھوں سے گھورا تو میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں روئیں! تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہے ہو۔ راوی فرماتے ہیں: پس صحابہ نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارے‘ جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کروا رہے ہیں‘ لیکن میں خاموش نہیں ہو رہا تھا‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کہ میں نے آپ سے اچھا کوئی استاد نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا نہ‘ کوئی سخت لفظ کہا‘ بلکہ فرمایا کہ بے شک یہ ہماری نماز ہے‘ نہیں درست ہے اس میں لوگوں کا کسی طرح کی بات کرنا‘ بے شک یہ نماز تو تسبیح‘ تکبیر اور تلاوت قرآن پاک کا نام ہے‘ یا جیسا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16615

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم باب · حديث 16616

948 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري و عبدان بن أحمد قالا ثنا الحسن بن قزعة ثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي ثنا أيوب عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن معاوية بن الحكم قال Y صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فعطس رجل من القوم فقلت يرحمك الله أو يرحمكم الله فنظر إلي القوم فقلت : واثكل أمي ثم حدقوني فجعلوا يضربون بأيديهم على أفخاذهم فعرفت أن القوم لا يدرقوني بأبصارهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصلاة فبأبي وأمي ما رأيت معلما قبل ولا بعد هو أرفق منه تعليما فما نهرني ولا كهرني ولا شتمني فقال : ( إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو تسبيح وتكبير وقراءة القرآن ) ولم يذكر أيوب في حديثه عطاء بن يسار

حضرت عطاء بن یسار‘ حضرت معاویہ بن حکم سے روایت کرتے ہیں اس اثناء میں کہ میں (نماز میں)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو صحابہ میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (بلند آواز میں) کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! تو صحابہ کرام نے مجھے اپنی آنکھوں سے گھورا تو میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں روئیں! تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہے ہو۔ راوی فرماتے ہیں : پس صحابہ نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارے‘ جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کروا رہے ہیں‘ لیکن میں خاموش نہیں ہو رہا تھا‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کہ میں نے آپ سے اچھا کوئی استاد نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! نہ آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا‘ نہ کوئی سخت لفظ کہا‘ بلکہ فرمایا کہ بے شک یہ ہماری نماز ہے‘ نہیں درست ہے اس میں لوگوں کا کسی طرح کی بات کرنا‘ بے شک یہ نماز تو تسبیح‘ تکبیر اور تلاوت قرآن پاک کا نام ہے۔

مُعَاويَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← الحسين بن إسحاق التستري و عبدان بن أحمد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16616

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ معاوية بن حيدة القشيري · حديث 16617

949 - حدثنا محمد بن الفضل بن الاسود ثنا قعنب بن المحرر حدثنا الهيثم بن عدي Y معاوية بن حيدة بن قشير بن كعب بن ربيعة بن عامر بن صعصعة

حضرت میثم بن عدی فرماتے ہیں کہ ان کا نسب اس طرح ہے: معاویہ بن حیدہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ۔

قعنب بن المحرر ← محمد بن الفضل بن الاسود

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16617

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ بهز بن حكيم عن أبيه عن جده · حديث 16618

950 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عبد الله الانصاري حدثني بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ويل للذي يحدث فيضحك به قومه فيكذب ويل له ويل له )

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہلاکت ہے اس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16618

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ بهز بن حكيم عن أبيه عن جده · حديث 16619

951 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم قالا ثنا سفيان عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له )

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہلاکت ہے اس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16619

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ بهز بن حكيم عن أبيه عن جده · حديث 16620

952 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده Y قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( إن الذي يحدث الناس فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له )

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہلاکت ہے اس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتیں کرتا ہے‘ وہ جھوٹ بولتا ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے‘ اس کے لیے ہلاکت ہے۔

الناس فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له ← إِنَّ الَّذِي ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16620

chevron_left Previous
1…373839…50
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter