Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 393 - خريم بن فاتك الأسدي يكنى أبا عبد الله · حديث 4167

4166 - حدثنا محمد بن عفان بن أبي شيبة ثنا محمد بن تسنيم الحضرمي ثنا محمد بن خليفة الأسدي ثنا الحسن بن محمد Y عن أبيه قال قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه ذات يوم لابن عباس : حدثني بحديث تعجبني به فقال : حدثني خريم بن فاتك الأسدي قال : خرجت في بغاء إبل فأصبتها بالأبرق العزاف فعقلتها وتوسدت ذراع بعير منها وذلك حدثان خروج النبي صلى الله عليه و سلم ثم قلت : أعوذ بعظيم هذا الوادي قال : وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية فإذا هاتف يهتف بي ويقول : ( ويحك عذ بالله ذي الجلال ... منزل الحرام والحلال ) ( ووحد ... الله ولا تبالي ما هول ذي الجن من الأهوال ) ( إذ تذكر الله على الأميال وفي سهول الأرض ... والجبال ) ( وصار كيد الجن ... في سفال إلا التقى وصالح الأعمال ) قال : فقلت : ( يا أيها الداعي ... ما تحيل أرشد عندك أم تضليل ) قال : ( هذا ... رسول الله ذي الخيرات جاء بياسين وحاميمات ) ( وسور ... بعد مفصلات محرمات ومحللات ) ( يأمر بالصوم والصلاة ... ويزجر الناس عن الهنات ) ( قد كن في الأيام منكرات ) قال : قلت : من أنت يرحمك الله ؟ قال : أنا ملك بن مالك بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم على جن أهل نجد قال قلت : لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيته حتى أومن به قال : أنا أكفيكها حتى أؤديها إلى أهلك سالمة إن شاء الله فاعتقلت بعيرا منها ثم أتيت المدينة فوافقت الناس يوم الجمعة وهم في الصلاة فقلت يقضون صلاتهم ثم أدخل فإني دائب أنيخ راحلتي إذ خرج إلي أبو ذر رحمه الله فقال لي : يقول لك رسول الله صلى الله عليه و سلم : ادخل فدخلت فلما رآني قال : ما فعل الشيخ الذي ضمن لك أن يؤدي إبلك إلى أهلك سالمة ؟ أما إنه أداها إلى أهلك سالمة قال قلت : رحمه الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أجل رحمه الله فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وحسن إسلامه

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اپنے اونٹ تلاش کرنے نکلا، میں نے ان کو ابرق عزاف کے مقام پر پایا۔ میں نے ان کو ڈھنگا لگایا اور ان میں سے ایک اونٹ کے بازوکو میں نے تکیہ بنایا۔ درانحالیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد نئی نئی ہوئی تھی، پھر میں نے بلند آواز میں کہا: میں اس وادی کے بڑے کی پناہ مانگتا ہون ! وہ کہتے ہیں : یہ زمانہ جاہلیت کا رواج تھا، پس اچانک ہاتف نے مجھے آواز دی اور کہنے لگا : تجھے افسوس ! پناہ مانگ اس اللہ کی جو جلال والا اور حرام و حلال کو نازل کرنے والا ہے ۔ اور اللہ کو ایک مان اور پرواہ نہ کر ہو لناکیوں میں سے جنوں والی وادی کے ہول کی، جب تو کئی میلوں سے اللہ کو یاد کرے گا اور ہموار زمین اور پہاڑ وں میں اور جن کا دھوکہ و مکر نیچے چلا جائے گا اور تقویٰ و نیک اعمال باقی رہیں۔ کہتے ہیں ( یہ سن کر ) میں نے کہا: اے داعی! تیری کیا صورت حال ہے ، کیا تیرے پاس ہدایت ہے یا گمراہی ؟ مزید اس نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں ، خیرات والے ہیں، سورۂ یٰسین اور بہت ساری حٰم لے کر آئے ہیں ، مفصل سورتوں کے بعد دوسری (درمیانی چھوٹی) سورتیں بھی لائے ہیں جو حرام و حلال کے احکام بتانے والی ہیں ۔ وہ روزے اور نماز کا حکم دیتے ہیں ، لوگوں کو گناہوں سے روکتے بھی ہیں ، زمانے میں بڑی زیادہ برائیاں ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ میں کہا: تو کون ہے ؟ اللہ تجھ پر رحم کرے ؟ اس نے جواب دیا: میں مالک بن مالک ہوں ۔ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجد کے جن پر قابو ڈالنے کے لیے بھیجا ہے ۔ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: اگر میرا کوئی ایسا بندہ ہو جو میرے اس اونٹوں کو کفایت کرتے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان پر ایمان لاؤں۔ اس نے کہا: میں تجھے تیری کے لیے کافی ہوں، حتیٰ کہ میں اس کو صحیح سلامت تیرے گھر والوں کے حوالے کرکے آؤں گا۔ انشاء اللہ۔ پس میں نے ان میں سے ایک اونٹ کو ڈھنگا لگایا۔ پھر میں مدینے آیا تو میں نے لوگوں سے جمعہ کے دن موافقت کی جبکہ وہ نماز میں تھے ۔ پس میں نے کہا: یہ نماز ادا کر لیں پھر میں داخل ہوں گا۔ میری عادت تھی، میں اپنی سواری کو بٹھاتا۔ اچانک حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، مجھ سے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے فرما رہے ہیں : مسجد میں آجا! پس میں داخل ہوا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اس بوڑھے نے کیا کیا جس نے تیرے اونٹ تیرے گھر والوں تک سلامت پہنچانے کی ضمانت لی؟ کیا اس نے سلامتی سے ان کو تیرے گھر والوں تک پہنچایا؟ فرماتےہیں: میں نے عرض کی: اللہ اس پر رحم کرے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! اللہ اس پہ رحم فرمائے! آپ نے پڑھا : اشہد ان لا الٰہ الا اللہ اور اس کا اسلام خوبصورت ہوا۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← بحديث تعجبني به ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَسَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← محمد بن عفان بن أبي شيبة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4167

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 394 - خريم بن أوس بن حارثة بن لام الطائي · حديث 4168

4167 - حدثنا عبدان بن أحمد و أحمد بن عمرو البزار ( ح ) وحدثنا محمد بن موسى بن حماد البربري قالوا ثنا أبو السكين زكريا ابن يحيى حدثني عم أبي زحر بن حصن عن جده حميد بن منهب قال Y قال خريم بن أوس بن حارثة بن لام : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال له العباس بن عبد المطلب رحمه الله : يا رسول الله إني أريد أن أمدحك فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : هات لا يفضض الله فاك فأنشأ العباس يقول : ( قبلها طبت في الظلال وفي ... مستودع حيث يخصف الورق ) ( ثم هبطت البلاد لا بشر ... أنت ولا مضغة ولا علق ) ( بل نطفة تركب السفين وقد ... ألجم نسرا واهله الغرق ) ( تنقل من صالب إلى رحم ... إذا مضى عالم بدا طبق ) ( حتى احتوى بيتك المهيمن من ... خندف علياء تحتها النطق ) ( وأنت لما ولدت أشرقت الأ ... رض وضاءت بنورك الأفق ) ( فنحن في الضياء وفي النو ... ر وسبل الرشاد نخترق )

حضرت حمید بن منھب فرماتے ہیں کہ حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھو! آپ کے منہ کو رسوا نہ کرے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھنے شروع کیے۔ فرماتے ہیں : " اس کی جانب سے آپ کو سایوں میں ہونا مبارک ہو اور ودیعت کی گئی جگہ میں جہاں چاندی لگائی جاتی ہے ، پھر آپ ملکوں میں اترے اس حال میں کہ نہ آپ عام بشر تھے نہ لوتھڑا اور جما ہوا خون، بلکہ ایک ایسا نطفہ جو کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور اس نے نسربت کو چپ کروا دیا اور اس کے ماننے والوں کو غرق ، آپ صلبوں سے رحموں میں منتقل ہوتے آئے،جب ( عالم ) جاننے والے گزرا تو طبق ظاہر ہوا، حتیٰ کہ نگہبان نے آپ کے گھر کو گھیرے میں لے لیا، خندف قبیلہ سے ، ایسی بلندیاں جس کے نیچے بولنا تھا، اور جب آپ پیدا ہوئے تو زمین روشن ہوئی اور آپ کے نور سے زمین و آسمان کے کنارے بھی روشن ہو گئے، پس ہم روشنی اور نور میں ہیں اور ہدایت کے راستوں کو طے کر رہے ہیں" ۔

جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، ← أبو السكين زكريا ابن يحيى ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ ← عبدان بن أحمد و أحمد بن عمرو البزار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4168

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 394 - خريم بن أوس بن حارثة بن لام الطائي · حديث 4169

4168 - حدثنا محمد بن موسى بن حماد البربري و عبدان بن أحمد قالا ثنا أبو السكين ثنا عم أبي زحر بن حصن عن جده حميد بن منهب قال Y قال خريم بن أوس سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هذه الحيرة البيضاء قد رفعت لي وهذه الشيماء بنت بقيلة الأزدية على بغلة شهباء معتجرة بخمار أسود فقلت : يا رسول الله فإن نحن دخلنا الحيرة ووجدتها على هذه الصفة فهي لي قال : هي لك ثم ارتدت العرب فلم يرتد أحد من طيىء وكنا نقاتل بني أسد وفيهم طليحة بن خويلد الفقعسي فامتدحنا خالد بن الوليد وكان فيما قال فينا : ( جزى الله عنا طيئا في ديارها ... بمعترك الأبطال خير جزاء ) ( هم أهل رايات السماحة والندى ... إذا ما الصبا الوت بكل خباء ) ( هم ضربوا قيسا على الدين بعدما ... أجابوا منادي ظلمة وعماء ) ثم سارخالد إلى مسيلمة فسرنا معه فلما فرغنا من مسيلمة وأصحابه أقبلنا إلى ناحية البصرة فلقينا هرمز بكاظمة في جمع عظيم ولم يكن أحد أعدى للعرب من هرمز قال أبو السكين : وبه يضرب المثل تقول العرب : أنت أكفر من هرمز فبرز له خالد بن الوليد ودعا إلى البراز فيرز له هرمز فقتله خالد رضي الله عنه وكتب بذلك إلى أبي بكر رضي الله عنه فنفله سلبه فبلغت قلنسوة هرمز مئة ألف درهم ثم سرنا على الطريق الطف حتى دخلنا الحيرة فكان أول من تلقانا فيها شيماء بنت بقيلة الأزدية على بغلة لها شهباء بخمار أسود كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فتعلقت بها وقلت : هذه وهبها لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعاني خالد عليها البينة فأتيته بها فسلمها إلي ونزل إلينا أخوها عبد المسيح فقال لي بعينها فقلت : لا أنقصها والله من عشر مئة شيئا فدفع إلي ألف درهم فقيل لي : لو قلت مئة ألف لدفعها إليك فقلت : ما أحسب أن مالا أكثر من عشر مئة وبلغني في غير هذا الحديث أن الشاهدين كانا محمد بن مسلمة وعبد الله بن عمر

حضرت خریم بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : یہ حیرہ کی سفید زمین ہے جو میرے لیے اٹھائی گئی ، یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے جو شہباء خچر پر ہے ، اپنے آپ کو سیاہ چادر میں لپیٹا ہوا ہے ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم حیرہ کے پاس آئے، میں نے اس کو اس طرح پایا کیا یہ میرے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے ہے ، پھر عرب کے لوگ مرتد ہوئے ، ان میں سے کوئی بھی بنوطی سے مرتد نہیں ہوا، ہم بنی اسد کے ساتھ لڑے ، ان میں طلیحہ بن خویلد فقعسی تھے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہماری تعریف کی ، جو انہوں نے کہا اس میں یہ اشعار بھی تھے : ہماری طرف سے بنوطی قبیلہ کو ان کے ملک میں جزادے ، نوجوانوں کی لڑائی کے بدلے بہترین جزا ہو، درگزر اور سخاوت کے لشکروں کے جھنڈے ان کے ہاتھ میں ہیں ، جب محبت نے ہر خیمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، انہوں نے دین کے نام پر قیس کو مارا، بعد اس کے کہ تاریکی اور نابینا پن کے پکارنے والے کی پکار کو وہ قبول کر چکے تھے"۔ پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف چلے ، ہم ان کے ساتھ چلے ، جب ہم مسیلمہ اور ان کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو ہم بصرہ کی ایک بستی کی طرف گئے، ھرمز نے مقام کا ظمہ میں ایک جم غفیر کو اکٹھا کیا تھا، ہم اس سے ملے، عرب کے لیے ھرمز سے بھاری کوئی نہیں تھا۔ ابو سکین نے کہا: اس کی مثال دی جاتی ۔ عرب کے لوگ کہتے : آپ ھرمز سے زیادہ انکار کرنے والے ہیں۔ پس ھرمز آپ کے سامنے آیا، پس حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کیا۔ اس سے حاصل ہونے والے مال کو غنیمت بنایا۔ پس ھرمز کی ٹوپی کی قیمت ہزار درہم تک پہنچی۔ پھر ہم طف کے راستے چلے حتیٰ کہ ہم حیرہ پہنچے ۔ اس میں سب سے پہلے ہماری ملاقات شیما بنت بقیلہ ازدیہ سے ہوئی، وہ شہباء نامی خچر پر سوار تھی۔ سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، پس میں اس سے لپٹ گیا اور میں نے کہا: یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی ہے ۔ پس حضرت خالد بن ولید نے اس پر مجھ سے گواہ طلب کیا، پس میں گواہ لایا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر دی، اس کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا ۔ اس نے مجھ سے کہا: اس کو میرے ہاتھ بیچ دو۔ میں نے اس سے کہا: قسم بخدا ! دس سو سے کوئی چیز کم نہیں کروں گا۔ اس نے ہزار درہم میرے حوالے کیے ۔ مجھ سے کہا گیا : اگر تو لاکھ درہم بھی مانگتا تو وہ تجھے دے دیتا ۔ پس میں نے کہا: میں گمراہ یہی تھا کہ دس سو سب سے زیادہ مال ہے ۔ اور اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ دو گواہ (جو پیش کیے گئے) حضرت محمد بن مسلمہ اور حضرت عبداللہ بن عمر تھے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← خُرَيْمُ بْنُ أَوْسٍ، ← جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، ← أبو السكين ← محمد بن موسى بن حماد البربري و عبدان بن أحمد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4169

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4170

4169 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف المصري ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا سليمان بن بلال حدثني ابن حرملة Y عن حنظلة بن علي الأسلمي أن خفاف بن إيماء الغفاري أخبره وكانت له صحبة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام في صلاة من الصلوات فلما رفع رأسه من الركوع قال : اللهم العن لحيانا ورعلا وذكوان وعصية عصت الله ورسوله وغفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله

حضرت خفاف بن ایماء الغفاری رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازوں کے لیے کھڑے ہوتے ، جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! لحیان اور رعل ، ذکوان اور عصیہ قبیلہ والے جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی، پر لعنت فرما اور قبیلہ غفار والوں کو بخش دے اور قبیلہ اسلم والوں کو سلامت رکھ۔

وكانت له صحبة ← حنظلة بن علي الأسلمي أن خفاف بن إيماء الغفاري ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4170

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4171

4170 - حدثنا مسعدة بن سعد العطار المكي ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا أبو ضمرة عن عبد الرحمن بن حرملة عن حنظلة بن علي Y عن خفاف بن إيماء الغفاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة فذكر مثله

حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ، پھر اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

خفاف بن إِيماء الغفارى ← حَنْظَلَةَ بْنَ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4171

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4172

4171 - حدثنا مصعب بن إبراهيم بن حمزة الزبيري حدثني أبي حدثنا عبد العزيز بن محمد عن عبد الرحمن بن حرملة عن حنظلة بن علي Y عن خفاف بن إيماء عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← خفاف بن إيماء ← حَنْظَلَةَ بْنَ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4172

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4173

4172 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي حدثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني عمران بن أبي أنس عن حنظلة بن علي Y عن خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة : اللهم العن بني لحيان ورعلا وذكوان وعصية عصوا الله وغفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله

حضرت خفاف بن ایماء الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازوں کےلیے کھڑے ہوتے ، جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! لحیان اور رعل ، ذکوان اور عصیہ قبیلہ والے جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کی، پر لعنت فرما اور قبیلہ غفار والوں کو بخش دے اور قبیلہ اسلم والوں کو سلامت رکھ۔

خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري أنه ← حَنْظَلَةَ بْنَ عَلِيٍّ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4173

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4174

4173 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أحمد بن خالد الوهبي ثنا محمد بن إسحاق ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري حدثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن عمران بن أبي أنس عن حنظلة بن علي الأسلمي Y عن خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري قال : صلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم الفجر فلما رفع رأسه من الركعة الآخرة قال : لعن الله لحيانا ورعلا وذكوان وعصية عصت الله ورسوله أسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها ثم خر ساجدا فلما قضى الصلاة أقبل على الناس بوجهه فقال : يا أيها الناس إني لست أنا قلت هذا ولكن الله عز و جل قاله

حضرت خفاف بن ایماءبن رحضہ ا لغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نمازِ فجر پڑھاتے ، آخری رکعت کےرکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا کرتے: اللہ کی لعنت ہو لحیان اور رعل، ذکون اور عصیہ قبیلہ والوں پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اللہ عزوجل قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کواللہ بخشے ، پھر آپ سجدہ میں گئے، پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو ُنا چہرہ اقدس لوگوں کی طرف کر لیا اور فرمایا: اے لوگو! یہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔

خُفَافِ بْنِ إيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ← حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4174

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4175

4174 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق ثنا إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن خالد بن عبد الله بن حرملة عن الحارث بن خفاف بن إيماء قال Y قال خفاف بن إيماء : ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رفع رأسه فقال : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله : وعصية عصت الله ورسوله اللهم العن بني لحيان ورعلا وذكوان ثم إنه وقع ساجدا قال خفاف : فجعلت لعنة الكفرة من أجل ذلك

حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نمازِ فجر پڑھاتے، آخری رکعت کے رکوع سے سر اُٹھاتے تو یہ دعا کرتے:اللہ کی لعنت ہو لحیان اور رعل، ذکوان اور عصیہ قبیلہ والوں پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی، اللہ عزوجل قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کو اللہ بخشے،پھرآپ سجدہ میں گئے۔ حضرت خفاف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کافروں پر اسی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔

الحارث بن خفاف بن إيماء ← خالد بن عبد الله بن حرملة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4175

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4176

4175 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن عمرو عن خالد بن عبد الله بن حرملة عن الحارث بن خفاف بن إيماء بن رحضة عن أبيه قال : ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا محمد بن بشر ثنا محمد بن عمرو حدثنا خالد بن عبد الله بن حرملة عن الحارث بن خفاف بن إيماء Y عن أبيه قال : ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رفع رأسه فقال : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله وعصية عصوا الله ورسوله اللهم العن بني لحيان اللهم العن رعلا وذكوان الله أكبر ثم خر ساجدا

حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کر کے اس سے کر اُٹھایا تو کہا : بنوغفار کی الل مغفرت فرمائے! بنو سالم کو اللہ سلامت فرمائیے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ! اللہ کی لعنت ہو لحیان اور رعل، ذکوان اللہ سب سے بڑا ہے ، پھر آپ سجدہ میں گئے۔

ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رفع رأسه ← أَبِيهِ ← الحارث بن خفاف بن إيماء ← خالد بن عبد الله بن حرملة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← الحارث بن خفاف بن إيماء بن رحضة ← خالد بن عبد الله بن حرملة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4176

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4177

4176 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبيد بن يعيش ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن عمران بن أبي أنس عن مقسم Y عن خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس في آخر صلاته يشير بإصبعه السبابة وكان المشركون يقولون يسحر بها وكذبوا ولكنه التوحيد

حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے آخر میں التحیات میں بیٹھتے تو اپنی سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے، مشرکین کہتے تھے: اس کے ذریوہ یہ جادو کرتے ہیں، وہ جھوٹ بولتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو توحید کا اقرار کرتے تھے۔

خُفَافِ بْنِ إيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ← مِقْسَمٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4177

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 396 - خشخاش العنبري · حديث 4178

4177 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) وحدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا عمرو بن عون الواسطي ( ح ) وحدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا سعيد بن سليمان قالوا ثنا هشيم ثنا يونس Y عن حصين بن أبي الحر أن الخشخاش العنبري قال : جئت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعي ابني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجني عليه ولا يجني عليك

حضرت خشخاش العنبری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کے قصور کا تجھ سے اور تیرے قصور کا تیرے بیٹے سے مواخذہ نہ ہو گا۔

جئت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعي ابني ← حصين بن أبي الحر أن الخشخاش العنبري ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4178

chevron_left Previous
1…46474849
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter