Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20152

133 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا إسماعيل بن أبي ويس حدثني أبي عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن عمرة Y عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأزواجه أولكن تتبعني أطولكن يدا قالت عائشة فكنا إذا اجتمعنا بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم نمد أيدينا في الحائط نتطاول فلم نزل نفعل ذلك حتى توفيت زينب بنت جحش بن رئاب وكانت امرأة قصيرة ولم تكن أطولنا فعرفنا أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد بطول اليد الصدقة وكانت امرأة صناع كانت تعمل بيديها وتتصدق به في سبيل الله

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وصال کے وقت ) اپنی بیویوں سے فرمایا: تم میں سے سب سے پہلے میرے پیچھے آئے گی، جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ (سخی ہے۔) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد جب ہم اکٹھی ہوتی تھیں تو ہم اپے ہاتھ دیوار پر رکھتی تھیں تاکہ (معلوم ہو کہ کس کے) ہاتھ لمبے ہیں۔ ہم نے یہ کام جاری رکھا یہاں تک کہ حضرت زینب بنت حجش بنت رئاب کا وصال ہوا۔ ان کا قد چھوٹا تھا اور وہ ہم سے لمبی نہیں تھیں ( اور نہ ان کے ہاتھ ہم سے لمبے تھے۔ ) پس ہم نے پہچان لیا کہ لمبے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ؛ "صدقہ" تھا۔ وہ ہاتھ سے کام کرنا جانتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرتی تھیں۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي ← إسماعيل بن أبي ويس ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20152

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20153

134 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا وكيع وأبي قالا : ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي Y أنه صلى مع عمر على زينب وكانت أول نساء النبي صلى الله عليه و سلم موتا وكان يعجبه أن يدخلها قبرها فأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه و سلم من يدخلها قبرها ؟ فقلن من كان يراها في حياتها فليدخلها قبرها

حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ازواج مطہرات میں سے آپ کے وصال کے بعد سب سے پہلے فوت ہوئیں۔ انہیں تعجب ہوا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبر میں کون اتارے تو ازواج کی طرف آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ کون ان کو قبرمیں اتارے ؟ انہوں نے جواب دیا: جس نے انہیں زندگی میں دیکھا ہوا ہے، چاہیے کہ وہی انہیں قبر میں اتارے۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَکِيعٌ وَأَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20153

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت زينب بنت جحش أم حبيبة بنت أبي سفيان عن زينب · حديث 20154

135 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن عروة بن الزبير عن زينب بنت أبي سلمة Y عن زينب بنت جحش قالت : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقول : ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذه وحلق إبهامه والتي تليها قالت فقلت : أي رسول الله أهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث لم يذكر عبد الرزاق عن معمر في الإسناد أم حبيبة

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: قریب آ جانے والے شر سے عرب کی بربادی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بڑے بند میں سے اس کی مثل کھل گیا ہے اور اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی (شہادت والی) سے دائرہ بنایا۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں؟ فرمایا: ہاں جب خباثت (برے عقائد و اعمال کی پلیدی) زیادہ ہو جائے گی۔ حضرت عبدالرزاق نے حضرت معمر سے جو روایت کی ہے، اس میں حضرت ام حبیبہ کا ذکر نہیں کیا۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20154

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت زينب بنت جحش أم حبيبة بنت أبي سفيان عن زينب · حديث 20155

136 - حدثنا موسى بن هارون قال : ثنا أبو خيثمة زهير بن حرب ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب قال : حدثني عروة بن الزبير أن زينب بنت أبي سلمة أخبرت عن أم حبيبة بنت أبي سفيان Y عن زينب بنت جحش أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل عليها فزعا يقول : ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذا وحلق باصبعه الإبهام والتي تليها قالت زينب : فقلت يارسول الله أنهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی حالت میں فرما رہے تھے: قریب آ جانے والے شر سے عرب کی بربادی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بڑے بند میں سے اس کی مثل کھل گیا ہے اور اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی (شہادت والی) سے دائرہ بنایا۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں؟ فرمایا: ہاں جب خباثت (برے عقائد و اعمال کی پلیدی) زیادہ ہو جائے گی۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20155

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت زينب بنت جحش أم حبيبة بنت أبي سفيان عن زينب · حديث 20156

137 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي سفيان ثنا الزهري ولا نحتاج فيه إلى أحد اخبرني عروة بن الزبير عن زينب بنت أبي سلمة عن أم حبيبة عن أمها حبيبة Y عن زينب بنت جحش قالت : استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم من نوم وهو محرم وجهه وهو يقول : لا إله إلا الله ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذه وعقد سفيان عشرة قلت : يارسول الله أنهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث قال سفيان : أحفظ في هذا الحديث أربع نسوة من الزهري وقد رأين النبي صلى الله عليه و سلم ثنتين من أزواجه أم حبيبة وزينب وثنتين ربيبتيه زينب بنت أم سلمة و حبيبة بنت أم حبيبة أبوها عبيد الله بن جحش مات بأرض الحبشة

حضرت زینب بن حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اس حال میں کہ اپنے چہرے پر کپڑا کیے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے۔ " لا الٰہ الا اللہ " عرب کی بربادی اس فتنے سے ہو گی، جو قریب آ گیا ہے۔ یاجوج ماجوج کے بڑے بند میں سے اس کی مثل کھل گیا ہے (حضرت سفیان نے دس انگلیوں کو اکٹھا کیا) میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں؟ فرمایا: ہان جب خباثت (برے عقائد و اعمال کی پلیدی) زیادہ ہو جائے گی۔ میں نے اس حدیث میں امام زہری سے چار عورتوں کو یاد کیا، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اس حالت میں) دیکھا۔ دو آپ کی ازواج میں سے حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب اور دو ان میں سے جن کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پرورش فرمائی، وہ حضرت زینب بنت ام سلمہ اور حضرت حبیبہ بنت ام حبیبہ ہیں۔ آخر الذکر کے والد کا نام "عبیداللہ بن حجش" ہے۔ وہ حبشہ کی سرزمین پر فوت ہوئے۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أمها حبيبة ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيُّ وَلاَ نَحْتاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ ← الحميدي سفيان ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20156

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت زينب بنت جحش أم حبيبة بنت أبي سفيان عن زينب · حديث 20157

138 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي حدثنا محمد بن أبي عمر العدني ثنا سفيان عن الزهري عن عروة عن زينب بنت أم سلمة عن حبيبة عن أم حبيبة Y عن زينب بنت جحش قالت : استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم من نومه فزعا فقال : ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذه وحلق باصبعيه الإبهام والتي تليها فقلت : يارسول الله أنهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث

حضرت زینب بن حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: عرب کی بربادی اس فتنے سے ہو گی، جو قریب آ گیا ہے۔ یاجوج ماجوج کے بڑے بند میں سے اسی کی مثل کھل گیا ہے اور اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی (شہادت والی) سے دائرہ بنایا۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کے نیک بندےموجود ہیں؟ فرمایا: ہاں جب خباثت (برے عقائد و اعمال کی پلیدی) زیادہ ہو جائے گی۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حبيبة ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20157

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت زينب بنت جحش أم حبيبة بنت أبي سفيان عن زينب · حديث 20158

139 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا يعقوب بن حميد [ ثنا عبد العزيز ] الداوردي عن عبيد الله بن عمر عن إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش عن أبيه Y عن زينب بنت جحش أنها كان لها مخضب من صفر فقالت : كنت أرجل فيه رأس رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میرے پاس تانبے کا بنا ہوا، ایک کپڑے دھونے کا برتن تھا، میں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کو کنگھی کیا کرتی تھی (تاکہ بال زمین پر نہ گریں)۔

زينب بنت جحش أنها كان لها مخضب من صفر ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عبد العزيز الداوردي ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20158

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ زينب بنت أم سلمة عن زينب بنت جحش · حديث 20159

140 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف كلهم عن مالك عن أنس عن عبد الله بن أبي بكر عن حميد بن نافع عن زينب بنت أم سلمة قالت : Y دخلت على زينب بنت جحش حين مات أخوها فدعت بطيب فمست منه ثم قالت : مالي من حاجة في الطيب ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لإمرأة نؤمن بالله و اليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاثة أيام إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب حضرت زینب بنت حجش کے بھائی کا وصال ہوا تو میں ان کے پاس گئی تو انہوں نے خوشبو منگوا کر لگائی پھر کہا: مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت تو نہیں تھی، لیکن میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر اپنے خاوند کے لیے چار ماہ دس دن ہیں۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← أَنَسٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ کُلُّهُمْ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20159

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ زينب بنت أم سلمة عن زينب بنت جحش · حديث 20160

141 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا عبد السلام بن حرب عن ليث عن أبي القاسم مولى زينب Y عن زينب بنت جحش أن النبي صلى الله عليه و سلم كان نائما عندها وحسين يحبو في البيت فغفلت عنه فحبا حتى بلغ النبي صلى الله عليه و سلم فصعد على بطنه ثم وضع ذكره في سرته قالت : واستيقظ النبي صلى الله عليه و سلم فقمت إليه فحططته عن بطنه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : دعي ابني فلما قضى بوله أخذ كوزا من ماء فصبه عليه ثم قال : إنه يصب من الغلام ويغسل من الجارية قالت : توضأ ثم قام يصلي واحتضنه فكان إذا ركع وسجد وضعه وإذا قام حمله فلما جلس جعل يدعو ويرفع يديه ويقول فلما قضى الصلاة قلت يارسول الله لقد رأيتك تصنع اليوم شيئا ما رأيتك تصنعه قال : إن جبريل أتاني وأخبرني أن ابني يقتل قلت : فأرني إذا فأتاني تربة حمراء

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے کا بنا ہوا، جبکہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں کھیل رہے تھے۔ پس وہ ان سے بے خبر ہوئیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر چڑھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناف میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ فرماتی ہیں: اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگ اٹھے تو میں نے ان کو ہٹانے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بیٹے کو چھوڑ دے ۔ جب وہ پیشاب کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا لوٹا پکر کر، اس پر بہا دیا۔ پھر فرمایا: بچے کا پیشاب ہوتو بہا دینا چاہیے اور بچی کے پیشاب والی جگہ کو دھونا چاہیے۔ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا پھر نماز پڑھنے کے لیے اٹھے جبکہ ان کو گود میں لیے ہوئے تھے۔ جب رکوع کرتے اور سجدے میں جانے لگتے تو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔ جب جلسہ کرتے تو ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے۔ پس جب نماز پڑھ لی تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آج میں نے آپ کو ایک ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، جو کرتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام نے آ کر مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا شہید کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا: پھر تو مجھے دکھائیں ۔ حضرت جبریل نے مجھے سرخ مٹی لا کر دی

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أبي القاسم مولى زينب ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20160

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حدمر مولى زينب عن زينب · حديث 20161

142 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن زينب بنت أبي سلمة عن حبيبة عن أم حبيبة Y عن زينب بنت جحش قالت : استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم من نومه محمر الوجه وهو يقول : لاإله إلا الله ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج و مأجوج مثل هذا وعقد بيده يعني عشرة قالت زينب : فقلت نهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم إذا كثر الخبث

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم نیند سےبیدار ہوئے اس حال میں کہ اپنے چہرے پر کپڑا کیے ہوئے تھے اور فرما رہےتھے۔"لا الٰہ الا اللہ"عرب کی بربادی اس فتنے سے ہو گی، جو قریب آ گیا ہے۔ یاجوج ماجوج کے بڑے بند میں سے اس کی مثل کھل گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس انگلیوں کو اکٹھا کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کےنیک بندے موجود ہیں؟ فرمایا: ہاں جب خباثت (برے عقائد و اعمال کی پلیدی) زیادہ ہو جائے گی۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حبيبة ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20161

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حدمر مولى زينب عن زينب · حديث 20162

143 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ثنا قيس بن الربيع عن أبي المقدام ثابت بن هرمز عن عدي بن دينار عن أم قيس بنت محصن قالت : Y دخلت على زينب بنت جحش ووجهها محمر فقلت : ما شأنك ؟ فقالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا نائمة فضربني بمجسة معه فقلت : ايش المجسة ؟ قالت : السعف الأبيض فقال : هذا والله أوان نزلت الفتن العظام قالت : فقلت يارسول الله أنهلك وفينا الصالحون ؟ قال : نعم ثم ينجي الذين اتقوا

حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس داخل ہوئی اس حال میں کہ وہ اپنے چہرے پر کپڑا کیے ہوئے تھیں ۔ میں نے کہا: آپ کا معاملہ کیا ہے؟ فرمایا: میں سوئی ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے مجھے کھجور کےخشک پتے کے ساتھ مارا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ میں نے عرض کی: مجسّہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کھجور کاخشک سفید پتہ (یا شاخ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخدا ! وہ زمانہ قریب ہے جب بڑے بڑے فتنے نازل ہوں گے۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں؟ فرمایا: ہاں پھر اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کونجات دے گا۔

نعم ثم ينجي الذين اتقوا ← فقلت يارسول الله أنهلك وفينا الصالحون ← هذا والله أوان نزلت الفتن العظام ← السعف الأبيض ← نائمة فضربني بمجسة معه فقلت ايش المجسة ← دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت على زينب بنت جحش ووجهها محمر فقلت ما شأنك ← أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي الْمِقْدَامِ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20162

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حدمر مولى زينب عن زينب · حديث 20163

144 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال ثنا يعقوب بن حميد ثنا عبد العزيز بن محمد عن عبيد الله بن عمر عن إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش عن أبيه Y عن زينب بنت جحش قالت : كان لنا مخضب من صفر كنت أرجل فيه رأس النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میرے پاس تانبے کا بنا ہوا، ایک کپڑے دھونے کا برتن تھا، میں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کو کنگھی کیا کرتی تھی (تاکہ با ل زمین پر نہ گریں)۔

زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20163

chevron_left Previous
1…111213…17
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter