المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حدمر مولى زينب عن زينب · حديث 20164
145 - حدثنا محمد بن حاتم المروزي ثنا حسان بن موسى وسويد بن نصر ( ح ) وحدثنا يحيى بن عثمان ثنا نعيم بن حماد قالوا : أنا ابن المبارك عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه Y عن زينب ينت جحش قالت : سألت امرأة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إنها مستحاضة فقال : تجلس أيام أقرائها ثم تغتسل وتؤخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل وتصلي وتؤخر المغرب وتعجل العشاء وتصليهما وتغتسل للفجر
حضر ت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے پوچھا تو اس نے جواب دیا: میں مستحاضہ ہوں (مجھےمسلسل خون آتا ہے)۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ایسی عورت اپنے حیض کے دن آرام کرے۔ اس کے بعد ایک غسل کرے اور ظہر کی نماز دیر سے پڑھے اور عصر کی نماز جلدی پڑھے (اسی ایک غسل کے ساتھ پھر دوسرا غسل کرے اور اس کے ساتھ)۔ مغرب کی نماز دیر سے ادا کرے اور عشاء کی نماز جلدی اداکرے، لیکن دونوں نمازیں پڑھے اور فجر کی نماز کے لیے الگ غسل کرے۔
إنها مستحاضة ← سألت امرأة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← زينب ينت جحش ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← حسان بن موسى وسويد بن نصر ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20164
