المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فروة بن نعامة ويقال نباتة ويقال عامر الجذامي · حديث 15547
839 - حدثنا محمد بن نص رالصائغ ثنا محمد بن ساماعيل بن جعفر الجعفري حدثني عبد الله بن سلمة الربعي عن مسلم بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن ابن عباس قال Y بعث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فروة بن عامر الجذامي باسلامه وأهدى له بغلة بيضاء وكان فروة غلاما لقيصر ملك الروم على من يليه من العر ب وكان منزله عمان وما حولها فلما بلغ الروم ذلك من أمره حبسوه فقال في محبسه : ( طرقت سليمى موهنا أصحابي ... والروم بين الباب والقروان ) ( ضصد الخيال وساءني ما قد أرى ... فهممت أن أغفى وقد أبكاني ) ( لا تكحلن العين بعدي أثمدا ... سلمى ولا تدين للاتيان ) ( ولقد علمت أبا كبيشة أنني ... وسط الأعزة لا يحصى لساني ) ( فلئن هلكت لتفقدن أخاكم ... ولئن أحييت لتعرفن مكاني ) ( ولقد عرفت بكل ما جمع الفتى ... من رأيه وبنجده وبياني ) قال : فلما اجمعوا علىصلبه صلبوه على ماء يقال له عفراء فلسطين فلما رفع على خشبة قال : ( ألا هل أتى سلمى بأن حليلها ... على ماء عفراء فوق احدى الرواحل ) ( بخراقة لم يضرف الفحل أمها ... مشذبة أطرافها بالمناجل ) وقال : ( بلغ سراة المسلمين بأنني ... سلم لربي أعظمي وبناني )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں فرا بن عامر جذامی نے اپنے اسلام لانے کی خبر بھیجی اور آپ ﷺ کیلئے سفید خچر ہدیہ کیا جبکہ فروہ روم کے بادشاہ قیصر کا غلام تھا ان پر جو عربوں میں سے اس سے ملتے تھے ۔ اس کا گھر عمان اور اس کے مضافات میں تھا پس جب یہ بات رومیوں تک پہنچی تو انہوں نے اسے قید میں ڈال دیا تو اس نے قید خانے میں یہ اشعار کہے: سُلیمیٰ نے میرے دوستوں کی اہانت و بے عزت کرنے کی خاطر دروازہ کھٹکھٹایا جبکہ روم دروازے اور قروان کے درمیان ہے ۔ اس نے خیال کو روکا اور مجھے تکلیف دی جو میں نے خیال کیا پس میں سمجھ گیا کہ میں سو جاؤں گا(یا مجھے اونگھ آجائے گی) حالانکہ اس نے مجھے رلانے کی کوشش کی میرے بعد سلمیٰ اپنی آنکھوں میں سرمہ نہیں ڈال سکے گی ( روتی رہے گی) اور نہ آنے والوں کو بدلے دے سکے گی ابو کبثہ تجھے معلوم ہے کہ میں اپنے عزیزوں میں متوسط ہوں( مجھ پر اتنے انعامات ہیں جن کو ) میری زبان شمار نہیں کر سکتی اگر میں فوت ہو جاؤں تو اپنے بھائی سے محرورم ہو جاؤ گے اور اگر مجھے زندہ چھوڑا گیا تو تم میرا مقام دیکھ لو گے تو نے پہچان لیا ہر اس چیز کو جو ان نے جمع کی ہے مثلاً اس کا جھنڈا اس کی سخاوت اور میری وضاحت ( یا مرا بیان ہے )۔ راوی کا بیان ہے : پس جب وہ لوگ آپ کو سولے دینے کیلئے اکٹھے ہوئے تو ایک پانی کے کنویں یا تالاب پر سولی دی جس کا نام عفرء فلسطین تھا پس جب انہیں لکڑی پر اُٹھایا گیا تو کہا: خبردار! کیا سلمیٰ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ اس کا شوہر عفراء کے پانی پر ( سولی دیا جا رہا ہے ) اور اس کے نیچے اسے روانہ کرنے والی ایک لکڑی ہے ایسے ٹکڑے کے ساتھ جو انمرد اپنی اصل سے نہیں پھرتا جس کے اطراد درانتیوں سے تراش اور چھیل دئیے گئے ہیں ( اور کہا:) مسلمانوں کے گروہ کو یہ بات پہنچا دے میرے رب کو میری ہڈیوں اور پوروں نے بھی مان لیا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← مسلم بن شهاب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّبَعِيُّ، ← محمد بن ساماعيل بن جعفر الجعفري ← محمد بن نص رالصائغ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15547
