Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عمر بن قتادة بن النعمان عن أبيه · حديث 15682

13 - حدثنا الوليد بن حماد الرملي ثنا عبد الله بن الفضل حدثني أبي عن أبيه عاصم عن أبيه عمر عن أبيه قتادة بن النعمان قال Y كنت نصب وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد أقي وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم بوجهي وكان أبو دجانة سماك بن خرشة موقيا لظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم بظهره حتى امتلأ ظهره سهاما وكان ذلك يوم أحد

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن میں رسول کریم ﷺ کے چہرے والی طرف مقرر تھا اور میں اپنے چہرے کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے چہرے کو بچاتا تھا جبکہ حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رسول کریم ﷺ کی پشت کو اپنی پشت بچا رہے تھے حتیٰ کہ ان کی پشت تیروں سے پُر ہو گئی اور یہ اُحد کے دن ہوا۔

أبيه قتادة بن النعمان ← أَبِيهِ عُمَرَ، ← أبيه عاصم ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15682

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عمر بن قتادة بن النعمان عن أبيه · حديث 15683

14 - حدثنا الوليد بن حماد الرملي ثنا عبد الله بن الفضل حدثني أبي عن أبيه عاصم عن أبيه عمر عن أبيه قتادة بن النعمان قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد : ( من يأخذ هذا السيف بحقه ؟ ) فقام علي فقال : أنا يا رسول الله قال : ( أقعد ) فقعد ثم قال الثانية : ( من يأخذ هذا السيف بحقه ؟ ) فقام أبو داجنة الثانية فدفع رسول الله صلى الله عليه و سلم إليه سيفه ذا الفقار فقام أبو دجانة فربط على عينيه عصابة حمراء فرفع حاجبيه عن عينيه من الكبر ثم مشى بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسيف

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اس تلوار کو اس کا حق ادا کرنے کی نیت سے کون پکڑے گا؟ پس حضرت علی نے کھرے ہو کر عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں۔ فرمایا : بیٹھ جاؤ! پس وہ بیٹھ گئے پھر آپ ﷺ نےد وسری بار فرمایا: اس تلوار کا حق کون ادا کرے گا؟ دوسری بار حضرت ابو دجانہ اُٹھے تو رسول کریم ﷺ نے اپنی تلوار ذوالفقار ان کو دے دی پس حضرت ابو دجانہ اپنی آنکھوں پر سرخ پٹی باندھ کر اُٹھے جنگلی بڑائی کا اظہار کرنے کیلئے اپنی آنکھوں سے اپنے ابروؤں کو اوپر کیا پھر تلوار لے کر رسول کریم ﷺ کے سامنے چلے۔

أبيه قتادة بن النعمان ← أَبِيهِ عُمَرَ، ← أبيه عاصم ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15683

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عمر بن قتادة بن النعمان عن أبيه · حديث 15684

15 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن بن أحمد بن أبي شعيب حدثني أبي حدثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن أبيه عن جده قتادة بن النعمان قال Y كان أهل بيت يقال لهم بنو أبيرق بشر وبشير ومبشر وكان بشير رجلا منافقا وكان يقول الشعر يهجو به أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ينحله لبعض العرب ويقول : قال فلان كذا وقال فلان كذا فإذا سمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك الشعر قالوا والله ما يقول هذا الشعر إلا الخبيث فقال : أو كلما قال الرجل قصيدة قالوا ابن أبيرق قالها وكانوا أهل بيت فاقة وحاجة في الجاهلية والاسلام وكان الناس إنما طعامهم بالمدينة التمر والشعير فكان الرجل إذا كان له اليسار أكل البر فقدم طعام من الشام فابتاع عمي رفاعة بن زيد حملا من الدرمك فجعله في مشربة له وفي المشربة سلاح له درعان وسيفاهما وما يعلمهما فعدي عليه من تحت الليل ونقبت المشربة وأخذ الطعام والسلاح فأتاني عمي رفاعة فقال : يا ابن أخي تعلم أنه عدي علينا في ليلتنا هذه فنقبت المشربة فذهب بطعامنا وسلاحنا فتحسسنا في الدار وسألنا فقيل قد رأينا بني أبيرق واستوقدوا في هذه الليلة وما نرى فيما نرى إلا أنه على بعض طعامكم وقد كان يقول بنو أبيرق ونحن نسأل في الدار : والله ما نرى صاحبكم إلا لبيد بن سهل رجل منا له صلاح واسلام فلما سمع بذلك لبيد اخترط سيفه وقال : أنا أسرق ؟ والله ليخالطنكم هذا السيف أو لتبينن هذه السرقة قالوا إليك عنا أيها الرجل والله ما أنت بصاحبها فسألنا في الدار حتى لم يشك أنهم أصحابها فقال لي عمي : يا ابن أخي لو أنيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقلت يا رسول الله أن أهل بيت منا أهل جفاء عمدوا إلى عمي رفاعة بن زيد فنقبوا مشربة له وأخذوا سلاحه وطعامه فليردد إلينا سلاحنا أما الطعام فلا حاجة لنا به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( سأنظر في ذلك فلما سمع بذلك بنو أبيرق أتوا رجلا منهم يقال له أسيد بن عروة وكلموه في ذلك واجتمع له ثلاثين من أهل الدار فأتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله أن قتادة بن النعمان وعمه عمدا إلى أهل بيت منا أهل اسلام وصلاح يرمونهم بالسرقة من غير بينة ولا ثبت قال قتادة فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمته فقال : ( أعمدتم إلى قوم ذكر منهم اسلام وصلاح ترمونهم بالسرقة ؟ فرجعت ولوددت أني خرجت من بعض مالي ولم أكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فأتاني عمي رفاعة فقال : ابن أخي ما صنعت ؟ فأخبرته ما قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : الله المستعان فلم نلبث أن نزل القرآن { إنا أنزلنا إليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بما أراك الله ولا تكن للخائنين خصيما } بني أبيرق ( واستغفر الله ) أي مما قلت لقتادة { واستغفر الله إن الله كان غفورا رحيما * ولا تجادل عن الذين يختانون أنفسهم } بني أبيرق { إن الله لا يحب من كان خوانا أثيما * يستخفون من الناس ولا يستخفون من الله وهو معهم إذ يبيتون ما لا يرضى من القول وكان الله بما يعملون محيطا * ها أنتم هؤلاء جادلتم عنهم في الحياة الدنيا فمن يجادل الله عنهم } الآية إلى قوله { غفورا رحيما } أي لو أنهم استغفروا الله لغفر لهم { ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه وكان الله عليما حكيما * ومن يكسب خطيئة أو إثما ثم يرم به بريئا فقد احتمل بهتانا وإثما مبينا } قولهم للبيد { ولولا فضل الله عليك ورحمته لهمت طائفة منهم أن يضلوك وما يضلون إلا أنفسهم وما يضرونك من شيء } إلى آخر الآية فلما نزل القرآن أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسلاح فرده إلى رفاعة قال قتادة : فلما أتيت عمي السلاح وكان شيخا قد عمي في الجاهلية وكنت أرى اسلامه مدخولا فلما أتيته بالسلاح قال : ابن أخي هو في سبيل الله فعرفت أن اسلامه كان صحيحا فلما نزل القرآن لحق بشير بالمشركين فنزل على سلافة بنت سعيد بن سهيل فأنزل الله فيه { ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا } { إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا } فلما نزل على سلافة بنت سعيد رماها بأبيات شعر أخذت رحله فوضعته على رأسها ثم خرجت به فرمت به في الابطح وأنه نفث على قوم منهم ليسرق متاعهم فألقى الله عليه صخرة فكانت قبره

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گھر والے تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا بشر بشیر اور مبشر ۔ مبشر منافق آدمی تھا وہ شعر کہا کرتا تھا جن کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی مذمت بیان کرتا پھر وہ اسے کسی عربی کی طرف منسوب کرتا اور کہتا: فلاں نے اس طرح کہا اور فلاں نے اس طرح کہا: پس جب صحابہ نے وہ شعر سنا تو کہا: بخدا! یہ شعر کسی خبیث نے ہی کہا ہے ۔ پس کہتا: یا جب بھی کوئی آدمی کوئی قصیدہ کہتا تو صحابہ کہتے : یہ ابن ابیرق نے کہا ہے حالانکہ زمانہ جاہلیت و اسلام میں فاقے اور ضرورت کے گھر والے تھے۔ لوگوں کا مدینہ میں کھانا کھجور اور جو تھے جو کوئی آدمی خوشحال ہوتا وہ گندم کھاتاپس ملک شام سے کھانا آیا میرے چچا رفاعہ بن زید نے درمک کا ایک تھیلا خریدا اُسے مشروب والے برتن میں رکھ دیا اس میں ہتھیار دوزرہیں تھیں اور دو تلواریں اور جو دونوں کو سدھاتی ہے پس رات کو ان پر تعدی و ظلم ہوا ۔ وہ مشروع والا برتن ہی اُٹھا لیا گیا۔ کھانا اور ہتھیار چھین لیے گئے ۔ میرے چچا حضرت رفاعہ میرے پاس آئے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا تجھے معلوم ہے کہ آج رات ہم پر تعدی ہوئی ہے ۔ برتن اُٹھا لیا گیا اور ہمارا کھانا ہتھیار بھی لے جائے گئے پس ہم نے گھر میں کوئی حرکت محسوس کی ہم نے پوچھا تو کہا گیا ہم نے تو صرف بنو ابیرق کو دیکھا ہے آج رات انہوں نے آگ جلائی اور جو دیکھا ہم نے دیکھا مگر وہ تمہارے کچھ کھانے پر تھا جبکہ بنو ابیرق کہا کرتا تھا: ہم گھر میں سوال کرتے ہیں بخدا! ہمارا خیال ہے کہ وہ تمہارا دوست لبید بن سہل ہو ہم میں سے وہ ایک آدمی ہے وہ نیک مسلمان ہے پس جب لبید نے یہ بات سنی تو اپنی تلوار سونت لی اور کہا : میں چوری کرتا ہوں بخدا! یہ تلوار تم سے خلط ملط ہو گئی یا تم خود اس چوری کی حقیقت واضح کرو گے ۔ انہوں نے کہا: اے آدمی! ہم سے دو ر ہو جا! بخدا ! تو ان کا مالک نہیں ہے ۔ پس ہم نے گھر میں سوال کیا حتیٰ کہ ان کے مال ہونے کا شک بھی نہ ہوا ۔ پس میرے چچا نے مجھ سے کہا: اے بھتیجے! اگر تو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جا کر اس کا ذکر کرے تو کیسا لگے گا میں نے حاضر ہو کر عرض کی : اے اللہ کےر سول! ہم میں سے ایک گھر والوں پر ظلم ہوا ہے کچھ لوگ میرے چچا رفاعہ بن زید کی طرف گئے اور ان کا برتن چوری کر لیا ان کے ہتھیار اور کھانا بھی چھین لیا پس ہمیں ہتھیار واپس کر دیں کھانے کی پرواہ نہیں ہے ۔ فرمایا: حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس آیا وہ بوڑھے آدمی تھے زمانہ جاہلیت میں ہی نابینا ہو چکے تھے میرا خ یال تھا کہ اسلام میں داخل ہو گے پس جب میں ہتھیاروں سمیت ان کے پاس آیا کہا: اے بھتیجے! وہ اللہ کی راہ میں ہے میں سمجھ گیا کہ ان کا اسلام لانا درست ہے پس جب قرآن نازل ہوا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ہم اس بارے چھان بین کریں گے پس جب بنو ابیرق نے یہ بات سنی تو وہ ان میں سے ایک آدمی اُسید بن عروہ کے پاس آئے اور اس بارے میں ان سے بات کی اس کیلئے گھر والوں م یں سے تیس آدمی اکھٹے ہو گئے پس وہ رسول کریم ﷺ کے پاس بھی آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! بے شک قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا نے ہم مسلمانوں کا ایک شریف گھر والوں پر بغیر ثبوت اور گواہوں کےچ وری کا الزام لگایا ہے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بات کی فرمایا تم نے ارادہ کیا ہے ایسی قوم کا جس کے حوالے سے اسلاما ور نیکی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان پر چوری کا الزام لگا رہے ہو؟ یہ بات سن کر میں واپس آگیا میں نے خواہش کی : کاش! میں نے اپنے مال سے دے دیا ہوتا لیکن رسول کریمﷺ سے اس حوالے سے بات نہ کرتا۔ پس میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے کہا: اے بھتیجے ! تو نے کیا کچھ کیا؟ پس میں نے ان کو وہ کچھ بتا دیا جو مجھے رسول کریمﷺ نے فرمایا تھا۔ کہا: اللہ ہی ایسی ہستی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ۔ پس زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ قرآن نازل ہوا: اے حبیب ! ہم نے آپ پر حق کے ساتھ قرآن اُتارا تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اُطریقے سے فیصلہ کریں جس کا اللہ نے آپ کو علم دیا ہے اور آپ بددیانت لوگوں کے سبب جھگڑا کرنے والے نہ بنیں۔ مراد : بنو ابیرق ہیں آپ اللہ سے بخشش مانگیں۔ مفہوم ہے کہ اس چیز سے جو آپ نے قتادہ سے فرمائی ہے ۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہےا ور آپ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں جو اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں یعنی بنو ابیرق ۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو بڑا دھوکے باز اور سخت گنہگار ہو وہ لوگ انسانوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ رات کو اس کی نا پسندیدہ بات طے کرتے ہیں اور ان کے سب کام اللہ کے علم کے احاطہ میں ہیں سنتے ہو؟ تم وہی لوگ ہو جنہوں نے بددیانت لوگوں کی طرف سے دنیا میں جھگڑا کیا یہ بتاؤ!قیامت کے دن اللہ کے ساتھ ان کی طرف سے کون جھگڑے گا یہ آیت اللہ کے اس فرما ان تک : بہت زیادہ بخشنےو الا مہربان پائے گا۔ یعنی اگر وہ اللہ سے بخشش مانگیں تو وہ انہیں بخشش دے گا۔ جو شخص گناہ کرتا ہے وہ اس کے ارتکاب سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شی کا عالم اور عظیم حکمت والا ہے اور جو شخص چھوٹے یا بڑے گناہ کا ارتکاب کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو اس نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا۔ ان کا قول لبید کیلئے۔ اے حبیب! اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو منافقین کے ایک گروہ کا ارادہ آپ کو صحیح فیصلے سے روکنے میں کامیاب ہوجاتا حالانکہ وہ تو اپنے آپ کو ہی بہکا رہے ہیں اور آپ کو کچھ نقصان نہیں دے سکتا ایت کے آخرت تک۔ پس جب قرآن نازل ہوا تو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ہتھیار لائے گئے تو آپﷺ نے فرمایا رفاعہ کو واپس دے دئیے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس آیا وہ بوڑھے آدمی تھے زمانہ جاہلیت میں ہی نابینا ہو چکے تھے میرا خیالتھا کہ اسلام میں داخل ہو ں گے پس جب میں ہتھیاروں سمیت ان کے پاس آیا کہا: اے بھتیجے! وہ اللہ کی راہ میں ہے میں سمجھ گیا کہ ان کا اسلام لانا درست ہے پس جب قرآن نازل ہوا تو بشیر مشرکین سے جا ملا پس وہ سلافہ بنت سعید بن سہل کے پاس اُترا تو اللہ نےاس کے بارے میں یہ ایت اُتاری پس جب وہ سلافہ بنت سعید کے پاس اُترا تو اس نے اسے کئی شعروں کے ذریعے تہمت لگائی اس نے اس کا رحل پکڑ کر اپنےس ر پر رکھا پھر اسے لے کر نکل گئی پس سلافہ نےاس کا ابطح پر الزام لگایا اور وہ آدمی ایسا تھا جس نے ان کی قوم پر غصہ نکالا تاکہ وہ ان کے سامان چوری کرے تو اللہ نےاس پر چٹان گرادی وہی اس کی قبر بنی۔

جده قتادة بن النعمان ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبِي ← أبو شعيب عبد الله بن الحسن بن أحمد بن أبي شعيب

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15684

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عمر بن قتادة بن النعمان عن أبيه · حديث 15685

16 - حدثنا أحمد بن سهل بن أيوب الأهوازي ثنا زيد بن الحريش ثنا أبو عامر العقدي ثنا فليح بن سليمان ثنا عاصم بن عمر بن قتادة عن أبيه عن جده Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( أسفروا بالصبح فإنه أعظم للاجر )

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: نماز فجر سفیدی میں پڑھو کیونکہ اس وقت پڑھنے میں ثواب زیادہ ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ أَيُّوبَ الْأَهْوَازِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15685

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ محمود بن لبيد عن قتادة بن النعمان · حديث 15686

17 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا محمد بن جهضم ثنا اسماعيل بن جعفر عن عمارة بن عروة عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن قتادة بن النعمان قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اذا أحب الله عبدا حماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه بالماء )

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اسے اس طرح دنیا سے بچاتا ہے جو طرح تم میں سے کوئی اپنے بیماری کی پانی سے حفاظت کرتا ہے ۔

قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عمارة بن عروة ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15686

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عبيد بن حنين عن قتادة بن النعمان · حديث 15687

18 - حدثنا جعفر بن سليمان النوفلي و أحمد بن رشدين المصري و أحمد بن داود المكي قالوا ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال ثنا محمد بن فليح بن سليمان عن أبيه عن سعيد بن الحارث عن عبيد بن حنين قال Y بينا أنا جالس اذ جاءني قتادة بن النعمان فقال لي : انطلق بنا يا ابن حنين إلى أبي سعيد الخدري فإني قد أخبرت أنه قد اشتكى فانطلقنا على أبي سعيد فوجدناه مستلقيا رافعا رجله اليمنى على اليسرى فسلمنا وجلسنا فرفع قتادة بن النعمان يده إلى رجل أبي سعيد فقرصها قرصة شديدة فقال أبو سعيد : سبحان الله يا ابن آدم لقد أوجعني فقال له ذلك أردت فقال : ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( ان الله عز و جل لما قضى خلقه استلقى فوضع احدى رجليه على الاخرى وقال : لا ينبغي لاحد من خلقي أن يفعل هذا ) فقال أبو سعيد : لا جرم والله لا أفعله أبدا

حضرت عبید بن حنین فرماتے ہیں: اسی دوران کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت قتادہ بن نعمان میرے پاس آئے مجھ سے فرمایا: اے ابن حنین ! آؤ ہم حضرت ابو سعید خدری کے پاس چلیں کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ بیمار ہیں پس ہم چل کر حضرت ابو سعید کے پاس آئے پس ہم نے ان کو اس حال میں چیت لیٹے ہوئے پایا کہ اپنی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ پر بلند کیے ہوئے تھے پس ہم سلام کر کے بیٹھ گئے پس حضرت قتادہ بن نعمان نے اپنا ہاتھ حضرت ابو سعید گئے پس حضرت قتادہ بن نعمان نے اپنا ہاتھ حضرت ابو سعید کیٹانگ کی طرف اُٹھایا اور اسے پکڑ کر سختی سے دبایا تو حضرت ابو سعید بولے : سبحان اللہ! اے آدمی کے بیٹے ! آپ نے مجھے تکلیف دی ہے حضرت قتادہ بولے میں نے یہی ارادہ کیا اور فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے جب اپنی مخلوق کا فیصلہ فرمایا تو اپنی شایان شان چت لیٹ کر اپنی ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھا اور فرمایا: میر مخلوق میں سے کسی کو نہیں چاہیے کہ یہ کام کرے۔پس حضرت ابو سعید نے کہا: یہی بات ہے بخدا ! میں کبھی بھی ایسا نہ کروں گا۔

جَالِسٌ ← بَيْنَا ← عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبِيهِ ← محمدُ بنُ فُليحِ بنِ سليمانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جعفر بن سليمان النوفلي و أحمد بن رشدين المصري و أحمد بن داود المكي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15687

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ عياض بن عبد الله بن أبي سرح عن قتادة · حديث 15688

19 - حدثنا أحمد بن محمد الخزاعي الاصبهاني ثنا محمد بن بكير الحضرمي ثنا سويد بن عبد العزيز عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح عن قتادة بن النعمان قال Y خرجت ليلة من الليالي مظلمة فقلت : لو أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فشهدت معه الصلاة وآنسته بنفسي ففعلت فلما دخلت المسجد برقت السماء فرآني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( يا قتادة ما هاج عليك ؟ ) فقلت : أردت بأبي وأمي أنت أردت أن أونسك قال ( خذ هذا العرجون فتحصن به فانك ذا خرجت أضاء لك عشرا أمامك وعشر خلفك - ثم قال : اذا دخلت بيتك اضرب به مثل الحجر الاخشن في انسان البيت فإن ذلك الشيطان ) قال : فخرجت فأضاء لي ثم ضربت مثل الحجر الاخشن حتى خرج من بيتي

حضرت قتادہ بن نعمان فرماتے ہیں کہ راتوں میں سے ایک تاریک رات میں گھر سے نکلا میں نے دل میں کہا: میں رسولکریمﷺ کی خدمت میں جاؤں گا آپ ﷺ کے ساتھ نماز مین حاضر پاؤں گا اور آپ ﷺ سے انس فرماؤں گا پس میں ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا پس جب میں مسجد میں داخل ہوا تو بجلی چمکی تو رسول کریم ﷺ نے مجھے دیکھ لیا فرمایا: اے قتادہ ! تجھے کیا جوش چڑھا ہے ؟ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے آپ سے انس حاصل کرنے کا ارادہ کیا ۔ فرمایا یہ کھجور کا خوشہ پکڑ لو اور اس کو حفاظت کا قلعہ بناؤ کیونکہ جب تو نکلے گا تو یہ تیرے آگے اور پیچھے دس دس ہاتھ تک روشنی کر دے گا۔ پھر فرمایا: جب تو اپنے گھر میں داخل ہوناتو اس کے ساتھ مارنا کھر درے پتھر کی مانند گھر میں گھسے انسان کو کیونکہ وہ انسان بشکل شیطان ہے فرماتے ہیں: پس میں نکلا تو اس نے میرے لیے روشنی کی پھر میں نے کھر درےپتھر کی طرح میں نے اس کے ذریعے مارا کہ وہ انسان بشکل شیطان میرے گھر سے نکل گیا۔

قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15688

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة أبو هاشم الرهاوي · حديث 15689

20 - حدثنا محمد بن النضر الازدي ثنا أحمد بن عبد الملك بن واقد الحراني ثنا قتادة بن الفضل بن قتادة الرهاوي عن أبيه حدثني عم أبي هاشم بن قتادة الرهاوي عن أبيه قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسلمت فقال لي : ( يا قتادة اغتسل بماء وسدر واحلق عنك شعر الكفر وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر من أسلم أن يختتن وكان ابن ثمانين سنة

حضرت ابو ہاشم بن قتادہ الرہاوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پا س آیا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نےمجھے فرمایا: اے قتادہ ! بیری کے پتوں مین اُبلے ہوئے پانی سے غسل کر اور کندھے والے بال کٹوا اور حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جو مسلمان ہوتا آپ اس کو ختنے کرنے کا حکم دیتے اس وقت ان کی عمر اسی سال تھی ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسلمت ← أَبِيهِ ← عم أبي هاشم بن قتادة الرهاوي ← أَبِيهِ ← قتادة بن الفضل بن قتادة الرهاوي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة أبو هاشم الرهاوي · حديث 15690

21 - حدثنا محمد بن النضر الازدي ثنا أحمد بن عبد الملك بن واقد الحراني ثنا قتادة بن الفضل الرهاوي عن ابنه عن عم أبيه هشام بن قتادة عن قتادة بن عايش الجرشي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لن يزال العبد في فسحة من دينه ما لم يشرب الخمر فإذا شربها خرق الله عنه ستره وكان الشيطان وليه وسمعه وبصره ورجله يسوقه إلى كل شر ويصرفه عن كل خير )

حضرت قتادہ بن عائش الجرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے دین میں ہمیشہ کشادہ رہتا ہے جب تک شراب نہ پئے جب شراب پیتا ہے تو اللہ اس کا پردہ پھاڑ دیتا ہے شیطان اس کا دوست ہوتا ہے اس کی آنکھیں اور کان اور پاؤں اس کو برائی کی طرف لے جاتے ہیں اور نیکی والے کام سے اس کا رُخ پھیر دیتا ہے۔

قتادة بن عايش الجرشي ← عم أبيه هشام بن قتادة ← ابنه ← قتادة بن الفضل الرهاوي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15690

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة أبو هاشم الرهاوي · حديث 15691

22 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر ثنا قتادة بن الفضل حدثني أبي الفضل بن عبد الله بن قتادة عن عمه هشام بن قتادة عن أبيه قتادة قال Y لما عقد لي رسول الله صلى الله عليه و سلم على قومي أخذت يده فودعته فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : حمل الله التقوى زادك وغفر ذنبك ووجهك إلى الخير حيث ما يكون )

16424 حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضور ﷺ نے مجھے میری قوم پر مقرر کیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے الوداع کیا حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہارے تقویٰ میں اضافہ کرے تمہارے گناہ معاف کرے تیرے لیے بھلائی رکھ دے تُو جہاں بھی ہو۔

أَبِيهِ قَتَادَةَ ← عَمِّهِ هِشَامِ بْنِ قَتَادَةَ، ← أَبِي الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَتَادَةَ، ← قتادة بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15691

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة بن ملحان القيسي من بني قيس بن ثعلبة · حديث 15692

23 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي و زكريا بن حمدويه قالا ثنا عفان بن مسلم ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا عبد الله بن رجاء ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي ( ح ) وحدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي و محمد بن يعقوب بن سورة البغدادي و أبو خليفة الفضل بن الحباب قالوا ثنا أبو الوليد الطيالسي قالوا ثنا همام بن الحارث ثنا أنس بن سيرين عن عبد الملك بن قتادة بن ملحان القيسي عن أبيه قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرنا أن نصوم أيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة وقال : ( وهو صوم الدهر ) ولفظهم واحد

حضرت قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ایام بیض سے مراد چاند کی 13،14،15 تاریخیں ہیں فرمایا: ان کا ثواب سارا سال روزہ رکھنے کے برابر ہے ۔ سب راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15692

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة بن ملحان القيسي من بني قيس بن ثعلبة · حديث 15693

24 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون أنا شعبة عن أنس بن سيرين عن عبد الملك بن المنهال عن أبيه عن Y النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يأمرنا بصيام البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة ويقول : ( صوم الدهر ) - أو - كهيئة صوم الدهر هكذا رواه شعبة عن أنس عن عبد الملك بن المنهال عن أبيه وهم فيه والصواب حديث همام

حضرت قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ایام بیض سے مراد چاند کی 13،14،15 تاریخیں ہیں فرمایا: ان کا ثواب سارا سال روزہ رکھنے کے برابر ہے ۔ اسی طرح اس کو حضرت شعبہ نے حضرت انس سے اُنہوں نے عبدالملک بن منہال سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے انہیں اس میں وہم ہوا لیکن حضرت ہمام کی حدیث درست ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15693

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter