المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1533
1532 - حدثنا أحمد بن محمد بن نافع المصري الطحان ثنا أحمد بن صالح Y قال وجدت في كتاب بالمدينة عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي و إبراهيم بن محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف عن محمد ابن صالح التمار عن ابن شهاب عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال : قال أبو جهل بن هشام حين قدم مكة منصرفه عن حمزة : يا معشر قريش إن محمدا قد نزل يثرب وأرسل طلائعه وإنما يريد أن يصيب منكم شيئا فاحذروا أن تمروا طريقه وأن تقاربوه فإنه كالأسد الضاري إنه حنق عليكم نفيتموه نفي القردان على المناسم والله إن له لسحرة ما رأيته قط ولا أحد من أصحابه إلا رأيت معهم الشياطين وإنكم قد عرفتم عداوة ابني قيلة فهو عدو استعان بعدو فقال له مطعم بن عدي : يا أبا الحكم والله ما رأيت أحدا أصدق لسانا ولا أصدق موعدا من أخيكم الذي طردتم فإذا فعلتم الذي فعلتم فكونوا أكف الناس عنه فقال أبو سفيان بن الحارث : كونوا أشد ما كنتم عليه فإن ابني قيلة إن ظفروا بكم لم يرقبوا فيكم إلا ولا ذمة وإن أطعتموني ألحمتموهم خبر كنانة أو يخرجوا محمدا صلى الله عليه و سلم من بين أظهرهم فيكون وحيدا مطرودا وأما ابنا قيلة فوالله ما هما وأهل دهلك في المذلة إلا سواء وسأكفيكم حدهم وقال : ( سأمنح جانبا مني غليظا ... على ما كان من قرب وبعد ) ( رجال الخزرجية أهل ذل ... إذا ما كان هزل بعد جد ) فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون إني رحمة بعثني الله عز وجحل ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه لي خمسة أسماء أنا محمد وأحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر يحشر الناس على يدي وأنا العاقب ) قال أحمد بن صالح أرجو أن يكون الحديث صحيحا
حضرت محمد بن مطعم بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں :ابو جہل بن ہشام جب حمزہ سے ہٹ کر مکہ آیا تو اس نے کہا :اے قریشیو!بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یثرب سے اتر چکے ہیں ،اس نے اپنی خبریں بھیجی ہیں ،بس وہ چاہتا ہے کہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے ،اس طرف سے گزرنا چھوڑ دو حتی کہ اس کے قریب تک نہ جاؤ ،کیونکہ وہ شکار کرنے والے شیر کی مانند ہے ،وہ تمھارے گلے گھونٹ دے گا،تم اس سے اس طرح دور رہو ،جس طرح بندر راستوں سے دور ہوتے ہیں ،قسم بخدا !اس کے پاس بہت بڑا جادو ہے ،میں نے اسے کھبی نہیں دیکھا اور نہ ا س کے صحابہ کو دیکھا ہے،مگر ان کے ساتھ شیطان ہوتے ہیں اور یقیناً قیلہ کے بیٹوں کی دشمنی کو تم نے پہچان لیا ہے ،پس وہ دشمن ہے اور دشمن سے مدد مانگی ہے ۔تو حضرت مطعم بن عدی نے اسے دو بدو مخاطب کرکے کہا :اے ابو الحکم ! قسم بخدا ! میں نے تمھارے بھائی سے زیادہ سچی زبان والا او رسچے وعدے والا کوئی نہیں دیکھا ،جس کو تم نے اپنے سے دور کردیا ہے،پس اس سے پہلے تم نے جو کیا ،پس اب تم لوگوں کو اسے تکلیف دینے سے روکنے والے بن جاؤ ،تو ابو سفیان بن حارث نے کہا (بلکہ )پہلے سے زیاد ہ ان پر سخت ہو جاؤ ،کیونکہ قیلہ کے بیٹے اگر ان پر کامیاب ہوگئے تو وہ تمھارے اندر کسی عہد و پیمان کو نہیں دیکھیں گے ،اگر تم نے مجھے فرمانبرداری کا ثبوت دیا ،یعنی میری بات مانی تو تم ان کو کنانہ کی خبر دو گے ،پس وہ اکیلے ہوں گے،ہر طرف سے نکال دیے گئے ہوں گے ،پس جہاں تک قیلہ کے دونوں بیٹوں کی بات ہے توقسم بخدا ! وہ دونوں اور دھلک والے،ذلت میں برابر ہیں ۔میں ان کی بات بتاتا ہوں ،تمہیں کافی ہو جائے گی ۔اور کہا (بحرو افر)"عنقریب میں دور و نزدیک سے اسے سختی کروں گا ،قبیلہ خزرج کے لوگ بھی ذلیل ہیں ،کبھی سنجیدہ ہوتے ہیں ،کبھی مذاق کرتے ہیں"۔پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم ! میں ضرور اسے قتل کروں گا ،انہیں سولی دوں گا اور انہیں ہدایت دوں گا اس حال میں کہ وہ ناپسند کرنے والے ہوں گے ،بے شک میں اللہ کی رحمت ہوں ،مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ،وہ مجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک اس کا دین غالب نہ ہو جائے ۔میرے پانچ نام ہیں :میں محمد اور احمد ہوں ،میں ماحی ہوں یعنی وہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹائے گا ،میں حاشر ہوں ،میرے دونوں ہاتھو ں پر لوگوں کا حشر ہو گا ،میں عاقب ہوں ،حضرت احمد بن صالح نے فرمایا :مجھے امید ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو گی۔
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ الطَّحَّانُ
Hadith 1533
