Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20423

404 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد الأنصارية قالت : Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيتي فذكر الدجال فقال : إن بين يديه ثلاث سنين سنة تمسك السماء فيها ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها والثانية تمسك السماء ثلث قطرها والأرض ثلثي نباتها والثالثة تمسك السماء قطرها كله والأرض نباتها فلا تبقى ذات ضرس ولا ذات ظلف من البهائم إلا هلكت وإنه من أشد فتنة إنه يأتي الأعرابي فيقول : أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول : بلى فيتمثل له الشيطان نحو إبله كأحسن ما كانت ضروعا وأعظمها أسنمة ويأتي الرجل قد مات أخوه ومات أبوه فيقول : أرأيت إن أحييت لك أباك وأحييت لك أخاك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول له : بلى فيتمثل له الشيطان نحو أبيه ونحو أخيه قالت : ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم لحاجة ثم رجع والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم فأخذ الباب وقال : مهيم ؟ قالت أسماء قلت : يا رسول الله لقد د لقت أفئد تنا بذكر الدجال فقال : إن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه وإلا فإن ربي خليفتي على كل مسلم مؤمن قالت أسماء : فقلت والله يا رسول الله إنا لنعجن عجيننا فما نخبز حتى نجوع فكيف بالمؤمنين يومئذ ؟ فقال : يجزئهم ما يجزيء أهل السماء من التسبيح والتقديس

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میرے گھر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا : اس کے خروج سے پہلے تین سال ہوں گے ، ایک سال ، آسمان سے تیسرا حصہ پانی اترنے اور زمین سے تیسرا حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔دوسرا سال ، آسمان سے دو تہائی حصہ پانی اترنے اور زمین سے دو تہائی حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔تیسرا سال ، آسمان سے تمام اترنے اور زمین سے تمام گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔ پس نہیں باقی رہے گا کوئی داڑھ والا اور نہ ہی گھر والا کوئی جانور مگر ہلاک ہو جائے گا ۔ یہ سب سے سخت فتنہ ہو گا ، کیونکہ ایک اعرابی کے پاس آئے گا (،جس کا اونٹ مر چکا ہو گا ) پس وہ اس سے کہےگا : تیرا کیا خیال ہے اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو نہیں جانے گا کہ میں تیرا رب ہوں ۔ وہ کہے گا : کیوں نہیں ۔ پس اس کے شیطان اونٹ کی شکل اختیار کر کے آجائے گا جیسے خوبصورت کھیری اور موٹی کوہان کے ساتھ اونٹ ہوتا ہے ۔ اور وہ ایک آدمی کے پاس آ کر کہے گا ، جس کا بھائی اور باپ فوت ہو چکے ہوں گے ۔ پس وہ کہے گا: اگر میں تیرے لیے تیرے باپ کو زندہ کردوں اور تیرے بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تو نہیں جان لے گا کہ میں تیرا رب ہوں ؟ وہ جواب دے گا : کیوں نہیں ۔ پس فوراً شیطان اس کے باپ اور بھائی کی شکل بنا کر آجائے گا ۔ فرماتی ہیں : پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کسی کام کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو لوگ پریشانی اور غم میں مبتلا تھے ، اس بات کی وجہ سے جو آپ نے سنائی تھی ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دروازہ پکڑا اور کہا : کیا ہو ا ہے ؟ حضرت اسماء فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دجال کا ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ فرمایا : اگر وہ نکلا اس حال میں کہ میں زندہ ہوا تو میں اس سے جھگڑنے ( مقابلہ کرنے ) والا ہوں گا ورنہ میرے بعد میرا رب ، ہر مسلمان کا محافظ ہو گا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بخدا ( ایسے ہی ہے کہ ) ہم اپنا آٹا گوندھیں گے اور روٹیاں نہیں پکا سکیں گے یہاں تک کہ ہم بھوکے رہ جائیں گے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20423

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20424

405 - حدثنا علي بن عبد العزيز حدثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن ثابت وقتادة وحجاج بن الأسود عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في ملأ من أصحابه فذكروا الدجال فقال : إن بين يدي الساعة حمراوات تمسك أول سنة من السماء ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها والسنة الثانية تمسك السماء ثلثي قطرها والأرض ثلثي نباتها والسنة الثالثة تمسك السماء قطرها والأرض نباتها حتى لايبقى ذو خف وحافر ثم خرج لحاجته ثم رجع ولهم حنين فأخذ بعضدتي الباب فقال : ما شأنكم ؟ قالوا يا رسول الله إن أحدنا ليعجن عجينه فما يصبر حتى يختمر قال : إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه وإلا فإن الله خليفتي على كل مؤمن قالوا : يا رسول الله فما يجزيء المؤمن يومئذ ؟ قال : ما يجزيء الملائكة من التسبيح والتحميد والتهليل والتكبير

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم صحابہ کے جھرمٹ میں تھے ۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کے خروج سے پہلے تین سال ہوں گے ، ایک سال ،آسمان سے تیسرا حصہ پانی اترنے اور زمین سے تیسر ا حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔ دوسرا سال ، آسمان سے دو تہائی حصہ پانی ارتنے اور زمین سے دو تہائی حصہ گھاس نکلنے کو روک دےگا ۔تیسرا سال ، آسمان سے تمام پانی اترنے اور زمین سے تمام گھاس نکلنے کو روک دے گا یہاں تک کہ کوئی داڑھ والا اور نہ ہی کھر والا کوئی جانور باقی نہیں رہے گا ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کسی کام کےلیے نکلے پھر واپس آئے تو لوگ پریشانی اور غم میں مبتلا تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دونوں بازوؤں دروازہ پکڑا اور کہا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنا آٹا گوندھیں گے ( اور روٹیاں نہیں پکا سکیں گے ) یہاں تک کہ وہ خمیرہ ہو جائے گا ۔ فرمایا : اگر وہ اس حال میں کہ میں زندہ ہوا تو میں اس سے جھگڑنے ( مقابلہ کرنے ) والا ہوں گا ورنہ میرے بعد میرا رب ، ہر مسلمان کا محافظ ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس دن مؤمن کو کیا جزا ملے گی ؟ فرمایا : وہی جو فرشتوں کو تسبیح ،تحمید ، تہلیل اور تکبیر سے ملتی ہے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ثابت وقتادة وحجاج بن الأسود ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20424

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20425

406 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا الأوزاعي حدثني قتادة حدثني شهر بن حوشب حدثتني أسماء بنت يزيد بن السكن وهي بنت عم معاذ قالت : Y أتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم في طائفة من أصحابه فذكر الدجال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن قبل خروجه ثلاث سنين أول سنة تمسك السماء ثلث قطرها وتمسك الأرض ثلث نباتها والسنة الثانية تمسك السماء ثلثي قطرها وتمسك الأرض ثلثي نباتها والسنة الثالثة تمسك السماء ما فيها والأرض ما فيها فيهلك كل ذات ضرس وظلف ومن أشد فتنته أنه يقول للأعرابي : أرأيت إن أحييت لك إبلك عظيمة ضروعها طويلة أسنمتها بحتر تعلم أني ربك ؟ فيقول : نعم فيتمثل له الشيطان ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم لبعض حاجته ووضعت له وضوءه وانتحب القوم حتى ارتفعت أصواتهم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الباب فقال : مهيم ؟ فقلنا يا رسول الله خلعت قلوبهم بالدجال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن يخرج الدجال وأنا حي فأنا حجيجه وإن مت فإن الله خليفتي على كل مؤمن قلت : يا رسول الله فما يجزيء المؤمنين يومئذ ؟ قال : يجزئهم ما يجزيء أهل السماء التسبيح والتقديس

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اپنے صحابہ کےایک گروہ میں میرے پاس آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا : اس کے خروج سے پہلےکئی سال یا دو سال ہوں گے ، ایک سال ،آسمان سے تیسرا حصہ پانی اترنے اور زمین سے تیسر ا حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔ دوسرا سال ، آسمان سے دو تہائی حصہ پانی اترنے اور زمین سے دو تہائی حصہ گھاس نکلنے کو روک دےگا ۔تیسرا سال ، آسمان سے تمام پانی اترنے اور زمین سے تمام گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔پس نہیں باقی رہے گا کوئی داڑھ والا اور نہ ہی کھر والا کوئی جانور مگر ہلاک ہو جائے گا ۔یہ سب سے سخت فتنہ ہو گا ، کیونکہ وہ ایک اعرابی کے پاس آئے گا ( جس کا اونٹ مر چکا ہوگا ) پس وہ اس سے کہے گا : تیرا خیال ہے اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں جیسے اس کی خوبصورت بڑی کھیری اور موٹی کوہان ہو ۔ تو کیا تو نہیں جانے گا کہ میں تیرا رب ہوں ۔ وہ کہے گا : ہاں ۔ پس اس کے شیطان اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائے گا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کسی کام کے لیے نکلے اور میں نے آپ کے وضو کا پانی رکھا پھر واپس آئے تو لوگوں کے پریشانی سے رنگ اڑ گئے ، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہونیں لگیں ۔پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دروازہ پکڑا اور کہا : کیا ہوا ہے ؟ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دجال کا ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا دیا ہے ۔ فرمایا : اگر وہ نکلا اس حال میں کہ میں زندہ ہوا تو میں اس سے جھگڑنے ( مقابلہ کرنے ) والا ہوں گا ورنہ میرے بعد میرا رب ، ہر مسلمان کا محافظ ہوگا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس دن مؤمن کو کیا جزا ملے گی ؟ فرمایا : وہی جو فرشتوں کو تسبیح و تقدیس سے ملتی ہے ۔

شهر بن حوشب حدثتني أسماء بنت يزيد بن السكن وهي بنت عم معاذ ← قَتَادَةَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20425

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20426

407 - حدثنا إسحاق بن جميل الأصبهاني أنا أحمد بن منيع ثنا يزيد بن هارون أنا جرير بن حازم عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيت فقال : إذا كان قبل خروج الدجال حبست السماء ثلث قطرها ثلاث سنين وحبست الأرض ثلث نباتها فإذا كانت السنة الثانية حبست السماء ثلثي قطرها وحبست الأرض ثلثي نباتها فإذا كانت السنة الثالثة حبست السماء قطرها والأرض نباتها كله فذكر نحو حديث الأوزاعي

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم ایک گھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی معیت میں تھے تو فرمایا :خروج دجال سے پہلے ایک تہائی بارش کا تین سال تک روک دے گا اور زمین اپنی نباتات روک لے گی ۔ پس جب دوسرا سال آئے گا تو اپنی بارش کے قطرات دو تہائی روک لے گا اور زمین دو تہائی نباتات روک لے گی اور جب تیسرا سال ہوگا تو آسمان سارے قطرے اور زمین ساری نباتات روک لے گی ۔ اس کے بعد امام اوزاعی جیسی حدیث بیان کی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← اسحاق بن جميل الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20426

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20427

408 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

حضرت شہر بن حوشب سے مروی ہے :حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے روایت کیا ، پس راوی نے اس جیسی حدیث بیان کی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20427

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20428

409 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا هدبة بن خالد ثنا همام عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت Y انطلقت مع أخي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلي سواران من ذهب فقال : أيسرك أن يسورك الله بسوارين من نار ؟ فانتزعتهما فرميتهما فلا أدري أي الناس أخذهما

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئی ،میں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئےتھے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : کوئی تم میں سے یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ عزوجل اس کو آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ پس میں نے ان دونوں کنگنوں کو اتار کر پھینک دیا ، مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں میں سے کس نے ان دونوں کو پکڑا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20428

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20429

410 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أنها أتت النبي صلى الله عليه و سلم وعلى خالتها سوارين فذكر نحوه

حضرت شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ حضرت اسماءرضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں : وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئیں اور ان کی خالہ نے دو کنگن پہنے ہوئے تھے ، اس کے بعد راوی نے اوپر والی حدیث ذکر کی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20429

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ثابت البناني عن شهر بن حوشب · حديث 20430

411 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة أنا ثابت البناني عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ هذه الآية { قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا } ولا يبالي { إنه هو الغفور الرحيم }

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے یہ آیت پڑھی :"اے پیارے حبیب! آپ فرمائیں جو لوگ اپنی جانوں پر زیادتی کرتے ہیں "کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اللہ عزوجل تمہارے سارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20430

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبد العزيز بن صهيب عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد · حديث 20431

412 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا هلال بن بشر ثنا زكريا بن يحيى بن عمارة ثنا عبد العزيز بن صهيب عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الدجال فقال : إن بين يدي خروجه ثلاث سنين تمنع السماء ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها فذكر الحديث

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا : اس کے خروج سے پہلے تین سال ہوں گے ،جو آسمان سے تیسرا حصہ پانی اترنے اور زمین سے تیسرا حصہ گھاس نکلنے کو روک دیں گے ۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← زَکَرِيَّا بْنُ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20431

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ حماد بن جعفر أبو جعفر البصري عن شهر · حديث 20432

413 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا علي بن أسد العمي ثنا محمد بن حمران ثنا مرزوق أبو عبد الله الشامي عن أبي جعفر عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صليتم على الجنازة فاقرأوا بفاتحة الكتاب

حضرت اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : جب تم جنازہ پر نماز پڑھو ( اگر اور کوئی دعا نہ آتی ہو ) تو سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔( کیونکہ احناف کے نزدیک نماز جنازہ میں قرات قرآن نہیں ہے ۔)

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← مرزوق أبو عبد الله الشامي ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، ← علي بن أسد العمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20432

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ حفص بن أبي حفص أبو معمر التميمي عن شهر · حديث 20433

414 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا ثوبان بن فروخ ثنا حفص بن أبي حفص أبو معمر قال : سمعت شهر بن حوشب يحدث عن أسماء بنت يزيد قالت : Y كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم الرجال والنساء فقال : عسى رجل يحدث بما يكون بينه وبين أهله أو عسى امرأة تحدث بما يكون بينها وبين زوجها فأرم القوم فقلت : أي والله يا رسول الله إنهم ليفعلون وإنهن ليفعلن قال : فلا تفعلوا فإن مثل ذلك مثل شيطان لقي شيطانة في ظهر الطريق فغشيتها والناس ينظرون

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم عورتیں اور مرد ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا : ممکن ہے کوئی ایسا مرد ہو ، جو وہ چیز بیان کرتا ہو ، جو اس کے اور اس کی عورت کے درمیان ہےیا ممکن ہے کوئی ایسی عورت ہو جو وہ چیز بیان کرتی ہو جو اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ہے ۔ پس قوم نے خاموشی اختیار کی ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !ہاں ۔ بخدا ! مرد بھی ایسا کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ۔ فرمایا : ایسا نہ کیا کرو ،کیونکہ یہ شیطانی کام ہے ، جیسے شیطان نے شیطانہ سے راستے پر ملاقات کی ہے اور اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اس حال میں کہ لوگ دیکھ رہے تھے ۔

عَسَى رَجُلٌ ← كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم الرجال والنساء ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← حفص بن أبي حفص أبو معمر ← ثوبان بن فروخ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20433

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ حفص بن أبي حفص أبو معمر التميمي عن شهر · حديث 20434

415 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا شيبان بن فروخ ثنا حفص بن أبي حفص أبو معمر التميمي ثنا شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : Y كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأبصر امرأة عليها سواران من ذهب فقال : أيسرك أن يسورك الله بسوارين من نار ؟ فخلعتها من يدها فطرحتها فلا أدري من أخذهما

حضرت اسماء بنت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ایک عورت کو دیکھا ، جس نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ پاس اس عورت نے اپنے ہاتھوں سے اتار پھینک دیا ۔ مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ انہیں کس نے اٹھایا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ أَبُو مَعْمَرٍ التَّمِيمِيُّ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20434

chevron_left Previous
1…171819…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter