Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16131

463 - حدثنا عبد الله بن احمد بن حنبل ثنا إبراهيم بن الحجاج السامي ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن عمه أبي رزين العقيلي أن Y النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة والرؤيا معلقة برجل طائر حتى يحدث بها صاحبها فإذا حدث بها وقعت فلا يحدث بها إلا عالما أو ناصحا او حبيبا )

حضرت ابو رزین العقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے یہ پرندے کی ٹانگ پر ہوتے ہیں پس جب ان کی تعبیر کر دی جائے تو ضرور واقع ہو جاتے ہیں پس ان کو کسی عالم کے سامنے یا مخلص یا اچھے محب ساتھی کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 16131

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16132

464 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا هشيم عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس العقيلي عن عمه أبي رزين العقيلي أنه Y سمع النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا على رجل طائر ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت - وقال الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة - وأحسبه قال - ولا يقصها إلا على واد أو ذي رأي )

حضرت ابو رزین العقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خواب نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ ہے یہ پرندے کی ٹانگ پر ہوتے ہیں پس جب ان کی تعبیر کر دی جائے تو ضرور واقع ہو جاتے ہیں ۔ اور فرمایا: خواب نبوت کے چھیالیش اجزاء میں سے ایک جزء ہوتے ہیں اور میرا گمان ہے کہ کہا: ان کو محبت کرنے والے یا صاحب رائے پر بیان کیا کریں۔

ولا يقصها إلا على واد أو ذي رأي ← الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وأحسبه ← الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ ← وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 16132

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16133

465 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبة بن خالد ( ح ) وحدثنا ابو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى قالا ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن أبي رزين قال Y قلنا يا رسول الله أكلنا يرى ربه يوم القيامة ؟ وما آية ذلك في خلقه ؟ قال : ( أليس كلكم يرى القمر مجليا به ؟ ) قلت نعم قال : ( فالله أعظم )

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے کیا مخلوق میں اس کی کوئی نشانی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم چو دھویں رات کے چاند کو چمکتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: اللہ اس سے بڑا ہے ۔

قُلْنَا ← اَبِیْ رَزَینٍ ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 16133

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16134

466 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا عقبة بن مكرم العمي ثنا محمد بن أبي عدي كلاهما عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن أبي رزين العقيلي قال : قلت Y يا نبي الله أكلنا نرى ربنا قال : ( نعم ) قلت : وما آية ذلك في خلقه ؟ قال : أليس كلكم ينظر إلى القمر ليلة بدر وإنما هو خلق من خلق الله والله أعظم وأجل

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے کیا مخلوق میں اس کی کوئی نشانی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم چو دھویں رات کے چاند کو چمکتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں! فرمایا: یہ تو اس کی مخلوقات میں سے صرف ایک مخلوق ہے لیکن اللہ اس سے بڑا اور بزرگ ہے ۔

نعم قلت وما آية ذلك في خلقه ← قلت يا نبي الله أكلنا نرى ربنا ← أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 16134

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16135

467 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا معلى بن مهدي الموصلي ثنا أبو عوانة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن عمه أبي رزين وهو لقيط بن عامر أنه قال Y انا كنا نذبح في رجب ذبائح فنأكل منها ونطعم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( لا بأس بذلك وقال وكيع : لا أدعها أبدا

حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رجب میں زبح کرتے ہم یہ خود کھاتے اور کھلاتے حضور ﷺ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ کے لیے نہیں چھوڑوں گا۔

وكيع لا أدعها أبدا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم لا بأس بذلك ← كنا نذبح في رجب ذبائح فنأكل منها ونطعم ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ أَنَّهُ ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 16135

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16136

468 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى قالا ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن عمه أبي رزين قال Y قلت يا رسول الله أين كان ربنا قبل أن يخلق السماء والارض ؟ قال : كان في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء ثم خلق عرشه على الماء

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آسمان و زمین کے پیدا ہونے سے پہلے ہمارا رب کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عما( بادل ) میں ہوا جس کے نیچے ہے پھر اس سے اوپر بھی ہوا ہے پھر اللہ نےعرش کو پانی پر پیدا کیا۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 16136

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16137

469 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبة بن خالد ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن أبي رزين Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ضحك الله تعالى من قنوط عباده وقرب غيره قال أبو رزين فقلت يا رسول الله ويضحك الرب ؟ قال : نعم قال : لن نعدم من رب يضحك خيرا

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل اس بندہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے جو مایوس ہو کر دوسرے کے پاس جائے ۔ حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کا رب مسکراتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! عرض کی : ہمارا رب بھلائی پر خوش ہوتا ہے ۔

اَبِیْ رَزَینٍ ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 16137

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16138

470 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه أبي رزين Y قال : قلت يا رسول الله كيف يحيي الله الموتى ؟ قال : ( أوما سررت بوادي قومك قحلا ثم مررت به خضراء ثم مررت به قحلا ثم مررت به خضراء كذلك يحيي الله الموتى )

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اللہ عزوجل مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تُو اپنی قوم کی وادی میں خش جگہ سے گزرا ہے پھر سنز سے پھر خشک پھر سبز جگہ سے گزرا اسی طرح اللہ عزوجل مردوں کو زندہ کرے گا۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 16138

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16139

471 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن أبي رزين قال Y قلت يا رسول الله أين أمي ؟ قال : ( أمك في النار ) قال : فأين من مضى من أهلك ؟ قال : أما ترضى أن تكون أمك مع امي

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میری والدہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں۔ اس نے عرض کی : آپ کے گھر والے جو دنیا سے چلے گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں ! کیا تُو اس پر خوش نہیں ہے کہ تیری ماں میرے چچا چچی کے ساتھ ہ۔( یا در ہے کہ حضور ﷺ کے والدین طاہرین کریمین اعلیٰ و افضل ایمان والے تھے اُس وقت اُن جیسا ایمان والا کوئی نہ تھا۔ آپ ﷺ کے والدین کے ایمان میں شک کرنے والے کا خود اپنا ایمان ضائع ہو جاتا ہے اس لیے ان کے متعلق ایسا کچھ سو چنا تو بری بات ہے دل میں خیال بھی نہیں لانا چاہیے ۔ دستگیر غفرلہ)

قُلْتُ ← اَبِیْ رَزَینٍ ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 16139

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16140

472 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا مؤمل بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه أبي رزين Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يكره المسائل ويعيبها فإذا سأله أبو رزين أجابه وأعجبه ذلك

حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور مانگنے والے کو نا پسند کرتے تھے سمجھاتے بھی تھے جب ابو رزین نے مانگا تو آپ ﷺ نے عطا کیا اور اس کو پسند کیا۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Hadith 16140

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16141

473 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا عفان بن مسلم ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا علي بن الجعد قالوا ثنا همام بن يحيى عن محمد بن يحيى عن محمد بن جحادة عن المغيرة بن عبد الله اليشكري عن أبيه قال Y قدمت الكوفة وصاحب لي لنجلب منها نعالا فغدونا إلى السوق ولم يقم بعد فقلت لصاحبي لو دخلنا المسجد والمسجد يومئذ في أصحاب التمر فدخلنا فإذا رجل من قيس يقال له أبو المنتفق فسمعته يقول : وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلي لي فطلبته بمكة فقيل لي هو بمنى وطلبته بمنى فقيل لي هو بعرفات فانتهيت إليه وهو في ركب من أصحابه فقيل لي تنح عن طريق رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( دعوا الرجل أرب ماله ) فدنوت حتى أخذت بزمام ناقته أو بخطامها فقلت يا رسول الله إني أسالك عما ينجيني من النار وعما يبلغني الجنة فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه إلى السماء ثم نكس ثم اقبل علي بوجهه فقال : ( لئن كنت أوجرت المسألة لقد سألت عن عظيم طويل فاحفظ عني أعبد الله ولا يشرك به شيئا وأقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة وصم رمضان وما تحب أن يفعله الناس بك فافعله بهم وما تكره أن يفعله الناس بك فذر الناس منه خل سبيل الناقة أو الراحلة ) قال همام : وأما الحج فقد حج حيث سأله

حضرت عبداللہ یشکری فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی کوفہ آئے تاکہ وہاں سے جوتے خریدیں پس صبح کے وقت ہم بازار گئے اس کے بعد وہ نہ اُٹھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: کاش ! ہم مسجد جاتے ( یا کی ااچھا ہوتا اگر ہم مسجد جاتے ) اس وقت مسجد کھجور والوں میں تھی ۔ پس ہم داخل ہوئے اچانک بنو قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ابن منتفق پر نظر پڑی ۔ پس میں نے اسے کہتے ہوئے سنا: میرے سامنے رسول کریم ﷺ کی صفت بیان کی گئی اور ان کی بزرگی کا ذکر کیا گیا۔ پس ( میں آپ ﷺ کو تلاش کرنے نکلا پہلے) میں نے آپ ﷺ کو مکہ میں تلاش کیا مجھے بتایا گیا کہ آپﷺ عرفات میں ہیں پس میں وہاں جا پہنچا آپ ﷺ اپنے صحابہ کے قافلے میں موجود تھے بعض لوگوں میں مجھ سے کہا: رسول کریم ﷺ کے راستہ سے ہٹ جاؤ۔ پس رسول کریمﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس آدمی کو چھوڑ دو کیا ختم ہو گیا ہے جو اس کے پاس تھا؟ پس میں قریب ہوا اور میں نے آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی ( زمام یا خطام کا لفظ استعمال کیا) میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اُس عمل کا سوال کرتا ہوں جو مجھے دوزخ سے نجات دے اور اس عمل کے بارے جو مجھے جنت پہنچا دے ۔ پس رسول کریم ﷺ کے بارے جو مجھے جنت پہنچا دے ۔ پس رسول کریم ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اُٹھایا پھر نیچے کیا پھر میری طرف متوجہ ہوئے فرمایا: اگر تُو نے اپنے سوال کو مختصر کیا ہے لیکن تُو نے عظیم اور لمبی چیز کے بارے سوال کیا ہے پس ( اب ) مجھ سے یاد کر: اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنا فرض نماز قائم کر فرض زکوٰۃ ادا کر رمضان شریف کے روزے رکھ اور جو تُو پسند کرے کہ لوگ تیرے ساتھ سلوک کریں تو ان کے ساتھ وہ سلوک کر اور تُو جو نا پسند کرے کہ وہ تیرے ساتھ سلوک کریں تو لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرنا چھوڑ دے ۔( اب میری) اونٹنی کا راستہ چھوڑ دے ( یا راحلہ سواری کا لفظ فرمایا) حضرت ہمام فرماتے ہیں : جہاں تک تعلق ہے حج کا تووہ تو اس نے وہیں کر لیا جہاں اس نے سوال کیا۔

أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Hadith 16141

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16142

474 - حدثنا معاذ بن المثنى بن معاذ بن معاذ العسكري ثنا أبي ثنا ابن عون عن محمد بن جحادة عن زميل له يخبر عن أبيه وكان يكنى أبا المنتفق قال Y أتيت مكة فسألت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا بعرفة فأتيته فذهبت أدنو منه حتى اجتاز عنق راحلتي وعنق راحلته فقلت يا رسول الله علمني بما ينجيني من عذاب الله ويدخلني جنته فقال : ( أعبد الله ولا تشرك به شيئا وأقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة وحج واعتمر - وأظنه قال - وصم رمضان وانظر ما تحب للناس أن يأتوه إليك فافعله بهم وما تكره أن يأتوه إليك فذرهم منه ) اضطرب ابن عون في إسناد هذا الحديث ولم يضبطه عن محمد بن جحادة وضبطه همام

حضرت محمد بن حجادہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک شاگرد سے روایت کرتے ہیں جو اپنے والد گرامی سے روایت کرکے خبر دیتے ہیں جن کی کنیت ابو المنتفق ہے فرماتے ہیں: میں مکہ آیا میں نے رسول کریم ﷺ کے بارے لوگوں سے سوال کیا لوگوں نے کہا: عرفات میں ہیں پس میں آپ ﷺ کے پاس آیا پس میں آپ ﷺ کے قریب ہو گیا حتیٰ کہ میری سواری کی گردن آپ ﷺ کی سواری کی گردن کے قریب ہو گئی ۔ میں نے عرض کی : اےا للہ کے رسول! مجھے وہ عمل سکھائیں جو مجھ اللہ کے عذاب سے نجات دے اور اس کی جنت میں داخؒ کرے ۔ فرمایا: اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر فرض نماز قائم کر فرض زکوٰۃ ادا کر حج و عمرہ کر اور میرا گمان ہے کہ فرمایا: رمضان شریف کے روزے رکھ دیکھ ! جو تُو لوگوں کیلئے پسند کرتا ہے کہ وہ تیرے ساتھ سلوک کریں تُو ان کے ساتھ وہی سلوک کرے اور جو تو لوگوں سے سلوک نا پسند کرتا ہے اسے چھوڑ دے ۔ اس حدیث کی سند میں ابن عون کو اضطراب ہے انہوں نے حضرت محمد بن حجادہ سے یاد نہیں کیا بلکہ حضرت ہمام سے یاد کیا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ ← أَبِيهِ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ ← زميل له يخبر ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبِي ← معاذ بن المثنى بن معاذ بن معاذ العسكري

Hadith 16142

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter