المعجم الکبیر للطبرانی · باب الغین ‹ غرفة بن الحارث الأزدي ( الكندي ) باب الغين من اسمه غرفة · حديث 15362
654 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني حرملة بن عمران حدثني كعب بن علقمة أن غرفة بن الحارث وكانت له صحبة وقاتل مع عكرمة بن أبي جهل باليمن في الردة أنه Y مر نصراني من أهل مصر يقال له المندقون فدعاه إلى الإسلام فذكر النصراني النبي صلى الله عليه و سلم فتناوله فرفع ذلك إلى عمرو بن العاص فأرسل إليه فقال قد أعطيناه العهد فقال غرفة معاذ الله أن نكون أعطينااهم العهود والمواثيق على أن يؤذونا في الله ورسوله إنما أعطيناهم على أن نحل بينهم وبين كنائسهم يقولون فيها ما بدا لهم وأن لا نحملهم ما لا طاقة لهم به وأن نقاتل من ورائهم وأن يخلي بينهم وبين أحكامهم ألا أن يأتوا فنحكم بينهم بما أنز لالله فقال عمرو بن العاص صدقت
حضرت کعب بن علقمہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت غرفہ بن حارث جو کہ صحابی ہیں اور انہوں نے یمن میں حضرت عکرمہ بن ابوجہل کی معیت میں جہاد کیا ‘ مرتدوں کے خلاف شہر والوں میں سے ایک نصرانی گزرا جس کا نام مندقون تھا‘ پس آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی ‘ پس نصرانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور اچھا ذکر نہ کیا۔ پس یہ بات حضرت عمرو بن عاص تک پہنچائی گئی‘ پس انہوں نے قاصد بھیجا ‘ فرمایا: ہم نے اسے وعدہ دیا ہوا ہے ‘ پس حضرت غرفہ نے کہا: اللہ کی پناہ! کہ ہم نے ان کو وعدہ دیا ہے کہ وہ ہمیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دکھ دیتے ہیں ۔ ہم نے تو ان لوگوں سے اس بات پر معاہدہ کیا ہے کہ ہم ان کے اور ان کی عبادت گاہوں کے درمیان مخل نہ ہوں گے ‘ ان میں جوان کی مرضی آئے کہتے رہیں اور ان کو ایسا کام کرنے پر مجبور نہ کر یں گے جو ان کی طاقت سے باہر ہو ‘ ان کے پیچھے لڑیں گے اور ان کو کھلی اجازت دیں گے کہ اپنے دین کے احکام پر بلاتکلف عمل کریں ۔ لیکن اگر وہ فیصلہ ہمارے پاس لائے تو ہم ان کے درمیان فیصلہ کریں گے ‘ اس کے ساتھ جو اللہ تعالی ٰنے نازل فرمایا ہے۔ پس حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔
كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15362
