Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16080

412 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن مصرف بن عمرو اليامي حدثني أبي مصرف بن عمرو بن السري بن مصرف بن كعب بن عمرو عن أبيه عن جده يبلغ به كعب بن عمرو قال Y رأيت النبي صلى الله عليه و سلم توضأ فمسح باطن لحيته وقفاه

حضرت کعب بن عمر و فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا آپ نے داڑھی کا خلال کیا اور گدی کا مسح کیا۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم توضأ فمسح باطن لحيته وقفاه ← جده يبلغ به كعب بن عمرو ← أَبِيهِ ← أبي مصرف بن عمرو بن السري بن مصرف بن كعب بن عمرو ← أحمد بن مصرف بن عمرو اليامي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 16080

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن قطبة · حديث 16081

413 - حدثنا أحمد بن زهير التستري Y

ہم سے حضرت احمد بن زہیر تستری نے حدیث بیان کی ۔

أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Hadith 16081

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ من اسمه كلثوم كلثوم بن حصين أبو رهم الغفاري · حديث 16082

414 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما خرج لفتح مكة استخلف على المدينة أبا رهم كلثوم بن الحصين الغفاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب فتح مکہ کیلئے نکلے تو مدینہ میں اپنا نائب حضرت ابو رہم کلثوم بن الحصین الغفاری کو چھوڑ گئے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Hadith 16082

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16083

415 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري أخبرني ابن أخي أبي رهم أنه سمع أبا رهم الغفاري وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم الذين بايعوا تحت الشجرة قال Y عزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم تبوكا فلما سرنا ليلة سرت قريبا منه فألقي علي النعاس فطفقت استيقظ وقد دنت راحلتي من راحلته فيفزعني دنوها خشية أن أصيب رجله في الغرز فاؤخر راحلتي حتى غلب على عيني بعض الليل فزاحمت راحلتي رجله في الغرز فأصابت رجله فلم أستيقظ الا بقوله : ( حس ) فقلت : استغفر لي يا رسول الله فقال : سر فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يستخبر عمن تخلف من بني غفار فأخبره فإذا هو يسألني : ( ما فعل الحمر الطوال الثطاط ؟ ) فحدثنه بتخلفهم فقال : ( ما فعل النفر السود أو قال القصار الجعاد الثطاط الذين لهم نعم بشبكة سرح ؟ قال : فذكرت في بني غفار فلم أذكرهم حتى ذكرت رهطا من أسلم فقلت يا رسول الله أؤلئك رهط من أسلم قد تخلفوا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فما يمنع أحد أولئك حين تخلف أن يحمل على بعير من أبله امرأ نشيطا في سبيل الله فإن أعز أهلي علي أن يتخلف عني المهاجرون من قريش والانصار وأسلم وغفار )

حضرت ابو رہم کے بھتیجے نے خبر دی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو رہم غفاری سے سماع کیا اور ان کے تعلق نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ سے تھا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم ﷺ کی معیت میں تبوک کی جنگ لڑی پس جب ایک رات ہم چلے تو میں آپ کے قریب چلا۔ مجھے اونگھ آگئی تو میں جاگنے لگا میری سواری آپ ﷺ کی سواری کے بالکل قریب تھی پس سواری کے قریب ہونے سے میں گھبرایا اس خوف سے کہ کہیں اس کا پاؤں رکاب میں نہ لگ جائے میں نے اپنی سواری دور کر لی یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوا پس میری سواری کا پاؤں رکاب میں جا لگا اس کے بھیڑ کرنے کی وجہ سے ۔ پس مجھے جاگ نہ آئی مگر یہ فرمان سن کر : حس ( اچانک ہونے والے درد کے وقت بولا جانے والا لفظ) فوراً میں نے عرض کی : میرے لیے استغفار کریں ! اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: چلو! رسول کریم ﷺ نے مجھ سے اُن لوگوں کے بارے پوچھنا شروع کیا جو بنو ٖ غفار سے پیچھے رہ گئے تھے پس میں آپ ﷺ کو بتانے لگا اچانک آپﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا بنا بچے کی طرح چلنے والے لمبے گدھوں کا ؟ میں نے بیان کیا: وہ پیچھے رہ گئے ۔ فرمایا: سیاہ رنگ والے گروہ نے کیا کیا؟ یا فرمایا: یا فرمایا : بچے کی طرح چلنے والے گھنگھریا لے بالوں والے چھوٹے قد والوں نے کیا کیا جن کیلئے سبک رفتا پھندوں ولاے جانور ہیں؟ ( چوپائے یا سواریاں)۔ راوی کا بیان ہے : میں نے بنو غفار کے بارے بیان کیا لیکن میں نے ان کا ذخ رنہ کیا پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! وہ بنو اسلم کا ایک گروہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں اپنے اونٹ پر کسی چست آدمی کو سوار کرنے سے ان میں سے کسی کو کیا چیز رو ک رہی ہے جب وہ پیچھے رہ گئے ہیں؟ قریش میں سے مہاجرین انصار بنو اسلم اور بنو غفار کا پیچھے رہ جانا مجھ پر گراں ہے ۔

أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ، ← ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 16083

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16084

416 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا علي بن المديني ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح بن كيسان عن الزهري حدثني ابن أخي أبي رهم الغفاري أنه سمع أبا رهم وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم الذين بايعوا تحت الشجرة قال Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فبت ليلة فسرت قريبا منه فذكر الحديث

حضرت ابو رہم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی اور فرمایا: میں نے حضور ﷺ کے ساتھ جہاد کیا میں نے رات گزاری پس میں آپ کے قریب چلا اس کے بعد ساری حدیث ذکر کی ۔

ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 16084

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16085

417 - حدثني أبو أسامة الحلبي ثنا حجاج بن أبي منيع الرصافي ثنا جدي عن الزهري أخبرني ابن أخي أبي رهم الغفاري أنه سمع أبا رهم وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الذين بايعوا تحت الشجرة يقول Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك فلما قفل سرى ليلة بالاخضر فسرت قريبا منه وألقي علينا النعاس فطفقت أستيقظ وقد دنت راحلتي من راحلته فيفزعني دنوها حتى خشيت أن أصيب رجله في الغرز فاؤخر راحلتي حتى غلبتني عيني في بعض الليل فزاحمت راحلتي راحلة رسول الله صلى الله عليه و سلم في الغرز فأصابت رجله فلم أستيقظ إلا بقوله : ( حس ) فقلت يا رسول الله استغفر لي فقال : ( سر ) فطفق النبي صلى الله عليه و سلم يسألني عمن تخلف من بني غفار فأخبرته فقال وهو يسألني : ( ما فعل النفر الحمر الطوال الثطاط ؟ ) فحدثته بتخلفهم فقال : ما فعل السود الجراد القصار الذين لهم نعم بشبكة سرح ؟ قال : فتذكرت في بني غفار فلم أذكرهم حتى ذكرت أنهم رهط من اسلم وقد تخلفوا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( ما منع أحد أولئك حين تخلف أن يحمل على بعير من أبله امرأة نشيطا في سبيل الله فإن أعز أهلي علي أن يتخلف عني المهاجرون من قريش والانصار وأسلم وغفار ) حدثنا محمد بن إسحاق عن الزهري وبين ابن أخي أبي رهم ابن أكيمة

حضرت ابو رہم کے بھتیجے نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ابو رہم غفاری سے سماع کیا اور ان کے تعلق نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ سے تھا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم ﷺ کی معیت میں تبوک کی جنگ لڑی پس جب ایک رات ہم چلے تو میں آپ کے قریب چلا۔ مجھےا ونگھ آگئی تو میں جاگنے لگا میری سواری آپ ﷺ کی سواری کے بالکل قریب تھی پس سواری کے قریب ہونے سے میں گھبرایا اس خوف سے کہ کہیں اس کا پاؤں رکاب میں نہ لگ جائے میں نے اپنی سواری دور کر لی یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھوں میں نیند کا غلبہ ہوا پس میری سواری کا پاؤں رکاب میں جا لگا اس کے بھیڑ کرنے کی وجہ سے ۔ پس مجھے جاگ نہ آئی مگر یہف رمان سن کر : حس( اچانک ہونے والے درد کے وقت بولا جانے والا لفظ) فوراً میں نے عرض کی : میرے لیے استغفار کریں! اے اللہ کےر سول ! آپ ﷺ نے فرمایا: چلو! رسول کریم ﷺ نے مجھ سے اُن لوگوں کے بارے پوچھنا شروع کیا جو بنو غفار سے پیچھے رہ گئے تھے پس میں آپ ﷺ کو بتانے لگا اچانک آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا بنا بچے کی طرح چلنے والے لمبے گدھوں کا؟ میں نے بیان کیا: وہ پیچھے رہ گئے ۔ فرمایا: سیاہ رنگ والے گروہ نے کیا کیا:؟ یا فرمایا: بچے کی طرح چلنے والے گھنگھریالے بالوں والے چھوٹے قد والوں نے کیا کیا جن کیلئے سبک رفتار پھندوں والے جانور ہیں؟( چوپائے یا سواریاں)۔ راوی کا بیان ہے : میں نے بنو غفار کے بارے بیان کیا لیکن میں نے ان کا ذخ رنہ کیا پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! وہ بنو اسلم کا ایک گروہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں اپنے اونٹ پر کسی چست آدمی کو سوار کرنے سے ان میں سے کسی کو کیا چیز روک رہی ہے جب وہ پیچھے رہ گئے ہیں؟ قریش میں سے مہاجرین انصار بنو اسلم اور بنو غفار کا پیچھے رہ جانا مجھ پر گراں ہے ۔ پس اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے حضرت امام زہری سے روایت کیا ان کے اور میرے بھتیجے ابو رہم کے درمیان ابن اُکیمہ ہیں۔

ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← حجاج بن أبي منيع الرصافي ← أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ،

Hadith 16085

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16086

418 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام السدوسي ثنا زياد بن عبد الله البكائي عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن ابن أكيمة اللييثي عن ابن أخي أبي رهم أنه سمع أبا رهم كلثوم بن حصين وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الذين بايعوا تحت الشجرة أنه قال Y غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك فسرت ذات ليلة معه ونحن بالاخضر قريب من رسول الله صلى الله عليه و سلم وألقي علينا النعاس وجعلت أستيقظ وقد دنت راحلتي من راحلة رسول الله صلى الله عليه و سلم فيفزعني دنوها منه مخافة أن أصيب رجله في الغرز فطفقت أحوز راحلتي عنه حتى غلبتني عيني في بعض الطريق ونحن في بعض الليل فزاحمت راحلتي راحلة رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجله في الغرز فما أستيقظت إلا بقوله : ( حس ) فقلت يا رسول الله استغفر لي فقال : ( سر ) فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يسألني عمن تخلف من بني غفار فأخبره به فقال وهو يسألني : ( ما فعل النفر الحمر الطوال الثطاط ؟ ) فحدثته بتخلفهم فقال : ما فعل السود الجعاد القصار ؟ قال : قلت والله ما أعرف هؤلاء منا قال : ( بلى الذين لهم نعم بشبكة شدخ ) فتذكرتهم في بني غفار ولم أذكرهم حتى ذكرت أنهم رهط من اسلم كانوا حلفاء فينا فقلت يا رسول الله أولئك رهط من أسلم كانوا حلفاء فينا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( ما منع أحد أولئك حين تخلف أن يحمل على بعير من أبله امرأة نشيطا في سبيل الله إن أعز أهلي علي أن يتخلف عني المهاجرون من قريش والانصار وغفار وأسلم )

حضرت ابو رہم کے بھتیجے نے خبر دی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو رہم غفاری سے سماع کیا اور ان کے تعلق نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ سے تھا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم ﷺ کی معیت میں تبوک کی جنگ لڑی پس جب ایک رات ہم چلے تو میں آپ کے قریب چلا۔ مجھے اونگھ آگئی تو میں جاگنے لگا میری سواری آپ ﷺ کی سواری کے بالکل قریب تھی پس سواری کے قریب ہونے سے میں گھبرایا اس خوف سے کہ کہیں اس کا پاؤں رکاب میں نہ لگ جائے میں نے اپنی سواری دور کر لی یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوا پس میری سواری کا پاؤں رکاب میں جا لگا اس کے بھیڑ کرنے کی وجہ سے ۔ پس مجھے جاگ نہ آئی مگر یہ فرمان سن کر : حس ( اچانک ہونے والے درد کے وقت بولا جانے والا لفظ) فوراً میں نے عرض کی : میرے لیے استغفار کریں ! اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: چلو! رسول کریم ﷺ نے مجھ سے اُن لوگوں کے بارے پوچھنا شروع کیا جو بنو ٖ غفار سے پیچھے رہ گئے تھے پس میں آپ ﷺ کو بتانے لگا اچانک آپﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا بنا بچے کی طرح چلنے والے لمبے گدھوں کا ؟ میں نے بیان کیا: وہ پیچھے رہ گئے ۔ فرمایا: سیاہ رنگ والے گروہ نے کیا کیا؟ یا فرمایا: یا فرمایا : بچے کی طرح چلنے والے گھنگھریا لے بالوں والے چھوٹے قد والوں نے کیا کیا جن کیلئے سبک رفتا پھندوں ولاے جانور ہیں؟ ( چوپائے یا سواریاں)۔ راوی کا بیان ہے : میں نے بنو غفار کے بارے بیان کیا لیکن میں نے ان کا ذخ رنہ کیا پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! وہ بنو اسلم کا ایک گروہ ہے جو پیچھے رہ گیا ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں اپنے اونٹ پر کسی چست آدمی کو سوار کرنے سے ان میں سے کسی کو کیا چیز رو ک رہی ہے جب وہ پیچھے رہ گئے ہیں؟ قریش میں سے مہاجرین انصار بنو اسلم اور بنو غفار کا پیچھے رہ جانا مجھ پر گراں ہے ۔

ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ ← ابن أكيمة اللييثي ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← عبد الملك بن هشام السدوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Hadith 16086

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16087

419 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا إبراهيم بن إسحاق الضبي قالا ثنا قيس بن الربيع عن محمد بن علي السلمي عن إسحاق بن عبد الله المدني عن أبي حازم مولى أبي رهم حدثني مولاي أبو رهم قال Y شهدته أنا وأخي خيبر ومعنا فرسان فقسم لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة أسهم للفرسين أربعة أسهم ولنا سهمين فبعنا سهمينا ببكرين

حضرت ابو رہم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی خیبر کے جہاد میں شریک ہوئے تھے ہمارے پاس دو گھوڑے تھے حضور ﷺ نے ہمیں چھ حصے دئیے اور گھوڑے کے چار حصے اور ہمیں دو حصے دئیے ہم نے اپنے دو حصے دو جوان اونٹوں کے بدلے فروخت کیے ۔

شهدته ← مَوْلَاي أَبُو رُهْمٍ، ← أبي حازم مولى أبي رهم ← إسحاق بن عبد الله المدني، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السُّلَمِيِّ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 16087

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ما أسند أبو رهم الغفاري · حديث 16088

420 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ثنا إسماعيل بن عياش عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن أبي حازم مولى أبي رهم عن أبي رهم وعن أخيه Y أنهما كانا فارسين يوم خيبر فأعطيا ستة أسهم أربعة لفرسيهما وسهمان لهما فباعا السهمين ببكرين

حضرت ابو رہم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی خیبر کے جہاد میں شریک ہوئے تھے ہمارے پاس دو گھوڑے تھے حضور ﷺ نے ہمیں چھ حصے دئیے اور گھوڑے کے چار حصے اور ہمیں دو حصے دئیے ہم نے اپنے دو حصے دو جوان اونٹوں کے بدلے فروخت کیے ۔

أَبِي رُهْمٍ ← أبي حازم مولى أبي رهم ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Hadith 16088

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كلدة بن حنبل الغساني ما أسند كلدة بن حنبل · حديث 16089

421 - حدثنا أحمد بن الحسن المصري الأبلي ثنا أبو عاصم ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا العباس بن الفرح الرياشي ( ح ) وحدثنا الحسن بن حماد بن فضالة الصيرفي البصري ثنا أبو حفص عمرو بن علي قالا ثنا أبو عاصم ( ح ) وحدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا روح بن عبادة ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا روح بن عبادة قالا ثنا ابن جريح أخبرني عمرو بن أبي سفيان أن عمرو بن عبد الله بن صفوان أخبره أن كلدة بن حنبل أخبره أن صفوان بن أمية Y بعثه في الفتح إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بلبن وجداية وضغابيس والنبي صلى الله عليه و سلم بأعلى الوادي فدخلت فلم استأذن ولم أسلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أخرج فقال السلام عليكم أأدخل ؟ ) وذلك بعدما أسلم صفوان قال أبو عاصم : الضغابيس بغلة تكون في البادية

حضرت کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن امیہ نے فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کی طرف دودھ ہرن کا چھ ماہ کا بچہ اور جنگلی خچر بھیجے اور حضؤر ﷺ وادی کے اوپر تھے میں آپ کے پاس آیا نہ آپ سےا جازت مانگی اور نہ سلام کیا حضورﷺ نے فرمایا: باہر نکل اور کہہ: السلام علیکم ! کیا میں داخل ہو جاؤں! یہ واقعہ حضرت صفوان کے اسلام لانے کے بعد کا ہے ۔ ابو عامر فرماتے ہیں: ضغابیس سے مراد وہ خچر ہے جو دیہات میں ہوتا ہے ۔

عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ فَضَالَةَ الصَّيْرَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← العباس بن الفرح الرياشي ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ الأُبُلِّيُّ

Hadith 16089

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ من اسمه كدير كدير الضبي كان ينزل الكوفة وقد اختلف في صحبته · حديث 16090

422 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن أبي إسحاق أخبرني كدير الضبي Y أن رجلا إعرابيا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أخبرني بعمل يقربني من الجنة ويباعدني من النار فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( او هما أهملتاك ؟ ) قال : نعم قال : ( تقول العدل وتعطي الفضل ) قال : والله ما استطيع أن أقول العدل كل ساعة وما استطيع أن أعطى فضل مالي قال : تطعم الطعام وتفشي السلام قال : هذه أيضا شديدة فقال : فهل لك إبل ؟ قال : نعم قال : فانظر إلى بعير من إبلك وسقاء ثم اعمد إلى أهل بيت لا يشربون الماء إلا عبا فاسقهم فلعلك لا تهلك بعيرك ولا تخرق سقاءك حتى تجب لك الجنة فانطلق إعرابي يكبر فما انخرق سقاؤه ولا هلك بعيره حتى قتل شهيدا

حضرت کدیر ضبی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کر دے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا یہی دو چیزیں تیرے لئے اہم ہیں؟ عرض کی : ہاں! فرمایا: عدل کا کلمہ کہہ اور اپنے سے بچا ہوا دیدے ۔ اس نے عرض کی : بخدا! میں طاقت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کا کلمہ کہوں اور نہ ہی اپنے مال کا بقیہ دے سکتا ہوں۔ فرمایا: کھانا کھلا اور سلام کو عام کر۔ عرض کی : یہ اُس سے زیادہ سخت ہے ۔ فرمایا: کیا تیری ملکیت میں اونٹ ہے ؟ عرض کی : ہاں! فرمایا: اپنے اونٹوں میں سے ایک کو دیکھ لے اور ڈول رسی بھی لے لے پھر ایسے گھر والے جنہیں پانی پینے کو ایک دن ملتا ہے اور ایک دن نہیں ملتا تو انہیں جا کر پانی پلا ابھی تیرا اونٹ ہلاک نہ ہوا ہو گا اور نہ تیرے ڈول رسی کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہوں گے حتیٰ کہ جنت تیرے لیے واجب ہو جائے گی۔ اعرابی اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا گیا پس ابھی اس کی رسی نہیں ٹوٹی تھی اور نہ اس کا اونٹ مرا تھا کہ وہ شہادت کی موت پا گیا۔

كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 16090

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ من اسمه كثير كثير بن العباس · حديث 16091

423 - حدثنا أبو عبيدة عبد الوارث بن إبراهيم العسكري ثنا أبو الربيع المازني ثنا الحسن بن عنبسة ثنا علي بن هاشم عن الصباح بن يحيى عن يزيد بن أبي زياد عن العباس بن كثير بن العباس قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجمعنا أنا و عبد الله و عبيد الله وقثم فيعرج يديه هكذا فيمد باعه ويقول : ( من سبق إلي فله كذا وكذا )

حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ہمیں اکٹھا کرتے مجھے اور عبداللہ عبید اللہ قثم اپنے ہاتھوں کو اس طرح کھولتے اپنے بازو پھیلاتے اور فرماتے : جو میری طرف پہلے آئے گا اُس کے لیے اتنا اتنا انعام ہے ۔

مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا ← و عبد الله و عبيد الله وقثم فيعرج يديه هكذا فيمد باعه ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجمعنا ← العباس بن كثير بن العباس ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← الصباح بن يحيى ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← الحسن بن عنبسة ← أبو الربيع المازني ← أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ،

Hadith 16091

chevron_left Previous
1…26272829
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter