Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20255

236 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن محمد بن أيوب ثنا إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه Y عن جدته أسماء بنت أبي بكر قالت : لما وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي طوى قال أبو قحافة لابنة له من أصغر ولده : أي بنية أظهريني على أبي قبيس قالت : وقد كف بصره قالت : فأشرفت به عليه فقال : يا بني ماذا ترى ؟ قالت : أرى سواد مجتمعا قال : تلك الخيل قالت : وأرى رجلا يسعى بين ذلك السواد مقبلا ومدبرا قال : ذاك يا بني الوازع يعني الذي يأمر الخيل فأسرعي بي إلى بيتي قالت : وتلقاه الخيل قبل أن يصل إليه قالت : وفي عنق الجارية طوق لها من ورق فتلقاها رجل فاقتلعها من عنقها فلما دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة ودخل المسجد أتاه أبو بكر بأبيه يقوده فلما رأه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ألا تركت الشيخ في بيته حتى أكون أنا آتيه ؟ فقال أبو بكر : يا رسول الله هو أحق أن يمشي إليك فأجلسه بين يديه ثم مسح صدره وقال له : أسلم وكأن رأسه ثغامة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غيروا هذا من شعره ثم قام أبو بكر فأخذ بيد أخته قال : أنشد بالله وبالإسلام طوق أختي فلم يجيبه أحد فقال : يا أخية احتسبي طوقك فوالله إن الأمانة اليوم في الناس قليلة

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ذی طوٰی کے مقام پر ٹھہرے تو حضرت ابو قحافہ نے اپنے بیٹوں میں سب سے چھوٹے بیٹے کی بیٹی سے کہا : اے بیٹی ! مجھے ابو قبیس پہاڑ پر لے چلو ۔ فرماتی ہیں : ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی ۔ فرماتی ہیں : میں نے ان کو پہاڑ پر لے گئی تو انہوں نے کہا : اے بیٹی ! کیا دیکھتی ہو ؟ کہا ۔ بہت سارے لوگ اکٹھے دیکھتی ہوں ۔ کہا اس پہاڑ کے حوالے سے کیا بات ہے ۔ کہا : اور ایک آدمی ان کے درمیان میں کبھی آگے ہوتا ہے اور کبھی پیچھے ہوتا ہے ۔کہا : یہ ان کو تقسیم کرنے والا ہے یعنی قافلے کا حکمران ۔ پس مجھے جلدی اپنے گھر لے چلو ۔ فرماتی ہیں : ان کے گھر پہنچنے سے پہلے گھوڑوں کا قافلہ پہنچ گیا ۔ فرماتی ہیں : ایک لونڈی کے گلے میں چاندی کا ہار تھا تو اس سے ایک آدمی ملا جس نے اس کی گردن سے توڑ دیا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مکہ میں داخل ہوئے تو سیدھے مسجد حرام کی طرف آئے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قیادت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس لے آئے ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم انہیں دیکھا تو فرمایا : آپ نے ایک بوڑھے شخص کو گھر میں کیوں نہیں چھوڑ دیا کہ میں چل کر ان کے پاس جاتا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! انہیں کے لیے مناسب تھا کہ وہ آپ کی طرف چل کر آتے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا کر ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اسلام لے آؤ! ان کے سر کے بال سفید تھے تو رول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : ان کے سر کے بالوں کا رنگ تبدیل کرو پھر حضرت ابو بکر نے اٹھ کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کہا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ سے کر پوچھتا ہوں کہ میری بہن کا ہار کدھر ہے ؟ کسی نے جواب نہ دیا ۔ فرمایا : اے میری بہن ! اپنا ہار معاف کر دو آج لوگوں میں امانت کم وہ گئی ہے ۔

جدته أسماء بنت أبي بكر ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 20255

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20256

237 - حدثنا محمد بن علي بن الأحمر الناقد ثنا محمد بن يحيى القطعي ثنا وهب بن جرير بن حازم عن أبيه عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد عن أبيه Y عن أسماء عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے اسی کی مثل روایت کرتی ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَسْمَاءَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ

Hadith 20256

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20257

238 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن أسماء بنت أبي بكر قالت : لما كان يوم الفتح قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي قحافة : أسلم تسلم

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے حضرت ابو قحافہ سے فرمایا : مسلمان ہو جاؤ ! تو وہ مسلمان ہو گئے ۔

«لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 20257

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20258

239 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا : ثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه Y عن أسماء بنت أبي بكر قالت : حججنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعنا أبو بكر فلما كنا بالعرج نزلنا وعائشة إلى جنبه وأنا إلى جنب أبي فجلس أبو بكر ينتظر غلامه وكانت راحلتنا وراحلة رسول الله صلى الله عليه و سلم واحدة فطلع الغلام وليس معه بعيره فقال له أبو بكر : أين بعيرك ؟ قال : أضللته البارحة قال : بعير واحد تضله فجعل يضربه و رسول الله صلى الله عليه و سلم يبتسم ويقول : انظروا إلى هذا المحرم ما يفعل

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی معیت میں حج کیا اور ابو بکر بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ جب ہم "عرج " کے مقام پر تھے تو ہم نے پڑاؤ ڈالا ۔ حضرت عائشہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پہلو میں اور میں اپنے والد صاحب کے پہلو میں تھی ۔حضرت ابو بکر اپنے غلام کا انتظار کر رہے تھے ۔ ہماری اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سواری ایک تھی ۔ غلام بغیر اونٹ کے نمودار ہوا ۔ حضرت ابو بکر نے اس سے کہا : تیرا اونٹ کہا ں ہے ؟اس نے جواب دیا : وہ تو گزشتہ رات میں نے گم کر دیا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کھڑے مسکرا تے ہوئے فرما رہے تھے : اس صاحب جرم کی طرف دیکھو !یہ کیا کر رہا ہے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 20258

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ محمد بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء · حديث 20259

240 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ثنا فليح بن سليمان عن محمد بن عباد بن عبد الله بن الزبير Y عن أسماء بنت أبي بكر قالت : رقى النبي صلى الله عليه و سلم المنبر فقال : أيها الناس إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا تنخسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم ذلك فافزغوا إلى الصلاة والصدقة وإلى ذكر الله وقد رأيت منكم خمسين ألفا أو سبعين ألفا شك فليح يدخلون الجنة بغير حساب مثل صورة القمر ليلة البدر فقام رجل فقال : ادع الله أن يجعلني منهم فقال : اللهم اجعله منهم أيها الناس لن تسألوني عن شيء أنزل إلا أخبرتكم به فقام رجل فقال : من أبي ؟ فقال : أبوك فلان لأبيه الذي كان ينسب إليه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم منبر پر چڑھے ، فرمایا : اے لوگو! بے شک سورج اور چاند ،اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ،ان کو کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ، جب تم یہ صورت دیکھو تو نماز پڑھو ،صدقہ دو اور اللہ کا زکر کرو ،تحقیق میں نے تم میں سے پچاس ہزار یا ستر ہزار کو دیکھا ہے ۔(راوی حدیث حضرت فلیح کو شک ہے ) وہ بلا حساب جنت میں داخل ہوتے ہیں ،وہ چاند کی طرح چمک رہے ہیں ،جیسے وہ چودھویں رات کو چمکتا ہے ۔ پس ایک آدمی نے کھڑے ہوکر عرض کی : اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنائے ۔ کہا : اے اللہ ! اس کو ان میں سے بنا دے ۔ اے لوگو! تم ہر گز مجھ سے کسی ایسی چیز کے بارے سوال نہ کرو گے جو نازل ہوئی ہے مگر میں تم کو اس کی خبر دوں گا ۔ پس ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کی : میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا : تیرا باپ فلاں ہے(نام لیا )،اس باپ کا نام لیا جس کی طرف اسے منسوب کیا جاتا تھا ۔

أَيُّهَا النَّاسُ ← رقى النبي صلى الله عليه و سلم المنبر ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Hadith 20259

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ وهب بن كيسان أبو نعيم عن أسماء · حديث 20260

241 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا حميد بن الأسود ثنا الضحاك بن عثمان حدثني وهب بن كيسان قال : Y سمعت أسماء بنت أبي بكر تقول : دخل علي النبي صلى الله عليه و سلم وأنا أكيل شيئا وأعد فقال : يا أسماء لا تحصي فيحصي الله عليك قالت أسماء : فما أحصيت بعد ذلك اليوم شيئا خلقه الله ولا عددته بعد يومي

حضرت وہب بن قیسان فرماتے ہیں : میں نے حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میرے پاس تشریف لائے ،اس حال میں کہ میں کوئی چیز ناپ اور گن رہی تھی ۔ فرمایا : اے اسماء ! گنا نہ کرو ورنہ اللہ بھی گن کر دے گا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اس کے بعد میں کسی چیز کو نہیں گنا ،جس کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور آج کے دن کے بعد بھی کسی چیز کو شمار نہ کروں گی ۔

Hadith 20260

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ المطلب بن عبد الله بن حنطب ( عن أسماء ) · حديث 20261

242 - حدثنا مصعب بن إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا أبي ثنا سفيان بن حمزة عن كثير بن زيد عن المطلب بن عبد الله بن حنطب Y عن أسماء بنت أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لاتحصي فيحصي عليك

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : گن گن کر اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا کرو ،ورنہ وہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ،

Hadith 20261

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ مجاهد بن جبر عن أسماء بنت أبي بكر · حديث 20262

243 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد قال : Y قال : ابن الزبير : افردوا الحج ودعوا قول أعماكم فقال عبد الله بن عباس : إن الذي لأعمى الله قلبه أنت ألاتسأل أمك عن هذا ؟ فأرسل إليها فقالت : صدق عبد الله بن عباس خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حجاجا فجعلناها عمرة فحللنا الإحلال كله حتى سطعت المجامر بين الرجال والنساء

حضرت مجاہد فرماتے ہیں : حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : حج افراد کیا کرو اور اپنے اعمال کی بات کو چھوڑو ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ نے جس کا دل اندھا کر دیا ہے ،وہ تو ہے ،کیا تو نے اس کے بارے اپنی ماں سے بھی نہیں پوچھا ؟پس انہوں نے ان کی طرف آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سچ فرمایا ۔ہم حج کرتے ہوئے ،رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ساتھ نکلے اسے ہم نے عمرہ بنالیا ۔ ہم نے سارا احرام کھول دیا یہاں ےک کہ کنکریاں لانے والے نے مردوں اور عورتوں کے درمیان (کنکریوں کو لا کر ) پھیلا دیا ۔

هَذَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ← عبد الله بن عباس إن الذي لأعمى الله قلبه أنت ألاتسأل أمك ← ابن الزبير افردوا الحج ودعوا قول أعماكم ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 20262

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ مجاهد بن جبر عن أسماء بنت أبي بكر · حديث 20263

244 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد قال : Y قال ابن الزبير : أفردوا الحج ولا تسمعوا إلى أعماكم فقال ابن عباس : 'ن الذي اعمى الله قلبه أنت أرسل إلى أمك فسلها فأرسلوا إلى أسماء فقالت : صدق ابن عباس قدمنا حجاجا فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نحل فأحللنا الحل كله حتى سطعت المجامر بين الرجال والنساء

حضرت مجاہد فرماتے ہیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : حج افراد کیا کرو اور اپنے اعمال کی بات کو مت سنو ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ نے جس کا دل اندھا کر دیا ہے ،وہ تو ہے ۔ اپنی والدہ محترمہ کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کر لے ! لوگوں نے ان کی طرف آدمی بھیجا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سچ فرمایا ۔ ہم حج کرتے ہوئے ،رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ساتھ نکلے ۔ اسے ہم نے عمرہ بنا لیا ۔ ہم نے سارا احرام کھول دیا یہاں تک کہ کنکریاں لانے والے نے مردوں اور عورتوں کے درمیان (کنکریوں کو لا کر ) پھیلا دیا ۔

ابن الزبير أفردوا الحج ولا تسمعوا إلى أعماكم ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Hadith 20263

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى ابن أبي مليكة عن أسماء أيوب عن ابن أبي مليكة · حديث 20264

245 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن ابن أبي مليكة أن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y يارسول الله مالي شيء إلاما أدخل علي الزبير أفأنفق منه ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنفقي ولا توكي فيوكى عليك

حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کوئی شی نہیں سوائے اس کے جو حضرت زبیر کوئی شی لاتے ہیں ،میں اس سے خرچ کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : تو خرچ کر ،بخل سے نہ دے ورنہ تجھے بھی کم کر کے دیا جائے گا ۔

يارسول الله مالي شيء إلاما أدخل علي الزبير أفأنفق منه ← ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ،أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 20264

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى ابن أبي مليكة عن أسماء أيوب عن ابن أبي مليكة · حديث 20265

246 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن ابن أبي مليكة عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y فقلت يارسول الله ليس لي مال إلا ما أدخل علي الزبير بيته فقال : يا أسماء أعطي وتصدقي ولا توكي فيوكى عليك

حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرے پاس حضرت زبیر کوئی شی لاتے ہیں ،(جبکہ میرے پاس مال نہیں ہے) میں اس سے خرچ کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : تو خرچ کر اور صدقہ کر ،لیکن بخل کر کے نہ دے ورنہ تجھے بھی کم کر کے دیا جائے گا۔

يا أسماء أعطي وتصدقي ولا توكي فيوكى عليك ← فقلت يارسول الله ليس لي مال إلا ما أدخل علي الزبير بيته ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 20265

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى ابن أبي مليكة عن أسماء أيوب عن ابن أبي مليكة · حديث 20266

247 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا محمد بن أبي عمر العدني ثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال : حدثتني أسماء بنت أبي بكر قالت : Y قلت : يا رسول الله والله مالي إلا مما أدخل علي الزبير بيته فأعطي قال : لا توكي فيوكى عليك

حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں عرض کی :یا رسول اللہ ! میرے پاس حضرت زبیر کوئی شی لاتے ہیں میں اس سے بطور صدقہ خرچ کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : تو خرچ کر ،بخل کر کے نہ دے ورنہ تجھے بھی کم کر کے دیا جائے گا ۔

قُلْتُ ← حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Hadith 20266

chevron_left Previous
12345…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter