Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3624

3623 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا وهب بن جرير حدثني أبي قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهري [ عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث ] عن عبد الله بن خباب بن الأرت Y عن أبيه قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة فأطالها فقالوا : يا رسول الله صليت صلاة لم تكن تصليها ؟ قال : أجل إنها صلاة رغب ورهب وإني سألت ربي فيها ثلاثا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يهلك أمتي بسنة فأعطانيها وسألته أن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فأعطانيها وسألته أن لا يذيق بعضهم بأس بعض فمنعنيها

حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنے والد سےروایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ،آپ فجر تک نماز پڑھتے رہے ،میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آج رات اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس طرح نماز پڑھتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا ؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جی ہاں یہ نماز خوشی اور خوف کی ہے ،میں نے اپنے رب سے تین باتیں مانگی ہیں ،دو مجھے دی گئیں اور ایک سے روک دیا گیا ،میں نے اپنے رب سے مانگا کہ جس طرح پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں اس طرح ہماری امت ہلاک نہ ہو ،تو مجھے یہ دی گئی ،اور میں نے اپنے رب سے مانگا کہ ہم پر دشمن مسلط نہ ہو جو ہمیں مارے تو مجھے یہ بھی دی گئی پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ میری امت آپس میں نہ لڑے تو مجھے اس سے روک دیا گیا ۔

صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة فأطالها فقالوا ← أَبِيهِ ← عبد الله بن خباب بن الأرت ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3624

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3625

3624 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا علي بن المديني ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن عبد الله بن خباب Y عن أبيه فقال : رمقت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : لأنظرن كيف صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى فلما انصرف جئت من بين يديه فقلت : يا رسول الله لقد صليت الليلة صلاة ما رأيتك صليت مثلها فقال : إنها صلاة رهب ورغب سألت ربي فيها ثلاثا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يهلكنا بما أهلك به الأمم قبلنا فأعطانيها وسألته أن لا يسلط علينا عدوا فأعطانيها وسألته أن لا يلبسنا شيعا فمنعنيها

حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنے والد سےروایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ،آپ فجر تک نماز پڑھتے رہے ،میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آج رات اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس طرح نماز پڑھتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا ؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جی ہاں یہ نماز خوشی اور خوف کی ہے ،میں نے اپنے رب سے تین باتیں مانگی ہیں ،دو مجھے دی گئیں اور ایک سے روک دیا گیا ،میں نے اپنے رب سے مانگا کہ جس طرح پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں اس طرح ہماری امت ہلاک نہ ہو ،تو مجھے یہ دی گئی ،اور میں نے اپنے رب سے مانگا کہ ہم پر دشمن مسلط نہ ہو جو ہمیں مارے تو مجھے یہ بھی دی گئی پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ میری امت آپس میں نہ لڑے تو مجھے اس سے روک دیا گیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3625

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3626

3625 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن العلاء بن زبريق الحمصي ثنا أبي ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الله بن سالم عن الزبيدي عن عبد الله بن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن عبد الله بن خباب Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد سے ، وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← عبد الله بن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي ← عمرو بن إسحاق بن العلاء بن زبريق الحمصي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3626

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3627

3626 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا أبي عن ابن شهاب عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن عبد الله بن خباب Y عن أبيه عن النبي مثله

حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد سے ، وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3627

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3628

3627 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عبيد الله بن معاذ ( ح ) وحدثنا أحمد بن داود المكي ثنا أحمد بن عبيد الله الغداني قالا ثنا خالد بن الحارث ثنا أبو يونس القشيري حاتم بن أبي صغيرة عن سماك بن حرب عن عبد الله بن خباب Y عن أبيه قال : كنا قعودا على باب النبي صلى الله عليه و سلم فخرج علينا فقال : أتسمعون ؟ قلنا : قد سمعنا مرتين أو ثلاثا فقال : إنه سيكون عليكم أمراء فلا تصدقوهم بكذبهم ولا تعينوهم على ظلمهم فإنه من صدقهم بكذبهم على ظلمهم فليس يرد علي الحوض

حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئےتھے آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا :کیا تم سن رہے ہو؟ہم نے عرض کی ہم نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہون گے تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرنا ،جوان کےجھوٹ کی تصدیق کرے گااور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا انہیں میرے حوض پر آنے نہیں دیا جائے گا۔

مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ← أَتَسْمَعُونَ؟ قُلْنَا: قَدْ ← كنا قعودا على باب النبي صلى الله عليه و سلم فخرج علينا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3628

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3629

3628 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل حدثنا عمران بن بكار البراد الحمصي ثنا الربيع بن روح ثنا محمد بن حرب الأبرش عن الزبيدي عن عدي بن عبد الرحمن الطائي عن داود بن أبي هند عن حرب عن عبد الله بن خباب Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحو حديث حاتم بن أبي صغيرة

حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد سے ، وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے حضرت حاتم بن ابو مغیرہ والی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحو حديث حاتم بن أبي صغيرة ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← حَرْبٌ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عدي بن عبد الرحمن الطائي ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْأَبْرَشُ، ← الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ← عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَرَّادُ الْحِمْصِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3629

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3630

3629 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا شيبان قالا ثنا سليمان بن المغيرة Y عن حميد بن هلال ثنا رجل من عبد القيس كان يجالسنا في المسجد الجامع قال : صحبت أصحاب النهر فكنت فيهم ثم كرهت أمرهم خشيت أن يقتلوني فبينا أنا مع طائفة منهم إذ أتينا على قرية وبيننا وبين القرية نهر إذ خرج رجل من القرية مروعا فقالوا له : كأنا روعناك ؟ قال : أجل قالوا : لا روع لك فقلت : والله يعرفوه ولم أعرفه فقالوا : أنت ابن خباب صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم سمعت أبي يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم ذكر فتنة فقال : القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي فإن أدركتك فكن عبد الله المقتول قال : فقربوه إلى شط النهر فذبحوه فرأيت دمه يسيل في الماء مثل الشراك ما أبذقر قال : فأخذوا أم ولده فقتلوها وكانت حبلى فبقروا بطنها لم أصحب قوما هم أبغض إلي صحبة منهم حتى وجدت خلوة فانفلت

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ عبدالقیس سے ایک آدمی نے ہمیں بتایا کہ ہم جامع مسجد میں بیٹھے ہوئےتھے ،ا س نے کہا :میں اصحاب کی نہر کی صحبت میں رہا ،میں ان میں شریک تھا ،پھر میں نے ان کے معاملہ کو ناپسند کیا اور میں ڈر گیا کہ مجھے قتل نہ کردیں ،ہم اسی حالت میں تھے کہ میں ان میں سے ایک گروہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ہم ایک بستی کے پاس آئے ،ہمارے اور اس بستی کے درمیان ایک نہر تھی ،اچانک بستی سے ایک آدمی ڈرتا ہوا نکلا ،ہم نے اس سےکہا :گویا ہم ین تمہیں ڈرادیا ہے ،اس نے کہا :ہاں ! انہوں نے کہا تو نہ ڈر میں نے کہا اللہ کی قسم اس کو پہچانو یا نہ پہچانو ۔انہوں نے کہا تو ابن خباب صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے؟اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سنائیں اس نے کہا جی ہاں میںنے اپنے والد سے حدیث سنی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے حدیث ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فتنے کا ذکر کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اس میں بیٹھنےوالا کھڑا ہونے والے سےبہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا،چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،اگر تو اس زمانہ کو پائے تو عبداللہ مقتول ہو جاتا ۔وہ ان کو نہر کے پاس لے گئے ،وہاں ذبح کیا میں نے ان کا خون پانی پر ایسے دیکھا جس طرح تسمہ پانی میں چلتا ہے ،انہوں نے ان کی ام ولد کو پکڑا اور اسے قتل کردیا حالانکہ وہ حاملہ تھی ،انہوں نے اس کا پیٹ چاک کیا،میں نے کسی ایسی قوم کی صحبت اختیار نہ کی ،جومجھے ان سے زیادہ نا پسند تھے ،میں نے ان کو اکیلے پایا تو میں وہاں سےبھاگ گیا ۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3630

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3631

3630 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي حدثنا إسماعيل بن مسلمة بن قعنب حدثني أبي مسلمة عن أيوب عن حميد بن هلال Y عن رجل من عبد القيس قال : كنت مع الخوارج فأتينا على رجل فقالوا : أنت عبد الله بن خباب صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قالوا : فهل أنت محدثنا عن أبيك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم سمعت أبي يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : تكون فتنة القاعد فيها أفضل من القائم والقائم فيها أفضل من الماضي والماشي فيها أفضل من الساعي فإذا كان ذلك فكن عبد الله المقتول فقالوا له : فكن أنت عبد الله المقتول قال : فقدموه إلى ضفة النهر فضربوا عنقه فجرى دمه كأنه شراك نعل ما ابذقر ثم قربوا أم ولده فبقروها عما في بطنها فلما رأيت ذلك فارقتهم

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ عبدالقیس سے ایک آدمی نے ہمیں بتایا کہ ہم جامع مسجد میں بیٹھے ہوئےتھے ،ا س نے کہا :میں اصحاب کی نہر کی صحبت میں رہا ،میں ان میں شریک تھا ،پھر میں نے ان کے معاملہ کو ناپسند کیا اور میں ڈر گیا کہ مجھے قتل نہ کردیں ،ہم اسی حالت میں تھے کہ میں ان میں سے ایک گروہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ہم ایک بستی کے پاس آئے ،ہمارے اور اس بستی کے درمیان ایک نہر تھی ،اچانک بستی سے ایک آدمی ڈرتا ہوا نکلا ،ہم نے اس سےکہا :گویا ہم ین تمہیں ڈرادیا ہے ،اس نے کہا :ہاں ! انہوں نے کہا تو نہ ڈر میں نے کہا اللہ کی قسم اس کو پہچانو یا نہ پہچانو ۔انہوں نے کہا تو ابن خباب صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے؟اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سنائیں اس نے کہا جی ہاں میںنے اپنے والد سے حدیث سنی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے حدیث ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فتنے کا ذکر کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اس میں بیٹھنےوالا کھڑا ہونے والے سےبہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا،چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،اگر تو اس زمانہ کو پائے تو عبداللہ مقتول ہو جاتا ۔وہ ان کو نہر کے پاس لے گئے ،وہاں ذبح کیا میں نے ان کا خون پانی پر ایسے دیکھا جس طرح تسمہ پانی میں چلتا ہے ،انہوں نے ان کی ام ولد کو پکڑا اور جو اس کے پیٹ میں تھا اسے چیر کر باہر نکالا ،جب میں نے ا نکی یہ حالت دیکھی تو ان سے جدا ہو گیا۔

رَجُلٍ، مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← اَبِیْ مَسْلَمَۃَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3631

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ [ عبد الله خباب عن أبيه ] · حديث 3632

3631 - حدثنا عبد الرحمن بن الحسين الصابوني التستري حدثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا سعيد بن عامر عن صالح بن رستم عن حميد بن هلال Y عن رجل من عبد القيس قال : لما تفرق الناس صحبت قوما لم أصحب قوما أحب إلي صحبة منهم فسرنا على شط نهر فرفع لنا مسجد فإذا فيه رجل فلما نظر إلى نواصي الخيل خرج فزعا يجر ثوبه فقال له أميرنا : لم ترع فقال قد رعتموني قال : فإذا هو عبد الله بن خباب قال له أميرنا : حدثنا حديثا سمعته من أبيك يحدثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فحدث عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر فتنة القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي فإن أدركتك فكن عبد الله المقتول قال : فقربوه إلى شط النهر فذبحوه فرأيت دمه يسيل في الماء مثل الشراك ما ابذقر قال : ثم أخذوا أم ولده فقتلوها وكانت حبلى فبقروا بطنها فلم أصحب قوما أبغض إلي منهم حتى وجدت خلوة فانفلت

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ عبدالقیس سے ایک آدمی نے ہمیں بتایا کہ جب لوگ علیحدہ ہوئے تو میں ایسی قوم کے پاس رہا ،میں ایسی قوم کی محبت میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا ،ہم نہر کےکنارے چل رہے تھے ،ہمارے سامنے ایک مسجد آئی تو وہاں ایک آدمی تھا جب گھوڑے کی پیشانی دیکھی تو وہ گھبراہٹ سے اپنے کپڑے کو گھسیٹتا ہوا نکلا ۔ہمارے امیر نے اسے کہا تم کیوں ڈرتے ہواس نے کہا مجھے میں ڈر ایا گیاہے ۔انہوں نے کہا تو ابن خباب صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے؟اس نے کہا ہاں انہوں نے کہا کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سنائیں اس نے کہا جی ہاں میںنے اپنے والد سے حدیث سنی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے حدیث ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فتنے کا ذکر کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اس میں بیٹھنےوالا کھڑا ہونے والے سےبہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا،چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،اگر تو اس زمانہ کو پائے تو عبداللہ مقتول ہو جاتا ۔وہ ان کو نہر کے پاس لے گئے ،وہاں ذبح کیا میں نے ان کا خون پانی پر ایسے دیکھا جس طرح تسمہ پانی میں چلتا ہے ،انہوں نے ان کی ام ولد کو پکڑا اور اسے قتل کردیا حالانکہ وہ حاملہ تھی ،انہوں نے اس کا پیٹ چاک کیا،میں نے کسی ایسی قوم کی صحبت اختیار نہ کی ،جومجھے ان سے زیادہ نا پسند ہو ،میں نے تنہائی پائی تو میں وہاں سےبھاگ گیا ۔

رَجُلٍ، مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3632

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ قيس بن أبي حازم عن خباب إسماعيل بن أبي خالد عن قيس · حديث 3633

3632 - حدثنا المقدام بن داود ثنا علي بن معبد ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن إسماعيل بن أبي خالد Y عن قيس بن أبي حازم قال : دخلت على خباب أعوده وقد اكتوى في بطنه سبعا فقال خباب : لولا أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن ندعو بالموت لدعوت به ألا إن أصحابنا مضوا ولم يصيبوا من الدنيا شيئا ألا وإنا قد أصبنا بعدهم حتى لم نجد له موضعا إلا في التراب إن المرء يؤجر في نفقته كلها إلا في شيء يجعله في هذا التراب قال : وهو يومئذ يبني حائطا له

حضرت قیس بن ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں خباب کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لیے آیا تو آپ نے اپنے پیٹ کو سات مرتبہ داغاتھا ،حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا اگرمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ سنا ہوتا ہے کہ آپ نے موت کی تمنا کرنے سےمنع کیا ہے تو موت کی دعا کرتا ،ہمارے ساتھی تو گزر گئے انہوں نے دنیا سے کوئی شی نہیں لی ،ہم نے ان کے بعد دنیا پائی ہے ،ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے سوائے مٹی میں خرچ کے لیے ،آدمی کو ہر شے خرچ کرنے پر ثواب ملتا ہے سوائے ا س کے جو (ناجائز بلاوجہ )عمارتیں بنائی جاتیں ،یہ اس دن مٹی کی دیوار بنا رہے تھے۔

دخلت على خباب أعوده وقد اكتوى في بطنه سبعا فقال خباب لولا ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3633

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ قيس بن أبي حازم عن خباب إسماعيل بن أبي خالد عن قيس · حديث 3634

3633 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا إسماعيل بن أبي خالد Y عن قيس بن أبي حازم قال : أتينا خبابا نعوده وقد اكتوى في بطنه سبعا فقال : لولا أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن ندعو بالموت لدعوت به ثم ذكر من مضى من أصحابه أنهم مضوا ولم يأكلوا من أجورهم شيئا وإنا بقينا بعدهم حتى نلنا من الدنيا ما لا يدري أحدنا ما يصنع به إلا أن ينفقه في التراب وإن المسلم ليؤجر في كل شيء أنفقه إلا ما أنفقه في التراب

حضرت قیس بن ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں خباب کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لیے آیا تو آپ نے اپنے پیٹ کو سات مرتبہ داغاتھا ،حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا اگرمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ سنا ہوتا ہے کہ آپ نے موت کی تمنا کرنے سےمنع کیا ہے تو موت کی دعا کرتا ،ہمارے ساتھی تو گزر گئے انہوں نے دنیا سے کوئی شی نہیں لی ،ہم نے ان کے بعد دنیا پائی ہے ،ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے سوائے مٹی میں خرچ کے لیے ،آدمی کو ہر شے خرچ کرنے پر ثواب ملتا ہے سوائے ا س کے جو (ناجائز بلاوجہ )عمارتیں بنائی جاتیں۔

أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلاَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3634

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ قيس بن أبي حازم عن خباب إسماعيل بن أبي خالد عن قيس · حديث 3635

3634 - حدثنا معاذ بن المثنة ثنا مسدد ثنا يحيى بن إسماعيل Y عن قيس قال : أتيت خبابا وقد اكتوى في بطنه سبعا فقال : لولا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن ندعو بالموت لدعوت به

حضرت قیس بن ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں خباب کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لیے آیا تو آپ نے اپنے پیٹ کو سات مرتبہ داغاتھا ،حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا اگرمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ سنا ہوتا ہے کہ آپ نے موت کی تمنا کرنے سےمنع کیا ہے تو موت کی دعا کرتا ۔

أتيت خبابا وقد اكتوى في بطنه سبعا فقال لولا ← قَيْسٍ ← يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُسَدَّدٌ ← معاذ بن المثنة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3635

chevron_left Previous
1234…49
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter