Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن ابي صعصعة الأنصاري ثم الخزرجي عقبي بدري · حديث 15583

875 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من شهد العقبة من النصار أم من بني مازن بنالنجار قيس بن أبي صعصعة وقد شهد بدرا واسم ابي صعصعة عمرو بن زيد بن عوف بن مبذول

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی مازن بن نجار میں سے جو عقبہ میں شریک ہوئے اُ کے ناموں میں حضرت قیس بن ابو صعصعہ کا نام بھی ہے آپ بدر میں شریک ہوئے تھے ابو صعصعہ کا نام عمرو بن زید بن عوف بن مبذول ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 15583

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن ابي صعصعة الأنصاري ثم الخزرجي عقبي بدري · حديث 15584

876 - حدثنا أحمد بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام السدوسي ثنا زياد البكائي عن محمد بن اسحاق Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من الخزرج ثم من بني مازن بن النجار قيس بن أبي صعصعة واسم أبي صعصعة عمرو نب زيد بن عوف بن منذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن النجار

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ انصار اور خزرج اور بنی مازل بن نجار میں سے جو بدر میں ژریک ہوئے تھے اُن کے ناموں میں سے ایک نام قیس بن ابو صعصعہ کا بھی ہے ابو صعصعہ کا نام عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازل بن نجار ہے ۔

زِيَادٌ الْبَکَّائِيُّ ← عبد الملك بن هشام السدوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Hadith 15584

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن ابي صعصعة الأنصاري ثم الخزرجي عقبي بدري · حديث 15585

877 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا سعيد بن أبي مريم ( ح ) وحدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح و عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصريان قالا : ثنا يحيى بن بكير قالا : ثنا ابن لهيعة عن حبانبن واسع الأنصاري عن أبيه عن قيس بن أبي صعصعة أنه قال Y يا رسول افلله في كم أقرأ القرآن ؟ قالك ( في خمش عشرة ) قالك إني أجدني أقوى من ذلك قال : ( فيجمعة ) قال : إني أجد \ ني أقوى من ذلك قال فمكث كذلك يقرؤه زمانا حتى كبر وكان يعصب على عينيه ثم رجع فكان يقرؤه في خمس عشرة قال : يا ليتني قبلت رخصة رسول الله صلى الله عليه و سلم الأولى

حضرت قیس بن ابو صعصعہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! قرآن کتنے دنوں میں پڑھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پندرہ دنوں میں۔ عرض کی: مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ایک جمعہ میں پڑھ لیا کرو۔ عرض کی: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپﷺ خاموش ہو گئے ۔ بزرگ ہونے تک ایسے ہی پڑھتے رہے ان کی آنکھوں پر پردہ آگیا آپ آپ پھر پندرہ دنوں میں پڑھنے لگے۔ فرماتے تھے کہ کاش میں رسول اللہﷺ کی پہلی رخصت قبول کر لیتا۔

قيس بن أبي صعصعة ← أَبِيهِ ← حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ الأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح و عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصريان ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Hadith 15585

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن خرشة القيسي · حديث 15586

878 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري ثنا عبد الله بن صالح حدثني حرملة بن عمران عن يزيد بن أبي حبيب أنه سمعه يحدث محمد بن أبي زياد الثقفي قال Y اصطحب قيس بن خرشة و كعب الكتابين حتى إذا بلغا صفين وقف كعب ساعة فقال : لا إله إلا الله ليهرااقن بهذه البقعة من دماء المسلمين شيء لا يهراق ببقعة من الأرض فغضب قيس ثم قال : ومايدريك يا أبا اسحاق ما هذا من الغيب الذياستأثر الله به ؟ فقال كعب : ما من الأرض شيء إلا وهو مكتوب في التوراة الذي أنزل الله على موسى ما يكون عليه وما يخرج فيه إلى يوم القيامة فقال مجحمد بن يزيد ومن قيس بن خرشة ؟ فقاتل : رجل من قيس وما تعرفه وهورجل من أهل بلاد \ ك قال : والله ما أعرفه قال : فإهن قيس بن خرشة قدم على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أبايعك على ما جاءك من اللهل وعلى أ أقول بالحق فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( يا قيس إن مد بك الدهر أن يليك بعدي ولاة لا تستطيع أن تقول الحق معهم ) فقال قيس : والله لا أبايعك على شيء إلا وفيت لك به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا لا يضرك شيء ) قال : فكان قيس يعيب زيادا و ابنه عبيد الله بن زياد فأرسل إليه فقال : أنت الذي تفتري على الله وعلى رسوله ؟ فقال : لا ولكن إن شئت أخبرتك من يفتري على الله وعلىرسوله ومن ترك العمل بكتاب الله عز و جل وسنة رسوله صلى الله عليه و سلم

حضرت محمد بن ابو زیاد ثقفی فرماتے ہیں کہ قیس بن خرشہ اور کعب الکتا بین اکٹھے ہوئے حتیٰ کہ جب صفین کے مقام پرپہنچے تو حضڑت کعب کھڑے ہوئے کہا: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اس مقام پر مسلمانوں کا ایسا خون بہایا جائے گا جیسا زمین کے کسی اور مقام پر بہایا جائے گا پس حضرت قیس کو غصہ آگیا پھر کپا: اے ابو اسحاق ! تجھے کیا معلوم ہے اس غیب کا حصہ ہے جو اللہ عطا کرتا ہے ؟ پس حضرت کعب نے کہا: زمین سے متعلقہ کوئی چیز نہیں جس کے بارے تو رات میں لکھا ہوا نہ ہو جو کواللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا جو بھی قیامت تک اس پر ہوگا اور جو اس میں سے پیدا ہو گا پس حضرت محمد بن زیدی راوی حدیث کا قول ہے شاید تمہیں معلوم نہ ہو کہ) قیس بن خرشہ کون تھے؟ فرمایا: قبیلہ قیس سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی تھے آپ اسے نہیں جانتے ان کا تعلق آپ کے علاقے سے تھا۔ انہوں نے جواب دیا: بخدا! میں ان کو نہیں جانتا۔ کہا : حضرت قیس بن خرشہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی: میں آپ سے اس پر بیعت کرتا ہوں جو آپ اللہ کی طرف لائے ہیں اور اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ میں جو کہوں گا حق اور سچ کہوں گا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ اے قیس ! اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو میرے بعد ایسے حکمرانوں سے ملے گا کہ ان کے ساتھ حق نہیں بول سکے گا پس حضرت قیس نے عرض کی: بخدا! میں جس بات پر بھی آپ سے بیعت کروں گا اسے پورا کر کے چھوڑوں گا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: پھر تجھے کوئی چیز نقصان نہیں دے گی ۔ راوی کا بیان ہے : پس حضرت قیس زیاد پر عیب لگاتے تھے اور اسی کا بیٹا عبید اللہ بن زیاد ہوا ہے آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا: کیا تو وہ آدمی ہے جو اللہ و رسول ﷺ پر بہتان باندھتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ! لیکن اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو بتادوں کے کون اللہ و رسول پر بہتان باندھتا ہے جس آدمی نے اللہ کی کتاب پر اور اس کے رسول کی سنت پر عمل کرنے کو چھوڑ دیا ( وہ بہتان باندھنے والا ہے )۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ،

Hadith 15586

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15587

879 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبو الربيع الزهرياني ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري حدثني أبي عن ثمامة بن عبد الله بن أنس قال Y كانت منزلة قيس بن سعد من رسول الله صلى الله عليه و سلم منزلة صاحب الشرطة من الأمير

ضرت ثمامہ بن عبداللہ بن انس فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد کا مرتبہ رسول اللہﷺ کے ہاں ایسے ہی تھا جس طرح امیر کا صاحب شرطہ ( پولیس کا نگران) ہوتا ہے ۔

ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أبو الربيع الزهرياني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 15587

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15588

880 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري حدثني أبي عن ثمامة بن عبد الله بن أنس لا أعلمه إلا عن أنس قال Y لما قدم النبي صلى الله عليه و سلم مكة وكان قيس بن سعد في مقدجمته بين يديه بمنزلة صاحب الشرطة فكلم النبي صلى الله عليه و سلم في قيس ليصرفه عن الموضع الذي وضعه به مخافة أن يتقدم على شيء فصرفه عن ذلك

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ( فتح مکہ کے موقع پر ) نبی کریم ﷺ مکہ آئے تو حضرت قیس بن سعد آپ ﷺ کے سامنے مقدمتہ الجیش پر صاحب شرطہ کی طرح تھے پس رسول کریم ﷺ نے قیس کے بارے میں کوئی بات کی تاکہ اس جگہ پر ہٹ جائے جس پر انہیں لگایا گیا ہے اس ڈر سے کہ کہیں کسی چیز پر حملہ نہ کر دے پس ان کو اس جگہ سے ہٹا دیا۔

أَنَسٍ، ← ثمامة بن عبد الله بن أنس لا أعلمه إلا ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Hadith 15588

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15589

881 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا أحمد بن رشدين بن سعد حدثني أبي عن يونس عن ابن شهاب أخبرني ثعلبة بن ابي مالك القرظي أن قيس بن سعد الأنصاري Y وكان صاحب لواء رسول الله صلى الله عليه و سلم أراد الحج فرجل أحد شقي راسه فإذاهديه قد قلد فأهل وحل شق الآخر

حضرت ثعلبہ بن ابو مالک القرظی فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ جو حضور ﷺ کا جھنڈا اُٹھاتے تھے انہوں نے حج کا ارادہ کیا ایک آدمی تھا اُس نے اپنا سر باندھا ہوا تھا اس کے پاس قربانی کا جانور تھا اس کو قلادہ پہنایا تھا انہوں نے تلبیہ کہا اور دوسری طرف کو کھول دیا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← أحمد بن رشدين بن سعد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Hadith 15589

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15590

882 - حدثنا علي بنعبد العزيز ثنا أبو نعمي ثنا وينس بن أبي اسحاق عن ابي اسحاق عن يريم بن أسعد قال : كنت مع قيس بن سعد وقد Y خدم النبي صلى الله عليه و سلم عشر سنين توضأ ومسح علىخفيه فما أنس أثر اصبعه على الخفين لأنهما جديدين

حضرت یریم بن اسعد فرماتے ہیں کہ میں حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا حضرت قیس کو حضور ﷺ کی خدمت کرنے کی سعادت دس سال حاصل رہی آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا دووں موزوں پر انگلیوں کے نشانات تھے کیونکہ دونوں موزے نئے تھے جو میں نہیں بھول سکتا۔

يريم بن أسعد ← أَبِي إِسْحَاقَ ← وينس بن أبي اسحاق ← أبو نعمي ← علي بنعبد العزيز

Hadith 15590

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15591

883 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن ابن سيرين أن سعد بن عبادة قسم ماله بين بنيه في حياته فولد له ولد بعد ما مات فلقي عمر أبا بكر فقال Y ما نمت الليلة من أجل ابن سعد هذا المولود ولم يترك له شيئا فقال أبو بكر : أنا والله ما نمت الليلة أو لما قال من أجله فانطلق بنا إلى قيس بن سعد نكلمه في أخيه فأتياه فكلماه فقال قيس ما شيء أمضاه سعد فلا أرده ابدا ولكن أشهد كما أن نصيبي له

حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان مال تقسیم کر دیا پس ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملے کہا: ابن سعد کی وجہ سے میںڑ ات کو سو نہیں سکا اس نومولود کیلئے انہوں نے کوئی مال ہی نہیں چھوڑا ہے ۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ بخدا! میں بھی آج رات نہیں سوسکا یا جیسے اس کی وجہ سے آپ نے فرمایا؛ پس آؤ! ہم قیس بن سعد کے پاس جا کر اس سے اس کے بھائی کے بارے بات کرتے ہیں پس یہ دونوں ہستیاں آئیں اور ان سے بات کی تو حضرت قیس نے فرمایا: بہر حال جس شخص کا حضرت سعد نے فیصلہ کر دیا ہے میں تو اس میں سے کوئی شی کبھی واپس نہ کروں گا بلکہ میں تم دونوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا حصہ ان کیلئے ہے ۔ حضرت ابن جریح سے مروی ہے کہ میں حضر ت عطاء نے خبر دی کہ حضڑت قیس بن سعد نے اپنا مال اپنے بیٹوں میں تقسیم کر دیا پھر ان کی وفات ہو گئی جبکہ ان کی ایک بیوی حاملی تھی جس کا انہیں علم نہ تھا پس اس نے لڑکا جنا پس اس سلسلہ میں حضرت عمر اور حضرت ابو بکر نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا : بہر حال جو چیز حضرت سعد نے تقسیم کر دی اور پختہ فیصلہ کر دیا تو میں اس سے کوئی چیز نہیں لوٹاؤں گا لیکن میرا حصہ ان کا ہے ۔ میں نے عرض کی: کیا انہوں نے تقسیم کر کے کتاب اللہ کے مطابق کام کیا؟ فرمایا: صحابہ کرام ہمیشہ کتاب اللہ کے مطابق ہی تقسیم کرتے تھے۔ حضرت ذکوان ابو صالح یہ خبر بتاتے ہیں جو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ والی خبر ہے کہ انہوں نے اپنا مال اپنے بچوں میں تقسیم کر دیا پھر ملک شامل چلے گئے اور وہاں وصال کر گئے ۔

ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 15591

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15592

884 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم عن ابن جريج أخبرني عطاء أن سعد بن عبادة Y قسم ماله بين بنيه ثم توفي وامرأته حبلى لم يعلم بحبلها فولدت غلاما فأرسل عمر و أبو بكر في ذلك إلى قيس بن سعد بن عبادة فقال : أما أمر قسمه سعد و أمضاه فلن أعود فيه ولكن نصيبي له قلت أعلى كتاب الله قسم ؟ قالأ : لا نجدهم كانوا يقسمون إلاى على كتاب الله عز و جل

حضرت ابن جریح سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عطاء نے خبر دی کہ حضرت قیس بن سعد نے اپنا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا پھر ان کی وفات ہو گئی جبکہ ان کی ایک بیوی حاملہ تھی جس کا انہیں علم نہ تھا پس اس نے لڑکا جنا پس اس سلسلہ میں حضرت عمر اور حضرت ابو بکر نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی طرف پیغام بھیجا توانہوں نے کہا: بہر حال جو چیز حضرت سعد نے تقسیم کر دی ہے اور پختہ فیصلہ کر دیا تومیں اس سے کوئی چیز نہیں لوٹاؤں گا لیکن میرا حصہ ان کا ہے ۔ میں نے عرض کی : کیا انہوں نے تقسیم کر کے کتاب اللہ کے مطابق کام کیا؟ فرمایا: صحابہ کرام ہمیشہ کتاب اللہ کے مطابق ہی تقسیم کرتے تھے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 15592

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري من أخبار قيس · حديث 15593

885 - حدثنا اسحاق بن ابراهيم عن عبد الرزاق عن ابن جريج أخبرني عمور بندينار أن ذكوان أبا صالح أخبره Y هذاالخبر خبر قيس بن سعد أنه قسم ماله بين بنيه ثم انطلق إلى الشام فمات

حضرت ذکوان ابو صالح یہ خبر بتاتے ہیں جو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ والی خبر ہے کہ اُنہوں نے اپنا مال اپنے بچوں میں تقسیم کر دیا پھر ملک شام چلے گئے اور وہاں وصال کر گئے ۔

عمور بندينار أن ذكوان أبا صالح ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 15593

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ ما أسند قيس بن سعد · حديث 15594

886 - حدثنا إسحاق بن ابراهيم الدبري عن عبدالرزاق عن الثوري عن سلمة بن كهيل حدثني القاسم بن مخيمرة عن أبي عمار قال : سألنا قيس بن سعد بن عبادة عن زكاة الفطر فقال Y أمرنا بها رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن تنزل الزكاة ثم لم يأمرنا ولم ينهنا فنحن نفعله

حضرت ابو عمار فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت قیس بن سعد بن عبادہ سے صدقہ فطر کے متعلق پوچھا حضر ت قیس فرماتے ہیں: اس کا حکم ہمیں حضور ﷺ نے زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے دیا تھا ہم کو منع نہیں کیا ہم ادا کرتے تھے ۔

زَكَاةُ الْفِطْرِ ← سألنا قيس بن سعد بن عبادة ← أَبِي عَمَّارٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُالرَّزَّاقِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 15594

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter