المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ أبو أمامة الباهلي عن أبي أيوب · حديث 3855
3854 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف المصري ثنا سعيد بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة Y عن أبي أيوب الأنصاري قال : نزل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم شهرا فرأيته إذا مالت الشمس أو زالت الشمس أو كما قال فإن كان في عمل من الدنيا رفض به وإن كان نائما فكأنما أوقظ فيقوم فيغتشل أو يتوضأ ثم يركع أربع ركعات يتمهن ويحسنهن ويتمكن فيهن فلما أراد أن ينطلق قلت : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أرأيتك إذا مالت الشمس أو زالت فإن كان في يدك عمل من الدنيا رفضت أو كنت نائما فكأنما توقظ فتغتسل أو تتوضأ ثم تركع أربع ركعات تتمهن وتتمكن فيهن وتحسنهن ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أبواب السماء أو أبواب الجنة تفتحن في تلك الساعة فلا يوافي أحد بهذه الصلاة فأحببت أن يصعد مني إلى ربي في تلك الساعة خير
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس ایک ماہ ٹھہرے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا یا جس طرح فرما یا ، اگر دنیا کے کام کر رہے ہوتے تو اس کو چھوڑ دیتے ، اگر سوئے ہوتے تو ایسے ہوتا جس طرح اٹھائے گئے ہوں ، آپ اٹھتے اور غسل کرتے یا وضو کرتے، پھر چار رکعت نفل پڑھتے انہیں بہترین انداز میں مکمل کرتے اور ان میں قابو ہو جاتے، جب آپ نے چلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا ہے تو اگر آپ امور دنیا میں سے کچھ فرما رہے ہوتے تو اس کو چھوڑتے ہیں، اگر آپ سوئے ہوئے ہوں تو اس طرح ہوتا ہے کہ گوایا آ پ جگائے گئے ہوں ، آپ غسل کرتے ہیں یا وضو کرتے ہیں ، پھر آپ چار رکعت پڑھتے ہیں، انہیں بہترین انداز میں مکمل کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت جنت کے دروازے یا آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ، جو کوئی اس وقت نماز پڑھے تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال میرے رب کی بارگاہ میں بھلائی کے ساتھ پیش کیے جائیں۔
اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3855
