المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 393 - خريم بن فاتك الأسدي يكنى أبا عبد الله · حديث 4167
4166 - حدثنا محمد بن عفان بن أبي شيبة ثنا محمد بن تسنيم الحضرمي ثنا محمد بن خليفة الأسدي ثنا الحسن بن محمد Y عن أبيه قال قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه ذات يوم لابن عباس : حدثني بحديث تعجبني به فقال : حدثني خريم بن فاتك الأسدي قال : خرجت في بغاء إبل فأصبتها بالأبرق العزاف فعقلتها وتوسدت ذراع بعير منها وذلك حدثان خروج النبي صلى الله عليه و سلم ثم قلت : أعوذ بعظيم هذا الوادي قال : وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية فإذا هاتف يهتف بي ويقول : ( ويحك عذ بالله ذي الجلال ... منزل الحرام والحلال ) ( ووحد ... الله ولا تبالي ما هول ذي الجن من الأهوال ) ( إذ تذكر الله على الأميال وفي سهول الأرض ... والجبال ) ( وصار كيد الجن ... في سفال إلا التقى وصالح الأعمال ) قال : فقلت : ( يا أيها الداعي ... ما تحيل أرشد عندك أم تضليل ) قال : ( هذا ... رسول الله ذي الخيرات جاء بياسين وحاميمات ) ( وسور ... بعد مفصلات محرمات ومحللات ) ( يأمر بالصوم والصلاة ... ويزجر الناس عن الهنات ) ( قد كن في الأيام منكرات ) قال : قلت : من أنت يرحمك الله ؟ قال : أنا ملك بن مالك بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم على جن أهل نجد قال قلت : لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيته حتى أومن به قال : أنا أكفيكها حتى أؤديها إلى أهلك سالمة إن شاء الله فاعتقلت بعيرا منها ثم أتيت المدينة فوافقت الناس يوم الجمعة وهم في الصلاة فقلت يقضون صلاتهم ثم أدخل فإني دائب أنيخ راحلتي إذ خرج إلي أبو ذر رحمه الله فقال لي : يقول لك رسول الله صلى الله عليه و سلم : ادخل فدخلت فلما رآني قال : ما فعل الشيخ الذي ضمن لك أن يؤدي إبلك إلى أهلك سالمة ؟ أما إنه أداها إلى أهلك سالمة قال قلت : رحمه الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أجل رحمه الله فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وحسن إسلامه
حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اپنے اونٹ تلاش کرنے نکلا، میں نے ان کو ابرق عزاف کے مقام پر پایا۔ میں نے ان کو ڈھنگا لگایا اور ان میں سے ایک اونٹ کے بازوکو میں نے تکیہ بنایا۔ درانحالیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد نئی نئی ہوئی تھی، پھر میں نے بلند آواز میں کہا: میں اس وادی کے بڑے کی پناہ مانگتا ہون ! وہ کہتے ہیں : یہ زمانہ جاہلیت کا رواج تھا، پس اچانک ہاتف نے مجھے آواز دی اور کہنے لگا : تجھے افسوس ! پناہ مانگ اس اللہ کی جو جلال والا اور حرام و حلال کو نازل کرنے والا ہے ۔ اور اللہ کو ایک مان اور پرواہ نہ کر ہو لناکیوں میں سے جنوں والی وادی کے ہول کی، جب تو کئی میلوں سے اللہ کو یاد کرے گا اور ہموار زمین اور پہاڑ وں میں اور جن کا دھوکہ و مکر نیچے چلا جائے گا اور تقویٰ و نیک اعمال باقی رہیں۔ کہتے ہیں ( یہ سن کر ) میں نے کہا: اے داعی! تیری کیا صورت حال ہے ، کیا تیرے پاس ہدایت ہے یا گمراہی ؟ مزید اس نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں ، خیرات والے ہیں، سورۂ یٰسین اور بہت ساری حٰم لے کر آئے ہیں ، مفصل سورتوں کے بعد دوسری (درمیانی چھوٹی) سورتیں بھی لائے ہیں جو حرام و حلال کے احکام بتانے والی ہیں ۔ وہ روزے اور نماز کا حکم دیتے ہیں ، لوگوں کو گناہوں سے روکتے بھی ہیں ، زمانے میں بڑی زیادہ برائیاں ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ میں کہا: تو کون ہے ؟ اللہ تجھ پر رحم کرے ؟ اس نے جواب دیا: میں مالک بن مالک ہوں ۔ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجد کے جن پر قابو ڈالنے کے لیے بھیجا ہے ۔ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: اگر میرا کوئی ایسا بندہ ہو جو میرے اس اونٹوں کو کفایت کرتے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان پر ایمان لاؤں۔ اس نے کہا: میں تجھے تیری کے لیے کافی ہوں، حتیٰ کہ میں اس کو صحیح سلامت تیرے گھر والوں کے حوالے کرکے آؤں گا۔ انشاء اللہ۔ پس میں نے ان میں سے ایک اونٹ کو ڈھنگا لگایا۔ پھر میں مدینے آیا تو میں نے لوگوں سے جمعہ کے دن موافقت کی جبکہ وہ نماز میں تھے ۔ پس میں نے کہا: یہ نماز ادا کر لیں پھر میں داخل ہوں گا۔ میری عادت تھی، میں اپنی سواری کو بٹھاتا۔ اچانک حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، مجھ سے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے فرما رہے ہیں : مسجد میں آجا! پس میں داخل ہوا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اس بوڑھے نے کیا کیا جس نے تیرے اونٹ تیرے گھر والوں تک سلامت پہنچانے کی ضمانت لی؟ کیا اس نے سلامتی سے ان کو تیرے گھر والوں تک پہنچایا؟ فرماتےہیں: میں نے عرض کی: اللہ اس پر رحم کرے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! اللہ اس پہ رحم فرمائے! آپ نے پڑھا : اشہد ان لا الٰہ الا اللہ اور اس کا اسلام خوبصورت ہوا۔
خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← بحديث تعجبني به ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَسَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← محمد بن عفان بن أبي شيبة
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4167
