Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 1 · حديث 20327

308 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y أن امرأة جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إن ابنتي عروس وقد أصابها حصبة فتمزق شعرها أفأصلها ؟ فقال : لعن الله الواصلة والمستوصلة

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئی ،اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اپنی بچی کی شادی کرنی ہے لیکن یہ بیمار تھی اور اس کے سر کے بال ختم ہو گئے ، کیا ہم اسے اور بال لگوا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے لعنت فرمائی ہے بال لگانے اور لگوانے والی پر ۔

«لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ» ← إن ابنتي عروس وقد أصابها حصبة فتمزق شعرها أفأصلها ← أن امرأة جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 1 · حديث 20328

309 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا : ثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن ابنتي عروس وقد أصابتها هذه القرحة فتمزق شعرها أفأصل لها قصة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لعن الله الواصلة والمستوصلة

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئی ،اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم نے اپنی بچی کی شادی کرنی ہے لیکن اسے زخم آیا اور اس کے سر کے بال ختم ہو گئے ،کیا ہم اسے اور بال لگوا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے لعنت فرمائی ہے بال لگانے اور لگوانے والی پر ۔

جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20328

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 1 · حديث 20329

310 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم أنا الليث بن سعد عن عمرو بن الحارث عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا نبي الله إن ابنتي عروس وقد أخذتها الحصبة فتساقط شعرها أفأصلها ؟ فقال : لعن الله الواصلة والمستوصلة

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئی ،اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اپنی بچی کی شادی کرنی ہے لیکن یہ بیمار تھی اور اس کے سر کے بال ختم ہو گئے ، کیا ہم اسے اور بال لگوا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے لعنت فرمائی ہے بال لگانے اور لگوانے والی پر ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 1 · حديث 20330

311 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن الواصلة والمستوصلة

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما روایت فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بال لگانے اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20330

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20331

312 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخلت على عائشة في حجرتها والنبي صلى الله عليه و سلم يصلي بالناس فقلت : يا عائشة ما شأن الناس ؟ فقالت : سبحان الله وأشارت برأسها تحكي أي نعم وأومأ أبو النعمان برأسه

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں رسول کریم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ۔ میں حضرت عائشہ کے پاس ان کے کمرے میں داخل ہوئی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ میں نے کہا : اے عائشہ ! لوگوں کو کیا ہے ؟ کہا سبحان اللہ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ میں نے کہا ؛ کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے ؟ کہا : سبحان اللہ اور سر سے اشارہ کیا جس سے وہ ہاں کی حکایت کر رہی تھیں ۔ اور راوی حدیث ابو نعمان نے بھی سر سے اشارہ کیا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20331

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20332

313 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم ثنا مالك بن أنس و مفضل بن فضالة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y أتيت عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم حين كسفت الشمس فإذا الناس قيام يصلون فإذا هي قائمة فقلت : ما للناس ؟ فأشارت بيدها إلى السماء وقالت سبحان الله فقلت : آية ؟ وأشارت أي نعم قالت : فقمت حتى جاءني الغشي فجعلت أصب فوق رأسي الماء فحمد الله رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ما من شيء كنت لم أره إلا قد رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار فإنه أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبا من فتنة الدجال لا أدري أي ذلك قالت يؤتى أحدكم فيقال ما علمك بهذا الرجل ؟ فأما المؤمن أو الموقن لا أدري أي ذلك قالت فيقول : محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا وآمنا واتبعنا فيقال له : نم صالحا قد علمنا أن كنت لمؤمنا وأما المنافق أو المرتاب لا أدري أي ذلك قالت أسماء فيقول : لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلته

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں رسول کریم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ۔ میں حضرت عائشہ کے پاس ان کے کمرے میں داخل ہوئی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ میں نے حضرت عائشہ سے کہا : لوگوں کو کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! اور اپنے ہاتھ سےآسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے کہا ؛ کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے ؟ انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں ۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے لمبا قیام کیا ( میں کھڑی ہوئی ) یہاں تک کہ مجھ پر بیہوشی طاری ہو گئی ۔ میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اللہ کی حمد کی پھر فرمایا : نہیں کوئی شے جس کو میں نے نہیں دیکھا تھا مگر اب میں اسی مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ رہا ہوں حتی کہ جنت اور دوزخ کیونکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے مثلا یا دجال کے آنے کے قریب ۔( مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ کیا الفاظ کہے ۔) فرماتی ہیں : تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس ہستی کے بارے تیری معلومات کیا ہیں؟ اگر مؤمن ہو گا یا صاحب ایقان ( میں نہ جان سکی کہ ان میں کونسا لفظ کہا ) فرماتی ہیں: وہ کہے گا: (یہ ) اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہیں ۔ واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے اور ہم نے قبول کیا ۔ ہم ایمان لائے اور اتباع کی۔ پس اس سے کہا جائے گا : سو جا اس حال میں کہ تو صالح ہو ۔ ہم نے جان لیا تو مؤمن ہے لیکن منافق یا شکی ( میں جان نہ سکی کہ ان میں سے کونسا لفظ کہا ) کہے گا : مجھے معلوم نہیں ۔ لوگوں کو سنتا تھا وہ ایک بات کہتے تھے ، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مالك بن أنس و مفضل بن فضالة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20332

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20333

314 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخلت المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي بالناس فقلت لعائشة : ما شأن الناس ؟ فقالت : سبحان الله وأومأت برأسها إلى السماء فقلت : آية ؟ فأومأت برأسها أي نعم فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فأطال القيام حتى أخذني دوار فدنوت من القربة ففتحت رأسها فجعلت أصب على رأسي فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تجلت الشمس ولغط نسوة من الأنصار وجعلت اسكتهن فقلت : يا عائشة ما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت حمد الله وأثنى عليه ثم قال : أما بعد فإنه ليس شيء لم أكن رأيته إلا قد رأيته في مقامي حتى الجنة والنار وإنه قد أوحي إلي أنكم تفتنون في قبوركم قريبا أو مثل فتنة الدجال يؤتى أحدكم في قبره فيقال له : ما تقول في هذا الرجل الذي كان فيكم ؟ فأما المؤمن فيقول : هو محمد رسول الله جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا واتبعنا فيقال له : قد علمنا أنك كنت تقول ذلك فنم صالحا وأما المنافق المرتاب فيقول : لا أدري فيقال : لادريت فيغلظ له في قبره

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں : جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ۔میں مسجد میں داخل ہوئی جبکہ لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ وہ خود کھڑی تھیں ۔ میں نے کہا : لوگوں کو کیا ہے ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے کہا : کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں ۔ فرماتی ہیں : میں کھڑی ہوئی تو مجھ پر بیہوشی طاری ہو گئی ۔ میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے نماز ادا کی یہاں تک کہ سورج گرہن مکمل روشن ہو گیا ۔ انصاری عورتوں نے شور کیا تو میںان کو چپ کروانے لگی ۔ میں نے کہا ؛ اے عائشہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : حمد و ثنا کے بعد ! نہیں ہے کوئی شے جس کو میں نے نہیں دیکھا تھا مگر اب میں اسی مقام پر کھڑے ہوکر دیکھ رہا ہوں حتی کہ جنت اور دوزخ ۔ کیونکہ میری طرف وحی کی گئی ہےکہ قریب ہی تم اپنی قبروں میں آزمائے جاو گے یا فرمایا: دجال کے فتنے کی مانند ۔ تم میں سے ایک اپنی قبر میں آئے گا اور اسے کہا جائے گا : اس ہستی کے بارے تو کیا کہتا ہے،تمہارے اندر رہے ہیں ؟ اگر مؤمن ہو گا تو وہ کہے گا :(یہ) اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہیں ۔ واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے اور ہم نے قبول کیا اور اتباع کی ۔ پس اس سے کہا جائے گا : ہمیں معلوم تھا تو یہی کہے گا ۔ سوجا اس حال میں کہ تو صالح ہو۔ لیکن منافق شکی کہے گا : مجھے معلوم نہیں ۔ اس سے کہا جائے گا تو نہیں جانتا ۔ اس پر اس کی قبر میں سختی کی جائے گی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20333

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20334

315 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا الليث بن سعد عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y أتيت عائشة فإذا الناس قيام وإذا هي تصلي فقلت : ماشأن الناس ؟ فأشارت بيدها إلى السماء وقالت : سبحان الله فقلت : آ ية ؟ فأشارت برأسها أي نعم قالت : فقمت حتى تجلاني الغشي فجعلت أصب على رأسي الماء قالت : فحمد النبي صلى الله عليه و سلم عز و جل وأثنى عليه حبن انصرف وقال : ما من شيء لم أكن رأيته إلا قد رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار وإنه قد أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبا لا أدري أي ذلك قالت أسماء من فتنة المسيح الدجال يؤتى أحدكم فيقال له : ما علمك بهذا الرجل ؟ فأما المؤمن أو الموقن لا أدري أي ذلك قالت أسماء فيقول : هو محمد رسول الله جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا واتبعنا فيقال : قد علمنا أن كنت مؤمنا يقولها ثلاث مرات وأما المنافق أو المرتاب لا أدري أي ذلك قالت أسماء فيقول : لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلت

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں حضرت عائشہ کے پاس داخل ہوئی ،میری نظر پڑی تو اچانک لوگ نماز پڑھ رہے تھے اور اچانک میں نے دیکھا تو وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں ۔ میں نے کہا : لوگوں کو کیاہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! میں نے کہا : کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے ؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ہاں ۔ فرماتی ہیں ۔ میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ پر بیہوشی طاری ہو گئی ۔ میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : نہیں ہے کوئی شے جس کو میں نے نہیں دیکھا تھا مگراب میں اسی مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ رہا ہوں حتی کہ جنت اور دوزخ ۔ کیونکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے مثلا یا دجال کے آنے کے قریب ۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں :(مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ کیا الفاظ کہے ۔) فرماتی ہیں : تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس ہستی کے بارے تیری کیا معلومات کیا ہیں ؟ اگر مؤمن ہو گا یا صاحب ایقان ( میں جان نہ سکی کہ ان میں کونسا لفظ کہا ) اسماء فرماتی ہیں : وہ کہے گا : (یہ ) اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہیں ۔ واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے اور ہم نے قبول کیا اور اتباع کی ۔ پس اس سے کہاجائے گا : ہمیں معلوم تھا کہ تو ان پر ایمان رکھنے والا تھا ۔ وہ تین بار کہے گا ۔ لیکن منافق یا شکی ( میں جان نہ سکی کہ ان میں کونسا لفظ کہا ) حضرت اسماء فرماتی ہیں : کہے گا : مجھے معلوم نہیں ۔ لوگوں کو سنتا تھا وہ ایک بات کہتے تھے ، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20334

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20335

316 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة و عبد الله بن نمير ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عبدة بن سليمان كلهم عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت : Y أتيت عائشة فإذا الناس قيام وإذا هي تصلي فقلت : ما شأن الناس ؟ فاشارت بيدها نحو السماء وقالت : سبحان الله فقلت آية ؟ فأشارت برأسها اي نعم فقمت حتى تجلاني الغشي وجعلت أصب على رأسي من الماء قالت : فحمد رسول الله صلى الله عليه و سلم الله وأثنى عليه بما هو أهله وقال : ما من شيء أريته إلا رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار وقد أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبا لا أدري أي ذلك قالت أسماء من فتنة المسيح الدجال يؤتى أحدكم فيقال له ما علمك بهذا الرجل ؟ فأما المؤمن فيقول : محمد رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا واتبعنا فيقال : نم صالحا فقد علمنا أنك كنت تؤمن بالله وأما المنافق أو المرتاب لا أدري أي ذلك قالت فيقول : لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلته

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں حضرت عائشہ کے پاس داخل ہوئی ،میری نظر پڑی تو اچانک لوگ نماز پڑھ رہے تھے اور اچانک میں نے دیکھا تو وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں ۔ میں نے کہا : لوگوں کو کیاہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! میں نے کہا : کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے ؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ہاں ۔ فرماتی ہیں ۔ میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ پر بیہوشی طاری ہو گئی ۔ میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : نہیں ہے کوئی شے جس کو میں نے نہیں دیکھا تھا مگراب میں اسی مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ رہا ہوں حتی کہ جنت اور دوزخ ۔ کیونکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے مثلا یا دجال کے فتنہ کے ۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں :(مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ کیا الفاظ کہے ۔) فرماتی ہیں : تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا : اس ہستی کے بارے تیری کیا معلومات کیا ہیں ؟ اگر مؤمن ہو گا یا صاحب ایقان ( میں جان نہ سکی کہ ان میں کونسا لفظ کہا ) اسماء فرماتی ہیں : وہ کہے گا : (یہ ) اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہیں ۔ واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے اور ہم نے قبول کیا اور اتباع کی ۔ پس اس سے کہاجائے گا : ہمیں معلوم تھا کہ تو ان پر ایمان رکھنے والا تھا ۔ وہ تین بار کہے گا ۔ لیکن منافق یا شکی ( میں جان نہ سکی کہ ان میں کونسا لفظ کہا ) حضرت اسماء فرماتی ہیں : کہے گا : مجھے معلوم نہیں ۔ لوگوں کو سنتا تھا وہ ایک بات کہتے تھے ، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ کُلُّهُمْ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو أسامة و عبد الله بن نمير ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20335

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 2 · حديث 20336

317 - حدثنا مصعب بن إبراهيم بن حمزة ثنا أبي ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا، حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے اسی کی مثل روایت کرتی ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20336

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 3 · حديث 20337

318 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرهم بعتاقة حين كسفت الشمس

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ جب سورج گرہن لگتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم لوگوں کو غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20337

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب 3 · حديث 20338

319 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بالعتاقة عند كسوف الشمس

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ جب سورج گرہن لگتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم لوگوں کو غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20338

chevron_left Previous
1…91011…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter