Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ حماد بن عبد الرحمن المالكي عن معاوية بن قرة · حديث 15730

61 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمر بن يزيد الشيباني ثنا حماد بن عبد الرحمن المالكي عن معاوية بن قرة قال Y قال أبي : ( إذا مررت بالمجلس فسلم على أهله فإن يكونوا في خير فأنت شريكهم وإن يكونوا في غير ذلك كان لك أجر هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول

حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نےفرمایا: جب تُو مجلس کے پا س سے گزرے تو اس مجلس والوں کو سلام کر اگر اچھی مجلس ہو گی تو تجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہو جانے کا ثواب ہو گا اور اگر وہ اچھی مجلس نہ ہوئی تو تیرے لیے ثواب ضرور ہو گا اور میں نے حضور ﷺ سے اسی طرح سنا ہے ۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← حماد بن عبد الرحمن المالكي ← عمر بن يزيد الشيباني ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15730

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ إياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده · حديث 15731

62 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا إبراهيم بن زكريا العبدسي ثنا فديك بن سليمان ثنا خليفة بن حميد عن إياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من كبر تكبيرة عند غروب الشمس على ساحل البحر رافعا صوته أعطاه الله من الأجر بعدد كل قطرة في البحر عشر حسنات ومحا عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات ما بين الدرجتين مسيرة مائة عام بالفرس المسرع

حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جو سورج کے غروب ہونے کے وقت سمندر کے کنارے پر بلند آواز میں اللہ اکبر کہے گا اس کو اللہ عزوجل سمندر کے ہر قطرے کے برابر دس نیکیوں کا ثواب دے گا اور دس گناہ معاف کرے گا اور دس درجات بلند کرے گا جنت کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ ایک سو سال تک تیز گھوڑا چلتا رہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ← خَلِيفَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15731

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ إياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده · حديث 15732

63 - حدثنا عبد الله بن وهيب الغزي ثنا محمد بن أبي السري العسقلاني ثنا بكر بن بشر الترمذي - وكان أمامنا بعسقلان Y مات سنة اثنتين وثمانين ومائة - حدثني عبد الحميد بن سوار حدثني إياس بن معاوية بن قرة حدثني أبي عن جدي قرة قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فذكر عنده الحياء فقالوا : يا رسول الله الحياء من الدين ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بل هو الدين كله ) ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء والعفاف والعي - عي اللسان لا عي القلب - والعمل من الإيمان وانهن يزدن في الآخرة وينقصن من الدنيا ولما يزدن في الآخرة أكثر مما ينقصن في الدنيا فإن الشح والبذاء من النفاق وانهن يزدن في الدنيا وينقصن من الآخرة ولما ينقصن في الآخرة أكثر مما يزدن في الدنيا )

حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے پاس تھے آپ کے پاس حیاء کا ذکر کیا گیا صحابہ کرام نےعرض کی یا رسول اللہ! حیا ء دین سے ہے ؟ حضور ﷺ نےفرمایا: بلکہ حیاء مکمل دین ہے ۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: بے شک حیاء مانگنے سے پرہیز کرنا زبان کی نہ کہ دل کی حفاظت کرنا اور نیک عمل کرنا ایمان کا جز ہیں بے شک یہ چیزیں آخرت میں اضافہ اور دنیا میں کمی لاتی ہیں جو اضافہ آخرت میں ہوتا ہے وہ زیادہ اس سے جو کمی دنیا میں ہوتی ہے یہ چیزیں دنیا میں اضافہ اور آخرت میں کمی لاتی ہیں جتنی کمی آخرت میں ہوتی ہے وہ زیادہ ہے اس سے جو اضافہ دنیا میں ہوتا ہے ۔

كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فذكر عنده الحياء فقالوا ← جدي قرة ← أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ← عبد الحميد بن سوار ← بكر بن بشر الترمذي وكان أمامنا بعسقلان مات سنة اثنتين وثمانين ومائة ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15732

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ الفضيل بن طلحة عن معاوية بن قرة · حديث 15733

64 - حدثنا موسى بن هارون ثنا أبو الربيع الزهراني ( ح ) وحدثنا إبراهيم بن نائلة الاصبهاني ثنا سعيد بن عبد الجبار الكرابيسي ثنا الفرات بن أبي الفرات قال Y سمعت الفضيل بن طلحة يحدث عن معاوية بن قرة عن أبيه قال : انطلقت مع أبي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدناه محلول الازار فأدارني من خلفه فوقع يده على الخاتم

حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنےو الد کے ساتھ حضور ﷺ کے پاس آیا میں نے دیکھا آپ کے جسم اطہر پر قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے آپ نے مجھے پیچھےسے گھما کر میرا ہاتھ مہر نبوت پر رکھا۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← الفضيل بن طلحة ← الفُرات بن أبي الفُرات، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكَرَابِيسِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15733

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ خالد بن ميسرة عن معاوية بن قرة · حديث 15734

65 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي سويد الدارع ثنا سعيد بن سلام العطار ثنا خالد بن ميسرة عن معاوية بن قرة عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من أكل من هاتين الشجرتين فلا يقربنا في مسجدنا فإن كنتم لا بد آكليها فامسوهما طبخا )

حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جو کچا لہسن اور پیاز کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اگر تم نے ضروری ہی کھانا ہو تو ان کو پکا کر کھایا کرو۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ← سعيد بن سلام العطار ← محمد بن عثمان بن أبي سويد الدارع

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15734

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ خالد بن ميسرة عن معاوية بن قرة · حديث 15735

66 - حدثنا يحيى بن عبد الباقي المصيصي ثنا هارون بن زيد بن أبي الزرقاء حدثني أبي عن خالد بن ميسرة قال سمعت معاوية بن قرة يحدث عن أبيه قال Y كان نبي الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس جلس إليه نفر من أصحابه وفيهم رجل له ابن صغير يأتيه من خلف ظهره يقعد بين يديه إلى أن هلك الصبي فامتنع الرجل أن يحضر الحلقة يذكر الله ويحزن عليه ففقد النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( ما لي لا أرى فلانا ؟ ) فقالوا يا رسول الله بينه الذي رأيت هلك فمنعه ذلك من حضور الحلقة فلقيه النبي صلى الله عليه و سلم فسأله عنه فأخبر أنه قد هلك فعزاه عليه ثم قال : ( يا فلان أيهما كان أحب إليك أن تتمتع به عمرك أو لا تأتي غدا بابا من أبواب الجنة إلا وجدته قد سبقك إليه يفتح لك ؟ فقال : يا نبي الله بل يسبقني إلى أبواب الجنة فيفتحها لي أحب إلي قال : ( فذلك لك ) فقام رجل من الانصار فقال يا رسول الله جعلني الله فداك هذا لفلان خاصة أو لمن هلك له من المسلمين فرط كان ذلك له ؟ قال : ( بل كان من هلك له فرط من المسلمين كان ذلك له )

حضرت خالد بن میسرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ بن قرہ سے سنا وہ اپنے والد کے بارے میں حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے فرمایا: نبی کریمﷺ جب تشریف رکھتے تو چند صحابہ بھی بیٹھ جایا کرتے تھے ان میں ایک آدمی تھا جس کا ایک چھوٹا سا بچہ تھا وہ آپ کی پیٹھ والی طرف سے آتا تھا اور سامنے آکر بیٹھ جاتا تھا حتیٰ کہ اس کا بیٹا فوت ہو گیا۔ اس آدمی نے چھوڑ دیا کہ حلقہ میں حاضر ہو کر اللہ کا ذکر کرے وہ پریشان تھا ۔ پس نبی کریم ﷺ نے اس کو نہ پایا تو فرمایا: میں فلاں آدمی کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا بات ہے ؟ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس کا بیٹا جس کو آپ نے دیکھا بھی ہے وہ فوت ہو گیا ہے پس اسی نے حلقہ ذکر میں آنے سے روک دیا ہے ۔ پس نبی کریم ﷺ اس سے ملے اس کے بارے میں دریافت فرمایا اس نے بتایا کہو ہ تو فوت ہو گیا ہے پس آپ نے اس کی تعزیت کی پھر فرمایا: اے فلاں ! دو باتوں میں سے کون سی بات تجھے پسند ہے ؟ یہ تُو اس کی درازی عمر سے فائدہ اُٹھاتا یا کل قیامت میں جنت کے جس دروازے سے تُوآئے گا تو دیکھے گا کہ وہ ہر دروازے پر تجھ سے پہلے آکر دروازہ کھولے گا۔ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! بلکہ وہ مجھ سے پہلے جنت کے دروازوں تک پہنچے اور میرے لیے کھولے یہی مجھے زیادہ پسند ہے ۔ فرمایا: تجھے یہی ملے گا۔ ایک انصاری کھڑا ہوا عرض کی : اےا للہ کے رسول! اللہ مجھے آ پ پر فدا فرمائے ! یہ صرف اس آدمی کیلئے خاص ہے یا مسلمانوں میں سے جس کا بچہ اس سے پہلے فوت ہو جائے ؟ فرمایا: بلکہ مسلمانوں میں جس کا بچہ فوت ہو جائے ہر اس کیلئے عام ہے ۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ← أَبِي ← ھَارُوْنُ بْنُ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ الزَّرْقَاءِ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15735

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ شبيب بن محمد بن واسع عن معاوية بن قرة · حديث 15736

67 - حدثنا عبدان بن أحمد و جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي قالا ثنا عباس بن عبد العظيم العنبري ثنا محمد بن جهضم ثنا الازهر بن سنان عن شبيب بن محمد بن واسع عن معاوية بن قرة عن أبيه قرة قال Y ذهبت لأسلم حين بعث النبي صلى الله عليه و سلم فأردت أن أدخل معي رجلين أو ثلاثة في الاسلام فأتيت الماء حيث مجمع الناس فإذا أنا براعي القرية الذي يرعى أغنامهم فقال : لا أرعى لكم أغنامكم قالوا : لم ؟ قال : يجيء الذئب كل ليلة فيأخذ الشاة وصنمنا هذا قائم لا يضر ولا ينفع ولا يغير ولا ينكر فرجعوا وأنا أرجو أن يسلموا فلما أصبحنا جاء الراعي يشتد وهو يقول : جاء البشرى جاء البشرى جاء الذئب فهو بين يدي الصنم مقموطا فذهبت معهم فقبلوه وسجدوا له وقالوا هكذا فاصنع فدخلت على النبي صلى الله عليه و سلم فحدثته بهذا الحديث فقال : ( عبث بهم الشيطان )

حضرت قرہ فرماتے ہیں : میں گیا تاکہ اسلام لاؤں جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی پس میں نے ارادہ کیا کہ میرے ساتھ دو یا تین ادمی اور ببی اسلام میں داخل ہوں پس میں پانی کے پاس آیا جہاں بہت سارے لوگ جمع تھے پاس میں گاؤں کا چرواہا تھا لوگوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ کہا: میں تمہاری بکریاں نہیں چراؤں گا۔ لوگوں نے پوچھا : کیوں؟ اس نے کہا : ہر رات شیر آکر بکری لے جاتا ہے حالانکہ ہمارا یہ بت موجود ہے نہ نقصا ن دے سکتا ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ تبدیلی لا سکتا ہے نہا نکار کر سکتا ہے ۔ پس وہ لوٹے میں نے اُمید کی کہ وہ اسلام لائیں گے پس جب ہم نے صبح کی تو چرواہا آیا وہ سختی سے کہہ رہا تھا : خوشخبری آگئی ! خوشخبری آگئی! بھیڑیا پس وہ اس بت کےس امنے جھکا ہوا تھا پس میں ان کے ساتھ مل کر گیا پس انہوں نے اسے بوسہ دیا اور اس کو سجدہ کیا اور کہا: اس طرح تُو بھی کر۔ پس میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا میں نے یہ بات آپ کے گوش گزار کی ۔ فرمایا: وہ شیطان تھا جو ان سے کھیل کر دکر رہا تھا ۔

ذهبت لأسلم حين بعث النبي صلى الله عليه و سلم فأردت ← أَبِيهِ قُرَّةَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← شبيب بن محمد بن واسع ← الأَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عبدان بن أحمد و جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15736

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ المحبر بن قحذم عن معاوية بن قرة · حديث 15737

68 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل السراج ثنا أحمد بن محمد نيزك ( ح ) وحدثنا أحمد بن محمد بن صدقة ثنا محمد بن يحيى الأزدي قالا ثنا داود بن المحبر بن قحذم حدثني أبي المحبر بن قحذم عن معاوية بن قرة عن أبيه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لتملأن الارض ظلما وجورا كما ملئت قسطا وعدلا حتى يبعث الله رجلا مني اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي فيملأها قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا يلبث فيكم سبعا أو ثمانيا فإن كثر فتسعا لا تمنع السماء قطرها ولا الأرض شيئا من نباتها )

حضرت معاویہ بن قرہ اپنےو الد گرامی سے روایت کر کے فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ظلم و بربیت سے زمین بھر جائے گی جیسے عدل و انصاف سے بھر گئی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایک آدمی بھیجے گا جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کا باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہو گا تو وہ اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے یہ طلم و تشدد سے بھری ہوئی ہو گی وہ تمہارے اندر سات یا آٹھ سال ٹھہرے گا اگر زیادہ بھی ٹھہر گیا تو نو سال آسمان کو بارش برسانے سے اور زمین کو نباتات اُگانے سے کوئی چیز روکنے والی نہ ہو گی۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← أَبِي الْمُحَبَّرُ بْنُ قَحْذَمٍ، ← داود بن المحبر بن قحذم ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ← أحمد بن محمد نيزك ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15737

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ سلم بن كثير عن معاوية بن قرة · حديث 15738

69 - حدثنا عبدان بن محمد المروزي ثنا إسحاق بن راهويه أنا عبد الله بن عصمة الجزري ثنا بشر بن حكيم عن سالم بن كثير عن معاوية بن قرة عن أبيه Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( من حضره الموت فوضع وصيته على كتاب الله كان ذلك كفارة لما ضيع من زكاته في حياته )

حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کی موت کا وقت آئے اُس نے وصیت قرآن کے مطابق کی یہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا جو اس کی زندگی میں زکوٰۃ ادا نہیں کر سکا تھا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سالم بن كثير ← بشر بن حكيم ← عبد الله بن عصمة الجزري ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15738

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قرة بن هبيرة القشيري · حديث 15739

70 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا العباس بن الوليد الخلال الدمشقي ثنا عمر بن عبد الواحد كلاهما عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ثنا شيخ بالساحل عن رجل من بني قشير يقال له قرة بن هبيرة Y أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنه كان لنا أرباب وربات نعبدهن من دون الله فدعوناهن فلم يجبن وسألناهن فلم يعطين فجئناك فهدانا الله بك فنحن نعبد الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أفلح من رزق لبا قال : يا رسول الله اكسني ثوبين من ثيابك قد لبستهما فكساه فلما كان بالموقف في عرفات قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أعد علي مقالتك فأعادها عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أفلح من رزق لبا )

بنو قشیر کے ایک آدمی سے روایت ہے جن کا نام قرہ بن ہبیرہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ ک ی خدمت میں آکر عرض کی : ہم نے مذکر ومؤنث رب بنا رکھے تھے اللہ کو چھوڑ کر ہم ان کی عبادت کیا کرتے تھے پس ہم ان کو پکارتے تو وہ ہماری پکار کا کوئی جواب نہ دیتے تھے ہم ان سے مانگتے تو وہ ہمیں کوئی چیز نہ دیتے پس ہم آپ کے پاس آئے ہیں اپ کے صدقے اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہے پس ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہوا جسے عقل دی گئی ۔ عرض کی : اے اللہ کےر سول! مجھے ان کپڑوں میں سے دو کپڑے پہنائیں جو آپ نے پہن رکھے ہیں پس آپﷺ نے پہنائے پس جب آپ ﷺ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو فرمایا: جو بات آپ نے پہلے مجھے بتائی ایک بار پھر بتا دیں۔ پس انہوں نے دوبارہ عرض کر دی تو رسول کریم ﷺ نے دوبارہ فرمایا: کامیاب ہوا جسے عقل دی گئی۔

شَيْخٌ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عمر بن عبد الواحد كلاهما ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15739

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قرة بن دعموص النميري · حديث 15740

71 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا موسى بن إسماعيل أبو سلمة ثنا جرير بن حازم قال جلس إلينا شيخ في دكان أيوب عليه جبة صوف فسمع قوما يتحدثون فقال حدثني مولاي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y قلت فسمه قال : قرة بن دعموص النميري قال : قدمت المدنية فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه الناس فجعلت أريد أن أدنو منه فلم استطع فناديته يا رسول الله صلى الله عليه و سلم استغفر للغلام النميري قال : غفر الله لك قال : وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم الضحاك بن قيس ساعيا على قومي فلما رجع فجاء بابل جلة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أتيت هلال بن عامر و نمير بن عامر و عامر بن ربيعة فأخذت جلة أموالهم ) فقال : يا رسول الله إني سمعتك تذكر الغزو فأحببت أن آتيك بابل تركبها وتحمل عليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( والتي تركت أحب إلي من التي أخذت أرددها وخذ صدقاتهم من حواشي أموالهم قال : فسمعت المسلمين يسمون تلك الابل المجاهدات

حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ حضرت ایو کی دکان میں ہمارے پاس ایک شیخ بیٹھے تھے جن پر صوف کا حبہ تھا پس انہوں نے ایک گروہ کو حدیث پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: مجھے میرے آقا نے حدیث بیان کی انہوں نےر سول کریم ﷺ سے روایت کی ۔ راوی کا بیان ہے : میں نے عرض کی کہ آپ اپنا نام تو بتائیں؟ فرمایا: قرہ بن دعموص نمیری ۔ کہنے لگے" میں مدینے آیا تو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ہاضری دی جبکہ آپ ﷺ کے پاس دیگر لوگ بھی تھے پس میں آہستہ آہستہ آپﷺ کے قریب ہونے لگا لیکن نہ ہو سکا۔ پس میں نے پکارا: یا رسول اللہ! اپنے گلام نمیری کیلئے استغفار فرمائیں۔ فرمایا: اللہ تجھے بخشے! فرماتے ہیں : رسول کریم ﷺ نے ہماری قوم سے صدقات کی وصولی کیلئے حضرت ضحاک بن قیس کو بھیجا پس جب وہ لوتے تو عمدہ اونٹ لائے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تُو نے ہلال بن عامر نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس جا کر ان کے مال میں سے اچھا لیا۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کےر سول! میں نے اپ سے سنا کہ آپ غزوے کا ذکر کر رہے تھے پس میں نے پسند کیا کہ آپ کے پاس اونٹ لاؤں تاکہ آپ سوارہوں اور سامان لا دیں تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو آپ چھوڑ آئے وہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے جو آپ لے آئے اسے واپس کر کے ان کے مالوں میں سے صدقات وصول کرو۔ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں سے سنا کہ وہ ان اونٹوں کو مجاہدات کا نام دیتے ہیں۔

قُرَّةُ بْنُ دَعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ ← قلت فسمه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مولاي ← قوما يتحدثون ← جلس إلينا شيخ في دكان أيوب عليه جبة صوف ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← موسى بن إسماعيل أبو سلمة ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15740

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ من اسمه قباث قباث بن أشيم الليثي · حديث 15741

72 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زبريق الحمصي ثنا أصبغ بن عبد العزيز حدثني أبي عن جده أبان عن أبيه سليمان قال Y كان اسلام قباث بن أشيم الليثي أن رجلا من قومه وغيرهم من العرب أتوه فقالوا أن محمد بن عبد المطلب قد خرج يدعو إلى دين غير ديننا فقام قباث حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما دخل عليه قال له : : ( اجلس يا قباث فاوهم قباث فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أنت القائل لو خرجت نساء قريش بأكمتها ردت محمدا وأصحابه ؟ ) فقال قباث : والذي بعثك بالحق ما تحرك به لساني ولا ترمرمت به شفتاي ولا سمعه مني أحد وما هو إلا شيء هجس في نفسي أشهد ألا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمد رسول الله قال : وإن ما جئت به حق

حضرت سلیمان فرماتے ہیں : قباث بن اشیم لیثی کے اسلام لانے کا سبب یہ تھا کہ ان کی قوم اور ان کے علاوہ عرب سے ایک آدمی ان کے پاس آیا لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت محمد بن عبدالمطلب پیدا ہوئے ہیں جو ہمارے دین کے علاوہ ایک دین کی دعوت دے رہے ہیں۔ پس حضرت قباث اُٹھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آئے پس جب آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: اے قباث ! بیٹھ جاؤ! پس حضرت قباث کو وہم سا ہوگیا پس ان سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: آپ نے یہ بات کہنے والے ہیں: اگر قریش کی عورتیں اپنی آستینوں کےس اتھ نکلیں تو وہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کو رد کر دیں۔ حضرت قباث نے عرض کی : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان کلمات سے میری زبان نے حرکت نہیں کی نہ میرے ہونٹ ہلے اور نہ ہی کسی آدمی نے مجھ سے سنا اور کوئی ایسی شی نہیں ہے مگر جو میرے دل میں پیدا ہوئی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ کہ جو آپ لائے ہیں وہ حق ہے ۔

أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، ← جَدِّهِ أَبَانَ، ← أَبِي ← أَصْبَغُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15741

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter