Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ باب 12 · حديث 15840

171 - حدثنا حجاج بن عمر السدوسي ثنا أبو سلمة يحيى بن خلف الجوباري ثنا إبراهيم بن صدقة ثنا سفيان بن حسين عن الزهري عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سے اسی کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْجُوبَارِيُّ ← حجاج بن عمر السدوسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15840

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ أنس بن أبي القاسم عن أبي كعب بن مالك عن أبيه · حديث 15841

172 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا محمد بن يوسف عن أنس بن أبي القاسم عن ابن كعب بن مالك عن أبيه Y رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فيما أحسب في قوله ( سواء علينا أجزعنا أم صبرنا ما لنا من محيص ) قال : يقول أهل النار : هلموا فلنصبر - قال - فصبروا خمسمائة عام فلما رأوا ذلك لا ينفعهم قالوا : هلموا فلنجزع - قال - فيبلون خمسمائة عام فلما رأوا ذلك لم ينفعهم قالوا : ( سواء علينا أجزعنا أم صبرنا ما لنا من محيص )

حضر ت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق ہے فرمایا: دوزخی کہیں گے آؤ! ہم صبر کریں۔ فرمایا: پس وہ پانچ سو سال صبر کریں گے جب ان کو اندازہ ہو گا کہ انہیں اس کا کوئی نفع نہیں ہوا تو کہیں گے : آؤ! ہم جزع فزع کریں۔ فرمایا: پس وہ پانچ سو سال روئیں پیٹیں گے ۔ پس جب دیکھیں گے کہ اس نے بھی انہیں کوئی نفع نہیں دیا تو کہیں گے : برابر ہے ہم پر جزع فزع کریں یا ہم صبر کریں ہمارے لیے چھٹکار ا نہیں ہے ۔

ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← أنس بن أبي القاسم ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15841

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن كعب بن مالك · حديث 15842

173 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن عمر بن أبان ثنا عمرو بن محمد العنقري ثنا خلاد الصفار عن عبد الله بن عيسى عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في حر شديد وأمر بالغزو إلى تبوك وأنا يومئذ مؤمن بالله ورسوله غير أن نفسي تتوق إلى الطفل والرطب وأنا يومئذ شاب قوي ونفسي تقول لي - وعندي بعيران - سوف تعتذر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ونفسي تقول لي تخلف عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنا كذلك وأصبح النبي صلى الله عليه و سلم غاديا وخرجت إلى السوق أريد أن أتجهز وكأنما أمسك بيدي وسار النبي صلى الله عليه و سلم حتى إذا كان من المدينة قدر فرسخين وقف فإذا هو براكب يلحق به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كن أبا خيثمة ) فإذا هو بأبي خيثمة قال : وفي المدينة سبعة وثمانون من المنافقين وأنا و هلال بن أمية و مرارة فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا خيثمة : ( ما فعل كعب بن مالك ؟ قال : تركته يمشي في أزقة المدينة فقال معاذ : هو والله ما علمته يحب الله ورسوله قال : ونزل نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في جانبنا فقال بعضهم والله أنهم أرغبنا بطونا وأخشانا عند اللقاء وأضعفنا قلوبا فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عمار بن ياسر فقال : ( اذهب إلى هؤلاء الرهط فقل لهم ما نقستم فلئن سألتهم ليقولن إنما كنا نخوض ونلعب ) فقال لهم احترقتم أحرقكم الله ونزلت ( ولئن سألتهم ليقولون انما كنا نخوض ونلعب قل الله وآياته ورسوله كنتم تستهزئون ) قال : وجاء رجل لم يكن منهم ولكنه كان يسمع فتعلق برجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله والله ماليتهم ولكني قد سمعت مقالتهم فسار النبي صلى الله عليه و سلم وجعل يتعلق بالرجل ويعتذر إليه ويسير معه حتى سال من عقبيه الدم ورجع النبي صلى الله عليه و سلم من غزوته فأتاه هلال بن أمية و مرارة بن ربيعة فأجلسنا في ناحية فقيل لكعب بن مالك إنه والله ما رضي عن صاحبيك فانظر بم تعتذر ؟ قلت أستعين على ما صنعت بالكذب وما أجد شيئا خيرا من الصدق فأتيته فقلت السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته قال : وعليك ما خلفك يا كعب ؟ قلت والله ما تخلفت من ضعف ولا حاجة ولكن البلاء قال : أجلس مع صاحبيك ثم قال لاصحابه : ( لا تجالسوا هؤلاء النفر ولا تكلموهم ولا تبايعوهم فأرسل إلى نسائهم لا يقربونكم فأرسلت امرأة هلال بن أمية إلى النبي صلى الله عليه و سلم أن هلال شيخ كبير فتأذن لها أن تعطيه الشيء من غير أن تكلمه فإذن لها فأرسلت امرأة كعب أن امرأة هلال بن أمية قد استأذنت أن تناوله الشيء فتستأذنه فيك فقلت بأي شيء تعتذرين تقولين إني شيخ كبير ؟ فو الله إني لشاب أتقولين إني سقيم ؟ فوالله إني لصحيح فأرسل إليها ألا تفعلي وكانت أم سلمة نعم الشفيع إذا كانت ليلتها قالت : يا رسول الله هلال بن أمية تكلمه فينا حتى إذا كانت ذات ليلة قال : ( أشعرت ان الله قد تاب على الثلاثة ؟ قالت : ألا أرسل إلى أهليهم فأبشرهم ؟ قال : إذا لا يذرنا الناس تنام هذه الليلة ولكن أصبحي فأصبح النبي صلى الله عليه و سلم فصلى الغداة ثم أقبل على أصحابه فقال : ( أشعرتم أن الله قد تاب على الثلاثة فاستبق إلى كعب بن مالك رجلان ركب فرسا فأخذ بطن الوادي ورجل مشى على رجليه حتى صعد الجبل قال : يا كعب بن مالك أشعرت أن الله قد تاب عليك ؟ فخررت ساجدا حتى إذا دنا مني رميت إليه برداي ثم أقبلت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقلت منك أو من الله ؟ فقال : ( من الله عز و جل )

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سخت گرمی میں نکلے اور غزوہ تبوک کا حکم دیا اس وقت میں اللہ و رسول ﷺ کو ماننے والا تھا بساتنی سی بات تھی کہ میرا دل سائے میں بیٹھنے کو زیادہ کرتا تھا اور کھجور کھانے میں دلچسپی تھی ۔ میں ان دنوں جوان تھا اور طاقتور تھا میرا دل مجھ سے کہتا کہ میرے پاس دو سواریاں ہیں تو کچھ یر جا کر رسول کریم ﷺ سے معذرت کر لینا۔ میرا دل مجھ سے کہتا : رسول کریم ﷺ کو جانے دے تو پیچھے چلے جانا۔ پس میں آسی سوچ پر تھا۔ نبی کریم ﷺ نے سفر کے ارادے سے صبح کی ۔ میں بازار کی طرف گیا تاکہ کچھ سامان خرید لوں ۔ گویا میں دونوں ہاتھوں سے روکنے والا تھا رسول کریم ﷺ چل کر جب دو فرلانگ مدینہ سے دور پہنچے تو رُک گئے ۔ نگاہ دوڑائی تو ایک سوار پیچجھے سے آپ ﷺ کے ساتھ ملنا چاہتا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ابو خثیم ہو گا تو وہ ابو خثیمہ تھا۔ رای کا بیان ہے : مدینہ میں 87 منافقین موجود تھے نیز میں ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع تھے ۔ پس رسول کریم ﷺ نے او خثیمہ سے پوچھا: کعب بن مالک کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے انہیں مدینہ کی گلیوں میں چلنے ہوئے چھوڑا ہے ۔ اس کے علاوہ معلوم نہیں حضرت معاذ نے کہا: بخدا! میں تو ان کے حوالے سے بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا وہ اللہ اوراس کا رسول ﷺ کا محب ہے راوی کا بیان ہے : چند اصحاب رسول ﷺ ہماری طرف اُترے ان میں سے بعض نے کہا: بخدا! وہ تو ہم سے ز یادہ دغبت رکھنے والے تھے پیٹ کے لحاظ سے اور ملاقات کے وقت ہم سے زیادہ ڈرنے والے تھے اور دل کے لحاظ سے ہم سے زیادہ کمزور تھے ۔ پس رسول کریم ﷺ نے حضرت عمار بن یاسر کو بلا کر فرمایا: اس گروہ کے پاس جا کر انہیں کہو: تم نے کیا قیاس کیا ہے ۔ پس اگر تُو ان سے سوال کرے گا تو تجھے جواب دیں گے : ہم تو بس مذاق کر رہے تھے اور کھیل کود میں مصروف تھے ۔ پس انہوں نے ان سے کہا: تم جل گئے اللہ تمہیں جلائے ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : راوی کا بیان ہے ایک آدمی آیا جس کا تعلق ان لوگوں سے نہیں تھا لیکن ان کو سنا کرتا تھا پس اس نے رسول کریم ﷺ کے پاؤں پکڑ لیے اور معذرت کرنے لگا اور آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا( آپ ﷺ سوار پر تھے ) حتیٰ کہ اس کی ایڑھیوں سے خون بہہ پڑا۔ رسول کریم ﷺ غزوہ سے واپس آئے تو حضرت ہلال بن امیہ اور حضرت مرارہ ب ربیع آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پس آپ ﷺنے ہمیں ایک کونے میں بٹھا دیا۔ پس حضرت کعب سے کہا گیا: قسم بخدا! آپ ﷺ تیرے دونوں ساتھیوں سے راضی نہیں ہیں آپ غور کر لیں۔ آپ نے کن الفاظ سے معذرت کرنی ہے ۔ میںنے کہا: میں مدد کا طالب ہوں ( اللہ سے اس کے خلاف جو جھوٹ بولوں) میں تو سچ سے اچھی چیز نہیں پاتا ۔ ہس میں نے آپ ﷺ کے پاس آکر عرض کیا:السلام علیک ایھا النبی ورحمت اللہ وبرکاتہ! فرمایا: اے کعب ! تجھے کس چیز نے پیچھے روکا؟ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں کسی کمزوری یا کام کی وجہ سے پیچھے نہیں رہا بلکہ آزمائش میں ڈالا گیا ہوں۔ فرمایا: اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ بیٹھ۔ پھر اپنے صحابہ سے فرمایا: اس گروہ کے پاس نہ بیٹھنا ان سے کلام نہ کرنا او ر اس سے بیع و شراء ( کاروبار معاملات ) نہ کرنا۔ پس اس کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا کہ ان سے صحبت نہ کرنا۔ پس حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے نبی کریم ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہلال بوڑھا آدمی ہے سو آپ اجازت بخشیں کہ ان سے کلام کیے بغیر ان کو کوئی چیز دے لوں۔ پس آپ ﷺ نے اجازت دی۔ حضرت کعب کی بیوی نے حضرت کعب کو پیغام بھیجا کہ حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے انہیں کوئی نہ کوئی چیز کھانے کی دینے کی اجازت مانگ لی ہے میں بھی اپنے حوالے سے اجازت طلب کروں؟ فرمایا: تُو عذر پیش کرے گی؟ کیا تُو یہ کہہ سکتی ہے کہ میں بوڑھا آدمی ہوں؟ حالانکہ میں جوان ہوں قسم سے کیا تُو یہ کہے گی کہ میں بیمار ہوں؟ بخدا! میں تو تندرست ہوں۔ حضرت کعب نے اسے پیغام بھیجا کہ تُو ایسا مت کر۔ اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کتنی اچھی سفارش کرنے والی تھیں حتیٰ کہ جب ان کی باری ہوتی تو وہ عرض کرتیں : اے اللہ کےر سول! ہلال بن امیہ سے ہمارے بارے میں کلام کریں حتیٰ کہ جب ایک رات انہوں نے محسوس کیا کہ اللہ نے ہم تین کی توبہ قبول فرمائی ہے تو عرض کی : میں ان کی طرف پیغام بھیج کر بشارت نہ دوں۔ فرمایا: اگر تم نے ایسا کیا تو پھر لوگ ہمیں سونے نہ دین گے رات کا بقیہ حصہ لیکن تم صبح تک صبر کرو۔ پس نبی کریم ﷺ نے صبح کی اور فجر کی نماز پڑھائی پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم لوگوں کو محسوس ہوا ہے کہ اللہ نے ان تین آدمیوں کی توبہ قبول فرما لی ہے ؟ پس دو آدمی دوسروں سے پہلے حضرت کعب بن مالک کی طرف گئے ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہوا اس نے بطن وادی والا راستہ اختیار کیا دوسرا پیدل چلا اور وہ سیدھا ہی سلع پہاڑ چڑھ گیا کہا: اے کعب بن مالک ! کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ نے تیرے اوپر نظر رحمت فرمائی ہے ؟ اس کی یہ بات سن کر میں سجدے میں گر گیا یہاں تک کہ جب وہ خوشخبری دینے والا میرے قریب ہوا تو میں نے اپنی چادر اسے تحفے میں پیش کی اس کے بعد دیر کیے بغیر میں نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے ؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، ← عمرو بن محمد العنقري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15842

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ معبد بن كعب عن أخيه · حديث 15843

174 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق حدثني معبد بن كعب بن مالك بن القين أخو بني سلمة عن أخيه عبيد الله بن كعب عن أبيه كعب بن مالك قال Y خرجنا في الحجة التي بايعنا بها رسول الله صلى الله عليه و سلم العقبة مع مشركي قومنا ومعنا البراء بن معرور كبيرنا وسيدنا حتى إذا كنا بظاهر البيداء قال : يا هؤلاء تعلمون أني قد رأيت رأيا ما أدري أتوافقني عليه أم لا ؟ قلنا ما هو يا أبا البشر ؟ قال : رأيت إني أصلي إلى هذه البنية ولا أجعلها مني بظهر قلنا : لا والله لا تفعل ما بلغنا أن نبيا صلى الله عليه و سلم لا يصلي إلا إلى الشام قال : فإني والله لمصل إليها وكان إذا حضرت الصلاة توجه إلى الكعبة وتوجهنا إلى الشام حتى قدمنا مكة فقال لي البراء بن معرور : يا ابن أخي انطلق بنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى نسأله عما صنعنا في سفرنا هذا فلقد وجدت في نفسي منه بخلافكم إياي فخرجنا نسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم فلقينا رجل بالابطح فقلنا له تدلنا على محمد بن عبد الله بن عبد المطلب قال : فهل تعرفانه إذا رأيتماه ؟ قلنا : لا والله ما نعرفه ولم نكن رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فهل تعرفان العباس بن عبد المطلب ؟ قلنا نعم وقد كنا نعرفه كان يختلف إلينا بالتجارة قال : فإذا دخلتما المسجد فانظر ا إلى العباس فهو الرجل الذي معه فدخلنا المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم والعباس في ناحية المسجد جالسان فسلمنا وجلسنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هل تعرف هذين الرجلين ؟ ) فلما انفتل قال : نعم هذا البراء بن معرور سيد قومه وهذا كعب بن مالك فوالله ما أنسى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الشاعر ؟ ) قال : نعم فقال البراء بن معرور : يا رسول الله إني قد كنت رأيت في سفري هذا رأيا قد أحببت أن أسألك عنه لتخبرني عما صنعت فيه قال : ( وما ذلك ؟ قال : رأيت أن لا أجعل هذه البنية مني بظهر فصليت إليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد كنت على قبلة لو صبرت إليها ) فرجع إلى قبلة رسول الله صلى الله عليه و سلم وأهله يقولون قد مات عليها ونحن أعلم به قد رجع إلى قبلة رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى معنا إلى الشام ثم واعدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أوسط أيام التشريق ونحن سبعون رجلا لبيعته ومعنا عبد الله بن عمرو بن حرام أبو جابر وإنه لعلى شركه فقلنا يا أبا جابر والله لنرعب بك أن تموت على ما أنت عليه فتكون لهذه النار غدا حطبا وإن الله عز و جل قد بعث رسولا يأمر بتوحيده وقد أسلم رجال من قومك وقد واعدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم للبيعة فأسلم وطهر ثيابه وحضرها معنا وكان نقيبا فلما كان في الليلة التي واعدنا فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم بمنى أول الليل مع قومنا فلما استثقل الناس في النوم تسللنا من فرشنا تسلل القطا حتى اجتمعنا بالعقبة فأتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم وعمه العباس ليس معه غيره وهو على شركه ولكنه أحب أن يحضر أمر ابن أخيه فكان أول متكلم قال : يا معشر الخزرج - إنما كانت العرب تسمي هذا الحي من الانصار أوسها وخزرجها الخزرج - يا معشر الخزرج أن محمدا منا بحيث قد علمتم وهو في منعة من قومه وبلاده وقد منعناه ممن على مثل رأينا فيه وقد أبى الا انقطاعنا إليكم وإلى ما دعوتموه إليه فان كنتم ترون أنكم وافون له بما واعدتموه إليه فأنتم وما علمتم وإن كنتم تخشون من أنفسكم خذلانا فاتركوه في قومه فإنه في منعة من عشيرته وقومه فقلنا قد سمعنا ما قلت تكلم يا رسول الله فتكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا إلى الله عز و جل وتلا القرآن ورغب في الاسلام فأجبناه في الايمان به والتصديق له وقلنا يا رسول الله خذ لربك ثم لنفسك فقال : ( إني أبايعكم على أن تمنعوني مما منعتم منه أبناءكم ونساءكم فأجابه البراء بن معرور فقال : نعم والذي بعثك بالحق فبايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فنحن والله أهل الحروب وأهل الحلقة ورثناها كابرا عن كابر فعرض في الحديث أبو الهيثم بن التيهان فقال : يا رسول الله ان بيننا وبين قوم حبالا وانا قاطعوها فهل عسيت أن أظهرك الله أن ترجع إلى قومك وتدعنا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بل الدم الدم والهدم الهدم أنا منكم وأنتم مني أسالم من سالمتم وأحارب من حاربتم ) فقال البراء بن معرور : أبسط يدك أبايعك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أخرجوا إلي منكم اثني عشر نقيبا ) فأخرجوهم وكان نقيب بني النجار أسعد بن زرارة وكان نقيب بني سلمة البراء بن معرور و عبد الله بن عمرو بن حرام وكان نقيب بني ساعدة سعد بن عبادة و المنذر بن عمرو وكان نقيب بني زريق رافع بن مالك بن العجلان وكان نقيب بني الحارث بن الخزرج عبد الله بن رواحة و سعد بن الربيع وكان نقيب بني عوف بن الخزرج عبادة بن الصامت ونقيب بني عبد الاشهل أسيد بن حضير و أبو الهيثم بن التيهان وكان نقيب بني عمرو بن عوف سعد بن خيثمة وكانوا اثني عشر تسعة من الخزرج وثلاثة من الأوس فأخذ البراء بن معرور بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم فضرب عليها فكان أول من بايع فتتابع الناس فبايعوا وصرخ الشيطان على العقبة بأبعد صوت سمعته قط فقال : يا اهل الحباحب هل لكم في محمد والصباة معه قد اجتمعوا على حربكم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ارفضوا إلى رحالكم ) فرجعنا إلى رحالنا فاضطجعنا على فرشنا فلما أصبحنا أقبلت جلة من قريش فيهم الحارث بن هشام فتى شاب عليه نعلان له جديدان حتى جاؤونا في رحالنا فقالوا يا معشر الخزرج قد جئتم إلى صاحبنا لتستخرجوه من بين أظهرنا وإنه والله ما من العرب أحد أبغض إلينا أن ينشب الحرب فيما بيننا وبينه منكم فانبعث من هناك من قومنا من المشركين يحلفون بالله ما كان من هذا شيء وما فعلناه وأنا أنظر إلى أبي جابر بن عبد الله بن حرام وهو صامت وأنا صامت فلما تثور القوم لينطلقوا قلت كلمة كأني أشركهم في الكلام : يا أبا جابر أنت من سادتنا وكهل من كهولنا لا تستطيع أن تتخذ مثل نعل هذا الفتى من قريش فسمعه الفتى فخلع نعليه فرمى بهما إلي - فقال : والله لتلبسنهما فقال أبو جابر مهلا أحفظت لعمر الله الرجل - يقول أخجلته - ازدد عليه نعله والله لا أردهما إني لارجو أن أستلبه

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اُس حج کے موقع پر نکلے جس میں ہم نے عقبہ کے مقام پر رسول کریمﷺ کے ساتھ اسلام کی بیعت کی لیکن ہم اپنی قو م کے مشرکوں کے ساتھ تھے ہمارے ساتھ حضرت براء بن معرور بھی تھے جو ہمارے بڑے اور سردار تھے حتیٰ کہ جب ہم وادی بیداء کی بلند پر تھے تو کہا: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے مجھے نہیں معلوم کہ تم اس پر میرے ساتھ موافقت کرتے ہو یا نہیں کرتے ہوَ ہم نے کہا: وہ کیا ہے ؟ اے ابو البشر! کہا میں نے دیکھا ہے کہ میں اس عورت کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہوں میں نے اس کی طرف پیٹھ نہیں کی ہے ۔ ہم نے کہا: نہیں! قسم بخدا! ایسا مت کر یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ ہمارے نبی ﷺ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ کہا: بے شک میں قسم بخدا! اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا۔ اس سفر میں جب نماز کا وقت ہو جاتا تو وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور ہم شام کی طرف منہ ک رتے حتیٰ کہ ہم مکہ آئے ۔ حضرت براء بن معرور نے ہم سے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے ! ہمیں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لے چلوں یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ سے اس بارے میں ڈریافت کریں جو ہم نے اس سفر میں کیا۔ پس میں اپنے دل میں تمہیں اپنی مخالفت میں پاتا ہوں۔ پس ہم نکلے تاکہ رسول کریم ﷺ سے دریافت کریں۔ پس ابطح وادی میں ہمیں ایک آدمی ملا ہم نے اس سے کہا: ہمیں حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کا پتہ بتاؤ! اس نے کہا جب تم انہیں دیکھو گے تو پہچان لو گے؟ ہم نے کہا: نہیں ! بخدا! ہم آپ ﷺ ک پہچان نہ سکیں گے ہم نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا ہوا نہیں ہے ۔ اس نے کہا : کیا تم حضرت عباس بن عبدالمطلب کو پہنچان لو گے ؟ ہم نے جواب دیا: ہاں! ان کو تو ہم پہچانتے ہیں وہ تجارت کرنے کیلئے ہمارے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس نے کہا: جب تم دونوں مسجد میں داخل ہو جاؤ گے پہلے حضرت عباس کو دیکھو گے پس وہ حضرت محمد وہی آدمی ہیں جو ان کے ساتھ ہیں۔ ہم مسجد میں داخل ہوئے کیا دیکھا کہ رسول کریم ﷺ اور حضرت عباس مسجد کے ایک کونمے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ پس ہم سلام کر کے بیٹھ گئے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان دونوں آدمیوں کو پہچانتے ہو؟ جب انہوں نے منہ پھیر کر توجہ فرمائی تو کہا: ہاں! یہ اپنی قوم کے سردار حضرت براء بن معرور ہیں اور یہ حضرت کعب بن مالک ہیں قسم بخدا! میں رسول کریم ﷺ کی بات اب تک نہیں بھولا ہوں۔ فرمایا: وہی جو شاعر ہیں؟ انہوں نے کہا؛ ہاں! حضرت براء بن معرور نے آپ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بے شک می ںنے اپنے اس سفر میں ایک خواب دیکھ اہے مین اس کے بارے دریافت کرنا پسند کرتا ہوں تاکہ آپ مجھے اس بارے میں بتائیں جو میں نے کیا۔ فرمایا: وہ کیا ہے ؟ کہا : میں نے دیکھا ہے کہ میں اس عمارت کو پیٹھ نہیں کر رہا ہوں پس میں نے اسی کی طرف منہ کر کے پوری نماز پڑھی ہے ۔ پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا: تحقیق تُو اپنے قبلہ پر ہے اگر تُو صبر کرے ۔ پس انہوں نے رسول کریمﷺ کے قبلہ کی طرف رجوع کر لیا جبکہ اس کے گھر والے کہتے ہیں: وہ اسی پر وصال کر گئے ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قبلہ کی طرف رجوع کر لیا تھا ہمارے ساتھ ملک شام تھا۔ پھر ہم سے رسول کریم ﷺ نے وعدہ لیا کہ ایام تشریف کے درمیان میں آئیں گے اس حال میں کہ ہم ستر آدمی ہوں گے تاکہ آپ ﷺ کی بیعت کریں اور ہمارے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام ابو جابربھی ہوں ۔ اس وقت وہ حالت شرک میں تھے ہم نے کہا: اے ابو جابر! تیرے حوالے سے ہم پسند کرتے ہیں کہ تو اس حالت میں مرے گا جس پر تو ہے تو توکل اس آگ کے لیے ایندھن ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا ہے جو اس کی توحید کا حکم سناتا ہے تیری قوم کے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ رسو ل کریم ﷺ نے ہم سے وعدہ لیا اپنے کپڑے پاک کیے اور ہمارے ساتھ بیعت عقبہ پر حاضر ہو اس حالت میں کہ وہ نقیب تھا پس جب وہ رات تھی جس میں ہم نے رسول کریم ﷺ نے منیٰ کے مقام پر وعدہ لیا رات کا اول حصہ تھا اور ہم اپنی قوم کے ساتھ تھے پس جب لوگ گہری نیند میں چلے گئے جسے قطار پرندہ کھسکتا ہے حتیٰ کہ ہم عقبہ پر اکٹھے ہوئے ۔ پس رسول کریم ﷺ ہمارے پاس آئے اس حالت میں کہ حضرت عباس آپ کے چچا آپ کے ساتھ تھے کوئی اور آپ ﷺ کے ساتھ ن تھے اور وہ ابھی حالت شرک میں تھے لیکن انہیں اپنے بھتیجے کے معاملے میں حاضر ہونا پسند تھا۔ پس پہلے کلام انہوں نے کہا کہا: اے خزرج قبیلے والو! عرب لوگ انصار کے اس قبیلے کو اوس اور خزرج کہتے ہیں اے خزرج والو! حضرت محمد ﷺ کا تعلق ہم سے ہے جس طرح تم جانتے ہو وہ اپنی قوم اور علاقے میں محفوظ ہیں ہم نے ان کی حفاظت کی ہے ہر اُس آدمی سے جس کی مثل تم نے دیکھ لیا ہے وہ ہم سے جدا ہو کر تمہارے پاس آنا چاہتے ہیں اور اس چیز کی طرف جس کی طرف تم نے انہیں دعوت دی ہے ۔ پس اگر تمہارے خیال ہے کہ تم اس ذمہ داری کو پورا کر سکو گے جس کا تم نے وعدہ کیا ہے تو تم جانو اور تمہارا کام جانے لیکن اگر تمہیں خوف ہے کہ تم اس سلسلے میں رسوا ہو جاؤ گے تو پھر آپ ﷺ اپنی قوم میں رہنے دو کیونکہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں اور قوم کی حفاظت میں ہیں۔ پس ہم نے کہا: ہم نے دل کے کانوں سے سنا جو آپ نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ کلام فرمائیں ! پس رسول کریم ﷺ نے کلام فرمایا ۔ آپ ﷺ نے اللہ کی طرف بلایا قرآن پڑھا اور اسلام میں رغبت دلائی ۔ پس ہم نے آپ کے ساتھ لانے اور آپ کی تصدیق کرنے میں آپ کو پسند کیا ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! پہلے اپنے رب کیلئے پھر اپنے لیے بیعت لیں۔ فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میری ہر اس شے سے حفاظت کرو گے جس سے تم اپنی اولاد اور عورتوں کی حفاظت کرتے ہو۔ پس حضرت براء بن معرور نے جواب دیا: ٹھیک ہے ! قسم ہے اس ذات کی جس ے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! ہم نے رسول کریم ﷺ کی بیعت کی ۔ پس ہم قسم بخدا! جنگیں کرنے والے اور حلقے والے ہیں ( احباب زیادہ ہیں اثر ورسوخ ہے ) نسلاً بعد نسل بڑوں سے ہم اس کے وارث بنے ہیں۔ حضڑت ابو الہیثم بن تیہان نے حدیث پیش کی کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور قوم کے درمیان کچھ

أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← أخيه عبيد الله بن كعب ← معبد بن كعب بن مالك بن القين أخو بني سلمة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15843

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ معبد بن كعب عن أخيه · حديث 15844

175 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى القطيعي ثنا وهب بن جرير حدثني أبي عن محمد بن إسحاق حدثني معبد بن كعب عن أخيه عبييد الله بن كعب قال Y خرجنا من المدينة نريد رسول الله صلى الله عليه و سلم وخرج معنا حجاج قومنا من أهل الشرك فذكر نحوه

حضرت عبید اللہ بن کعب فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ سے نکلے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضرین کا ارادہ لے کر ہمارے ساتھ ہماری وم کے مشرک حج کرنے کیلئے نکلے اس کے بعد اس جیسی حدیث ذکر کی ۔

أخيه عبييد الله بن كعب ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15844

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن ابن كعب بن مالك · حديث 15845

176 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق حدثني محمد بن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه حدثني عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال Y كنت قائد أبي حين كف بصره فإذا خرجت إلى الجمعة فسمع الأذان بها استغفر لأبي أمامة أسعد بن زرارة فمكثت حينا أسمع ذلك منه فقلت أن عجز الا أن أسأله عن هذا فخرجت به كما كنت أخرج به فلما سمع الأذان بالجمعة استغفر له فقلت يا أبتاه أرأيت استغفارك لاسعد بن زرارة كلما سمعت الأذان بالجمعة ؟ فقال : أي بني كان أسعد أول من جمع بنا في المدينة قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم في هزم من حرة بني بياضة في نقيع الخضمات قلت وكم أنت يومئذ ؟ قال : أربعون رجلا

حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جب میرے والد گرام کی نظر کمزور ہو گئی تھی تو میں ان کی انگلی پکڑ کر چلتا تھا جب میں ( ان کو لے کر) جمعہ کیلئے نکلتا ان کے کانوں پر اذان کی آواز گونجتی تو وہ حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ کیلئے استغفار کرتے پس کبھی میں ان سے سننے کیلئے ٹھہر جاتا۔ میں نے عرض کی۔ اگر بے ادبی نہ ہو تو میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں جس طرح پہلے میں ان کو لے کر نکلتا تھا اسی طرح میں ان کو لے کر نکلا پس جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو ان کیلئے استغفار کی ۔ میں نے عرض کی : اے ابا جان! آپ حضرت اسعد بن زرارہ کس کیلئے کس خیال سے استغفار کرتے ہیں جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ا ے بیٹے! حضرت اسعد وہ آدمی ہے جس نے رسول کریمﷺ کی آمد سے قبل ہمیں جمعہ قائم کروایا حرہ بنو بیاضہ کی ہموار زمین میں خضمات کے کنویں کے پاس۔ میں نے عرض کی : اس دن آپ کتنے تھے ؟ چالیس آدمی تھے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن أبى امامة بن سهل بن حنيف ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15845

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ عبد الرحمن الأعرج عن ابن كعب بن مالك · حديث 15846

177 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار ثنا ابن لهيعة عن الأعرج أن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أخبره عن كعب Y أنه كان له على عبد الله بن أبي حدرد مال فلقيه فلزمه فتكلما فارتفعت الاصوات فمر بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ( يا كعب ) وأشار بيده كأنه يريد النصف فأخذ نصف ما عليه وترك نصفه

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابو حدرد پر میرا قرض تھا وہ مجھے ملے تو میں نے ان کو پکڑ لیا پس ہم دونوں نے باتیں کیں تو آوازیں بلند ہوئیں رسول کریمﷺ کا گزر ہوا آپ ﷺ نے فرمایاں اے کعب! اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔ گویا آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ نصف لے لو اور نصف چھوڑ دو۔ پس میں نے ان سے آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔

الأعرج أن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15846

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ عبد الرحمن الأعرج عن ابن كعب بن مالك · حديث 15847

178 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن جعفر بن ربيعة عن عبد الرحمن بن هرمز عن عبد الله بن كعب بن مالك عن كعب أنه كان له على عبد الله بن أبي حدرد Y مال فاقضاه حتى ارتفعت الاصوات فمر بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( يا كعب ) واشار بيده كأنه يريد النصف فأخذ نصف ما عليه وترك نصفا

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابو حدرد پر میرا قرض تھا وہ مجھے ملے تو میں نے ان کو پکڑ لیا پس ہم دونوں نے باتیں کیں تو آوازیں بلند ہوئیں رسول کریمﷺ کا گزر ہوا آپ ﷺ نے فرمایاں اے کعب! اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔ گویا آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ نصف لے لو اور نصف چھوڑ دو۔ پس میں نے ان سے آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15847

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ يزيد بن خصيفة عن كعب بن مالك · حديث 15848

179 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا أبو معشر البراء عن يزيد بن خصيفة عن ابن كعب بن مالك عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا وجد أحدكم ألما فليضع يده حيث يجد ألمه ثم يقول أعوذ بعزة الله وقدرته على كل شيء من شر ما أجد سبع مرات )

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تکلیف پائے تو وہ اپنا ہاتھ تکلیف والی جگہ پر رکھے پھر یہ دعا سات مرتبہ کرے : اعوذ بعذۃ اللہ وقدرتہ الیٰ آخرہ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15848

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه · حديث 15849

180 - حدثنا أبو حصين القاضي ثنا يحيى الحماني ثنا قيس بن الربيع عن محمد بن درهم عن كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه عن جده كعب بن مالك Y أن النبي صلى الله عليه و سلم مر على قوم من الانصار يبنون مسجدا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أوسعوا مسجدكم تملأوه )

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو مسجد بنا رہے تھے حضور ﷺ نے فرمایاں تم اپنی مسجد کو وسیع کرو اس کو بھرو یعنی نماز بھی پڑھو۔

جده كعب بن مالك ← أَبِيهِ ← كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك ← محمد بن درهم ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يحيى الحماني ← أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15849

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه · حديث 15850

181 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا مطلق بن غنام ثنا محمد بن درهم عن كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه عن جده كعب بن مالك قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم على قوم من الانصار يحصبون مسجدا فقال : ( أوسعوا تملأوه )

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو مسجد بنا رہے تھے حضور ﷺ نے فرمایاں تم اپنی مسجد کو وسیع کرو اس کو بھرو یعنی نماز بھی پڑھو۔

جده كعب بن مالك ← أَبِيهِ ← كعب بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك ← محمد بن درهم ← مطلق بن غنام ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15850

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ سعد بن إبراهيم عن ابن كعب بن مالك · حديث 15851

182 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن كعب عن أبيه قال Y رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يلعق أصابعه الثلاث من الطعام

حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں : میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ کھانا کھانے کے بعد تین انگلیاں چاٹ کر صاف کرتے تھے ۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يلعق أصابعه الثلاث من الطعام ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15851

chevron_left Previous
1…789…29
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter