المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ ما روى شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قتادة بن دعامة عن شهر بن حوشب · حديث 20423
404 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد الأنصارية قالت : Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيتي فذكر الدجال فقال : إن بين يديه ثلاث سنين سنة تمسك السماء فيها ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها والثانية تمسك السماء ثلث قطرها والأرض ثلثي نباتها والثالثة تمسك السماء قطرها كله والأرض نباتها فلا تبقى ذات ضرس ولا ذات ظلف من البهائم إلا هلكت وإنه من أشد فتنة إنه يأتي الأعرابي فيقول : أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول : بلى فيتمثل له الشيطان نحو إبله كأحسن ما كانت ضروعا وأعظمها أسنمة ويأتي الرجل قد مات أخوه ومات أبوه فيقول : أرأيت إن أحييت لك أباك وأحييت لك أخاك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول له : بلى فيتمثل له الشيطان نحو أبيه ونحو أخيه قالت : ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم لحاجة ثم رجع والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم فأخذ الباب وقال : مهيم ؟ قالت أسماء قلت : يا رسول الله لقد د لقت أفئد تنا بذكر الدجال فقال : إن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه وإلا فإن ربي خليفتي على كل مسلم مؤمن قالت أسماء : فقلت والله يا رسول الله إنا لنعجن عجيننا فما نخبز حتى نجوع فكيف بالمؤمنين يومئذ ؟ فقال : يجزئهم ما يجزيء أهل السماء من التسبيح والتقديس
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میرے گھر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا : اس کے خروج سے پہلے تین سال ہوں گے ، ایک سال ، آسمان سے تیسرا حصہ پانی اترنے اور زمین سے تیسرا حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔دوسرا سال ، آسمان سے دو تہائی حصہ پانی اترنے اور زمین سے دو تہائی حصہ گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔تیسرا سال ، آسمان سے تمام اترنے اور زمین سے تمام گھاس نکلنے کو روک دے گا ۔ پس نہیں باقی رہے گا کوئی داڑھ والا اور نہ ہی گھر والا کوئی جانور مگر ہلاک ہو جائے گا ۔ یہ سب سے سخت فتنہ ہو گا ، کیونکہ ایک اعرابی کے پاس آئے گا (،جس کا اونٹ مر چکا ہو گا ) پس وہ اس سے کہےگا : تیرا کیا خیال ہے اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو نہیں جانے گا کہ میں تیرا رب ہوں ۔ وہ کہے گا : کیوں نہیں ۔ پس اس کے شیطان اونٹ کی شکل اختیار کر کے آجائے گا جیسے خوبصورت کھیری اور موٹی کوہان کے ساتھ اونٹ ہوتا ہے ۔ اور وہ ایک آدمی کے پاس آ کر کہے گا ، جس کا بھائی اور باپ فوت ہو چکے ہوں گے ۔ پس وہ کہے گا: اگر میں تیرے لیے تیرے باپ کو زندہ کردوں اور تیرے بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تو نہیں جان لے گا کہ میں تیرا رب ہوں ؟ وہ جواب دے گا : کیوں نہیں ۔ پس فوراً شیطان اس کے باپ اور بھائی کی شکل بنا کر آجائے گا ۔ فرماتی ہیں : پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کسی کام کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو لوگ پریشانی اور غم میں مبتلا تھے ، اس بات کی وجہ سے جو آپ نے سنائی تھی ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دروازہ پکڑا اور کہا : کیا ہو ا ہے ؟ حضرت اسماء فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دجال کا ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ فرمایا : اگر وہ نکلا اس حال میں کہ میں زندہ ہوا تو میں اس سے جھگڑنے ( مقابلہ کرنے ) والا ہوں گا ورنہ میرے بعد میرا رب ، ہر مسلمان کا محافظ ہو گا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بخدا ( ایسے ہی ہے کہ ) ہم اپنا آٹا گوندھیں گے اور روٹیاں نہیں پکا سکیں گے یہاں تک کہ ہم بھوکے رہ جائیں گے ۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20423
