Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ باب · حديث 16068

400 - حدثنا محمد بن إبان الاصبهاني ثنا محمد بن عبادة الواسطي ثنا يعقوب بن محمد الزهري حدثتني كرامة بنت الحسين بن جعفر بن الحارث الانصارية قالت سمعت أبي يحدث عن أبي عياش الزرقي عن جابر بن عبد الله عن كعب بن عاصم الاشعري قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب في حجة الوداع في أوسط أيام التشريق يقول : ( هذا اليوم حرام ؟ قالوا بلى يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن حرمتكم بينكم كحرمة يومكم هذا أنبئكم من المسلم ؟ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده أنبئكم من المؤمن ؟ من أمنه المسلمون على أنفسهم وأموالهم وأنبئكم من المهاجر ؟ المهاجر من هجر السيئات مما حرم الله عليه والمؤمن على المؤمن حرام كحرمة هذا اليوم لحمه عليه حرام أن يأكله بالغيب ويغتابه وعرضه عليه حرام أن يخرقه ووجهه عليه حرام أن يلطمه وأذاه عليه حرام أن يؤذيه وعليه حرام أن يدفعه دفعا يتعتعه )

حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایام تشریق کے درمیان( ایک دن ) رسول کریم ﷺ کو حجتہ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے سنا: کیا یہ دن عزت و حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہاں! کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول ! فرمایا: تمہاری آپس میں حرمت اس دن کی حرمت کی طرح ہے کیا میں تمہیں اگاہ کروں کہ مسلمان کون ہے ؟ ( فرمایا:) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔( فرمایا:) کیا میں تمہیں اگاہ نہ کروں کہ مؤمن کون ہے ؟ جس سے مسلمانوں کی جانیں اور مال محفوظ ہوں اور میں تمہیں آگاہ کروں کہ مہاجر کون ہے ؟ مہاجر وہ ہے جو بُرائیوں کو چھوڑ دے جو اللہ نے اس پر حرام کی ہیں۔ مؤمن پورے کا پورا دوسرے مؤمن پر حرام ہے اور اس کی حرمت اس دن کی حرمت کی طرح ہے اس کا گوشت اس پر حرام ہے کہ اس کی گیبت کر کے پوشیدگی میں اسے کھائے۔ اس کی عزت خراب کرنا اس پر حرام کرے اس کا چہرہ کہ اس پر تھپڑ مارے حرام ہے اس کو تکلیف میں مبتلا کرنا حرما ہے اور اس پر یہ بھی حرام ہے کہ اسے عتاب کرتے ہوئے اسے دھکے دے ۔

بَلٰی ← هَذَا الْيَوْمُ حَرَامٌ؟ ← كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← أَبِي ← يعقوب بن محمد الزهري حدثتني كرامة بنت الحسين بن جعفر بن الحارث الانصارية ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16068

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ باب · حديث 16069

401 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا بشر بن آدم قال ثنا يعقوب بن محمد الزرقي قال حدثتني كرامة بنت الحسين بن الحارث بن عبد الله بن كعب المازني - وكان عبد الله بن كعب على ثقل النبي صلى الله عليه و سلم يوم بدر - Y قالت سمعت أبي يحدث عن أبي عياش الزرقي عن جابر بن عبد الله حدثني كعب بن عاصم الاشعري قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يخطب أوسط أيام الاضحى عند الجمرة

حضرت کرامہ بنت حسین بن حارث بن عبداللہ بن کعب المازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن کعب بن بدر کے دن حضور ﷺ کے ساتھ تھے میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا: ابو عیاش الزرقی کے حوالہ سے وہ حضرت جابر بن عبداللہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت کعب بن عا صم نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ جمرہ کے پاس قربانی کے دنوں میں سے درمیان والے دن آپ خطبہ دیتے تھے ۔

يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّرَقِيُّ ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16069

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن زهير بن أبي سلمى · حديث 16070

402 - حدثنا أبو خليفة عن محمد بن سلام قال Y واسم أبي سلمى ربيعة بن رياح بن قرظ بن الحارث بن مازن بن ثعلبة بن ثور بن هدمة بن لاطي بن عثمان بن مزينة

حضرت ابو خلیفہ ہمیں حدیث بیان کرتے ہیں اُنہوں نے حضرت محمد بن سلام سے روایت کیا ۔ وہ فرماتے ہیں: ابو سلمیٰ کا اصل نام ( ونسب ) ربیعہ بن ریاح بن قرظ بن حارث بن مازن بن ثعلبہ بن ثور بن ہدمہ بن لاطی بن عثمان بن مزینہ ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16070

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن زهير بن أبي سلمى · حديث 16071

403 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق قال Y لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة منصرفه من الطائف كتب بجير بن زهير بن أبي سلمى إلى أخيه كعب بن زهير بن أبي سلمى يخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قتل رجلا بمكة ممن كان يهجوه ويؤذيه وإنه من بقي من شعراء قريش ابن الزبعري و هبيرة بن أبي وهب قد هربوا في كل وجه فإن كانت لك في نفسك حاجة ففر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنه لا يقتل أحدا جاء تائبا وإن أنت لم تفعل فانج إلى نجائك وقد كان كعب قال أبيات نال فيها من رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما بلغ كعبا الكتاب ضاقت به الأرض وأشفق على نفسه وأرجف به من كان في حاضره من عدوه قالوا هو مقتول فلما لم يجد من شيء بدا قال قصيدته التي مدح فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكر خوفه وارجاف الوشاة به من غده ثم خرج حتى قدم المدينة فنزل على رجل كانت بينه وبينه معرفة من جهينه كما ذكر لي فغدا به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حين صلى الصبح فصلى مع الناس ثم أشار له إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقم إليه فاستأمنه فذكر لي أنه قام إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى وضع يده في يده وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يعرفه فقال : يا رسول الله إن كعب بن زهير جاء يستأمن منك تائبا مسلما فهل أنت قابل منه أن أنا جئتك به ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم قال : يا رسول الله انا كعب بن زهير قال ابن إسحاق : فحدثني عاصم بن عمرو بن قتادة قال : وثب عليه رجل من الانصار فقال : يا رسول الله دعني وعدو الله أضرب عنقه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( دعه عنك فإنه قد جاء تائبا نازعا فغضت على هذا الحي من الانصار بما صنع به صاحبهم وذلك أنه لم يتكلم فيه رجل من المهاجرين إلا بخير فقال قصيدته التي قالها حين قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان مما قال فيها : ( تمشي الوشاة بجنبيها وقولهم ... إنك يا ابن أبي سلمى لمقتول ) ( وتنل كل صديق كنت آمله ... لا ألقينك إني عنك مشغول ) ( فقلت خلوا سبيلي لا أبالكم ... فكل ما قدر الرحمن مفعول ) ( كل ابن انثى وان طالت سلامته ... يوما على آلة حدباء محمول ) ( نبئت أن رسول الله أوعدني ... والعفو عند رسول الله مأمول ) ( مهلا هداك الذي أعطاك نافلة الفرقان فيها مواعيظ وتفصيل ) ( لا تأخذني بأقوال الوشاة ولم ... أذنب ولو كثرت في الأقاويل ) ( إن الرسول لنور يستضاء به مهند من سيوف الله مسلول ) ( في عصبة من قريش قال قائلهم ... ببطن مكة لما أسلموا زولوا ) ( زالوا فما زال أنكاس ولا كشف ... عند اللقاء ولا ميل معازيل ) ( يمشون مشي الجمال الزهر يعصمهم ... ضرب إذا عرد السود التنابيل ) ( شم العرانين أبطال لبوسهم ... من نسج داود في الهيجا سرابيل ) ( بيض سوابغ قد شكت لها حلق ... كأنها حلق العقفاء مجدول ) ( ليست مفاريح إن نالت رماحهم ... قوما وليسوا مجازيعا وان ينلوا ) ( لا يقم الطعن إلا في نحورهم ... وما لهم عن حياض الموت تهليل ) قال ابن إسحاق : فحدثني عاصم بن عمرو قال : فلا قال : السود التنابيل وإنما يريد معشر الانصار إنما كان صاحبهم صنع وخص المهاجرين من قريش من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بمدحته غضبت عليه الانصار فقال بعد أن أسلم يمدح الانصار ويذكر بلاءهم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وموضعهم في النبي صلى الله عليه و سلم : ( من سره كرم الحياة فلا يزل ... في مقنب من صلحي الانصار ) ( الباذنين نفوسهم لنبيهم ... يوم الهياج وفتنة الحار ) ( والضاربين الناس عن أحياضهم ... بالمشرفي وبالقنا الخطار ) ( والناظرين بأعين محمرة ... كالجمر غير كليلة الابصار ) ( يتطهرون كأنه نسك لهم ... بدماء من قتلوا من الكفار ) ( لو يعلم الاقوام علمي كله ... فيهم لصدقني الذين أمارى )

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ طائف سے واپسی پر مدینہ تشریف لائے تو بحیربن زہری بن ابو سلمیٰ نے اپنے بھائی ( جاہلی شاعر) کعب بن زہیر بن ابو سلمیٰ کو خط لکھا تاکہ اس کو بتائے کہ رسول کریم ﷺ نے مکہ میں ان لوگوں میں سے ایک آدمی کو قتل کر دیا جو ان کی مذمت کرتے اور تکلیف دیتے تھے ۔ اور یہ کہ قریش کے شاعروں میں سے جو بچ گئے ہیں وہ ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابو وہب ہیں جو ہر طرح سے بھاگ چکے ہیں۔ اگر تجھے اپنی جان کی ضرورت ہے ( جہاں بھی ہے ) بھاگ کر رسول کریم ﷺ کی پناہ حاصل کر لے کیونکہ جو آدمی توبہ کر کے ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے وہ اسے قتل نہیں کرتے اور اگر تُو نے ایسا نہ کیا تو نجارت پانے کی کوشش کر جہاں تیری نجات کی جگہ ہے۔ کعب کی حالت یہ تھی کہ اس نے ایسے اشعار کہے جن میں رسول کریم ﷺ کو ناراض کیا۔ پس جب کعب کو خط پہنچا تو اس پر زمین تنگ ہو گئی جان پر خوف محسوس ہونے لگا( ہر ایک کو زندگی پیاری ہوتی ہے ) اس دشمن جو حاضر تھے انہوں نے اسے اور ڈرایا کہ وہ قتل ہونے والا ہے جب اس نے کوئی چارہ نہ پایا تو اس نے ایک قصیدہ لکھا جس میں اس نے رسول کریم ﷺ کی تعریف کی اپنے خوف کا زکر کیا اور اپنے دشمنوں میں سے چغل خوروں کے ڈرانے دھمکانے کی بات بھی کی ۔ پھر وہ نکلا یہاں تک کہ مدینہ شریف آیا اس نے ایک ایسے آدمی کے پاس پڑاؤ ڈالا جس سے اس کی شنا سائی تھی بنو جہینہ سے اس کا تعلق تھا۔( راوی کہتے ہیں:) جیسے مجھے ذکر کیا۔ پس وہ اسے صبح رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں لایا جب اپ نے صبح کی نماز پرھی اس نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں پس اُٹھ کر ان کی بارگاہ میں امان طلب کر ۔ پس اس نے مجھے ذکر کیا کہ وہ اُٹھ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا جبکہ رسول کریم ﷺ سے اس کا تعارف نہیں تھا۔ اس آدمی نےع رض کی : اے اللہ کے رسول! بے شک کعب بن زہیر آیا تاکہ آپ سے امان طلب کرے اس نے سابقہ گناہوں سے توبہ کر لی ہے اور اسلام بھی قبول کر لیا کیا آپ اسے قبول فرمائیں گے اگر میں اسے آپ کی خدمت میں لے آؤں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ہاں! اس نے عرض کی : میں کعب بن زہیر ہوں اے اللہ کے رسول! حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں: پس مجھے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: انصار میں سےا یک آدمی اس پر جھپٹا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اللہ کے دشمن کی گردن اُتار دوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ توبہ کر کے اپنے نفس سے جھگڑتے ہوئے آیا ہے پس کعب انصار کے اس قبیلے پر غصے ہوا اس وجہ سے ان میں سے ایک آدمی نے ایسا کام کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مہاجرین میں سے کسی آدمی نے اس کے بارے کوئی بات نہ کی مگر بھلائی کی ۔ جب رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں آیا تو اس نے قصیدہ کہا اس کے چند اشعاریہ ہیں: چغل خور اس کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ چلتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اے ابن ابو سلمیٰ ! تُو قتل کر دیا جائے گا اور ہر دوست نے کہا : میں اسی کی اُمید کرنے والا ہوں میں آپ سے نہ ملوں گا اس طرح کہ میں آپ سے نفرت کرنے والا ہوں۔ پس میں نے کہا: میرا راستہ چھوڑ دو مجھے تمہارا باپ نہ ہو پس وہی ہو گا جو رحمان نے تقدیر میں ہونا لکھ دیا ہے ۔ عورت کا ہر بیٹا اگرچفہ اس کی سلامتی کے دن لمبے ہوں ایک دن ٹیڑھے آلہ پر سوار ہونے والا ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے دھمکی دی ہے جبکہ رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں معافی کی اُمید کی جاتی ہے ٹھہرو! آپ کو ہدایت دی ہے اُس ذات نے جس نے آپ کو فرقان پر زائد بھی دیا ہے جس میں نصیحتیں اور تفصیل ہے ۔ چغل خوروں کی باتوں کی وجہ سے میری گرفت نہ فرمانا جبکہ میرا گناہ کوئی نہیں اگرچہ میرے بارے میں جھوٹی باتیں بہت کہی گئی ہیں۔ بے شک رسول کریم ﷺ ایسا جانور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اللہ کی تلواروں میں سے بے نیام تلوار ہیں۔ قریشیوں کے گروہ میں ایک کہنے والے نے کہا( مکہ کی وادی میں جب وہ اسلام لائے) ختم ہو جاؤ وہ خود ختم ہو گئے پس بزرگی و شرافت ختم نہ ہوئی ( وہ ہمیشہ رہی ) ملاقات کے وقت کشف نہیں اور نہ کوئی شنگ میل ہے جس سے الگ ہو کر مسافر منزل بنائیں۔ وہ خوبصورت ستارے کے چلنے کی طرح چلتے ہیں ایک ضرب ان کی حفاظت کرتی ہے جب بزرگ و شرافت والے سردار راستہ سے ہٹ جاتے ہیں۔ باعزت لوگ کڑیل جوان ہیں ان کے لباس حضرت داؤد کے بُنے ہوئے ہیں جو جنگ میں جامہ اک کام دیتے ہیں۔ رنگی ہوئی چمکتی تلواریں ہیں جن کیلئے حلقے ( کڑے ) جڑ گئے ہیں گویا کہ مڑے ہوئے لوہے کے مظبوط کڑے ہیں ۔ اگر ان کے نیزے کسی قوم کو لگیں تو وہ جزع فزع کی جگہ نہیں ہیں اگرچہ ان کو نیزے لگیں۔ نیزے ان کے سینوں میں لگتے ہیں موت کے حوضوں سے ان کیلئے ہلال کی شکل کی تلواریں یا نیزے نہیں ہیں۔ حضرت ابن اسحاق نے کہا: پس مجھے عاصم بن عمرو نے حدیث بیان کی کہا: پس اس نے یہ کلام پڑھا: السود التنابیل تو اس نے انصار کا گروہ مراد لیا اس وجہ سے کہ ان کے ایک ساتھی نے ہی وہ ( اس پر حملے والا) کام کیا تھا۔ اور اس نے خاص کر کے حضرت محمد ﷺ کے صحابہ میں سے قریشی مہاجرین کی تعریف کی اس پر انصار کو غصہ آیا تو اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد انصار کی تعریف کی اور رسول کریم ﷺ کی معیت میں جو ان کی آزمائشیں آئیں اور رسول کریم ﷺ کے ہاں ان کا جو مقام تھا اس کا تذکرہ کیا:جس شخص کو زندگی کی سخاوت و مہر بانی خوش کرے وہ انصار کے نیک لوگوں کے دستے میں رہے جو اپنے نبی ﷺ کیلئے جانیں قربان کرنے والے ہیں لڑائی اور پریشان کر د ینے والے فتنے کے دن اپنے علاقوں کی حفاظت کیلئے مشرفی تلوار اور کھٹلنے والے نیزوں سے لوگوں کو مارنے والے ہیں انگاروں کی طرح سرخ آنکھوں سے دیکھنے والے ہیں جو آنکھیں تھکنے والی نہیں ہیں پاکیز گی حاصل کرنے والے ہیں گویا کہ ان کی قربانیاں کافروں میں سے قتل ہونے والوں کے خونوں کے ساتھ ہیں اگر قو میں ( مختلف گروہ) میرا سارا علم جانیں میری تصدیق ان لوگوں نے کی ہے جن کے بارے میں نے مناظرہ کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16071

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عياض الاشعري · حديث 16072

404 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح أن عبد الرحمن بن جبير بن نفير حدثه عن أبيه عن كعب بن عياض قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( إن لكل أمة فتنة وأن فتنة أمتي المال )

حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ہر اُمت کے لیے کوئی فتنی تھا میری اُمت کیلئے فتنہ مال ہے ۔

إن لكل أمة فتنة وإن فتنة أمتي المال ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16072

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عياض الاشعري · حديث 16073

405 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا عبد الله ين يحيى الاسكندراني ثنا معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية عن جبير بن نفير عن كعب بن عياض Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( القصاص ثلاثة أمير أو مأمور أو مختال )

حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قصے بیان کرنے والے تپن ہی ہو سکتے ہیں: 1 حکمران 2 اس کا مقرہ کردہ 3 فخر کرنے والا۔

الْقِصَاصُ ثَلَاثَةٌ: أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عبد الله ين يحيى الاسكندراني ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16073

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عياض الاشعري · حديث 16074

406 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي ثنا المسيب بن واضح ثنا حجاج بن محمد ثنا ليث بن سعد عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن كعب بن عياض الاشعري Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( لو سئل لابن آدم واديان من مال لتمنى إليها ثالثا ولا يشبع ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب )

حضرت کعب بن عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر آدم علیہ السلام کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں بھری ہوئی ہوں تو وہ تیسری کی تمنا کرے آدمی کا پیٹ مٹی ہی بھرتی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے جو توبہ کرے یا جس نے توبہ کی۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16074

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16075

407 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو معمر المقعد ثنا عبد الوارث بن سعيد عن ليث عن أبي سليم عن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده قال Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح رأسه مرة هكذا حتى بلغ القذال

حضرت طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سےر وایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا آپ نے اپنے سر مبارک کا مسح اس طرح کیا یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← أبي سليم ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16075

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16076

408 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا عبد الوارث عن ليث عن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده قال Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح رأسه من مقدمه إلى مؤخره وأخرج يديه من تحت أذنيه

حضرت طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے سر کا مسح کیا آگے سے شروع کیا پیچھے کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16076

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16077

409 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا شيبان بن فروخ ثنا أبو سلمة الكندي ثنا ليث بن أبي سليم حدثني طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ فمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا يأخذ لكل واحدة ماء جديدا وغسل وجهه ثلاثا فلما مسح رأسه قال هكذا وأومأ بيده من مقدم رأسه حتى بلغ بهما إلى أسفل عنقه من قبل قفاه

حضرت طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے وضو کیا تین مرتبہ کُلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ہر مرتبہ نیا پانی لیا اور چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا جب سر کا مسح کرنے لگے تو آپ نےسر کے آگے والے حصے سے اشارہ کیا اور ان کو گردن کے نیچے تک لے گئے گدی کی طرف سے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← ليث بن أبي سليم ← أبو سلمة الكندي ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16077

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16078

410 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا أمية بن بسطام ثنا معتمر ثنا ليث عن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده قال Y دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يتوضأ والماء يسيل من وجهه على لحيته وصدره يفصل بين المضمضة والاستنشاق

حضرت طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پاس آیا تو آپ وضو کر رہے تھے اور پانی اپ کے چہرہ مبارک سے داڑھی شریف اور سینہ مبارک پر بہہ رہا تھا آپ کُلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے درمیان فاصلہ کرتے تھے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← لَيْثٌ، ← مُعْتَمِرٌ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16078

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ كعب بن عمرو اليامي · حديث 16079

411 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا سعيد بن عنبسة الخزاز ثنا شعيب بن حرب ثنا مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده قال Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ فمسح رأسه

حضرت طلحہ بن مصرف اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور سر کا مسح کیا۔

رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ فمسح رأسه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ← سعيد بن عنبسة الخزاز ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16079

chevron_left Previous
1…26272829
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter