المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ مالك بن نضلة الجشمي · حديث 16282
614 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ثنا المسعودي عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص أن عوف بن مالك يعني أباه Y أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه أطمار فقال : ( يا عوف بن مالك أليس تنتج إبلك وهي صحيحة آذانها فتعمد إلى بعضها فتخدعها فنقول هذه بحيرة وتعمد إلى بعضها فتشق آذانها ثم تقول هذه صرم ؟ فلا تفعل ساعد الله أشد من ساعدك و موسى الله أحد كل ما آتاك الله حلال ولا تحرم من مالك شيئا ثم قال له : ( يا عوف بن مالك غلامك الذي يطيعك ويتبع أمرك أحب إليك أم غلامك الذي لا يطيعك ولا يتبع أمرك ؟ قال : بل غلامي الذي يطيعني ويتبع أمري قال : ( عند ربكم تعالى )
حضرت ابو الا حوص سے مروی ہے کہ حضرت عوف بن ما لک ( یعنی ان کے والد گرامی) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آئے جبکہ ان پر 0 بطور لباس ) چادریں تھیں۔ فرمایا: اے عوف بن مالک ! تیرے اونٹوں کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ تو درست کانوں والے ہوتے ہیں لیکن تم بعض کے کان چیر دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ صرم ہے پس ایسا مت کیا کرو۔ اللہ کی کلائی( جیسے اس کی شان کے لائق ہے ) تیری کلائی سے مضبوط ہے اور اس کا استرا تیرے استرے سے زیادہ تیز ہے ہر وہ جو اللہ تجھے عطا کرتا ہے وہ حلال ہے اپنے مال میں سے کوئی شی حرام نہ کر۔ پھر فرمایا: اے عوف بن مالک ! تیرا وہ غلام جو تیرا کہا مانتا اور تیری پیروی کرتا ہے وہ تجھے زیادہ پسند ہے یا جو نا فرمان اور پیروی نے کرنے والا ہے ؟ بلکہ میرا وہ غلام جو میری اطاعت و پیروی کرتا ہے ؟ فرمایا: پس تم اپنے رب کے نزدیک اسی طرح ہو۔
أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16282
