المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ يعلى بن حرملة أبو المحياة عن أسماء · حديث 20291
272 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن شيبة ثنا يحيى بن يعلى الأسلمي أبو المحياة عن أبيه يعلى بن حرملة ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو المحياة عن أبيه قال : Y قدمت مكة بعدما صلب أو ابن الزبير بثلاثة أيام فكلمت أمه أسماء بنت أبي بكر الحجاج فقالت : أما آن لهذا الراكب أن ينزل ؟ قال : المنافق قالت : لا والله ماكان منافقا ولكن كان صواما قواما قال اسكتي فإنك عجوز قد خرفت قالت : ما خرفت منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يخرج من ثقيف كذاب ومبير فأما الكذاب فقد رأيناه تعني المختار وأما المبير فأنت زاد أبو بكر بن أبي شيبة فقال الحجاج في حديثه : مبير المنافقين
حضرت ابو محیا اپنے والد سے حدیث بیان کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو سولی دئیے جانے یا شہید کیے جانے کے تین دن بعد میں مکے آیا ، ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نے حجاج سے بات کی ۔ فرمایا : کیا ابھی اس شاہسوار کے اترنے کا وقت قریب نہیں آیا ؟ اس نے جواب دیا : منافق ۔ فرمایا : نہیں ۔ بخدا ! یہ منافق نہ تھا ۔ یہ تو روزے رکھنے والا اور قیام کرنے والا تھا ۔ اس نے کہا : خاموش رہو ! کیونکہ تو بوڑھی عورت ہے اور ادھر ادھر کی بات کر رہی ہے ۔ فرمایا : میں نے کبھی خلاف حقیقت بات نہیں کی جب سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : ثقیف قبیلے سے ایک کذاب اور ایک تباہی لانے والا نکلے گا ۔ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا یعنی مختار اور تباہی لانے والا تو وہ تو ہے ۔ راوی حدیث حضرت ابو بکر بن شیبہ نے اضافہ ذکر کیا : تو حجاج نے فورا کہا : وہ منافقوں کو ختم کرنے والا ہے ۔
أَبِيهِ ← أبو المحياة ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ ← يحيى بن يعلى الأسلمي أبو المحياة ← اَبُوْ بَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20291
