المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20255
236 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن محمد بن أيوب ثنا إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه Y عن جدته أسماء بنت أبي بكر قالت : لما وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي طوى قال أبو قحافة لابنة له من أصغر ولده : أي بنية أظهريني على أبي قبيس قالت : وقد كف بصره قالت : فأشرفت به عليه فقال : يا بني ماذا ترى ؟ قالت : أرى سواد مجتمعا قال : تلك الخيل قالت : وأرى رجلا يسعى بين ذلك السواد مقبلا ومدبرا قال : ذاك يا بني الوازع يعني الذي يأمر الخيل فأسرعي بي إلى بيتي قالت : وتلقاه الخيل قبل أن يصل إليه قالت : وفي عنق الجارية طوق لها من ورق فتلقاها رجل فاقتلعها من عنقها فلما دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة ودخل المسجد أتاه أبو بكر بأبيه يقوده فلما رأه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ألا تركت الشيخ في بيته حتى أكون أنا آتيه ؟ فقال أبو بكر : يا رسول الله هو أحق أن يمشي إليك فأجلسه بين يديه ثم مسح صدره وقال له : أسلم وكأن رأسه ثغامة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غيروا هذا من شعره ثم قام أبو بكر فأخذ بيد أخته قال : أنشد بالله وبالإسلام طوق أختي فلم يجيبه أحد فقال : يا أخية احتسبي طوقك فوالله إن الأمانة اليوم في الناس قليلة
حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ذی طوٰی کے مقام پر ٹھہرے تو حضرت ابو قحافہ نے اپنے بیٹوں میں سب سے چھوٹے بیٹے کی بیٹی سے کہا : اے بیٹی ! مجھے ابو قبیس پہاڑ پر لے چلو ۔ فرماتی ہیں : ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی ۔ فرماتی ہیں : میں نے ان کو پہاڑ پر لے گئی تو انہوں نے کہا : اے بیٹی ! کیا دیکھتی ہو ؟ کہا ۔ بہت سارے لوگ اکٹھے دیکھتی ہوں ۔ کہا اس پہاڑ کے حوالے سے کیا بات ہے ۔ کہا : اور ایک آدمی ان کے درمیان میں کبھی آگے ہوتا ہے اور کبھی پیچھے ہوتا ہے ۔کہا : یہ ان کو تقسیم کرنے والا ہے یعنی قافلے کا حکمران ۔ پس مجھے جلدی اپنے گھر لے چلو ۔ فرماتی ہیں : ان کے گھر پہنچنے سے پہلے گھوڑوں کا قافلہ پہنچ گیا ۔ فرماتی ہیں : ایک لونڈی کے گلے میں چاندی کا ہار تھا تو اس سے ایک آدمی ملا جس نے اس کی گردن سے توڑ دیا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مکہ میں داخل ہوئے تو سیدھے مسجد حرام کی طرف آئے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قیادت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس لے آئے ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم انہیں دیکھا تو فرمایا : آپ نے ایک بوڑھے شخص کو گھر میں کیوں نہیں چھوڑ دیا کہ میں چل کر ان کے پاس جاتا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! انہیں کے لیے مناسب تھا کہ وہ آپ کی طرف چل کر آتے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا کر ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اسلام لے آؤ! ان کے سر کے بال سفید تھے تو رول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : ان کے سر کے بالوں کا رنگ تبدیل کرو پھر حضرت ابو بکر نے اٹھ کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کہا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ سے کر پوچھتا ہوں کہ میری بہن کا ہار کدھر ہے ؟ کسی نے جواب نہ دیا ۔ فرمایا : اے میری بہن ! اپنا ہار معاف کر دو آج لوگوں میں امانت کم وہ گئی ہے ۔
جدته أسماء بنت أبي بكر ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 20255
