Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20140

121 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا محمد بن خالد بن عثمة حدثني موسى بن يعقوب عن عبد الرحمن بن المنيب عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء بيت زيد بن حارثة فاستأذن فأذنت له زينب ولا خمار عليها فألقت كم درعها على رأسها فسألها عن زيد فقالت ذهب قريبا يا رسول الله فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم وله همهمة قالت زينب فاتبعته فسمعته يقول : تبارك مصرف القلوب فما زال يقولها حتى تغيب

حضرت ابو بکر بن سلیمان بن ابو حثمہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید بن حارثہ کے گھر آئے تو اجازت مانگی۔ حضرت زینب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دی جبکہ ان پر اوڑھنی نہ تھی ۔ انہوں نے اپنے کرتے کی آستین کو (کھینچ کر ) اپنے سر پر ڈال لیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید کے بارے میں دریافت کیا ۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! وہ قریب ہی کہیں گئے ہیں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کھڑے ہوئے اس حال میں کہ آپ کے لیے ہمہمہ (ایسا کلام جو اتنی دھیمی آواز سے ہو کہ جو سمجھی نہ جا سکے) تھا۔ حضرت زینب فرماتی ہیں: میں آپ کے پیچھے چلی تو میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: دلوں کو بدلنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل یہی کہتے رہے یہاں تک کہ غائب ہو گئے۔

أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← عبد الرحمن بن المنيب ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20140

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20141

122 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن أسد البجلي ثنا جعفر بن عون عن المعلى بن عرفان عن محمد بن جحش قال : Y افتخرت عائشة وزينب فقالت زينب : أنا الذي زوجني الله من السماء وقالت عائشة أنا الذي نزل عذري حين حملني صفوان بن المعطل فقالت لها زينب : أي شيء قلت حين ركبت قالت : قلت : حسبي الله ونعم الوكيل قالت : قلت كلمة المؤمنين

حضرت محمد بن حجش فرماتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فخر تھا۔ پس حضرت زینب فرمایا کرتی تھیں: میں وہ ہوں ، جس کا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرمایا اور حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں: میں وہ ہوں ، جس کا عذر (قرآن میں ) نازل ہوا جب حضرت صفوان بن معطل نے مجھے (ا پنی سواری) پر سوار کیا ۔ پس حضرت زینب نے ان سے کہا: جب آپ سوار ہوئیں تو کونسا کلمہ کہا۔ جواب دیا : میں نے کہا اللہ کافی ہے اور کتنا بہترین کار ساز ہے۔ انہوں نے جواب دیا آپ نے وہ کلمہ کہا جو ایمان والے کہتے ہیں۔

قلت كلمة المؤمنين ← قُلْتُ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. ← لَهَا زَيْنَبُ: أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ؟ ← الذي نزل عذري حين حملني صفوان بن المعطل ← عَائِشَةَ ← الذي زوجني الله من السماء ← زَيْنَبَ، ← افْتَخَرَتْ عَائِشَةُ وَزَيْنَبُ، ← محمد بن جحش ← الْمُعَلَّى بْنِ عُرْفَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن أسد البجلي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20141

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20142

123 - حدثنا داود بن محمد بن صالح المروزي ثنا العباس بن الوليد النرسي ثنا يزيد بن زريع عن سعيد بن أبي عروبة Y عن قتادة في قوله { وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم ومن يعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبينا } قال : نزلت هذه الآية في زينب بنت جحش وكانت بنت عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم فخطبها رسول الله صلى الله عليه و سلم فرضيت وظنت أنه يخطبها على نفسه فلما علمت أنه يخطبها على زيد بن حارثة أبت وأنكرت فأنزل الله { وما كان لمؤمن ولا مؤمنة } الآية

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مروی ہے : " وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ الیٰ آخرہٖ " ۔ فرماتے ہیں: یہ آیت حضرت زینب بنت حجش کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منگنی کا پیغام دیا تو وہ راضی ہو گئیں اور گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لیے پیغام دیا ہے۔ پس جب انہوں نے گمان کیا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید بن حارثہ کے لیے منگنی کا پیغام دے رہے ہیں تو انہوں نے انکار کر دیا اور نا پسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: " وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ"مکمل آیت۔

نزلت هذه الآية في زينب بنت جحش ← قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20142

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20143

124 - حدثنا أبو خليفة قال : ثنا محمد بن عبيد بن حساب ثنا محمد بن ثور عن معمر Y عن قتادة قال : خطب النبي صلى الله عليه و سلم زينب وهي بنت عمته وهو يريدها لزيد فظنت أنه يريدها لنفسه فلما علمت أنه يريدها لزيد أبت فأنزل الله { وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم } فرضيت وسلمت

حضرت قتادہ فرماتے ہیں: پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منگنی کا پیغام دیا۔ جبکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید کے لیے ارادہ تھا۔ حضرت زینب سمجھ رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لیے پیغام دے رہے ہیں۔ پس جب انہیں علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید بن حارثہ کے لئے منگنی کا پیغام دیے رہے ہیں تو انہوں نے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: " وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ الیٰ آخرہٖ "۔ انہوں نے رضا مندی کا اظہار کیا اور مان گئیں ۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20143

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20144

125 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد حدثنا جعفر بن سليمان عن الجعد أبي عثمان قال : ثنا أنس بن مالك قال : Y أعرس النبي صلى الله عليه و سلم امرأة من نسائه يعني زينب فجعلت أم سليم حيسا ثم جعلته في تور وهم يومئذ في جهد شديد فقالت : إذهب بهذا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأقرأه مني السلام وأخبره أن هذا منا له قليل فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله : بعثت بهذا إليك أم سليم وهي تقرئك السلام وتقول لك : يا رسول الله هذا منا لك قليل فنظر إليه فقال : ضعه فوضعته في ناحية البيت ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : انطلق فادعوا فلانا وفلانا وفلانا فسمى رجالا كثيرا ومن لقيت من المسلمين فدعوت الذي سمى لي ومن لقيت من المسلمين فجئت والبيت ملأى والصفة والحجرة فسألنا أنساكم كانوا ؟ قال : زهاء ثلاثمائة فدعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم بالتور فجئت به فوضع يده عليه وسمى ودعا ثم قال : ليتحلق عشرة عشرة وليأكل كل إنسان مما يليه فجلوا يتحلقون عشرة عشرة ويسمون ويأكلون وينهضون وكلما فرغ قوم قاموا وجاء آخرون يعقبونهم حتى أكلوا كلهم ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارفعه فلا أدري هو كان حيث وضعته أكثر أم حيث رفعته وبقي في بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم طوائف من الناس يتحدثون فأطالوا الحديث فثقلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد الناس حياءا ولا يشعرون أنهم ثقلوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ذلك عليهم عزيزا فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم وتركهم فلما رأوا رسول الله صلى الله عليه و سلم رجع ظنوا أنهم قد ثقلوا عليه فابتدروا الباب فخرجوا قال أنس : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرخى الستر ودخل فمكث يسيرا فأنزل عليه الوحي فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقرأ { يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم } إلى آخر الآيات قال أنس : فأنا أحدث الناس عهدا بهذه الآيات قرأهن رسول الله صلى الله عليه و سلم علي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کا ولیمہ کیا یعنی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حیس (حلوہ) بنایا پھر اسے ایک ڈونگے میں رکھا جبکہ اس دن وہ لوگ سختی میں تھے۔ حضرت ام سلیم نے کہا: یہ اُٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ! اور میری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر بتانا کہ یہ ان کا قلیل تحفہ ہے۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مجھے یہ چیز دے کر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ وہ آپ کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہوئے عرض کررہی تھیں: اے اللہ کے رسول ! یہ ہماری طرف سے آپ کی خدمت میں تھوڑا سا تحفہ ہے۔ پس آپﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف ایک نظر دیکھ کر فرمایا : اسے رکھ دو۔ میں نے اسے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر فلاں، فلاں اور فلاں کو بلا کر لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سارے لوگوں نے نام لیے اور (اسے بھی دعوت دو) مسلمانوں میں سے جو تجھے راستے میں ملے۔ پس میں نے ان کو بھی دعوت دی جن کے آپ نے نام لیے تھے ور ان کو بھی مسلمانوں میں سے جو مجھے راستے میں ملا۔ میں آیا تو گھر، مقام صفہ اور حجرہ شریف بھر چکے تھے (راوی حضرات کہتے ہیں: ) پس ہم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : وہ کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: تقریباً تین سو ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ڈونگہ لے کر آؤ۔ پس میں لایا تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا پھر اللہ کا نام لے کر دعا کی۔ پھر فرمایا: دس دس کے حلقے بنا لو اور ہر آدمی اپنے سامنے سے کھائے۔ پس لوگوں نے دس دس کے حلقے بنانا ، اللہ کا نام لینا اور رکھنا شروع کر دیا۔ (کھاتے گئے) اور اٹھتے گئے۔ جب بھی ایک گروہ فارغ ہو جاتا تو اُٹھ جاتا اور دوسرے پیچھے ان کی جگہ آ جاتے یہاں تک کہ سب نے کھا لیا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بلا کر حکم دیا: (اب) اسے اٹھا لو۔ مجھے اندازہ نہ ہوسکا کہ جب میں نے اسے رکھا تھا، اس وقت زیادہ تھا یا اب جب میں نے اسے اٹھایا ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں لوگوں میں سے کچھ طوائف باقی رہ گئے ، وہ باتیں کر رہے تھے۔ پس انہوں نے لمبی گفتگو کی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ بن گئے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کا بہت زیادہ لحاظ فرمایا کرتے تھے۔ لیکن ان لوگوں کو احساس نہ ہو سکا کہ وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھل ہے۔ یہ چیز آپ پر گراں ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پس جب ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہیں گمان ہوا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں ہیں۔ انہوں نے دروازے کی طرف جانے میں جلدی کی اور باہر نکل گئے۔ حضرت انس فرماتے ہیں: کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو پردہ تان دیا وار اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر ٹھہرے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے ہوئے اسے تلاوت کر رہے تھے۔ " اے ایمان والو!۔۔۔۔"۔ آیات کے آخر تک۔ حضرت انس فرماتے ہیں: ان آیات کو زمانے کے لحاظ سے میں سب لوگوں سے زیادہ بیان کرنے والا تھا، جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر پڑھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20144

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20145

126 - حدثنا يحيي بن محمد الحنائي ثنا شيبان بن فروخ ثنا محمد بن عيسى الهذلي عن ثابت البناني قال : Y قلت لأنس بن مالك : أخبرني بأعجب شيء رايته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم لما تزوج زينب بنت جحش قالت لي أمي : يا أنس إن النبي صلى الله عليه و سلم أصبح عروسا ولا أرى أصبح له غداء فهلم تلك العكة وتمرا قدر مد فجعلت له حيسا فقالت : يا أنس اذهب بهذا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وامرأته فلما أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بتور من حجارة فيه ذلك الحيس قال : ضعه في ناحية البيت واذهب فادع لي أبا بكر وعمر وعثمان وعلي ونفرا من أصحابه ثم ادع لي أهل المسجد ومن رأيت في الطريق فجعلت أتعجب من قلة الطعام ومن كثرة من يأمرني أن ادعو من الناس فكرهت أن أعصيه حتى امتلأ البيت والحجرة فقال : يا أنس هل ترى من أحد ؟ قلت : لا يا نبي الله فقال : هلم ذاك التور فجئت بذلك التور فجعلته قدامه فغمس ثلاث اصابع في التور فجعل التور يربو ويرتفع فجعلوا يتغدون ويخرجون حتى إذا فرغوا أجمعون بقي في التور نحو ماجئت به قال : ضعه قدام زينب فخرجت فأسقفت عليها الباب من جريد قال ثابت : فقلنا يا أبا حمزة كم ترى كانوا الذين يأكلون من ذلك التور ؟ قال : أحسبه واحدا وسبعين أو إثنين وسبعين

حضرت ثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی عجیب چیز بتائیں، جو آپ نے دیکھی ہو۔ فرمایا: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش سے شادی کی تو مجھ سے میری ماں نے کہا: اے انس! بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادی کی ہے۔ میرا خیال نہیں کہ ان کے پاس صبح کا کھانا بھی ہے۔ وہ کُپی اور ایک مد کی مقدار کھجوریں لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلوہ بنادیا۔ کہا: اے انس! یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی بیوی کی خدمت میں لے جاؤ! پس جب میں پتھر کا وہ برتن لایا، جس میں حلوہ تھا تو فرمایا: اسے گھر کے کونے میں رکھ دو! اور جا کر حضرات ابو بکر ، عمر ، عثمان علی اور صحابہ کی ایک جماعت کو بلا کر لے آؤ! پھر میرے پاس مسجد والوں کو اور جس کو تم راستے میں دیکھو بلا لاؤ! پس میرے اوپر حیرت و استعجاب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ایک طرف دیکھتا کہ کھانا اتنا تھوڑا ہے اور دوسری طرف لوگوں کی کثرت جن کو بلانے کے لیے آپ نے مجھے حکم فرمایا: میں نے نافرمانی کونے کو نا پسند کیا یہاں تک کہ گھر اور حجرہ بھر گئے۔ فرمایا: اے انس! کیا تو کسی کو (باہر) دیکھتا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں اے اللہ کے نبی! فرمایا: وہ برتن لے کر آؤ۔ میں وہ لے آیا۔ آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ کر اس برتن میں تین انگلیاں رکھیں۔ پس اس برتن میں کھانا بڑھنا اور بلند ہونا شروع ہو گیا۔ پس لوگوں نے کھانا اور جانا شروع کر دیا یہاں تک کہ جب سارے کھا کر فارغ ہو گئے تو برتن میں اتنا ہی باقی تھا، جتنا میں لایا تھا۔ فرمایا: حضرت زینب کے سامنے رکھ دو۔ پس میں نکلا تو میں نے اس کے اوپر کھجور کی صف رکھ کر دروازہ بند کر دیا ۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں : ہم نے کہا: اے ابو حمزہ! اس برتن سے کھانے والے لوگ کتنے تھے؟ فرمایا: میرا گمان ہے؛ اکہتر یا بہتر آدمی تھے۔

بأعجب شيء رايته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← محمد بن عيسى الهذلي ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20145

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20146

127 - حدثنا سهل بن موسى شيران الرامهرزي ثنا محمد بن عثمان بن أبي صفوان الثقفي ثنا سالم بن قتيبة ثنا عيسى بن طهمان قال : Y سمعت أنس بن مالك يقول : أولم النبي صلى الله عليه و سلم على زينب بنت جحش بخبز ولحم

حضرت ان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روٹی اور گوشت کے ساتھ حضرت زینب بنت حجش کا ولیمہ کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عِيسَی بْنُ طَهْمَانَ ← سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ← سهل بن موسى شيران الرامهرزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20146

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20147

128 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة Y عن أنس بن مالك قال : أنا أعلم الناس بهذه الآية لما أهديت زينب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت معه في البيت فصنع طعاما فجاء القوم فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج والقوم مكانهم ويرجع والقوم قعود فأنزل الله { يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم } فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم الحجاب وقام القوم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت کو میں سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا ہوں ، جب حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تحفہ پیش کیا تو وہ گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پس تھیں۔ انہوں نے کھانا بنایا۔ پس لوگ آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلنے لگے جبکہ لوگ ابھی اپنی جگہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: " اے ایمان والو! ۔۔"۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ لٹکا دیا تو لوگ اُٹھ گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20147

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20148

129 - حدثنا سهل بن موسى شيران الرامهرزي ثنا محمد بن عثمان بن أبي صفوان الثقفي ثنا سالم بن قتيبة ثنا عيسى بن سليمان قال : Y سمعت أنس بن مالك يقول : نزلت آية الحجاب في زينب بنت جحش

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: پردہ والی آیت حضرت زینب بنت حجش کے بارے میں نازل ہوئی۔

نزلت آية الحجاب في زينب بنت جحش ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ← سهل بن موسى شيران الرامهرزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20148

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20149

130 - حدثنا عبد الله بن علي الجارودي النيسابوري ثنا محمد بن يحيى النيسابوري ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب Y أن أنس بن مالك قال : أنا أعلم الناس بالحجاب لقد كان أبي بن كعب يسألني عنه قال أنس : أصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم عروسا بزينب بنت جحش كان تزوجها بالمدينة فدعا الناس للطعام بعد ارتفاع النهار فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلس معه رجال بعدما قام القوم حتى قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فمشى ومشيت معه حتى بلغ باب حجرة عائشة ثم ظن أنهم قد خرجوا فرجع ورجعت معه فإذا هم قد قاموا فضرب بيني وبينه بالستر ونزلت آية الحجاب

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت انس ابن مالک فرماتے ہیں: آیت حجاب کو میں سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ تحقیق حضرت ابی بن کعب اس کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کرتے تھے۔ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی ہوئی اور مدینہ میں ان سے نکاح کیا۔ دن بلند ہو جانے کے بعد آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے اور آپ کے ساتھ لوگ بیٹھ گئے بعد اس کے کہ قوم کھڑی تھی۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کر چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چلا حتی کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے پھر گمان کیا کہ لوگ نکل گئے ہوں گے تو واپس لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس لوٹا تو اچانک وہ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔

أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ کَانَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20149

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20150

131 - حدثنا الحسن بن غليب المصري ثنا يحيى بن سليمان الجعفي ثنا ابن وهب قال : أخبرني يونس عن ابن شهاب Y عن أنس بن مالك قال : كنت أعلم الناس بمكان الحجاب حين أنزل فذكر نحو حديث صالح بن كيسان

حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آیت حجاب کی جگہ کو میں سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا ہوں، جب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد حضرت صالح بن کیسان کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔

نحو حديث صالح بن كيسان ← كنت أعلم الناس بمكان الحجاب حين أنزل ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20150

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر نزول آية الحجاب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب · حديث 20151

132 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا هشام الدستوائي ثنا أبو الزبير Y عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى امرأة فأعجبته فدخل على زينب بنت جحش فقضى حاجته منها ثم خرج فقال : إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان فمن وجد ذلك فليأت أهله فإنه يضمر ما في نفسه

حضرت ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو اس نے آپ کو خوش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں داخل ہو کر حاجت پوری کی پھر باہر تشریف لائے۔ فرمایا: عورت شیطان کی صورت میں (لوگوں کے) سامنے آتی ہے اور شیان کی صورت میں پیٹھ پھیر کر جاتی ہے۔ پس جو آدمی ایسی حالت پائے تو اسے چاہیے کہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے، کیونکہ وہ جو چیز اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہے ، ( اس کا علاج یہیں ہے۔ ) ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20151

chevron_left Previous
1…101112…17
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter