المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ من اسمه قبيصة قبيصة بن مخارق الهلالي · حديث 15655
946 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن هارون بن رئاب عن كنانة العدوي قال Y كنت عند قبيصة بن مخارق إذ جاءه نفر من قومه يستعينونه في نكاح رجل منهم فأبى أن يعطيهم شيئا فانطلقوا من عنده قال كنانة فقلت له : أنت سيد قومك وأتوك يسألونك فلم تعطهم شيئا قال : أما في هذا فلا أعطي شيئا ولو عضه بقد حتى يقحله كان خيرا له من أن يسأل الناس ي مثل هذا وسأخبرك عن ذلك أني تحملت بحمالة في قومي فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله اني تحملت بحمالة في قومي وأتيتك لتعينني فيها قال : ( بل نحملها عنك يا قبيصة ونؤديها إليهم من الصدقة ) فقال : ( يا قبيصة ان المسألة حرمت إلا في احدى ثلاث رجل أصابته جائحة فاجتاحت ماله فيسأل حتى يصيب قواما من عيشه ثم يمسك ورجل أصابته حاجة حتى يشهد له ثلاث نفرمن ذوي الحجا من قومه ان المسألة قد حلت له فيسأل حتى يصيب قواما من العيش ثم يمسك ورجل تحمل بحمالة فيسأل حتى إذا بلغ أمسك وما كان غير ذلك فإنه سحت يألكه سحتا )
حضرت کنانہ عدوی فرماتے ہیں کہ میں حضرت قبیصہ بن مخارق کے پاس تھا جب اس کی قوم میں سے چند لوگ اپنے میں سے ایک آدمی کے نکاح کے سلسلے میں امداد مانگتے ہوئے آئے پس اس نے ان کو کوئی چیز دینے سے انکار کر دیا پس وہ اس کے پاس سے چلے گئے ۔ حضرت کنانہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں اور وہ آپ سے مانگتے ہوئے آپ کے پاس آئے لیکن آپ نے ان کو کوئی چیز ہی نہیں دی ۔ اس نے جواب دیا: اس کام میں کبھی نہیں دیا کرتا اگر وہ اسے دانتوں کے ساتھ ایک خاص مقدار میں کاٹ کر خشک کر دیں یہ اس کیلئے بہتر ہے اس سے کہ وہ اس جیسے کام میں لوگوں سے سوال کرے میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں لوگوں سے سوال کرے میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں کہ اپنی قوم میں تاوان یا خون بہا میں نے اپنے ذمہ لے لیا اور میں رسول کریمﷺ کی بارگاہ میں آیا۔ عرض کی اے اللہ کےر سول! میں نے اپنی قوم میں خون بہا اپنے ذمہ لیا ہے اس معاملہ مین آپ میری مدد فرمائیں! فرمایا: بلکہ اے قبیصہ ! ہم اس کو پانے ذمہ لے کر ان لوگوں کو صدقہ کے مال سے ادا کر دیتے ہیں۔ فرمایا: اے قبیصہ! سوال کرنا حرام ہے مگر تین مقامات میں سے کسی ایک میں جائز ہو سکتا ہے 1 ایک آدمی ایسا ہو جسے سخت بھوک لگی ہو اس کا مال بھی ختم ہو گیا ہو وہ سنبھلنے تک سوال کر سکتا ہے پھر رُک جائے 2 ایک ضرورت مند آدمی ہو اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی گواہی دیں کہ اس کیلئے سوال کرنا آسان ہے پس وہ سوال کر سکتا ہے حتیٰ کہ اس کیئ روزی بحال ہو جائے پھر وہ مانگنے سے رُک جائے 3 ایک وہ آدمی جس کے ذمہ خون بہا ہو تو وہ سوال کر سکتا ہے حتیٰ کہ جب مقصد کو پہنچ جائے تو رُک جائے باقی اس کے علاوہ وہ تو حرام کھاتا ہے جو مانگتا ہے ۔
كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15655
