Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ بديل بن ميسرة العقيلي عن شهر بن شوحب · حديث 20435

416 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا علي بن المديني ثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن بديل بن ميسرة عن شهر بن شوحب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y كان كما قميص رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اسفل من الرسغين

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی قمیص کی آستینیں گٹھوں سے نیچے تک ہوتی تھیں ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شهر بن شوحب ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20435

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ الحكم بن إبان عن شهر بن شوحب · حديث 20436

417 - حدثنا سعيد بن عبد الرحمن التستري ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا إبراهيم بن الحكم بن إبان حدثني أبي حدثني شهر بن شوحب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y أنا من النسوة اللاتي أخذ عليهن رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : وكنت جارية ناهدا جريئة على مسألته فقلت يا رسول الله ابسط يدك حتى أصافحك فقال : إني لاأصافح النساء ولكن آخذ عليهن ما أخذ الله عليهن قالت : ونظر إلى خالة لي في يدها سواران من ذهب فأخذ شيئا من الأرض فرماها به فقال : أيسرك أن يجعل الله لك سوارين من نار جهنم ؟ قالت : أعوذ بالله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فإن كنت تعوذت بالله فألقي هذين عنك فعالجته وأعنتها على ذلك فنبذته فما أدري حتى الساعة من ذهب بهما

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ان عورتوں میں سے تھی ، جن سے رسول کریم نے وعدہ لیا تھا ۔میں جوان ہوتی لڑکی تھی اور سوال دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ سے مصافحہ کروں ۔ فرمایا: میں عورتوں سے مصافح نہیں کرتا بلکہ ان سے (اللہ کا نائب ہونے کی حیثیت سے زبانی ) وہی وعدہ لیتاہوں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا ہے ۔ فرماتی ہیں : آپ نے میرے خالہ کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے دیکھے ۔ پس آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر ان کی طرف پھینکا اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دوزخ کی آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کی : میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اگر تو اللہ کی پناہ مانگتی ہے تو یہ اتار کر پھینک دے ۔ میں نے ان کے ساتھ ہو کر ان کی اس پر مدد کی تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اتار کر پھینک ۔ مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ انہیں کون لے گیا ۔

وَكُنْتُ جَارِيَةً نَاهِدًا جَرِيئَةً عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ: ← من النسوة اللاتي أخذ عليهن رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شهر بن شوحب ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20436

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ الحكم بن إبان عن شهر بن شوحب · حديث 20437

418 - حدثنا سعيد بن عبد الرحمن التستري ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا إبراهيم بن الحكم بن أبان عن أبيه عن شهر بن شوحب عن أسماء بنت يزيد Y أنها بينا هي في نسوة مر عليهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم قال : إياكن وكفر المنعمين قالت : وما كفر المنعمين يا رسول الله ؟ قال : لعل إحداكن يطول أيمتها أو تعنس عن أبويها ثم لعل الله يرزقها زوجا ثم يرزقها منه ولدا فيغضب الغضبة فكفره فيقول : والله ما رأيت منك خيرا قط

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اسی دوران کہ میں عرتون میں موجود تھی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ان پر گزرے تو سلام کیا پھر فرمایا : تم نعمتیں کرنے والوں کی نا شکری سے بچو ۔ عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کفر المنعمین کیا ہے ؟ فرمایا :ممکن ہے تم میں سےکسی عورت کی شادی ہونے کو دیر ہو جائے یا فرمایا : وہ بغیر شادی کے اپنے والدین کے پاس بیٹھی رہے پھر اسے اللہ تعالیٰ شوہر عطا کرے پھر اس سے بچہ عطا کرے ۔ وہ شوہر عورت پر غصے کا اظہار کرتا ہے تو اس نے اللہ کی نعمت کی ناشکری کی ۔ پس وہ کہتا ہے : بخدا ! میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی ۔( اسی طرح اگر عورت کرتی ہے تو وہ ناشکری کرنے والی ہے ۔)

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شهر بن شوحب ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20437

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20438

419 - حدثنا أحمد بن محمد الشافعي ثنا عمي إبراهيم بن محمد ثنا يحيى بن سليم عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث بعثا إلى ضاحية مضر فذكروا أنهم نزلوا في أرض صخر فأصبحوا فإذا هم برجل في قبة له بفنائه غنم فجاؤوا حتى وقفوا عليه فقالوا : احرزنا فأحرزهم شاة فطبخوا منها ثم أخرج إليهم فسخطوها ثم قال : ما بقي في غنمي من شاة لحم إلا شاة ما خض أو فحل فسعطوا فأخذوا منها شاة فلما أظهروا واحترقوا وهم في يوم صائف لاظل معهم قالوا غنيمته في مظلته فقالوا : نحن أحق بالظل من هذه الغنم فجاؤوه فقالوا أخرج عنا غنمك نستظل فقال : إنكم متى تخرجوها تهلك فتطرح أولادها وإني رجل قد آمنت بالله برسوله وقد صليت وزكيت فأخرجوا غنمه فلم يلبث إلا ساعة من نهار حتى تناعرت فطرحت أولادها فانطلق سريعا حتى قدم على النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره الخبر فغضب النبي صلى الله عليه و سلم غضبا شديدا ثم قال : اجلس حتى يرجع القوم فلما رجعوا جمع بينهم وبينه فتواتروا عليه كذب كذب فسري عن النبي صلى الله عليه و سلم فلما رأى ذلك الأعرابي قال : أما والله إن الله ليعلم إني لصادق وإنهم لكاذبون ولعل الله يخبرك يا رسول الله فوقع في نفس النبي صلى الله عليه و سلم أنه صادق فدعاهم رجلا رجلا يناشد كل رجل منهم ينشده فلم ينشد رجل منهم إلا كما قال الأعرابي فقام النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما يحملكم على أن تتابعوا في الكذب كما يتتابع الفراش في النار الكذب يكتب على ابن آدم إلا ثلاث خصال رجل يكذب امرأته لترضى عنه ورجل يكذب في خدعة حرب ورجل يكذب بين امرأين ليصلح بينهما

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے نبو مضر کی طرف لشکر بھیجا تو انہوں نے (آکر )ذکر کیا کہ وہ ایک سخت زمین پر اترے ۔ پس انہوں نے صبح کی تو اچانک وہاں ایک قبہ میں ایک آدمی تھا ، جس کے صحن میں ریوڑ موجود تھا ۔ وہ اس کے پاس ٹھہرے۔انہوں نے کہا : ہماری حفاظت کریں ۔ اس نے ایک بکری دی ، جسے انہوں نے (ذبح کر کے ) پکایا ۔ پھر ان کی طرف نکلے ۔ پس انہوں نے اس عطیہ کو کم سمجھا پھر اس آدمی نے کہا : میری بکریوں میں کوئی بکتی نہیں بچی مگر وہی جو عنقریب بچہ جننے والی ہے یا نر ہے ۔ انہوں نے حملہ کر کے ایک بکری پکڑی ۔ پس جب وہ غالب آئے اور گرمی کی جلن پائی جبکہ وہ ایک سخت گرمی کے دن میں تھے اور ان کے قریب سائی بھی نہ تھا ۔ انہوں نے کہا : اس آدمی کی بکریاں سائے میں ہیں۔انہوں نے کہا : ہم ان بکریوں سے زیادہ سائے کے حق دار ہیں ۔پس وہ اس آڈمی کے پاس آئے اور کہا : اپنی بکریوں کو یہاں سے نکالو تاکہ ہم سایہ حاصل کریں ۔ اس نے کہا : جب تم یہاں سے نکالو گے تو یہ (گرمی سے ) ہلاک ہو جائیں گی اور (قبل از وقت ) اپنے بچے پھینک دیں گی ۔میں بھی ایک ایسا آدمی ہوں ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر ایمان لایا ۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہوں ۔ پس انہوں نے اس کی بکریوں کو نکال دیا ۔ وہ دن کی ایک گھڑی ٹھہریں تو ۔۔۔۔۔اپنے بچے پھینک دئیے ۔پس وہ آدمی جلدی چلا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ساری بات بتائی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا : تو بیٹھ جا یہاں تک کہ وہ لوگ آ جائیں ۔پس جب وہ واپس آئے تو وہ لوگ اور وہ آدمی اکٹھے ہوئے ۔پس انہوں نے متواتراسے جھوٹا جھوٹا کہا ۔اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر عحی آنا شروع ہو گئی ۔پس جب اس دیہاتی نے یہ بات دیکھی تو کہا : بحر حال بخدا ! اللہ تو جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور یہ جھوٹے ہیں۔ممکن اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کو بتا دے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی کہ وہ سچا ہے ۔پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو ایک ایک کر بلایا ۔ہر ایک سے قسم دے کر با زپرس کی ۔ ان میں سے ہر ایک نے قسم دے کر بات کی جو اعرابی نے کی تھی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا : تمہیں اس پر کونسی چیز ابھارتی ہے کہ تم آگے پیچھے جھوٹ بولتے جاؤ جس طرح تتلیاں (نتائج سے بے نیاز ہو کر ) آگے پیچھے آگ میں جاتی ہیں۔سوائے تین مقامت کے آدمی پر جھوٹ کا گنا ہ لکھ جاتا ہے ،(1)آدمی اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے ۔(2) آدمی جنگی چال چلنے کے لیے جھوٹ بولے ،(3) اور آدمی دو مسلمان آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے جھوٹ بولے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّافِعِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20438

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20439

420 - حدثنا حفص بن عمر الرقي ثنا قصيبة بن عقبة ثنا سفيان عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل الكذب يكتب على ابن آدم إلا في ثلاث رجل يكذب في اصلاح مابين الناس أو يكذب امرأته أو يكذب في خديعة حرب

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : تین کے علاوہ ہر جھوٹ کا گناہ آدمی پر لکھا جاتا ہے :ایک وہ آدمی جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے جھوت بولتا ہے یا اپنی بیوی سے بولتا ہے یا جنگ کے حربہ کے طور پر جھوٹ بولتا ہے ۔

أسماء بنت يزيد أنها ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← قصيبة بن عقبة ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20439

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20440

421 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن يونس ( ح ) وحدثنا محمد بن عمروبن خالد الحراني ثنا أبي قالا ثنا زهير حدثني عبد الله بن عثمان بن خثيم ثنا شهر بن حوشب الأشعري عن أسماء بنت يزيد الأنصارية Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فخطب الناس فقال : يا أيها الناس ما يحملكم على أن تتابعوا في الكذب قال زهير : أراه قال : كما يتتابع الفراش في النار كل الكذب يكتب على ابن آدم إلا ثلاث خصال رجل يكذب امرأته ليرضيها أو كذب رجل بين امرأين مسلمين ليصلح بينهما أو رجل كذب في خديعة حرب واللفظ لحديث أحمد بن يونس

حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو! تمہیں جھوٹ پہ جھوٹ بولنے پر کونسی چیز ابھارتی ہے ؟ حضرت زہیر فرماتے ہیں : میرا خیال ہے ،فرمایا : جیسے پتنگے آگے پیچھے آگ میں جاتے ہیں ۔ تین کے علاوہ ہر جھوٹ کا گناہ آدمی پر لکھا جاتا ہے : ایک وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے اس سے بولتا ہے یا دو مسلمان آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے یا جنگ کے حربہ کے طور پر جھوٹ بولتا ہے ۔ یہ الفاظ ، حضرت احمد بن یونس کی حدیث کے ہیں ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← وحدثنا محمد بن عمروبن خالد الحراني ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20440

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20441

422 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف وأبو حبيب يحيى بن نافع المصريان قالا ثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيها الناس ما يحملكم على أن تتابعوا في الكذب كما يتتابع الفراش في النار كل الكذب يكتب على ابن آدم إلا ثلاث رجل كذب امرأته ليرضيها ورجل كذب بين اثنين ليصلح بينهما و رجل كذب في خديعة حرب

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو! تمہیں جھوٹ پہ جھوٹ بولنے پر کونسی چیز ابھارتی ہے ؟ جیسے پتنگے آگے پیچھے آگ میں جاتے ہیں ۔ تین کے علاوہ ہر جھوٹ کا گناہ آدمی پر لکھا جاتا ہے : ایک وہ آدمی جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے یا اپنی بیوی سے بولتا ہے یا جنگ کے حربہ کے طور پر جھوٹ بولتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَأَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيَّانِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20441

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20442

423 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز وخلف بن عمرو الكعبي قالا ثنا الحسين بن الربيع البوراني ثنا داود بن عبد الرحمن العطار أخبرنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس ألا أنبئكم بخياركم ؟ قالوا : بلى قال : الذين إذا رؤوا ذكر الله ألا أنبئكم بشراركم ؟ قالوا : بلى قال : فإن شراركم المشاؤون بالنميمة المفسدون بين الأحبة الباغون البراء العنت

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اے لوگو! کیا میں خبر دار نہ کروں کہ تم میں سے بہترین کون ہیں ؟ عرض کی : کیوں نہیں :فرمایا:وہ لوگ ، جن کو دیکھنے سے بے اختیار خدا یاد آجائے ۔ کیا میں تمہیں ان لوگوں سے آگاہ نہ کر دوں جو برے ترین ہیں ؟ عرض کی : کیوں نہیں : فرمایا : بیشک تم میں سے برے ترین چغل خور ہیں ، دوستوں کے درمیان لڑائی ڈلوانے والے ،فساد اور خرابی یا زنا و بدکاری اور خطا کے طالب ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← الحسين بن الربيع البوراني ← وحدثنا علي بن عبد العزيز وخلف بن عمرو الكعبي ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20442

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20443

424 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا محمد بن أبي عمر العدني ثنا يحيى بن سليم عن ابن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا أخبركم بخياركم ؟ فذكر نحوه

حضرت شھر بن حوشب سے مروی ہے : حضرت اسماء بنت یزیدرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا :خبردار ! میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بتاؤں، جو تم میں سب سے بہتر ہے ۔اس کے بعد راوی نے اس جیسی حدیث ذکر کی ۔

ألا أخبركم بخياركم فذكر نحوه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20443

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20444

425 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا بشر بن المفضل عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بخياركم ؟ فذكر مثله

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اے لوگو! کیا میں خبر دار نہ کروں کہ تم میں سے بہترین کون ہیں ؟ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20444

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20445

426 - حدثنا خلف بن داود العكبري ثنا الحسن بن الربيع ثنا داود بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج إلى النساء في جانب المسجد فإذا أنا معهن فسمع أصواتهن فقال : يا معشر النساء إنكن أكثر حطب جهنم فناديت رسول الله صلى الله عليه و سلم وكنت جريئة على كلامه فقلت : يا رسول الله لم ؟ قال : لأنكن إذا أعطيتن لم تشكرن وإذا ابتليتن لم تصبرن فإذا أمسك عنكن شكوتن وإياكن وكفران المنعمين فقلت : يا رسول الله وما كفران المنعمين ؟ قال : المرأة تكون عند الرجل وقد ولدت له الولدين والثلاثة فتقول ما رأيت منك خيرا قط

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مسجد کی جانب سے عورتوں کی طرف نکلے ۔ اچانک میں بھی ان عورتوں کے ساتھ تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کی آواز سنی ۔ فرمایا : اے عورتوں کے گروہ ! بیشک تم زیادہ جہنم کا ایندھن بننے والی ہو ۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ندا دی جبکہ مجھے آپ کے ساتھ کلا کرنے کی طاقت دی گئی تھی ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ فرمایا : اس وجہ سے کہ جب تمہیں دیا جاتا ہے تو تم شکر یہ ادا نہیں کرتی ہو اور جب تم پر مصیبت آتی ہے تو صبر نہیں کرتی ہو ۔ پس جب تم سے کوئی چیز روکی جائے تو تم زبان شکایت کھولتی ہو ۔ تم نعمتیں کرنے والوں کی ناشکری سے بچو ۔ میں نے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کفر المنعمین کیا ہے ؟ رمایا : کوئی عورت ،ایک شوہر کے پاس ہو اور اس سے دو یا تین بچے جنے پھر کہے : بخدا ! میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← خلف بن داود العكبري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20445

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب · حديث 20446

427 - حدثنا أحمد بن محمد الشافعي ثنا عمي إبراهيم بن محمد ثنا أبي ثنا يحيى بن سليم عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت اسماء بنت یزید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے اسی مثل کی حدیث بیان کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَبِي ← عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّافِعِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20446

chevron_left Previous
1…181920…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter