Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14782

75 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح ثنا يحيى بن بكير حدثني الليث ( ح ) وحدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن إبراهيم بن أبي عبلة عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير عن عوف بن مالك الأشجعي أن Y رسول الله صلى الله عليه و سلم نظر إلى السماء يوما فقال : ( هذا أوان يرفع العلم ) فقال له رجل من الأنصار يقال له زياد بن لبيد يا رسول اله يرفع العلم وقد أثبت و وعنه القلوب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن كنت لأ حسبك من أفقه أهل المدينة ) ثم ذكر له ضلالة اليهود والنصارى على ما في أيدهم فمن كتاب الله فلقيت شداد بن أوس فحدثته بحديث عوف فقال : صدق عوف لا أخبرك بأول ذلك يرفع ؟ قال : الخشوع لا ترى خاشعا

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نے ایک دن آسمان کی طرف نظر مبارک اُٹھا کر فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب علم اُٹھ جائے گا۔ پس ایک زیاد بن لبید نامی انصاری آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:اے اللہ کے رسول! (کیا) علم اٹھالیا جائے گاحالانکہ آپ بھی تشریف لا چکے ہیں اور دل اس کو یاد بھی کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے تمام اہل ِمدینہ سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہوں ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کی گمراہی کا ذکر کیا باوجود یکہ ان کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے ۔ پس میں حضرت شداد بن اوس سے ملا ،میں نے ان کے سامنے حضرت عوف کی حدیث کا ذکر کیا ،فرمایا : حضرت عوف نے سچ کہا،کیا میں تمہیں خبر دوں کہ علم اُٹھنے کی ابتداء کیسے ہو گی؟ فرمایا: خشوع اُٹھ جائےگا (یہاں تک کہ) آپ کسی کو خشوع کرنے والا نہ دیکھیں گے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14782

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14783

76 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب عن عمرو بن الحارث عن أبي حمزة بن سليم عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى على الجنازة يقول : ( الهم اغفر له وارحمه واعف عنه وعافه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وانزله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وقه فتنة القبر وعذاب النار ) قال عوف بن مالك : فتمنيت أن أكون أنا الميت لدعاء رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنازہ میں یہ دعا کرتے ہوئےسنا: اللهم اغفر له وارحمه الى آخرہ “ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے تمنا کی کہ یہ میت میں ہوتا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← أبي حَمْزَة بن سليم، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14783

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14784

77 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهوية ثنا أبي ( ح ) وحدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق قالا ثنا عيسى بن يونس ثنا أبو حمزة الحمصي عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y صليت مع النبي صلى الله عليه و سلم على جنازة رجل من الأنصار فذكر نحوه

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھی، اس کے بعد اوپر والی حدیث بیان کی ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← أَبُو حَمْزَةَ الْحِمْصِيُّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14784

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14785

78 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح ثنا معاوية بن صالح عن حبيب بن عبيد عن جبير بن نفير قال سمعت عوف بن مالك قال Y صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم على جنازة فحفظت منه دعائه وهو يقول : ( اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وابد له دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وادخله الجنة واعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار ) حتى تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنازہ میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اللهم اغفر له وارحمه الى آخرہ۔(حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں نے تمنا کی کہ یہ میت میں ہوتا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14785

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14786

79 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح ثنا معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحو هذا الحديث

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھی ،اس کے بعد اوپر والی حدیث ذکر کی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بنحو هذا الحديث ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14786

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14787

80 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع ثنا صفوان بن عمرو عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتى الفيء فسمه من يومه فأعطى الآهل حظين وأعطى الأعزب حظا

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ٍکے پاس جب مال ِفئی آ تا تو آپ اس دن تقسیم کر دیتے ،اہل وعیال والے آدمی کو دو حصے دیتے، غیر شادی شدہ کو حصہ دیا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14787

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14788

81 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا الحكم بن نافع ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أبو يزيد الحوطي قالا ثنا أبو المغيرة قالا ثنا صفوان بن عمرو حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاءه فيء قسمه من يومه فأعطى الآهل حظين وأعطى الأعزب حظا واحدا فدعينا وكنت أدعى قبل عمار بن ياسر فأعطى حظا واحدا فتسخط حتى عرف ذلك رسول الله ومن حضره فبقيت فضلة من ذهب فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يرفعها بطرف عصاه فتسقط ثم يرفعها فتسقط وهو يقول : ( كيف أنتم يوم يكنز لكم من هذا ؟ ) فلم يجبه أحد فقال عمار بن ياسر : وددنا والله لو أكنز لنا فصبر من صبر وفتن من فتن فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لعلك تكون في شر مفتون )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مالِ فئی آ تا تو آپ اس دن تقسیم کر دیتے، اہل وعیال والے آدمی کو دو حصے دیتے، غیر شادی شدہ کو حصہ دیا، پس ہمیں بلایا گیا اور مجھے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا گیا، پس مجھے ایک حصہ دیا گیا تو مجھے غصہ آ گیا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مو جودلوگوں نے اس غصہ کو پہچان لیا ۔ پس سونے میں سے کچھ بچ گیا تھا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسے اپنے عصا مبارک کی ایک طرف سے اُٹھانے لگے تو وہ گر گیا ،پھراُٹھانے لگے تو وہ گر گیا ،اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: تمہارا کیا حال ہو گا اس دن جب تمہارے لیے اس کے خزانے بنائے جائیں گے؟ پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا ،پس حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :قسم بخدا! ہم نے پسند کیا کہ کاش ہماری ملکیت میں اس کا خزانہ ہو ،پس صبر کیا جس نے صبر کیا اور اس فتنے کا شکار ہوا جو ہوا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فر مایا: شاید اس میں فتنے میں ڈالا گیا شر ہو۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة و أبو يزيد الحوطي ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14788

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14789

82 - حدثنا أحمد بن يحيى الحضرمي المصري ثنا محمد بن أيوب بن عافية بن أيوب حدثني جدي عافية بن أيوب حدثني معغاوية بن صالح حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم قطعة سلسلة من ذهب بقيت من الفيء بعصاه وهو يقول : ( كيف أنتم يوم يكنز لكم من هذا ؟ ) فلم يجبه أحد فقال رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله لوددنا أو أكنز لنا منه فصبر من صبر وفتن من فتن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لعلك أن تكون شر مفتون )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی زنجیر کا ٹکڑا اپنے عصا سے اُٹھایا جو مال ِفئی میں سے باقی رہ گیا تھا اور فرمانے لگے: تمہاری کیا حالت ہوگی اس دن جب اس میں سے تمہارے لیے خزانے ہوں گے؟ پس کسی نے کوئی جواب نہ دیا ،پس صحابہ کرام میں سے ایک آدمی بولا : قسم بخدا! ہماری خواہش ہے کہ کاش اس میں سے ہمارے لیے خزانہ ہوتا۔ پس صبر کیا جس نے کیا اور فتنہ کا شکار ہوا جو ہوا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تُو برافتنہ ہو۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← معغاوية بن صالح ← جَدِّي عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ عَافِيَةَ بْنِ أَيُّوبَ، ← أحمد بن يحيى الحضرمي المصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14789

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14790

83 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي قال ثنا أبو المغيرة ثنا صفوان بن عمرو عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y انطلق النبي صلى الله عليه و سلم يوما وأنا معه حتى دخلنا كنيسة اليهود يوم عيدهم فكرهوا دخوله عليهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا معشر اليهود أروني اثني عشر رجلا منكم يشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله يحط الله عن كل يهودي تحت أديم السماء الغضب الذي عليه فأسكتوا ما أجابه أحد ثم رد عليهم فلم يجبه أحد ثم ثلث فلم يجبه أحد فقال : ( أبيتم فوالله لأنا الحاشر وأنا العاقب وأنا المقفي آمنتم أو كذبتم ) ثم انصرف وأنا معه حتى أننا كدنا أن نخرج نادى رجل من خلفه فقال كما أنت يا محمد فأقبل فقال ذاك الرجل : أي رجل تعلمون فيكم يا معشر اليهود ؟ قالوا والله ما نعلم فينا رجلا أعلم بكتاب الله ولا أفقه منك ولا من أبيك قبلك ولا من جدك قبل أبيك قال : فإني أشهد له بالله أنه نبي الله الذي تجدون في التوراة قالوا كذبت ثم ردوا عليه وقالوا فيه شرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كذبتم لن نقبل قولكم فخرجنا ونحن ثلاثة رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا و ابن سلام وأنزل اله عز و جل { قل أرأيتم إن كان من عند الله وكفرتم به وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين }

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جبکہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم یہودیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہوئے ان کی عید کا دن تھا۔ پس انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس داخل ہوں، پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے یہودیوں کے گروہ! مجھے اپنے میں سے بارہ آدمی ایسے دکھاؤ جو گواہی دیتے ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ،آسمان کے نیچے ہر یہودی پر جو اللہ کا غضب ہے وہ ختم ہوجائے گا۔پس وہ خاموش رہے ، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پھر یہی بات فرمائی ،پس ان میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار کہا تو بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا ۔ فرمایا : تم نے انکار کیا ،قسم بخدا! میں حاشر ،عاقب اور مقفی ہوں، خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو میں آپ کے ساتھ تھا۔ حتی کہ ہم نکلنے کے قریب تھے تو پیچھے سے ایک آدمی نے آواز دی ،کہا: اے محمد! جیسے آپ نے فرمایا۔ پس آپ نے متوجہ ہو کر فرمایا: یہ ہے وہ آدمی! اے گروہ یہود! تم اپنے اندر کس آدمی کو جانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا قسم بخدا! ہم اپنے اندر کسی آدمی کو نہیں جانتے جواللہ کی کتاب کا زیادہ علم اور آپ سے زیادہ سمجھ رکھتا ہو اور آپ سے پہلے آپ کے والد سے آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے ۔ اس آدمی نے کہا: اس ہستی کیلئے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی اللہ کے نبی ہیں جن کی بات تم تورات میں پاتے ہو۔ یہودیوں نے اسے کہا: تو نے جھوٹ بولا ۔ پھر اس کورد کر دیا اور اس کے بارے میں برا بھلا کہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے جھوٹ بولا ،ہم ہرگز تمہارا قول قبول نہ کر یں گے ۔ راوی کا بیان . ہے: ہم نکلے جبکہ ہم تین تھے: (۱) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (۲) میں (۳) اور حضرت عبداللہ بن سلام ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’قل ارايتم ان كان الي آخرہ‘‘۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14790

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14791

84 - ثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة ثنا أبو المغيرة ثنا صفوان ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ثنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك أن Y رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يخمس السلب وأن مدديا كان رقيقا له في غزوة مؤتة في طرف الشام فلقوا العدو فجعل الرومي منهم يشتد على المسلمين وهو على فرس أشقر وسرج مذهب ومنطقة منطحة بذهب وسيف معلى من ذهب فيغزي بهم فيلطف له ذلك المددي حتى مر به فعرقب فرسه فوقع كم علاه بالسيف فقتله فلما هزم الله الروم قامت البينة للمددي أنه قتله فأعطاه خالد سيفه وخمس ماله قال عوف : فكلمت خالد بن الوليد فقلت أما تعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فضى بالسلب للقاتل ؟ قال بلى ولكني استكثرته قال عوف : وكأن بيني وبينه كلام فقلات والله لأخبرن رسول الله صلى الله عليه و سلم خبرك قال عوف : فلما اجتمعنا عند النبي صلى الله عليه و سلم ذكر عوف ما كان منه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما منعك أن تدفع إليه ؟ ) فقال خالد : استكثرته قال : ( ادفعه إليه ) قال عوف : فقلت كيف رأيت يا خالد أم أنجز لك ما وعدتك ؟ فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال لخالد : ( لا تعطه ) وقال : ( ما أنتم بتاركي لي امرائي )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلب سے خمس نہیں لیتے تھے اور شام کے کنارے میں غزوہ موتہ میں مددی آپ کا رفیق تھا۔ پس دشمن سے ان کی مڈبھیٹر ہوئی۔ پس ان میں سے رومی نے مسلمانوں پرسختی کرنا شروع کی اس حال میں کہ وہ سرخ و سیاہ رنگ کے گھوڑے پر سوار تھا، جس پر سنہری زین تھی جس کا کمر بند سنہری تھا اور تلوار پر سونا جڑا ہوا تھا،پس وہ اُن کے ساتھ لڑائی کر رہا تھا وہ مددی اس کی طرف مائل ہونے لگا یہاں تک کہ اس کے پاس سے گزر کر اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں ،وہ گر پڑا پھر تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے رومیوں کو شکست سے دوچار کیا تو مددی کے حق میں گواہیاں قائم ہوئیں کہ اس نے رومی کوقتل کیا ہے ۔ پس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی تلوار اور اس کے مال کاخمس اس مددی کو عطا فرمایا (کیونکہ وہ کمانڈر تھے)۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے بات کی ،میں نے کہا: کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کیلئے مقتول کے تمام مال کا فیصلہ فرمایا ؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے ان کو زیادہ مال دیا ہے ۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے اور اُن کے درمیان کلام تھی ۔ میں نے کہا: قسم بخدا! میں ضرور اللہ کے رسول کو آپ کی بات بتاؤں گا۔ حضرت عوف فرماتے ہیں: جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اکٹھے ہوئے تو عوف بن مالک نے وہ بات ذکر کی جو ہوئی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے ) فرمایا: تجھے اس کو دینے سے کس چیز نے روکا ؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے نا کو زیادہ مال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ دے دو۔ حضرت عوف فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے خالد! (اب) آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا میں نے وہ وعدہ پورا نہیں کر دیا جو تیرے ساتھ کیا تھا ؟ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور حضرت خالد سے فرمایا: اس کو نہ دینا،اور فرمایا: کیا تم میری خاطر میرے امیروں کو چھوڑ نے والے ہو؟

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ← صَفْوَانُ؛ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14791

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14792

85 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهوية ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم عن صفوان بن عمرو عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y قال النبي صلى الله عليه و سلم قال الوليد بن مسلم في حديثه فلقيت ثور بن يزيد فحدثته بهذا الحديث فقال حدثني به بجير بن سعد عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن عوف بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم نحو حديث صفوان

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صفوان کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14792

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14793

86 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا الوليد بن مسلم عن صفوان بن عمرو عن عبد الرحمن بن جبير بن نفسير عن أبيه عن عوف بن مالك Y أن النبي صلى الله عليه و سلم جعل السلب لمقاتل ولم يخمسه

حضرت عدی بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرنے والے کے لیے مقتول کا سامان دینے کا فیصلہ کیا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن جبير بن نفسير ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14793

chevron_left Previous
1…789…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter