المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب · حديث 1645
1644 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا عبد الله بن رجاء أنا عمران القطان عن الحسن عن صعصعة بن معاوية Y أنه لقي أبا ذر بالزبدة يسوق بعيرا له عليه مزادتان في عنق البعير قربة فقال : يا أبا ذر مالك ؟ قال : لي عملي قال : قلت حدثني رحمك الله قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( ما من مسلمين يموت بينهما ثلاثة لم يبلغوا الحنث إلا غفر الله لهما بفضل رحمته إياهم ) قال قلت : زدني رحمك الله قال : نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( من أنفق من ماله زوجين في سبيل الله استقبلته حجبة الجنة كلهم يدعوه إلى ما عنده ) قلت زوجين ماذا ؟ قال : إن كان صاحب خيل ففرسين وصاحب إبل فبعيرين وصاحب بقر فبقرتين حتى عد أصناف هذا الضرب
حضرت صعصعہ بن معاویہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سےمقام ربذہ میں ملے ،آپ اپنا اونٹ بازار میں لے کر جار ہے تھے ،اونٹ کے گلے میں مشکیزہ تھا ،آپ نے عرض کی :اے ابو ذر رضی اللہ عنہ! تیرے لیے کیا ہے؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میرے لیے میرا عمل ہے ! میں نے عرض کی مجھے کوئی حدیث بتائیں !اللہ آپ پر رحم کرے آپ نے فرمایا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ؛جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں ،اللہ عزوجل اس کی وجہ سے اس کو بخش دے گا۔میں نے عرض کی :میرے لیے اضافہ کریں !اللہ آپ پر رحم کرے !فرمایا :جی ہاں ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کیا ،توجنت کے داروغ اس کا استقبال کریں گے،ان میں سے ہر ایک اسے دعوت دے گا ،اس چیز کی طرف جو اس کے پاس ہے ۔میں نے عرض کی :زوجین سے کیا مراد ہے ؟فرمایا اگر وہ گھوڑوں والا ہے ،تو دو گھوڑے ،اگر اونٹوں والا ہو تو دو اونٹ ،بکریوں والا ہے تو دو بکریاں یہاں تک کہ آپ نے اور قسمیں بھی گنوائیں ۔
صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي
Hadith 1645
