Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن الحارث الأسدي ويقال الحارث بن قيس · حديث 15631

923 - حدثنا محمد بن اسحاق بن راهويه ثنا أبي ثنا جرير ( ح ) وحدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم قالا : ثنا الكلبي عن حميضة بن الشمردل عن الحارث بن قيس بن عميرة قال Y أسلمت وعندي ثمان نسوة وأسلمن معي وهاجرن معي فقال : ( اختر أربعا منهن ) فجعلت أقول للتي أريد أمساكها أقبلي وللتي لا أريد امساكها أدبري

حضرت قیس بن حارث یا حارث بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہوا تو میرے نکاح میں آٹھ بیویاں تھیں وہ بھی میرے ساتھ مسلمان ہوئیں اور میرے ساتھ ہجرت کی حضور ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھ لو میں جس کو پسند کرتا تھا اس کو کہا : تُو آجا! اور جس کو رکھنے کا ارادہ نہ تھا اس کو کہا:تُو چلی جا۔

أسلمت وعندي ثمان نسوة وأسلمن معي وهاجرن معي ← الحارث بن قيس بن عميرة ← حميضة بن الشمردل ← الكلبي ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ ← جَرِيرٌ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15631

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن عائد أبو كاهل · حديث 15632

924 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن اسحاق بن راهويه ثنا أبي ( ح ) وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالوا : ثنا وكيع عن اسماعيل بن أبي خالد عن أخيه عن أبي كاهل قال اسماعيل Y ورأيت أبا كاهل قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يخطب على ناقة جزماء وحبشي ممسك بزمامها

حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اسماعیل نے کہا: اور میں نے ابو کاہل کو دیکھا انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ شکم سیر اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک حبشی غلام اس کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔

اسماعيل ورأيت أبا كاهل ← أَبِي كَاهِلٍ ← أَخِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15632

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن عائد أبو كاهل · حديث 15633

925 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا سعيد بن سليمان ثنا أبو أسامة عن اسماعيل بن أبي خالد عن أخيه عن قيس بن عائد قال Y رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يخطب على ناقة جحزماء ممسك بخطامها عبد حبشي

حضرت قیس بن عائذ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ شکم سیر اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک حبشی غلام اس کی مہار پکڑے ہوئے تھا۔

قيس بن عائد ← أَخِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15633

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن عائد أبو كاهل · حديث 15634

926 - حدثنا عبد الله بن الحسين المصيصي ثنا آدم بن ابي إياس ثنا الهيثم بن جماز ( ح ) وحدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا المنجاب بن الحراث ثنا عثمان بن مطر ثنا الهيثم بن جماز عن يحيى بن أبي كثير عن أبي كاهل أنه قال Y مررت برسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يتوضأ فقلت يا رسول الله قد أعطانا الله منك خيرا كثيرا فغسل كفيه ثم تمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ومسح برأسه ولم يوقف وظهر قدميه ولم يوقت ثم قال : ( يا ابا كاهل ضع الطهور مواضعه وابق فضل طهورك لأهلك لا تعطش أهلك ولا تشقق على خادمك )

حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے پاس سے گزرا آپﷺ وضو فرما رہے تھے میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر کثیر عطا کی ہے ۔ پس آپﷺ نے اپنی ہتھیلوں کو دھویا پھر تین بار کلی کی تین بار ناک میں پانی ڈالا تین بار چہرہ دھویا اور تین بار بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا حالانکہ وضو کا وقت نہیں تھا اور اپنے دونوں پاؤں کو دھویا حالانکہ وجو کا کوئی خاص وقت نہیں تھا۔ پھر فرمایا: اے ابو کاہل! پاکی کو اپنی جگہوں پر رکھو اور اپنی پاکی سے بچا ہوا پانی اپنے گھر والوں کیلئے رکھو اپنے گھر والو ں کو پیا سانہ مارو اور اپنے خادم کو مشقت میں نہ ڈالو۔

مررت برسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يتوضأ فقلت ← أبي كاهل أنه ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْهَيْثُمَّ بْنِ جِمَازِ ← عثمان بن مطر ← المنجاب بن الحراث ← وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ← الْهَيْثُمَّ بْنِ جِمَازِ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15634

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن عائد أبو كاهل · حديث 15635

927 - حدثنا سهل بن موسى الشيرازي ثنا محمد بن مرزوق ثنا سليمان بن كررا ثنا صدقة بن موسى الدقيقي ثنا نفيع بن الحارث عن أبي كاهل قالأ Y وقع بين رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كلام حتى تضاربا فلقيت أحدهما فقلت ما لك ولفلان قد سمعته وهو يحسن عليك الثناء ويكثر لك من الدعاء ولقيت الآخر فقلت له نحو ذلك فما زلت أمشي بينهما حتى اصطلحا فقلت ما فعلت أهلكت نفسي وأصلحت بينهما وأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته بالأمر قلت يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما سمعت من ذا شيئا ولا من ذا شيئا فقال : ( يا ابا كاهل أصلح بين الناس ولو بكذا وكذا ) كلمة لم أفهمها فقلت ما عنى بها ؟ قال عنى الكذب

حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمیوں کے درمیان کلام بازی واقع ہو گئی حتیٰ کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑنے پہ آگئے پس میں ان میں سے ایک کو ملا میں نے کہا: تیرا اور فلاں آدمی کا کیا جھگڑا تھا جو میں نے سنا حالانکہ وہ تو تیری تعریف کرتا ہے اور تیرے لیے کثیر دعائیں بھی کرتا ہے ۔ اس کے بعد میںد وسرے آدمی سے جا ملا پس میں نے اس سے بھی اس جیسا کلام کیا میں دونوں کے درمیان چلتا رہا حتیٰ کہ ان دونوں کی صلح ہو گئی پس میں نے سوچا جو کام میں نے کیا میں نے تو اپنی جان کو پلاکت میں ڈال دیا حالانکہ میں نے ان دونوں کے درمیان صلح کروائی تھی ۔ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ کو بتایا میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے اپ کو حق کے ساتھ بھیجا ! نہ میں نے اس کی کوئی بات سنی اور نہ اُس کی ۔ پس آپﷺ نے فرمایا: اے ابو کاہل! لوگوں کے درمیان صلح کروا اگرچہ ایسے ایسے کلمات سے ہو۔ میں اس بات کو سمجھ نہ سکا تو میں نے عرض کی : اس سے مراد کیا ہے ؟ فرمایا: جھوٹ۔

أَبِي كَاهِلٍ ← نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ، ← صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، ← سليمان بن كررا ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔ ← سهل بن موسى الشيرازي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15635

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن عائد أبو كاهل · حديث 15636

928 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا علي بن المديني ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا الفضل بن عطاء عن الفضل بن شعيب عن أبي منظور عن أبي معاذ عن أبي كاهل قال Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أبا كاهل ألا أخبرك بقضاء قضاه الله على نفسه ؟ ) قلت بلى يا رسول الله قال : ( أحيى الله قلبك ولا يميته حتى يموت بدنك اعلم يا أبا كاهل أنه لن يغضب رب العزة على من كان في قلبه مخافة ولا تأكل النار منه هدبة اعلمن يا ابا كاهل أنه من ستر عورته حياء من الله سرا وعلانية كان حقا على الله أن يستر عورته يوم القيامة اعلمن يا أبا كاهل أنه من دخل حلاوة الصلاة قلبه حتى يتم ركوعها وسجودها كان حقا على الله أن يرضيه يوم القيامة اعلمن يا أبا كاهل أنه من صلى أربعين يوما وأربعين ليلة في جماعة يدرك التكبيرة الأولى كان حقا على الله أن يكتب له براءة من النار اعلمن يا أبا كاهل أنه من صام من كل يوم ثلاثة أيام مع شهر رمضان كان حقا على الله أن يرويه يوم العطش اعلمن يا أبا كاهل أنه من كف أذاه عن الناس كان حقا على الله أن يكف عنه أذى القبر اعلمن يا أبا كاهل أنه من بر والديه حيا وميتا كان حقا على الله أن يرضيه يوم القيامة ) قال : قلت كيف يبر والديه إذا كانا ميتين ؟ قال : ( برهما أن يستغفر لوالديه ولا يسب والدي أحد فيسب والديه اعلمن يا أبا كاهل أنه من أدى زكاة ماله عند حلولها كان حقا على الله أن يجعله من رفقاء الأنبياء اعلمن يا أبا كاهل أنه من قلت عنده حسناته وعظمت عنده سيئاته كان حقا على الله أن يثقل ميزانه يوم القيامة اعلمن يا أبا كاهل أنه من سعى على امرأته وولده وما ملكت يمينه يقيم فيهم أمر الله ويطعمهم من حلال كان حقا على الله أن يجعله مع الشهداء في درجاتهم اعلمن يا أبا كاهل أنه من صلى علي كل يوم ثلاث مرات وكل ليلة ثلاث مرات حبا بي وشوقا إلي كان حقا على الله أن يغفر له ذنوبه تلك الليلة وذلك اليوم اعلمن يا أبا كاهل أنه من شهد أن لا إله إلا الله وحده مستيقنا به كان حقا على الله أن يغفر بكل واحدة ذنوب حول )

حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے فرمایا: اے ابو کاہل ! کیا میں تجھے اس فیصلے کی خبر نہ دوں جو اللہ نے اپنے اوپر کیا ہے ؟ میں نے عرض کی ؛ اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں! فرمایا: اللہ نے تیرے دل کو زندہ کر دیا ہے اور تیرے بد ن کے مرنے تک نہ مارے گا جان لے ! اے ابو کاہل ! جس کے دل میں اللہ کا خو ف ہو اللہ اس پر ناراض نہیں ہوتا اور دوزخ کی آگ اس کے دامن کو نہیں کھائے گی اے ابو کاہل! جان لے ! جس نے اپنی شرمگاہ کو اللہ سے حیاء کرتے ہوئے پوشیدگی میں اور علانیہ چھپایا اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کی شرمگاہ کو چھپائے اے ابو کاہل! سیکھ لے کہ نماز کی مٹھاس جس کے دل میں داخل ہو گئی حتیٰ کہ اس نے نماز کے رکوع و سجود پورے کیے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے قیامت کے د ن راضی کرے۔ اے ابو کاہل ! جان لے ! جس نے چالیس دن اور چالیس راتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی تکبیر اولیٰ کو پاتے ہوئے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کا دوزخ سے آزاد ہو نا لکھ دے ۔ جان لے ! اے ابو کاہل ! جس نے رمضان کے روزے رکھنے کے ساتھ ہر مہینے کے تین روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ پیاس والے د ن اسے سیراب کرے جان لے ! اے ابو کاہل ! جس نے لوگوں سے اپنی تکلیف کو روک لیا تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے قبر کی تکلیف کو روک لے جان لے ! اے ابو کاہل جس نے والدین کی زندگی اور وفات کے بعد ان سے نیکی کی تو اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو خوش کرے ۔ راوی کا بیان ہے : میں نے عرض کی کہ جب والدین فوت ہو گئے تو ان سے کیسے نیکی کرے گا؟ فرمایا: انسے نیکی یہ ہے کہ اپنے والدین کیلئے استغفار کرے اور کسی کے والدین کو گالی نہ دے ورنہ وہ اس کے والدین کو گالی دے گا جان لے ! اے ابو کاہل ! زکوٰۃ واجب ہونے کے وقت جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے نبیوں کے رفیقوں سے بنا دے۔ جان لے ! اے ابو کاہل ! جس کے پاس اس کی نیکیاں کم اور گناہ بھاری ہو گئے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کے میزان کو قیامت کے دن بھاری بنا دے ۔ جان لے! اے ابو کاہل ! جس نے اپنی بیوی اولاد اور غلاموں پر اللہ کا حکم قائم کرے کی و کوشش کی اور انہیں حلال رزق کھلایا تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے شہیدوں کے درجات میں پہنچا دے ۔ جان لے ! اے ابو کاہل ! جس نے ہر دن مجھ پر تین بار درود پڑھا اور ہر رات تین بار مجھ سے محبت و عشق مین ڈوب کر تو اللہ پر حق ہے کہ اس کے اس رات اور اس دن کے گناہ معاف کر دے جان لے ! اے ابو کاہل! جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے یقین کرتے ہوئے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ ہر بار پڑھنے کی وجہ سے ایک سال کے گناہ معاف کر دے ۔

أَبِي كَاهِلٍ ← أَبِي مُعَاذٍ ← أبي منظور ← الفضل بن شعيب ← الفضل بن عطاء ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15636

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن السائءب بن عائذ بن عبيد الله بن عمر بن محروم شريك النبي صلى الله عليه و سلم في الجاهلية · حديث 15637

929 - حدثنا المقدام بن داود ثنا خالد بن نزار ثنا محمد بن مسلم الطائفي عن ابراهيم بن ميسرة حدثني مجاهد قال : سمعت قيس بن السائب يقول Y إن شهر رمضان يفتدي به الانسان يطعم فيه كل يوم مسكينا فاطعموا عني مسكينا لكل يوم صاعا وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم شريكا ليفي الجاهلية فخير شريك لا يمارى ولا يسارى

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قیس بن سائب کو فرماتے ہوئے سنا: ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بدلے آدمی فدیہ بھی دے سکتا ہے کہ ہر دن ایک مسکجین کو کھنانا کھلائے۔ اپنے عزیزوں کو کہا: تم میری طرف سے ہر دن کیلئے ایک مسکین کو پورا صاع ساڑھے چار کلو کھلاؤ رسول کریم ﷺ زمانہ جاہلیت میں کاروبار میں میرے شریک تھے پس آپﷺ سب سے بہترین شریک ساتھی تھے نہ جھگڑا کرتے تھے نہ کبھی اپنے ساتھی کے ساتھ رات کو چلتے تھے ۔

قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ ← مُجَاهِدٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15637

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن السائءب بن عائذ بن عبيد الله بن عمر بن محروم شريك النبي صلى الله عليه و سلم في الجاهلية · حديث 15638

930 - حدثنا عمر بن عبد العزيز بن مقلاص حدثني أبي ثنا ابن وهب أخبرني يزيد بن عياض عن عبد الملك بن عبيد عن مجاهد أن قيس بن السائب Y كبر حتىمرت به ستون على المائة وضعف عن الصيام فأطعم عنه

حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت قیس بن سائب جب بڑے ہوئے حتیٰ کہ ایک سو سال سے اوپر گزر گئے اور روزہ رکھنے سے کمزور پڑ گئے تو انہوں نے ( بطور فدیہ مسکینوں کو) کھانا کھلایا۔

الصِّيَامِ فَأُطْعِمَ عَنْهُ. ← مجاهد أن قيس بن السائب كبر حتىمرت به ستون على المائة وضعف ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ← يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15638

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن السائءب بن عائذ بن عبيد الله بن عمر بن محروم شريك النبي صلى الله عليه و سلم في الجاهلية · حديث 15639

931 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل السراج ثنا أبو هشام الرفاعي ثنا أبو مالك الجنبي عمرو بن هاشم ثنا مسلم الملائي عن مجاهد قال Y كنت أقود مولاي قيس بن السائب فيقول أدلكت الشمس ؟ فإذا قلت نعم صلى الظهر ويقول : هكذا كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل وكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي العصر والشمس بيضاء حية وكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي المغرب والصائم يتمارى أن يفطر وكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي الفجر حين يتغشى النور السماء

حضرت مجاہد فرماتے ہیں: میں اپنے آقا حضرت قیس بن سائب کی انگلی پکڑ کر چلا کرتا تھا پس وہ فرماتے : کیا سورج ڈھل گیا ہے ؟ پس جب میں کہتا : ہاں! تو ظہر کی نماز ادا فرماتے اور فرماتے: اس طرح رسول کریم ﷺ کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ابھی سفید رون ہوتا نبی کریم ﷺ مغرب کی نماز پڑھتے جب روزہ دار روزہ افطار کرنے کیلئے بے تاب ہو کر جھگڑا ررہا ہوتا اور آپ فجر ادا کرتے جب روشنی آسمان پر چھا جاتی۔

أَدَلَكَتِ الشَّمْسُ؟ فَإِذَا قُلْتُ: نَعَمْ، صَلَّى الظُّهْرَ ← كنت أقود مولاي قيس بن السائب ← مُجَاهِدٍ ← مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، ← أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15639

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ النابغة الجعدي واسمه قيس بن عبد الله ويكنى أبا ليلى · حديث 15640

932 - حدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب عن محمد بن سلام الجمحي قال Y أبو ليلى نابغة بني جعدة وهو قيس بن عبد الله بن غدير بن ربيعة بن عدس بن كعب بن ربيعة بن عامر بن صعصعة

حضرت محمد بن سلام جمحی فرماتے ہیں: ابو لیلیٰ نابغہ بنی جعدہ سے ہیں قیس بن عبداللہ بن غدیر بن ربیعہ بن عدس بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15640

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ النابغة الجعدي واسمه قيس بن عبد الله ويكنى أبا ليلى · حديث 15641

933 - حدثنا الحسين بن فهم البغدادي ثنا هارون بن أبي بكر الزبيري حدثني يحيى بن هارون البهري عن سليمان بن محمد بن يحيى بن عروة بن الزبير عن أبيه عن عمه عن عبد الله بن عروة بن الزبير قال Y شأقحمت السنة نابغة بني جعدة فأتى عبد الله بن الزبير وهو جالس بالمدينة فأنشده في المسجد : ( حكيت لنا الصديق لما وليتنا ... و عثمان و الفاروق فارتاح معدم ) ( وسويت بين الناس في الحق فاستووا ... فعاد صباحا حالك اللون مظلم ) ( أتاك أبو ليلى تجوب به الدجى ... دجى الليل جواب الفلاة عتمتم ) ( لتجبر منه جانبا زعزعت به ... صروف الليالي والزمان المصمم ) فقال ابن الزبير إليك ابا ليلى فإن الشعر أهون وسائلك عندنا أما صفوة مالنا فلآل الزبير وأما عفوته فإن بني أسد يشغلها عنك وتميما ولكن لك في مال الله حقان حق لرؤيتك رسول الله صلى الله عليه و سلم وحق لشركتك أهل الإسلام ثم أمر به فادخل دار النعم وأمر له بقلائص سبع وحمل وخيل وأوقر له الركاب برا وتمرا فجعل النابغة يستعجل فيأكل الحب صفرا فقال ابن الزبير : ويح أبي ليلى لقد بلغ به الجهد فقال النابغة أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( ما وليت قريش فعدلت واسترحمت فرحمت وعاهدت فوفت ووعدت فأنجزت إلا كنت أنا والنبيون فراط القاصفين )

حضرت عبداللہ بن عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: نابگہ بن جعدہ قحط سالی کا شکار ہو کر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس آیا اس حال میں وہ مدینہ کہ مسجد میں بیٹھے شعر پڑھ رہے تھے :تُو نے ہمارے لیے صدیق کی حکایت بیان کی جب آپ نے ہمارا والی بنایا عثمان اور فاروق کی بھی پس غریب مسکین و فقیر نے راحت پائی ۔ آپ نے حق کے سلسلے میں لوگوں کے درمیان برابری کی پس وہ برابر ہو گئے پس وہ ایسی صبح لوٹا جو سخت سیاہ رنگ والی اور تاریک ہے آپ کے پاس ابو لیلیٰ آیا اس کے ساتھ تا ریکیاں چھٹ ج جائیں یعنی رات کی تاریکی جو اندھیرے مین جنگلوں کے چکر لگانے والا ہے تاکہ آپ اس کی ایک طرف پوری کر دیں جو کو راتوں کے پھرنے اور سخت زمانے سے ٹیڑھا کر دیا ہے ۔ پس حضرت ابن زبیر نے فرمایا: اے ابو لیلیٰ ! دُور ہو جا ! کیونکہ ہمارے نزدیک شعر تیرے وسائل میں سے آسان ترین ہے بہر حال ہمارے مال ال زبیر کیلئے خاص ہیں بہر حال میں نے تجھے معاف کیا کیونکہ بنو اسد نے تجھ سے لا پرواہی برتی ہے اور بنو تمیم نے بھی لیکن تیرے لیے اللہ کے مال میں دو وجہ سے حق ہے 2 اس لیے کہ آپ اہل اسلام کے ساتھ شریک رہے ہیں اس کے بعد آپ کے حکم سے ان کو دارالنعم میں داخل کیا گیا ان کیلئے سات اونٹنیوں کا بوجھ سمیت اور گھوڑوں کا حکم جاری فرمایا گندم اور کھجور کے اونٹ عطا کر ے بھی ان کی عزت افزائی کی پس نابغہ جلدی کرنے لگے پس انہوں نے دانے خالی کھائے پس حضرت ابنزبیر نے فرمایا: ابو لیلیٰ کو افسوس ! تو مشقت میں پڑ گیا پس حضرت نابغہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: قریش والی ہوں تو عدل کرتے ہیں رحم کی اپیل پر رحم کرتے ہیں کیا معاہدہ پورا کرتے ہیں آور وعدہ کریں تو خوب نبھاتے ہیں مگر میں آور دوسرے نبی غیر مستقل مزاج لوگوں کے کام آنے والے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← سليمان بن محمد بن يحيى بن عروة بن الزبير ← يحيى بن هارون البهري ← هارون بن أبي بكر الزبيري ← الحسين بن فهم البغدادي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15641

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن زيد · حديث 15642

934 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة ثنا أبو عمران الجوني عن قيس بن زيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طلق حفصة تطليقة فأتاها خالاها قدامة و عثمان ابنا مظعون فقالت والله ما طلقني عن شبع فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فدخل فتجلببت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أتاني جبريل عليه السلام فقال راجع حفصة فإنها صوامة قوامة وإنها زوجتك في الجنة )

حضرت قیس بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک طلاق دی آپ کے پاس ان دوخالو قدامہ اور عثمان مظعون کے بیٹے آئے حضرت حفصہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے مجھے مکمل طلاق نہیں دی ہے پس نبی کریم ﷺ آکر داخل ہوئے پس انہوں نے پردہ کیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر کہا: حضرت حفصہ سے رجوع کر لیں کیونکہ یہ دن کی روزے دار اور رات کو قیام کرنے والی ہے اور جنت میں بھی یہ آپ کی زوجہ ہوں گی۔

قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15642

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter