المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ الماجشون عن أسماء · حديث 20303
284 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا يوسف بن الماجشون عن أبيه Y عن أسماء بنت أبي بكر قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يأتينا بمكة كل يوم مرتين فلما كان يوما من ذلك جاءنا في الظهيرة فقلت : يا أبه هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : بأبي وأمي ما جاء به في هذه الساعة إلا أمر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : هل شعرت أن الله قد أذن لي في الخروج ؟ فقال أبو بكر : فالصاحبة يا رسول الله قال : الصحابة فقال أبو بكر : إن عندي لراحلتين قد علفتهما منذ كذا وكذا انتظارا لهذا اليوم فخذ إحداهما فقال : بثمنها يا أبا بكر قال : بثمنها بأبي أنت وأمي إن شئت قال : فهيأنا لهم سفرة ثم قطعت نطاقها فربطتها ببعضه فخرجا فمكثا في الغار في جبل ثور فلما انتهيا إليه دخل أبو بكر الغار قبله فلم يترك فيه جحرا إلا أدخل فيه أصبعه مخافة أن يكون فيه هامة وخرجت قريش حين فقدوهما في بغائهما وجعلوا في النبي صلى الله عليه و سلم مائة ناقة وخرجوا يطوفون في جبال مكة حتى انتهوا إلى الجبل الذي هما فيه فقال أبو بكر لرجل يراه مواجه الغار : يا رسول الله إنه ليرانا فقال : كلا إن ملائكة تسترنا بأجنحتها فجلس ذلك الرجل [ فبال ] مواجه الغار فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو كان يرانا ما فعل هذا فمكثنا ثلاث ليال يروح عليهما عامر بن فهيرة مولى أبي بكر غنما لأبي بكر ويدلج من عندهما ويصبح مع الرعاة في مراعها ويروح معهم ويتطأطأ في المشي حتى إذا اظلم إنصرف بغنمه إليهما فيظن الرعاة أنه معهم وعبد الله بن أبي بكر يظل بمكة يبطش الأخبار ثم ياتيهما إذا أظلم فيخبرهما ثم يدلج من عندهما فيصبح بمكة كبائت ثم خرجا من الغار فأخذا على الساحل فجعل أبو بكر يسير أمامه فإذا خشي أن يؤتى من خلفه سار خلفه فلم يزل كذلك مسيره وكان أبو بكر معروفا في الناس فإذا لقيه لاق قال لأبي بكر : من هذا معك ؟ فيقول : هاد يهديني يريد الهداية في الدين ويحسبه الآخر دليلا حتى إذا كانا بأبيات قديد وكان على طريقهما على الساحل جاء إنسان إلى مجلس بني مدلج فقال : قد رأيت راكبين نحو الساحل فإني أرى أحدهما لصاحب قريش الذي يبغون فقال سراقة بن مالك : ذانك راكبان ممن بعثنا في طلبه [ يواري ] القوم ثم دعا جاريته فسارها فأمرها أن تخرج بفرسه وتحط رمحه ولا تنصبه حتى يأتيه في قراره بموضع كذا وكذا ثم يجيئها فركب فرسه ثم خرج في آثارهما فقال سراقة : فدنوت منهما حتى إني لأسمع قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ركضت الفرس فوقعت بمنخرها فأخرجت قداحا في كنانتي فضربت بها أضره أم لا أضره فخرج لاتضره فأبت نفسي حتى اتبعته فأدركته بمثل ذلك الموضع فوقعت الفرس فاستخرجت يده مرة أخرى فضربت بالقداح أضره أم لا أضره فخرج لا تضره فأبت نفسي حتى إذا كنت بمثل ذلك الموضع خشيت أن يصيبني مثل ما أصابني فناديته فقلت : إني أرى سيكون لك شأنا فقف أكلمك فوقف النبي صلى الله عليه و سلم فسأله أن يكتب له أمانا فأمره أن يكتب له فكتب له قال سراقة : فلما كان يوم حنين جئت بالكتاب فأخرجته وناديت : أنا سراقة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يوم وفاء قال سراقة : فما شبهت ساقه في غرره إلا الجمار فذكرت له شيئا أسأله فقلت : يا رسول الله إني رجل ذو نعم وإن الحياض تملأ من الماء فيشرب فيفضل من الماء في الحياض فيرد الهمل فهل لي في ذلك من أجر ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : نعم في كل كبد حرى أجر
حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ہم مکہ میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ہر روز دوبار آیا کرتے تھے ۔ ایک دن آپ دوپہر کے وقت آئے ۔ میں نے عرض کی : اے باپ! یہ اللہ کے رسول آئے ہیں ۔ کہا : میرے ماں باپ قربان ! اس گھڑی آپ کسی کام سے ہی تشریف لائے ہوں گے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان سے فرمایا : کیا آپ کو معلوم ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !ساتھیوں کو بھی اجازت ہے ۔ فرمایا : ساتھیوں کو بھی اجازت ہے ۔ حضرت ابو بکر نے عرض کی : بیشک میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ، جن کو میں نے فلاں فلاں دن سے اس دن انتظار میں پالا ۔ ان میں سے ایک آپ لے لیں ۔ فرمایا : قیمت کے بدلے لوں گا اے ابو بکر ! عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان اگر آپ چاہیں تو قیمت دے کر لیں ۔ فرماتی ہیں : ہم نے ان کے لیے سفر کا سامان تیار کیا ۔ پھر میں نے اپنی اوڑھنی کے دو حصے کیے ۔ایک حصے سے سامان کو باندھا ۔ پس دونوں تشریف لے چلے ۔ جبل ثور کی غار میں جا ٹھہرے ۔ جب اس تک پہنچے تو پہلے حضرت ابو بکر غار میں گئے ۔ پس انہوں نے کوئی سوراخ نہ چھوڑا مگر اس میں انگلی داخل کر کے معلوم کیا کہ کہیں اس میں کوئی نقان دہ کیڑا نہ ہو ۔ پس قریش نکلے جب انہوں نے دونوں حضرات کو پنے گھروں میں نہ پایا ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے لیے سو اونٹ انعام مقرر کیا ۔ پس وہ مکہ کے پہاڑوں کے چکر لگاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ اس پہاڑ تک جا پہنچے جس میں دونوں ہستیاں موجود تھیں ۔ ایک آدمی کے حوالے سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، جس کو آپ نے غار کے منہ پر دیکھا ،اے اللہ کے رسول !وہ ہمیں دکھ سکتا ہے ۔ فرمایا : ہر گز نہیں ۔ فرشتوں نے اپنے پروں سے ہمیں چھپائے ہوئے ہیں ۔ پس اس آدمی نے غار کے منہ کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اگر وہ ہمیں دیکھ سکتا تو یہ کام نہ کرتا ۔ پس وہ تین رات وہاں رکے ۔شام کے وقت حضرت ابو بکر کا غلام حضرت عامر بن فہیرہ حضرت ابو بکر کی بکریاں لاتا ۔ اندھیرا ہو جاتا تو ان کے پاس واپس آتا۔ صبح دورے چرواہوں کے ساتھ چراگاہ میں جاتا اور شام کو واپس آنےلگتا تو آہستہ آہستہ چلتا یہاں تک جب اندھیرا پڑ جاتا تو ریوڑ کو ان کی طرف موڑ دیتا ۔ چرواہے گمان کرتے کہ وہ ان کے ساتھ ہی ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن ابو بکر مکہ میں دن گزارتا تاکہ مکہ کی خبریں اکٹھی کرے ۔ پھر جب اندھیرا ہ جاتا تو ان کے پاس آکر بتاتا ۔ پھر اندھیرا ہو جاتا تو ان کے پاس سے واپس آتا ۔ صبح مکہ میں ہی کرتا جیسے وہاں رات گزارنے والا ۔ پھر وہ دونوں حضرات غار سے نکلے ۔ ساحل سمندر والا راستہ پکڑا ۔ پس حضرت ابو بکر نے آپ کے آگے چلنا شروع کیا ۔ جب انہیں خوف ہوا کہ پیچھے سے کوئی چیز نہ آ جائے تو پیچھے چلنے لگے ۔ سارا راستہ وہ اسی طرح چلتے ہے ۔ حضرت ابو بکر لوگوں میں جانے پہچانے تھے ۔ جب کوئی ان سے ملتا تو وہ سوال کرتا : یہ کون ہیں ؟ آپ جواب دیتے : یہ میرے رہنما ہیں ۔ آپ دین میں رہنمائی مراد لیتے اور دوسرا آدمی سمجھتا کہ راستہ دکھانے والے ہیں حتی کہ جب وہ دونوں قدید کے گھروں میں کے پاس تھے ۔ دونوں کا راتہ ساحل سمندر والا تھا تو ایک آدمی بنو مدلج کی مجلس میں آیا ۔ اس نے کہا : میں نے سمندر کے کنارے دو آدمی دیکھے ہیں ۔میرا خیال ہے ان میں سے ایک وہی قریش کا ساتھی ہے جس کو ہ تلاش کر رہے ہیں ۔پس سراقہ بن مالک نے کہا : یہی دونوں سوار ہیں ، جن کی تلاش کے لیے ہم نے آدمی بھیجے ہیں تاکہ قوم کی تسلی ہو ۔ پھر اس نے اپنی لونڈی کو بلا کر سر گوشی کی ۔ اسے حکم دیا کہ وہ اس کا گھوڑا نکالے اور نیزے کو گرا دے ، اسے سیدھا نہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ درست ہو جائے ، فلاں فلاں مقام پر ۔ پھر اس کے پاس آکر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر ان کے راستے کی نشانیاں دیکھتا ہوا چلا ۔ سراقہ کا قول ہے ؛ میں ان دونوں کے قریب ہوا یہاں تک کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قرات سن رہا تھا پھر میں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی ، وہ نتھنوں تک دھنس گیا ۔ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال اسے مارا اسے کوئی نقصان ہوا کہ نہیں ہوا ۔ پس وہ اس طرح نکلا کہ اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ پس میرے دل نے انکار کیا یہاں تک کہ میں نے ان کا پیچھا کیا اور اس مقام پر ان کو پا لیا ۔پس گھوڑادھنس گیا ۔ میں نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ نکالا ۔ میں نے اپنے ترکش سے نکال کر اسے مارا اسے کوئی نقصان ہوا یا نہیں ہو ا ۔ پس وہ اس طرح نکلا اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ پس میرے دل نے انکار کیا یہاں تک کہ میں نے ان کاپیچھا کیا اور اس مقام پر ان کو پالیا ۔ حتی کہ جب میں اس جگہ پر تھا تو مجھے ڈر لگا کہ جیسے میرے ساتھ پہلے ہوا پھر کہیں اسی طرح نہ ہو جائے ۔ میں نے ندا دی ؛ میں نے کہا ؛ میرا خیال ہے ؛عنقریب آپ کی بڑی شان ہو گی۔ تھوڑی دیر ٹھہریں تاکہ میں آپ سے کلام کر سکوں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ٹھہر گئے ۔ میں نے آپ سے کہا : مجھے امانت نامہ لکھ دیں ۔ آپ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ لکھ دیں تو انہوں نے لکھ دیا ۔ سراقہ کہتے ہیں : جب حنین کا دن تھا تو میں وہ خط لایا ۔ میں نے نکال کر ندا دی ؛ میں سراقہ ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : وفا کا دن ہے ۔ سراقہ کہتے ہیں : میں آپ کی پنڈلی مبارک کی چمک کو تشبیہ دوں تو آگ کے انگارے سے دوں گا ۔ میں نے آپ سے کچھ دریافت کیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال مویشی ہیں ۔ حوض پانی سے بھرے رہتے ہیں تاکہ وہ پیئں ۔ ان کے پینے کے بعد پانی بچ جاتا ہے تو چرواہے کے بغیر چھوڑے ہوئے اونٹ آتے ہیں ( اور پی کر جاتے ہیں ) ۔ کیا میرے لیے اس میں اجر ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : ہر جگر والی چیز کو کھلانے پلانے میں بندہ اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20303
