المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ جبير نب نفير الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14782
75 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح ثنا يحيى بن بكير حدثني الليث ( ح ) وحدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن إبراهيم بن أبي عبلة عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير عن عوف بن مالك الأشجعي أن Y رسول الله صلى الله عليه و سلم نظر إلى السماء يوما فقال : ( هذا أوان يرفع العلم ) فقال له رجل من الأنصار يقال له زياد بن لبيد يا رسول اله يرفع العلم وقد أثبت و وعنه القلوب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن كنت لأ حسبك من أفقه أهل المدينة ) ثم ذكر له ضلالة اليهود والنصارى على ما في أيدهم فمن كتاب الله فلقيت شداد بن أوس فحدثته بحديث عوف فقال : صدق عوف لا أخبرك بأول ذلك يرفع ؟ قال : الخشوع لا ترى خاشعا
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نے ایک دن آسمان کی طرف نظر مبارک اُٹھا کر فرمایا: یہ وہ وقت ہے جب علم اُٹھ جائے گا۔ پس ایک زیاد بن لبید نامی انصاری آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:اے اللہ کے رسول! (کیا) علم اٹھالیا جائے گاحالانکہ آپ بھی تشریف لا چکے ہیں اور دل اس کو یاد بھی کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے تمام اہل ِمدینہ سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہوں ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کی گمراہی کا ذکر کیا باوجود یکہ ان کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے ۔ پس میں حضرت شداد بن اوس سے ملا ،میں نے ان کے سامنے حضرت عوف کی حدیث کا ذکر کیا ،فرمایا : حضرت عوف نے سچ کہا،کیا میں تمہیں خبر دوں کہ علم اُٹھنے کی ابتداء کیسے ہو گی؟ فرمایا: خشوع اُٹھ جائےگا (یہاں تک کہ) آپ کسی کو خشوع کرنے والا نہ دیکھیں گے۔
عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14782
