Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14758

51 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا عنبسة بن خالد عن يونس عن ابن شهاب أخبرني محمود بن الربيع الأنصاري أن عتبان بن مالك Y وهو من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ممن شهد بدرا من الأنصار قال : أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ حضرت عتبان بن مالک جن کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھا‘وہ بدری اور انصاری تھے۔ فرمایا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ‘آگے اسی کی مثل حدیث ذکر کی ۔

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14758

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14759

52 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي أخبرني ابن شهاب عن محمود بن الربيع الأنصاري أخبرني عتبان بن مالك Y أنه كان أمام قومه وقد شهد بدرا فقال للنبي صلى الله عليه و سلم أنه لما ساء بصري شقت علي إجازة الوادي إذا سأل بيني وبين مسجد قومي فقال للنبي صلى الله عليه و سلم يوم جمعة أرأيتني يا رسول الله لو أتيتني فصليت في مكان من بيتي اتخذه مصلى ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( سأفعل ) فغذا النبي صلى الله عليه و سلم يوم السبت ومعه أبو بكر و عمر رضي الله عنهما فدخل فما جلس حتى قال : ( أين تحب أن أصلي في بيتك ؟ ) فأشرت إلى الناحية التي أردت فصلى فيها ضحى وحبسناه على خزيرة يصنع له

حضرت محمود بن ربیع انصاری سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ اپنی قوم کے امام تھے ‘وہ بدر میں حاضر ہوئے ‘انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت جب کہ ان کی بینائی کمزور ہو چکی تھی عرض کی: میرے لیے وادی سے گزرنا مشکل ہے جب میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان وہ بہہ رہی ہو۔ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمعہ کے دن عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرما د یں تو میں اس جگہ کو مصلّٰی بنالوں ۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں ایسا کروں گا (ان شاء اللہ ) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے والے دن صبح کے وقت چلے‘ حضرات ابوبکر وعمر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم (میرے گھر )تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے سے پہلے ہی فرمایا:تمہیں اپنے گھر میں کہاں میرا نماز پڑھنا پسند ہے؟ پس میں نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا جس جگہ میرا ارادہ تھا‘ پس اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ‘ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا ‘ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا۔

عتبان بن مالك أنه كان أمام قومه وقد شهد بدرا ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14759

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14760

53 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن عقيل ( ح ) وحدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد بن عزيز الأيلي ثنا سلامة بن روح عن عقيل أخبرني محمد بن مسلم أن محمود بن الربيع الأنصاري أخبره أن عتبان بن مالك Y وهو من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ممن شهد بدرا من الأنصار أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني قد أنكرت بصري وإني أصلي بقومي فإذا كانت الأمطار سال الوادي بيني وبينهم فلم أستطع أن آتي مسجدهم فأصلي لهم فوددت يا رسول الله أن تصلي في مصلى أتخذه مصلى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( سأفعل إن شاء الله ) فقال عتبان : رضي الله عنه فغدا رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر حيث ارتفع النهار فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذنت له فلم يجلس حتى دخل البيت قال : ( أين تحب أن أصلي في بيتك ؟ ) فأشرت إلى ناحية البيت فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبر فقمنا فصففنا فصلينا ركعتين ثم اجتمع في البيت ذو عدد فقال قائل أين مالك بن الدخيشن ؟ فقال بعضهم ذلك منافق لا يحب الله ورسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا تقول ذلك إلا تراه قد قال لا إله إلا اله يريد بذلك وجه الله ؟ ) قال الله أعلم أنا ترى وجهه ونصحته إلى المنافقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فإن الله قد حرم النار على من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله ) قال محمد : ثم سألت الحصين بن محمد وهو أحد بني سالم من سراتهم عن حديث محمود فصدقه

حضرت عقیل سے مروی ہے کہ مجھے حضرت محمد بن مسلم نے خبر دی کہ حضرت محمود بن ربیع انصاری نے مجھے بتایا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کا تعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھا ‘وہ بدری اور انصاری تھے۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میری نظر کمزور ہوگئی ہے ‘میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں‘ پس جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور میری قوم کے لوگوں کے درمیان وادی بہتی ہے‘ (اس وقت) میں ان کی مسجد میں نہیں آ سکتا ہوں کہ ان کو نماز پڑھاؤں ‘اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ ایک جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو مصلّی بنا لوں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ! میں ایسا کروں گا۔ پس حضرت عتبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دوسرے دن صبح جب سورج خوب بلند ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر چلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اجازت کا کہا تو میں نے اجازت دے دی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے سے پہلے ہی گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: تم کہاں پسند کرو گے کہ میں تمہارے گھر میں نماز پڑھوں؟میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا‘ پس ہم نے بھی کھڑے ہو کر صف بنالیا۔ ہم نے بھی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) دو رکعت پڑھیں‘ پھر گھر میں بہت سارے لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ قوم میں سے ایک نے جواب دیا: وہ تو منافق ہے ( اس کا کیا نام لینا ) اللہ و رسول سے محبت نہیں کرتا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کر کیا تُو دیکھتا نہیں ہے کہ اس نے (کلمہ) لا الہٰ الا اللہ پڑھا ہے جس سے وہ اللہ کی رضا چاہتا ہے؟ اس آدمی نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے ‘ہم تو اس کا چہرہ (رضا) اور خیر خواہی منافقوں کیلئے خیال کرتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے آگ پر حرام کیا ہے اُس آدمی کو جس نے (دل سے ) اللہ کی رضا کیلئے لا الہ ٰالا اللہ پڑھا۔ رادی محمد فرماتے ہیں: پھر میں نے محمود کی حدیث کے ہارے حضرت حصین بن محمد سے دریافت کیا جو کہ بنو سالم کے ایک فرد تھے تو اُنہوں نے اس کی تصدیق کی۔

مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14760

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14761

54 - حدثنا ورد بن أحمد بن لبيد البيروتي ثنا صفوان بن صللاح ثنا الوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن نمر عن الزهري حدثني محمود بن الربيع وتوفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن خمس سنين وأنه عقل مجة مجها رسول الله صلى الله عليه و سلم في وجها من دلو معلقة في دارهم قال سمعت عتبان بن مالك يحدث Y أنه أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله قد جعل بصري يكل من الأمطار أما كانت ويكون سيل الوادي الذي بين سكني ومسجد قومي فيحول بيني وبين الصلاة فلوددت أنكط يا رسول الله تأتيني فتصلي في بيني نمصلى أتخذه مصلى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نعم ) قال وغدا علي من الغد هو و أبو بكر فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذنت له فما جلس حتى قال : ( أين تحب أن أصلي من بيتك ؟ ) فأشرت إلى ناحية من بيتي فكبر وصففنا خلفه فركع ركعتين ثم سلم

حضرت امام زہری سے مروی ہے کہ حضرت محمود بن . ربیع نے مجھے حدیث بیان کی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کا وصال ہوا تو ان کی عمر صرف پانچ سال تھی لیکن وہ عاقل (سمجھدار) تھے ‘اس تھوک کے صدقے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں ڈالی ‘اس ڈول کے واسطے سے جو ان کے گھر میں لٹکی ہوئی ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘وہ یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے‘ عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہے‘جب بارشیں ہوتی ہیں اور وادی میں سیلاب کی صورت ہوتی ہے جو میری رہائش گاہ اور میری قوم کی مسجد کے درمیان ہے‘ پس وہ میرے اور نماز کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے‘ پس اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ کاش آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تو میں اس جگہ کو اپنے نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (میں ایسا کروں گا)۔ راوی کا بیان ہے: صبح کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے‘ حضرت ابوبکر بھی ساتھ تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مانگی تو میں نے اجازت دی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں حتیٰ کہ فرمایا: تم اپنے گھر میں کس جگہ پسند کرو گے کہ میں وہاں نماز پڑھوں؟ میں نے اپنے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا ‘ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےدورکعت پڑھیں پھر سلام پھیرا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14761

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14762

55 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا العباس بن عثمان المعلم ثنا الوليد بن مسلم ثنا الأوزاعي حدثني ابن شهاب عن محمود بن الربيع الأنصاري قال Y وعقلت مجة مجها رسول الله صلى الله عليه و سلم في وجهي من دلو معلق في دارنا قال محمود : وحدثني عتبان بن مالك قال قلت يا رسول الله إن بصري قد ساء وإن الأمطار إذا اشتدت سالت وسال الوادي بيني وبين الصلاة في مسجد قومي فلو صليت في مسجدي مكانا اتخذه مصلى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نعم ) فغد علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه أبو بكر فاستأذنا فأذنت لهما فما جلس حتى قال : ( أين تحب أن أصلي من منزلك ؟ ) فأشرت له إلى ناحية فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وصففنا خلفه فصلى وحبسنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على خزيرة صنعناها له

حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سمجھدار بنایا اس لعاب نے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے میں ڈالی ‘اس ڈول سے لے کر جو ہمارے گھر میں لگی ہوئی تھی۔

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُعَلِّمُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14762

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14763

56 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصطفى ثنا محمد بن حرب عن الزبيري عن الزهري عن محمود بن الربيع الأنصاري Y وكان يزعم أنه عقل رسول الله وهو ابن خمس سنين وزعم أنه عقل مجة مجها رسول الله صلى الله عليه و سلم في وجهه من دلو معلق في دارهم فقال محمود سمعت عتبان بن مالك وكان رجلا من قبيلته ومن شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حدث أنه أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن بصري قد كل وإن المطار حين يكون يمنعني سيل الواد الذي بين سكني ومسجد قومي فيحول بيني وبين الصلاة فلوددت أنك تأتي فتصلي في بيتي فاتخذه مصلى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نعم ) قال : فغدا رسول الله صلى الله عليه و سلم من الغد هو و أبو بكر الصديق فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذن له فقال : ( اين تحب أن أصلي من بيتك ؟ ) فأشرت إلى ناحية من بيتي فقام فكبر فصففنا وراءه فركع ركعتين ثم سلم

حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا غالب گمان ہے کہ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھا۔ ان کا گمان ہے کہ ان کو عقل آئی اس کُلی کی وجہ سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ڈالی ‘ان کے گھر میں لگی ہوئی ڈول سےلے کر۔

كان يزعم ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← محمد بن مصطفى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14763

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14764

57 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي و بكر بن سهل السمياطي قالا ثنا عبد الله بن صالح حدثني يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة عن عابس الغفاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم Y أنه كان على سطح فرأى الناس يترحلون فقال : ما شأن الناس ؟ قالوا : يترحلون من الطاعون قال : يا طاعون خذني يا طاعون خذني يا طاعون خذني فقال له ابن أخيه يتمنى الموت وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا تمنوا الموت فإنه يقطع العمل ولا يرد الرجل فيستعتب قال : إني أخاف أن يدركني ست سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكرهن ) : ( الجور بالحكم والتهاون في الدماء وإمارة السفهاء وقطيعة الرحم وكثرة الرط وتقديم القوم اللارجل القوم ليس بأفقههم ولا بخيرهم ليغنيهم بالقرآن )

حضرت عابس غفاری صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ چھت پر تھے تو انہوں نے لوگوں کو کوچ کرتے ہوئے دیکھا‘ فرمایا: لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ دوسرے لوگوں نے بتایا کہ وہ طاعون کی وجہ سے کوچ کر رہے ہیں ۔فرمایا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے ‘اے طاعون! مجھے پکڑ لے‘ اے طاعون! مجھے پکڑ لے۔ پس ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: موت کی تمنا کی جا رہی ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کی تمنا مت کرو کیونکہ یہ اعمال کا سلسلہ منقطع کر دیتی ہے ( آدمی اچھے بھلے نیک اعمال کر رہا ہوتا ہے‘ موت آ جائے تو نہیں کر سکتا )اور آدمی کو دوبارہ وہ کرنے کا موقعہ نہیں دیتی ہے؟

عابس الغفاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مطلب بن شعيب الأزدي و بكر بن سهل السمياطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14764

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14765

58 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا زهير ثنا ليث عن عثمان عن زاذان قالك كنت مع عابس الغفاري على ظهر أجار بالبصرة فرأى الناس يتحملون ليهربوا من الطاعون فقال Y يا طاعون خذني إليك يا طاعون خذني إليك يا طاعون خذني إليك فقال ابن عم له قد كانت له صحبة لم يتمنى الموت وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا يتمن أحدكم الموت فيكون عند ذلك انقطاع أجله عم له قد كانت له صحبة لم يتمنى الموت وقد سمعت أو سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتخفهن على أمته : ( بيع الحكم وإمارة السفهاء وكثرة الشرط وقطيعة الرحم واستخفاف بالدم ونشو يتخذون القرآن مزامير يقدمون لارجل بين أيديهم ليس بأفقههم لا يقدمونه إلا ليغنيهم به غناء )

حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ کی معیت میں بصرہ کے اندر دکان کی چھت پر تھا‘ پس انہوں نے لوگوں کو اپنا ساز وسامان اٹھائے ہوئے دیکھا تا کہ وہ طاعون سے بھاگ جائیں‘ آپ نے فرمایا: اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے‘ تین بار کہا۔ ان کے بھتیجے نے جو کہ صحابی رسول تھے‘ عرض کی:کیوں موت کی تمنا کر رہے ہیں؟حالانکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے (اگر وہ ایسا کرے گا )تو اس کی مدت پوری ہوسکتی ہے۔

عُثْمَانَ، ← لَيْثٌ، ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14765

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14766

59 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهويه ثنا أبي ثنا حرير بن عبد الحميد ( ح ) وحدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمود بن زنبور ثنا فضيل بن عياض كلاهما عن ليث بن أبي سليم عن أبي اليقظان عن زاذان عن عابس الغفاري Y قال كنا معه فوق أجار له فمر قوم يتحملون فقال : ما هؤلاء ؟ قيل يفرون من الطاعون فقال : يا طاعون خذني يا طاعون خذني يا طاعون خذني فقال له ابن أخ له وكانت له صحبة تمنى الموت وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا يتمن أحدكم الموت فإن الموت آخر عمل المؤمن لا يردجع فيستعتب ) فقال : يا ابن أخي إني أبادر خلالا سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه و سلم تكن في آخر الزمان يتخوفهن على أمته ( إمارة السفهاء وكثرة الشرط واستخفاف بالدم وقطيعة الرحم ونشوا ينشأ يتخذون القرآن يقدمون الرجل ليس بأفقههم في الدين ولا بأعلمهم وفيهم من هو أفقه منهم وأعلم يقدمونهم يغنيهم غناء )

حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ تھے کہ کچھ لوگ اپنا ساز وسامان اُٹھا کر گزرے ‘انہوں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی گئی : یہ طاعون سے بھاگنے والے ہیں ۔فرمایا: اے طاعون ! مجھے پکڑ لے‘ اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے‘اے طاعون ! مجھے پکڑ لے۔ پس ان کے بھائی کے بیٹے نے ان سے عرض کی جو کہ صحابی تھا: آپ موت کی تمنا کر رہے ہیں حالانکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت مؤمن کا آخری عمل ہے ‘اس کے بعد وہ نہیں لوٹ سکے گا کہ عمل کر کے تھکے۔ فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں اُن باتوں کی جلدی کر رہا ہوں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو آ خری زمانہ میں ہوں گی ‘آپ اپنی اُمت کو ان سے ڈراتے تھے: بیوقوفوں کا امیر بننا‘ پولیس کی کثرت ‘خون کو ہلکا سمجھنا‘قطع تعلقی ‘ایک گروہ جو قرآن کو مزامیر بنا لے گا ( جان بوجھ کر)‘ ایسے آدمی کو امامت کیلئے آگے کریں گے جس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ اور علم رکھنے والے موجود ہوں گے وہ ان سے زیادہ عالم نہ ہوگا ‘نہ زیادہ فقیہ ہو گا‘ صرف اس لیے اُسے آگے کیا جائے گا کہ وہ ان کو اچھے سُر سے قرآن سنائے۔

عابس الغفاري ← زَاذَانَ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← ليث بن أبي سليم ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ کِلَاهُمَا ← مَحْمُودُ بْنُ زُنْبُورٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← حرير بن عبد الحميد ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14766

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14767

60 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا بشر بن آدم ثنا عمرو بن عاصم ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن ليث بن أبي سليم عن عثمان بن عمير عن زاذان قال : كنا مع عابس الغفاري على ظهر أجار فأبصر أناسا يتحملون فقال Y ما شأن هؤلاء ؟ فقال : يفرون من الطاعون قال يا طاعون خذني إليك فقال ابن عم له وكانت له صحبة تمنى الموت وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا يتمنين أحدكم الموت ) قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( بادروا بالأعمال ستا إمارة السفهاء وكثرة الشرط وبيع الحكم واستخفاف بالدم وقطيعة الرحم ونشو يتخذوهن القرآن مزامير يقدمون أحدهم ليغنيهم وإن كان أقلهم فقها )

حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ کی معیت میں ایک دکان کی چھت پر تھے، پس انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ سامان اُٹھا کر کہیں جارہے ہیں ۔ فرمایا: ان کو کیا ہوا ہے؟ اس کے بعد فرمایا: یہ طاعون سے بھاگے جا رہے ہیں ،پھر فرمایا: اے طاعون! آ مجھے پکڑ لے۔ پس ان کے بھتیجے نے ان سے عرض کی جو صحابی ہونے کے درجے پر فائز تھا ،آپ موت کی تمنا کر رہے ہیں حالانکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ چھ چیزیں آنے سے پہلے اعمال کرنے میں جلدی کرو بیوقوفوں کی حکومت، پولیس کی کثرت فیصلے کو بیچنا ( رشوت ستانی )، خون کو ہلکا سمجھنا، رحمی رشتوں سے قطع تعلق ،ایک گروہ جو قر آن کو مزامیر سمجھ لیں گے وہ ایسے آدمی کو آگے ۔ کریں گے جوُسر سے تلاوت کرے گا اگر چہ وہ آدمی ان میں موجود دیگر لوگوں سے کم فقیہ ہو گا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يتمنين أحدكم الموت ← ابن عم له وكانت له صحبة تمنى الموت وقد ← يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ ← يفرون من الطاعون ← ما شأن هؤلاء ← كنا مع عابس الغفاري على ظهر أجار فأبصر أناسا يتحملون ← زَاذَانَ ← عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ← ليث بن أبي سليم ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14767

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14768

61 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا ابن الأصبهاني أنا شريك عن أبي اليقظان عن زاذان عن عليم الكندي عن عابس الغفاري أنه Y رأى قوما يترحلون فقال : ما لهم ؟ قالوا يفرون من الطاعون فقال : يا طاعون خذني إليك فال له ابن عم له أتتمنى الموت قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( تمنوا الموت عند خصال ست عند إمارة السفهاء وبيع الحكم واستخفاف بالدم وكثرة الشرط وقطيعة الرحم ونشو يتخذون القرآن مزامير يقدمون الرجل ليغنيهم وليس بأفقههم ) زاد شريك في الإسناد عليما الكندي

حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قوم کو کوچ کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:ان کو کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: طاعون سے بھاگ رہے ہیں ۔کہنےلگے: اے طاعون! مجھے پکڑ لے۔ان کے بھتیجے ان سے کہا: کیا آپ موت کی تمنا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : چھ باتوں کے وقت موت کی تمنا کرنا: بیوقوفوں کی حکومت ،فیصلے کو بیچنا ،خون کو ہلکا سمجھنا ،شرطوں (پولیس) کی کثرت ،رحمی رشتوں سے قطع تعلق ،کچھ لوگ قرآن کو مزامیر بنالیں گے اور ایسے آدمی کو اپنا امام بنائیں گے جوسُر کے ساتھ پڑھ لے لیکن وہ ان میں سے زیادہ فقیہ نہیں ہوگا (حالانکہ زیادہ فقیہ کو امام بنانے کا حکم ہے )۔ حضرت شریک نے اپنی سند حدیث میں علیم کندی کا اضافہ کیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← يا طاعون خذني إليك فال له ابن عم له أتتمنى الموت ← يفرون من الطاعون ← مَا لَهُمْ ← عابس الغفاري أنه رأى قوما يترحلون ← عَلِيمٍ الْكِنْدِيِّ ← زَاذَانَ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14768

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عابس عابس الغفاري · حديث 14769

62 - حدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا علي بن حشرم ثنا عيسى بن يونس عن موسى الجهني عن زاذان عن عابس الغفاري قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتخوف على أمته ست خصال : ( أمرة الصبيان وكثرة الشرط والرشوة في الحكم وقطيعة الرحم واستخفاف بالدم ونشو يتخذون القرآن مزامير يقدمون الرجل ليس بأفقههم ولا أفضلهم يغنيهم غناء )

حضرت عابس الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا: مجھے اپنی اُمت پر کچھ چیزوں کا خوف ہے: (۱) بچوں کی حکومت (۲) شرطوں کا کثرت سے ہونا (۳) رشوت لی جائےگی (۴) صلہ رحمی نہیں ہوگی(۵) قتل عام ہوگا(۷) قرآن مزامیر پر پڑھیں گے، ایسے آدمی کو امام بنائیں گے جو ان میں سے زیادہ فقیہ اورفضیلت والا نہیں ہوگا، بس سُر سے پڑھ سکتا ہوگا ۔

عابس الغفاري ← زَاذَانَ ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ حُشْرَمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14769

chevron_left Previous
1…567…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter