Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فيروز الديلمي · حديث 15559

851 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا ممد بن يوسف الفريابي ( ح ) وحدثنا أحمد بن مسعود المقدسي ثنا محمد بن كثير الصنعاني قالا : ثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي عمرو السيباني عن عبد الله بن فيروز الديلمي عن أبيه فيروز قال Y قلت يا رسول اله نحن من قد النبي صلى الله عليه و سلم علمت وحينا منحيث تعلم ونزلنا بين ظهراني من عتعلم فمن ولينا ؟ قال : ( الله ورسوله ) قال : قلت : حسبي

حضرت فیروز الدیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم وہ ہیں جن کو آپ نے جان لیا اور ہمارے قبیلے والے ہیں جن کو آپ نے جانا آپ جناتے ہیں جن کے درمیان ہم رہتے ہیں آپ بتائیں کہ ہمارا ولی کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اللہ کا رسول۔ میں نے عرض کی : میرے لیے کافی ہے ۔

أَبِيهِ فَيْرُوزَ ← عَبد الله بن فيروز الديلمي، ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ← ممد بن يوسف الفريابي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15559

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فيروز الديلمي · حديث 15560

852 - حدثنا أحمد بن محمد البزاز الأصبهاني ثنا محمد بن قدامة الجوهري ثنا المحاربي عن ابي رجاء محرز بن عبد الله عن صدقة عن عروة بن رويم عن ابن الديلمي وهو ابن أخت النجاشي Y وقد خدم النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من قرأ { قل هو الله أحد } مائة مرة في الصلاة أو غيرها كتب الله له براءة من النار )

حضرت ابن الدیلمی فرماتے ہیں: یہ نجاشی کی بہن کے بیٹے ہیں یہ حضور ﷺ کی خدمت میں رہے حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز میں یا اس کے بعد سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھی اللہ اس کے لیے جہنم سے برات لکھ دے گا۔

عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← صَدَقَةُ، ← أَبِي رَجَاءٍ مُحْرِزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّازُ الأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15560

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فيروز الديلمي · حديث 15561

853 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجد \ ة الحوطي ثنا عبد الوهاب بن الضحاك ثنا اسماعيل بن عياش عن الأوزاعي عن عبدة بن أبي لبابة عن فيروز الديلمي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يكون في رمضان صوت ) قالوا : يا رسول الله في أوله أو في وسطه أو في آخره ؟ قال : ( لا بل في النصف من رمضان إذا كان ليلة لنصف ليلة الجمعة يكون صوت من السماء يصعق له سبعون ألفا ويخرس سبعون ألفا ويعمى سبعون ألفاص ويصم سبعون ألفا ) قالوا : يا رسول الله فمن السالم من أمتك ؟ قال : ( من لزم بيته وتعوذ بالسجود وجهر بالتكبير لله ثم يتبعه صوت آخر والصوت الأول صوت جبريل والثاني صوت الشيطان فالصوت في رمضان والمعمعة في شوال وتميز القبائل في ذي القعدة ويغار على الحجاج في ذي الحجة وفي المحرم وما المحرم ؟ أوله بلاء على أمتي وآخره فرح لأمتي الراحلة في ذلك الزمان بقتبها ينجو عليها المؤمن خير له من دسكرة تغل مائة ألف )

حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: رمضان میں ایک آواز ہو گی ۔ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا ابتداء درمیان اور آکر میں ہوگی ؟ فرمایا: نہیں! بلکہ رمضان المبارک کے نصف میں ہو گی جب نصف رمضان کی رات جمعہ کی رات ہو گی تو آسمان سے ایک آواز آئے گی اس سے ستر ہزار مدہوش ستر ہزار بہرے ستر ہزار اندھے اور ستر ہزار گونگے ہو جائیں گے ۔ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ کی اُمت کا کون آدمی اس سے محفوظ رہے گا؟ فرمایا صرف وہی جو گھر بیٹھا رہے گا سجدے کی پناہ حاصل کرے گا پھر اس کے پیچھے ایک دوسری آواز ہو گی پہلی آواز حضرت جبریل کی اور دوسری آواز شیطان کی ہو گی رمضان میں آواز شوال میں آگ لگنے کی آواز ذوقعدہ میں قبیلے ایک دوسرے سے جدا ہوں گے ۔ ذوالحج اور محرم میں حاجیوں پر حملے ہوں گے اور محرم کیا ہے جس کی ابتداء میں میری اُمت پر بلا ء اور اس کا آخر میری اُمت کیلئے خوشی ہے اس زمانے میں اپنے چھوٹے سے کجا وے سمیت ہو گی جس پر مؤمن نجات پائے گا ایسی ہموار زمین سے جو ہزار آدمیوں کو پیا سا کر دے گی۔

فيروز الديلمي ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← أحمد بن عبد الوهاب بن نجد ة الحوطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15561

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15562

854 - حدثنا أحمد بن محد السطوي ثنا عفان بن مسلم ( ح ) ودثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا يحيى الحماين ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا عاصم بن كلييب حدثني أبي عن الفلتان بن عاصم قال Y كنا قعودا مع النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد فشخص بصره إلى رجل يمشي في المسجد فقال : ( يا فلان ) قال : لبيك يا رسول الله قال : ولا ينازعه الكلام إلا قال يا رسول الله فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( اتشهد أني رسول الله ؟ ) قال : لا قال : ( أتقرأ التوراة ؟ ) قال : نعم والانجيل قال : ( والقرآن ؟ ) قال : والذي نفسي بيده لو أشاء لقرأته قال : ثم ناشده قال : ( تجدني في التوراة والانجيل ؟ ) قال : أجدك مثلك ومثل هيأتك ومثل مخرجك وكنا نرجوا أن يكون منا فلما خرجت تحيرنا أن تكون أنتهو فنظرنا وإذا ليس أنت هو قال : ( ولم ذلك ؟ ) قال : إن معه من أمته سبعون ألفا يدخل الجنة بغير حساب ولا عذاب ومعك نفريسير قال : ( والذي نفسي بيده لأنا هو وأنهم لأمتي لأكثر من سبعين ألفا وسبعين ألفا )

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریمﷺ کی معیت میں مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے مسجد میں چلنے والے ایک آدمی کی طرف نظریں اُٹھا کر فرمایا: اے فلاں! اس نے کہا: حاضر ہوں! اے اللہ کےر سول! راوی کا بیان ہے : اس نے مناعت ( جھگڑے ) والا کلام نہ کیا۔ پس عرض کی: اے اللہ کے رسول! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: نہیں! فرمایا: کیا تُو تو رات پڑھتا ہے ؟ کہا: ہاں! ( فرمایا) انجیل قرآن؟ اس نے جواب دیا: قسم ہے اس ذا ت کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! اگر میں چاہوں تو پڑھ سکتا ہوں پھر آپ نے اسے قسم دے کر فرمایا: کیا تو مجھے تورات و انجیل میں پاتا ہوں؟ اس نے جواب دیا: میں آپ کو آپ کی مثل پاتا ہوں آپ کی شک کی مثال اور آپ کے نکلنے کی جگہ کی مثال ہم اُمید کیا کرتے تھے کہ آپ ہم ( بنی اسرائیل یہودیوں ) سے آئیں گے پس جب آپ آئے تو ہم حیران ہوئے کہ کیا آپ وہی ہیں۔ پس ہم نے غور و فکر کیا تو آپ وہ نہیں ہیں فرمایا: کس وجہ سے ؟ اس نے کہا: اس کی معیت میں ستر ہزار اس کے ایسے اُمتی ہوں گے جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے جبکہ آپ کے ساتھ تھوڑے سے آدمی ہیں آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! میں ہی وہ ہوں اور وہ میری اُمت ہو گی جو ستر ہزار اور ستر ہزار سے زائد ہو گی ۔

الفلتان بن عاصم ← أَبِي ← عاصم بن كلييب ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يحيى الحماين ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أحمد بن محد السطوي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15562

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15563

855 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا سعيد بن سليمان عن صالح بن عمر عن عاصم بن كليب عن أبيه عن خاله الفلتان بن عاصم قال Y كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ شخص بصره إلى رجل فدعاه فأقبل رجل من اليهود مجتمع عليه قميص وسراويل ونعلان فجعل يقول يا رسول الله فيقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أتشهد اني رسول الله ؟ ) فيأبى فجعل لا يقول شيئا إلا قال يا رسول الله فيقول : ( أتشهد اين رسول الله ) فيأبى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هل تقرأ التوراة ؟ ) قال : نعم قال : ( والانجيل ؟ ) قال : نعم والفرقان ورب محمد لو شئت لقرأته قال : ( فاسألك بالذي انزل التوراة والانجيل وأشياء خلقهما اما تجدني فيها ؟ ) قال : نعم نجد مثل نعتك يخرج من مخرجك حتى كنا نرجو أن يكون فينا فلما خرجت رأينا أنك أنت هو فلما نظرنا إذا أنت ليس به قال : ( من أين ؟ ) قال : نجد من أمته سبعين ألفاص يدخلون الجنة بغير حساب وانما أنتم قليل فأقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم وكبر وهلل مرتين ثم قال : ( والذي نفسي بيده اني لأنا هو وان أمتي لأكثر من سبعين ألفا وسبعين ألفا )

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے جب آپ نے ایک آدمی کی طرف نظریں اُٹھا کر بلایا پس یہودیوں میں سے ایک آدمی متوجہ ہوا اس پر قمیص تھی نیچے پاجامہ او ر جوتے پہنے ہوئے تھے پس وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیاتو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں پس اس نے انکا ر کیا پس وہ اور کوئی بات نہیں کہتا تھا بس کہتا: اے اللہ کے رسول! پس آپ ﷺ فرماتے ہیں: کیا تُو دل سے گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ پس وہ انکار کرتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تو نے تورات پڑھی ہے ؟ اس نے کہا: ہاں! فرمایا: انجیل؟ اس نے کہا :ہاں! اور فرقان! رب کعبہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو پڑھ سکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تجھ سے اس ذات کے واسطے پوچھنا چاہتا ہوں جس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا اور اشیاء کو پیدا فرمایا کیا تُو ان دونوں میں میرا ذکر نہیں پاتا؟ اس نے کہا : ہاں ! ہم آپ جیسے تعریف پاتے ہیں وہ وہیں پیدا ہو گا جس مقام سے آپ پیدا ہوئے ہیں حتیٰ کہ ہم امیدوار تھے کہ وہ ہم مین سے ہوں گے پس جب آپ پیدا ہوئے تو ہم نے خیال کیا کہ آپ وہی ہیں پس جب ہم نے مزید غور و فکر کیا پھر پتہ چلا کہ آپ وہ نہیں ہیں۔ فرمایا: کہاں سے معلوم ہوا؟ عرض کی : ہم آپ کی اُمت سے پاتے ہیں کہ وہ ستر ہزار کی تعداد تو ایسی ہو گی جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گی لیکن تم تو تھوڑے ہو۔ پس رسول کریمﷺ متوجہ ہوئے نعرہ تکبیر لگایااور لا الہٰ الا اللہ پڑھا دوبارہ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ؟ بے شک ضرور میں وہی ہوں اور بے شک میری اُمت ستر ہزار ضرب ستر ہزار سے بھی زیادہ ہو گی ۔

خَالِهِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15563

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15564

856 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري ثنا عفان ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا إبراهيم بن الحجاج السامي ( ح ) وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالوا : ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا عاصم بن كليب حدثني أبي ثنا الفلتان بن عاصم قال Y كنا قعودا مع النبي صلى الله عليه و سلم فأنزل عليه وكان إذا انزل عليه ذاب بصره مفتوحة عيناه وفرغ سمعه وبصره قلبه لما جاء من الله فلما فرغ قال لكاتب : ( اكتب { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله } الآية ) فقام الأعمى فقال : ما ذنبنا فأنزل عليه فقلنا للأعمى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ينزل فبقي قائما يقول أتوب إلى الله فلما فرغ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اكتب { غير أولي الضرر } )

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے تھے جب آپ ﷺ نے ایک آدمی کی طرح نظریں اُٹھا کر بلایا پس یہودیوں میں سے ایک آدمی متوجہ ہوا اس پر قمیص تھی نیچے پاجامہ اور جوتے پہنے ہوئے تھے پس وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں پس اس نے انکار کیا پس وہ اور کوئی بات نہیں کہتا تھا بس کہتا : اے اللہ کے رسول! پس آپ ﷺ فرماتے: کیا تُو دل سے گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ پس وہ انکار کرتا رسول کریمﷺ نے فرمایا: انجیل؟ اس نے کہا: ہاں! اور فرقان ! رب کعبہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو پڑھ سکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تجھ سے اس ذات کے واسطے پوچھنا چاہتا ہوں جس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا اور اشیاء کو پیدا فرمایا کیاتُو ان دونوں میں میرا ذکر نہیں پاتا؟ اس نے کہا: ہاں ! ہم آپ جیسے کی تعریف پاتے ہیں وہ وہیں پیدا ہو گا جس مقام سے آپ پیدا ہوئے ہیں حتیٰ کہ ہم اُمید وار تھے کہ وہ ہم میں سے ہوں گے پس جب آپ پیدا ہوئے تو ہم نے خیال کیا کہ آپ وہی ہیں پس جب ہم نے مزید غور و فکر کیا پھر پتہ چلا کہ آپ وہ نہیں ہیں۔ فرمایا: کہاں( کس علامت ) سے معلوم ہوا؟ عرض کی : ہم آپ کی اُمت سے پاتے ہیں کہ ستر ہزار کی تعداد تو ایسی ہو گی جو بگیر حساب کے جنت میں داخل ہو گی لیکن تم تو تھوڑے ہو۔ پس رسول کریم ﷺ متوجہ ہوئے نعرہ تکبیر لگایا اور لا الٰہ الا اللہ پڑھ دوبارہ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ! بے شک ضرور میں وہی ہوں اور بے شک میری اُمت ستر ہزار ضرب ستر ہزار سے بھی زیادہ ہو گی۔ حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں بیٹھے تھے تو آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی آپ ﷺ پر جب وحی نازل ہوا کرتی تھی تو آپ کی آنکھیں کھلی اور نگاہ تیز ہو جاتی تھی اپنے کانوں نظر اور دل کو اللہ کی طرف سے اُتر نے والی وحی کیلئے فارغ کر لیتے تھے پس جب وحی مکمل ہوئی تو کاتب کو بلا کر فرمایا: لکھ لے ایک نابینا آدمی نے اُٹھ کر عرض کی : ہمارا کیا گناہ ہے ؟ ( اللہ نے آنکھیں لی ہیں) پس آپ ﷺ پر مزید وحی نازل ہوئی پس ہم نے کہا: یہ خصوصاً نابینا کیلئے ہے بے شک رسول کریم ﷺ اُترے تو کھڑے ہو کر یہ کہنے لگے: میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پس رسول کریمﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: لکھ لے ۔

الفلتان بن عاصم ← أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15564

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15565

857 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن عاصم بن كليب عن أبيه عن خاله الفلتان بن عاصم قال Y أتينا النبي صلى الله عليه و سلم فيمن أتاه من الأعراب فجلسنا ننتظره فخرج في وجهه الغضب فجلس طويلا لا يتكلم فقال : ( إني خرجت إليكم وقد تبينت لي ليلة القدر ومسيح الضلالة فخرجت لأبينها لكم وأبشركم بها فلقيت بسدة المسجد رجلين يتلاحيان معهما الشيطان فحجزت بينهما فنسيتها واختلست مني وسأشذوا لكم منها شذوا )

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جو اعراب میں سے آپ کے پاس آئے تھے پس ہم آکر بیٹھے گئے اور آپ کا انتظار کرنے لگے پس آپ اس حا ل میں تشریف لائے کہ آپ کے چہرے میں غصے کے آثار تھے پس آپ کافی دیر بغیر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے رہے فرمایا: میں تمہاری طرف نکلا کہ تمہارے لیے شب قدر کو بیان کروں گا اور دجال کے بارے میں بتاؤں ۔ میں نکلا تاکہ تمہارے لیے اُسے بیان کروں اور تمہیں اس کی بشارت دوں۔ پس میں مسجد کے دروازے کے پاس آیا تو دو آدمی آپس میں جھگڑا کر رہے تھے ان دونوں کے ساتھ شیطان تھا پس میں نے ان کو دیکھنا گوارا نہ کیا اور درمیان میں پردہ ڈال دیا پس وہ مجھے بھلا دی گئی گویا مجھ سے اچانک کھسک گئی میں نے اسے تمہارے لیے بیان کرنے کو چھوڑ دیا۔

خَالِهِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15565

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15566

858 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن غعاصم بن كليب الجرمي عن أبيه أن خاله الفلتان بن عاصم أخبره Y أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قالك ( أما ليلة القدر فالتمسوها في العشر الأواخر وترا )

حضرت فلتان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

أَبِيهِ أَنَّ خَالَهُ الفَلْتَانَ بْنَ عَاصِمٍ ← غعاصم بن كليب الجرمي ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15566

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15567

859 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبوبكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن ادريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن الفلتان بن عاصم قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ك ( رأيت ليلة القدر وأنسيتها فاطلبوها في العشر الأواخر )

حضرت فلتان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے لیلتہ القدر دیکھی پھر مجھے بھلا دی گئی اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔

الفلتان بن عاصم ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15567

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15568

860 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا سعيد بن سليمان عن صالح بن عمر عن عاصم بن كليب عن أبيه عن خاله الفلتان بن عاصم قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وانا لجلوس ننتظره إذ خرج علينا في وجهه الغضب فجلس طويلا لا يتكلم ثم سري عنه فقال : ( إني 0خرجت إليكم وقد تبينت لي ليلة القدر ومسيح الضلالة فخرجت إليكم لأبينها لكم فلقيت بالمسجد رجلان يتلاحيان بينهما الشيطان فحجزت بينهما فاختلست مني فالتمسوها في العشر الأواخر وأما مسيح الضلالة فإنه أجلى الجبهة ممسوح العين عريض النحر فيه دماء كأنه ابن العزى أو ابن العزى بن فلان )

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں بیٹھا آپ ﷺ کے آنے کا انتظار کر رہا تھا کہ آپ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ ﷺ کے چہرے میں غصہ تھا پس آپ ﷺ لمبی دیر بیٹھے رہے پھر آپ ﷺ کے کان میں کسی نے کوئی بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے پاس آیا تھا کہ لیلتہ القدر اور دجال کی بات میرے لیے ظاہر ہوئی تھی پس میں تمہاری طرف وہ بیان کرنے کو آیا تو میں مسجد کے ساتھ دو آدمیوں سے ملا جو لڑ رہے تھے اس حال میں کہ ان کے درمیان شیطان تھا پس میں نے پردہ ڈال دیا۔ پس وہ خبرمیرے ذہن میں محوکر دی گئی پس اب تم اسے آخری عشروں میں تلاش کرو جہاں تک تعلق ہے دجال کا تو اُس کی پیشانی بڑی واضح اور روشن ہو گی لیکن آنکھ مسخ ہو چکی ہو گی چوڑے سینے والا ہو گا لیکن اس میں خون ہوں گے اس کی شک عزیٰ کے بیٹے یا فرمایا: ابن العزیٰ بن فلاں جیسی ہو گی ۔ حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے وہ ان کے خالو سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں سردیوں میں حضور ﷺ کے پاس آیا میں نے ان کو نمازپڑھتے ہوئے پایا دو آستینوں والے قمیص ( کو) اور کھسیوں میں جبکہ سب حضرات کے ہاتھ ان میں تھے ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← خَالِهِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15568

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 15569

861 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا زكريا بن يحيى زحمويه ثنا شريك عن عاصم بن كليب عن أبيه عن خاله قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم في الشتاء فوجدتهم يصلون في البانس والأكسية وأيديهم فيها

حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے وہ ان کے خالو سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں سر دیوں میں حضور ﷺ کے پاس آیا میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے پایا دو آستینوں والے قمیص اور کھسیوں میں جبکہ سب حضرات کے ہاتھ ان میں تھے ۔

خَاله ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15569

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فديك · حديث 15570

862 - حدثنا ابراهثيم بن أبي سفيان القيصراني ثنا فديك بن سليمان ثنا الأوزاعي عن الزهري عن صالح بن بشير بن فديك أن جده فديكا Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم - فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( أقم الصلاة وائت الزكاة واهجر السوء واسكن بين أرض قومك حيث شئت )

حضرت فدیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے پاس آئے حضور ﷺ نے انہیں فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور بُرائی کو چھوڑ دو اپنی قوم میں جس شہر میں چاہو جاؤ۔

الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← ابراهثيم بن أبي سفيان القيصراني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15570

chevron_left Previous
1…13141516
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter