Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ الماجشون عن أسماء · حديث 20303

284 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا يوسف بن الماجشون عن أبيه Y عن أسماء بنت أبي بكر قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يأتينا بمكة كل يوم مرتين فلما كان يوما من ذلك جاءنا في الظهيرة فقلت : يا أبه هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : بأبي وأمي ما جاء به في هذه الساعة إلا أمر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : هل شعرت أن الله قد أذن لي في الخروج ؟ فقال أبو بكر : فالصاحبة يا رسول الله قال : الصحابة فقال أبو بكر : إن عندي لراحلتين قد علفتهما منذ كذا وكذا انتظارا لهذا اليوم فخذ إحداهما فقال : بثمنها يا أبا بكر قال : بثمنها بأبي أنت وأمي إن شئت قال : فهيأنا لهم سفرة ثم قطعت نطاقها فربطتها ببعضه فخرجا فمكثا في الغار في جبل ثور فلما انتهيا إليه دخل أبو بكر الغار قبله فلم يترك فيه جحرا إلا أدخل فيه أصبعه مخافة أن يكون فيه هامة وخرجت قريش حين فقدوهما في بغائهما وجعلوا في النبي صلى الله عليه و سلم مائة ناقة وخرجوا يطوفون في جبال مكة حتى انتهوا إلى الجبل الذي هما فيه فقال أبو بكر لرجل يراه مواجه الغار : يا رسول الله إنه ليرانا فقال : كلا إن ملائكة تسترنا بأجنحتها فجلس ذلك الرجل [ فبال ] مواجه الغار فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو كان يرانا ما فعل هذا فمكثنا ثلاث ليال يروح عليهما عامر بن فهيرة مولى أبي بكر غنما لأبي بكر ويدلج من عندهما ويصبح مع الرعاة في مراعها ويروح معهم ويتطأطأ في المشي حتى إذا اظلم إنصرف بغنمه إليهما فيظن الرعاة أنه معهم وعبد الله بن أبي بكر يظل بمكة يبطش الأخبار ثم ياتيهما إذا أظلم فيخبرهما ثم يدلج من عندهما فيصبح بمكة كبائت ثم خرجا من الغار فأخذا على الساحل فجعل أبو بكر يسير أمامه فإذا خشي أن يؤتى من خلفه سار خلفه فلم يزل كذلك مسيره وكان أبو بكر معروفا في الناس فإذا لقيه لاق قال لأبي بكر : من هذا معك ؟ فيقول : هاد يهديني يريد الهداية في الدين ويحسبه الآخر دليلا حتى إذا كانا بأبيات قديد وكان على طريقهما على الساحل جاء إنسان إلى مجلس بني مدلج فقال : قد رأيت راكبين نحو الساحل فإني أرى أحدهما لصاحب قريش الذي يبغون فقال سراقة بن مالك : ذانك راكبان ممن بعثنا في طلبه [ يواري ] القوم ثم دعا جاريته فسارها فأمرها أن تخرج بفرسه وتحط رمحه ولا تنصبه حتى يأتيه في قراره بموضع كذا وكذا ثم يجيئها فركب فرسه ثم خرج في آثارهما فقال سراقة : فدنوت منهما حتى إني لأسمع قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ركضت الفرس فوقعت بمنخرها فأخرجت قداحا في كنانتي فضربت بها أضره أم لا أضره فخرج لاتضره فأبت نفسي حتى اتبعته فأدركته بمثل ذلك الموضع فوقعت الفرس فاستخرجت يده مرة أخرى فضربت بالقداح أضره أم لا أضره فخرج لا تضره فأبت نفسي حتى إذا كنت بمثل ذلك الموضع خشيت أن يصيبني مثل ما أصابني فناديته فقلت : إني أرى سيكون لك شأنا فقف أكلمك فوقف النبي صلى الله عليه و سلم فسأله أن يكتب له أمانا فأمره أن يكتب له فكتب له قال سراقة : فلما كان يوم حنين جئت بالكتاب فأخرجته وناديت : أنا سراقة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يوم وفاء قال سراقة : فما شبهت ساقه في غرره إلا الجمار فذكرت له شيئا أسأله فقلت : يا رسول الله إني رجل ذو نعم وإن الحياض تملأ من الماء فيشرب فيفضل من الماء في الحياض فيرد الهمل فهل لي في ذلك من أجر ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : نعم في كل كبد حرى أجر

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ہم مکہ میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ہر روز دوبار آیا کرتے تھے ۔ ایک دن آپ دوپہر کے وقت آئے ۔ میں نے عرض کی : اے باپ! یہ اللہ کے رسول آئے ہیں ۔ کہا : میرے ماں باپ قربان ! اس گھڑی آپ کسی کام سے ہی تشریف لائے ہوں گے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان سے فرمایا : کیا آپ کو معلوم ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !ساتھیوں کو بھی اجازت ہے ۔ فرمایا : ساتھیوں کو بھی اجازت ہے ۔ حضرت ابو بکر نے عرض کی : بیشک میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ، جن کو میں نے فلاں فلاں دن سے اس دن انتظار میں پالا ۔ ان میں سے ایک آپ لے لیں ۔ فرمایا : قیمت کے بدلے لوں گا اے ابو بکر ! عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان اگر آپ چاہیں تو قیمت دے کر لیں ۔ فرماتی ہیں : ہم نے ان کے لیے سفر کا سامان تیار کیا ۔ پھر میں نے اپنی اوڑھنی کے دو حصے کیے ۔ایک حصے سے سامان کو باندھا ۔ پس دونوں تشریف لے چلے ۔ جبل ثور کی غار میں جا ٹھہرے ۔ جب اس تک پہنچے تو پہلے حضرت ابو بکر غار میں گئے ۔ پس انہوں نے کوئی سوراخ نہ چھوڑا مگر اس میں انگلی داخل کر کے معلوم کیا کہ کہیں اس میں کوئی نقان دہ کیڑا نہ ہو ۔ پس قریش نکلے جب انہوں نے دونوں حضرات کو پنے گھروں میں نہ پایا ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے لیے سو اونٹ انعام مقرر کیا ۔ پس وہ مکہ کے پہاڑوں کے چکر لگاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ اس پہاڑ تک جا پہنچے جس میں دونوں ہستیاں موجود تھیں ۔ ایک آدمی کے حوالے سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، جس کو آپ نے غار کے منہ پر دیکھا ،اے اللہ کے رسول !وہ ہمیں دکھ سکتا ہے ۔ فرمایا : ہر گز نہیں ۔ فرشتوں نے اپنے پروں سے ہمیں چھپائے ہوئے ہیں ۔ پس اس آدمی نے غار کے منہ کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اگر وہ ہمیں دیکھ سکتا تو یہ کام نہ کرتا ۔ پس وہ تین رات وہاں رکے ۔شام کے وقت حضرت ابو بکر کا غلام حضرت عامر بن فہیرہ حضرت ابو بکر کی بکریاں لاتا ۔ اندھیرا ہو جاتا تو ان کے پاس واپس آتا۔ صبح دورے چرواہوں کے ساتھ چراگاہ میں جاتا اور شام کو واپس آنےلگتا تو آہستہ آہستہ چلتا یہاں تک جب اندھیرا پڑ جاتا تو ریوڑ کو ان کی طرف موڑ دیتا ۔ چرواہے گمان کرتے کہ وہ ان کے ساتھ ہی ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن ابو بکر مکہ میں دن گزارتا تاکہ مکہ کی خبریں اکٹھی کرے ۔ پھر جب اندھیرا ہ جاتا تو ان کے پاس آکر بتاتا ۔ پھر اندھیرا ہو جاتا تو ان کے پاس سے واپس آتا ۔ صبح مکہ میں ہی کرتا جیسے وہاں رات گزارنے والا ۔ پھر وہ دونوں حضرات غار سے نکلے ۔ ساحل سمندر والا راستہ پکڑا ۔ پس حضرت ابو بکر نے آپ کے آگے چلنا شروع کیا ۔ جب انہیں خوف ہوا کہ پیچھے سے کوئی چیز نہ آ جائے تو پیچھے چلنے لگے ۔ سارا راستہ وہ اسی طرح چلتے ہے ۔ حضرت ابو بکر لوگوں میں جانے پہچانے تھے ۔ جب کوئی ان سے ملتا تو وہ سوال کرتا : یہ کون ہیں ؟ آپ جواب دیتے : یہ میرے رہنما ہیں ۔ آپ دین میں رہنمائی مراد لیتے اور دوسرا آدمی سمجھتا کہ راستہ دکھانے والے ہیں حتی کہ جب وہ دونوں قدید کے گھروں میں کے پاس تھے ۔ دونوں کا راتہ ساحل سمندر والا تھا تو ایک آدمی بنو مدلج کی مجلس میں آیا ۔ اس نے کہا : میں نے سمندر کے کنارے دو آدمی دیکھے ہیں ۔میرا خیال ہے ان میں سے ایک وہی قریش کا ساتھی ہے جس کو ہ تلاش کر رہے ہیں ۔پس سراقہ بن مالک نے کہا : یہی دونوں سوار ہیں ، جن کی تلاش کے لیے ہم نے آدمی بھیجے ہیں تاکہ قوم کی تسلی ہو ۔ پھر اس نے اپنی لونڈی کو بلا کر سر گوشی کی ۔ اسے حکم دیا کہ وہ اس کا گھوڑا نکالے اور نیزے کو گرا دے ، اسے سیدھا نہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ درست ہو جائے ، فلاں فلاں مقام پر ۔ پھر اس کے پاس آکر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر ان کے راستے کی نشانیاں دیکھتا ہوا چلا ۔ سراقہ کا قول ہے ؛ میں ان دونوں کے قریب ہوا یہاں تک کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قرات سن رہا تھا پھر میں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی ، وہ نتھنوں تک دھنس گیا ۔ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال اسے مارا اسے کوئی نقصان ہوا کہ نہیں ہوا ۔ پس وہ اس طرح نکلا کہ اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ پس میرے دل نے انکار کیا یہاں تک کہ میں نے ان کا پیچھا کیا اور اس مقام پر ان کو پا لیا ۔پس گھوڑادھنس گیا ۔ میں نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ نکالا ۔ میں نے اپنے ترکش سے نکال کر اسے مارا اسے کوئی نقصان ہوا یا نہیں ہو ا ۔ پس وہ اس طرح نکلا اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ پس میرے دل نے انکار کیا یہاں تک کہ میں نے ان کاپیچھا کیا اور اس مقام پر ان کو پالیا ۔ حتی کہ جب میں اس جگہ پر تھا تو مجھے ڈر لگا کہ جیسے میرے ساتھ پہلے ہوا پھر کہیں اسی طرح نہ ہو جائے ۔ میں نے ندا دی ؛ میں نے کہا ؛ میرا خیال ہے ؛عنقریب آپ کی بڑی شان ہو گی۔ تھوڑی دیر ٹھہریں تاکہ میں آپ سے کلام کر سکوں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ٹھہر گئے ۔ میں نے آپ سے کہا : مجھے امانت نامہ لکھ دیں ۔ آپ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ لکھ دیں تو انہوں نے لکھ دیا ۔ سراقہ کہتے ہیں : جب حنین کا دن تھا تو میں وہ خط لایا ۔ میں نے نکال کر ندا دی ؛ میں سراقہ ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : وفا کا دن ہے ۔ سراقہ کہتے ہیں : میں آپ کی پنڈلی مبارک کی چمک کو تشبیہ دوں تو آگ کے انگارے سے دوں گا ۔ میں نے آپ سے کچھ دریافت کیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مال مویشی ہیں ۔ حوض پانی سے بھرے رہتے ہیں تاکہ وہ پیئں ۔ ان کے پینے کے بعد پانی بچ جاتا ہے تو چرواہے کے بغیر چھوڑے ہوئے اونٹ آتے ہیں ( اور پی کر جاتے ہیں ) ۔ کیا میرے لیے اس میں اجر ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : ہر جگر والی چیز کو کھلانے پلانے میں بندہ اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20303

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20304

285 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر بن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن دم الحيضة يصيب الثوب فقال : تقرضه بالماء ثم تنضحه وتصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پاچھا گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو پانی سے اچھی طرح دھو یا جائے پھر اس کو چھڑکا جائے اور اس میں نماز پڑھی جائے گی ۔

دم الحيضة يصيب الثوب فقال تقرضه بالماء ثم تنضحه وتصلي فيه ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← معمر بن هشام بن عروة ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20304

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20305

286 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y سألت امرأة النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله أرأيت إحدانا إذا أصاب ثوبها الدم من الحيضة كيف تصنع ؟ قال : إذا أصاب إحداكن الدم من الحيضة فلتقرضه ثم لتنضحه بالماء ثم لتصل

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سوال کیا ، عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے ، جب ہم سے کسی ایک کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟فرمایا : اسے کھرچ دے جب لگ ( کر خشک ہو ) جائے پھر پانی چھڑک دے ، پھر اسے چاہیئے کہ نماز پڑھے ۔

سألت امرأة النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20305

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20306

287 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أنها سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن دم الحيض يصيب الثوب فقال : حتيه ثم اقرضيه بالماء ثم انضحيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو رگڑ کر صاف کیا جائے پھر اس کو پانی کے ساتھ اچھی طرح دھویا جائے ، اس پر پانی چھڑکا جائے ۔

دم الحيض يصيب الثوب فقال حتيه ثم اقرضيه بالماء ثم انضحيه ← أسماء بنت أبي بكر أنها سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20306

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20307

288 - حدثنا محمد بن معاذ الحلبي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أنها سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن دم الحيض يصيب الثوب فقال : حتيه ثم اقرضيه بالماء ثم انضحيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ انہو ں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو پانی سے دھویا جائے پھر اس کو کھرچ دے پھر پانی کے ساتھ اچھی طرح صاف کر کے دھویا جائے ، پھر پانی چھڑکا جائے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20307

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20308

289 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري حدثنا أحمد بن صالح ثنا وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الثوب يصيبه الدم من الحيضة قال : لتحته ثم لتقرضه بالماء ثم لتصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پچھا گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو کھرچ دے پانی سے اچھی طرح دھویا جائے پھر اس میں نماز پڑھی جائے گی ۔

لتحته ثم لتقرضه بالماء ثم لتصلي فيه ← الثوب يصيبه الدم من الحيضة ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← وَھْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20308

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20309

290 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y قلت يا رسول الله إن إحدانا يصيب ثوبها دم الحيض كيف تصنع به ؟ قال : تحته ثم تقرضه بالماء

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اسے رگڑ کر کپڑے سے صاف کیا جائے پھر اس کو پانی سے دھویا جائے ۔

قُلْتُ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20309

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20310

291 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم أنا مفضل بن فضالة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أنها أخبرتها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن الثوب يصيبه الدم من الحيضة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لتحته ثم لتنضحه ثم لتصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو رگڑ کر کپڑے سے صاف کیا جائے ،(یا ) پھر اس کو کھرچ لیا جائے پھر پانی چھڑک دیا جائے اور اس میں نماز پڑھی جائے گی ۔

أسماء بنت أبي بكر أنها أخبرتها ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20310

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20311

292 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y سألت امرأة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إحدانا يصيب ثوبها دم الحيضة فقال : لتحته ثم لتقرضه ثم لتنضحه بماء فتصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو رگڑ کر صاف کیا جائے ، پھر اسے کھرچ لیا جائے پھر پانی سے دھویا جائے اور اس میں نماز پڑھی جائے گی ۔

لتحته ثم لتقرضه ثم لتنضحه بماء فتصلي فيه ← إحدانا يصيب ثوبها دم الحيضة ← سألت امرأة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20311

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20312

293 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y أتت النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فسألته عن الحيض يصيب ثوب احدانا قال : خذيه فحتيه ثم اقرضيه وانضحي بقية ثوبك

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت آئی اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو ہم میں سے کسی کے کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو پکڑو ، رگڑ کر صاف کرو پھر اسے کھرچ دو اور اپنے کپڑے کے بقیہ حصے پر پانی چھڑک دو ۔

خذيه فحتيه ثم اقرضيه وانضحي بقية ثوبك ← الحيض يصيب ثوب احدانا ← أتت النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فسألته ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20312

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20313

294 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا محمد بن أبي عمر العدني ثنا سفيان بن عيينة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء قالت : Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن دم الحيضة يصيب الثوب فقال : حتيه ثم اقرضيه بالماء ثم انضحيه وصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھ گیا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو رگڑ کر صاف کرو پھر پانی سے اسے کھرچ ڈالو پھر پانی چھڑک کر اس میں نماز پڑھی جائے گی ۔

حتيه ثم اقرضيه بالماء ثم انضحيه وصلي فيه ← دَمِ الْحَيْضَةِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20313

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر هشام بن عروة عن فاطمة باب · حديث 20314

295 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا عيسى بن يونس عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أن امرأة سئلت النبي صلى الله عليه و سلم احدانا يصيب ثوبها دم الحيض فقال : لتحكه ثم لتقرضه بالماء ثم تصلي فيه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو رگڑ کر صاف کرو پھر پانی استعمال کر کے کھرچ دو پھر اس میں نماز پڑی جائے گی ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20314

chevron_left Previous
1…789…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter