المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ذكر تزويج النبي صلى الله عليه و سلم زينب وذكر سنها ووفاتها ومن أخبارها · حديث 20128
109 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا الحسين بن أبي السري العسقلاني ثنا الحسن بن محمد بن أعين الحراني ثنا حفص بن سليمان عن الكميت بن زيد الأسدي قال حدثني مذكور مولى زينب بنت جحش عن زينب بنت جحش قالت : Y خطبني عدة من قريش فأرسلت أختي حمنة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أستشيره فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين هي ممن يعلمها كتاب ربها وسنة نبيها ؟ قالت : ومن هو يا رسول الله ؟ قال زيد بن حارثة قال : فغضبت حمنة غضبا شديدا وقالت : يا رسول الله أتزوج بنت عمك مولاك ؟ قالت : جاءتني فأعلمتني فغضبت أشد من غضبها وقلت أشد من قولها فأنزل الله { وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله و رسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم } قالت : فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وقلت إني استغفر الله وأطيع الله ورسوله افعل ما رأيت فزوجني زيدا وكنت أرثى عليه فشكاني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فعاتبني رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم عدت فأخذته بلساني فشكاني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أمسك عليك زوجك واتق الله فقال : يا رسول الله أنا أطلقها قالت : فطلقني فلما انقضت عدتي لم أعلم إلا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد دخل علي ببيتي وأنا مكشوفة الشعر فقلت إنه أمر من السماء فقلت : يا رسول الله بلا خطبة ولا اشهاد ؟ فقال : الله المزوج وجبريل الشاهد
حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں : قریش میں سے کئی آدمیوں نےمیرے نکاح کا پیغام بھیجا تومیں نے اپنی بہن حضرت حمنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کروں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کہاں ان لوگوں میں سے جسے کوئی اس کے رب کی کتاب اور اس کی نبی کی سنت سکھائے ؟ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! وہ کون ہے؟ فرمایا: زید بن حارثہ؟ راوی کہتے ہیں: حضرت حمنہ سخت غصے میں آ گئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کی پھوپھی زاد کا نکاح آپ کے غلام سے کر دوں؟ حضرت زینب فرماتی ہیں : اس نے میرے پاس آکر مجھے آگاہ کیا۔ مجھے اس سے زیادہ غصہ آیا اور میں نے اس سے زیادہ سخت بات کہی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: " وما کان لمؤمن الیٰ آخرہٖ "۔ فرماتی ہیں : میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیغام بھیج کر عرض کی: میں اللہ سے بخشش مانگتی ہوں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کہا مانتی ہوں۔ وہی کام کریں، جو آپ کے خیال میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح حضرت زید بن حارثہ سے کر دیا۔ میں ان پر نرمی کیا کرتی تھی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ان کی شکایت لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا۔ پھر میں لوٹ گئی۔ میں نے انہیں اپنی زبان سے پکڑا۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میری شکایت کر دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں انہیں طلاق دے دوں گا۔ فرماتی ہیں : انہوں نے مجھے طلاق دے دی۔ پس جب میری عدت گزر گئی تو مجھے معلوم نہ تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میرے سر کے بال ننگے تھے۔ میں نے دل میں کہا: یہ کوئی آسمان سے نازل ہوا ہے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بغیر منگنی اور بغیر گواہی کے؟ فرمایا: اللہ نکاح کرنے والا اور حضرت جبریل علیہ السلام گواہ ہیں۔
زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسَدِيِّ، ← حفص بن سليمان ← الحسن بن محمد بن أعين الحراني ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20128
