المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ يونس بن ميسرة بن حلبس عن معاوية · حديث 16573
905 - حدثنا إبراهيم بن دحيم ثنا أبي ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا دحيم ثنا الوليد بن مسلم ثنا مروان بن جناح عن يونس بن ميسرة بن حلبس عن معاوية بن أبي سفيان قال Y كنا جلوسا في المسجد إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إنكم تتحدثون أني من آخركم وفاة وإني من أولكم وفاة وتتبعوني أفنادا ) - يعني بعضكم بعضا - ثم نزع بهذه الآية فقال { قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم } حتى بلغ { لكل نبإ مستقر وسوف تعلمون } ثم قال : ( لا تبرح عصابة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين لا يبالون من خذلهم ولا من خالفهم حتى يأتي أمر الله على ذلك ) ثم نزع بهذه الآية { يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلي ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا إلى يوم القيامة }
حضرت یونس بن ميسره بن حلبس‘ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے‘ ارشاد فرمایا: تم کس بارے میں باتیں کر رہے ہو کہ میں تم میں سب سے آخر میں بھیجا گیا ہوں اور میں تم میں سے اول ہوں دنیا سے جانے کے اعتبار سے اور تم نسل در نسل میری اتباع کرتے آؤ گے۔ پھر آپ نے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی دلیل دی:’’فرماؤ! اے حبیب! اللہ ہی قدرت رکھتا ہے کہ لوگوتم پر عذاب بھیجے ہر طرف سے‘‘ حتٰی کہ آپ نے پڑھا کہ ’’ہر چیز کا انجام ہے اور عنقریب تم لوگ جان جاؤ گے‘‘۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ جہاد کرتا رہے گا حق بات پر غالب ہوں گے اور نہیں پرواہ کریں گے کہ جو ان کو ذلیل کرنا چاہے یا ان کی مخالفت کرنا چاہے حتٰی کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے‘ پھر آپ نے اس آیت کو پڑھا کہ اے عیسیٰ! بے شک میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور اپنی طرف آسمان پر زندہ اٹھاؤں گا اور تمہیں کافروں سے پاک کروں گا اور انہوں نے تیری پیروی کی ان لوگوں پر یعنی کافروں پر قیامت تک غلبہ عطا کروں گا۔
كنا جلوسا في المسجد ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16573
