Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمران بن تيم أبو رجاء العطاردي مخضرم · حديث 15322

614 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا حشرج بن نباتة ثنا أبو نصيرة حدثنا أبو رجاء العطاردي قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى دخل حائطا لبعض الأنصار وإذا هو يسنو فيه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما تجعل لي إذا رويت حائطك هذا ؟ ) قال : إني أجهد أن أرويه فما أطيق ذلك قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( تجعل لي مائة تمرة أختارها من تمرك ) قال : نعم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الغرب فما لبث أن رواه حتى قال الرجل غرقت علي حائطي فأختار رسول الله صلى الله عليه و سلم من تمرة مائة تمرة فأكل هو وأصحابه حتى شبعوا ثم رد عليه مائة تمرة كما أخذها منه

حضرت ابورجاء عطاردی فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر ایک باغ میں داخل ہوئے جو ایک انصاری کا تھا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم میرے لیے کیا حصہ بناؤ گے جب میں تمہارے اس باغ کو سیراب کروں؟ اس نے کہا: میں تو اسے سیراب کرنے سے تھک چکا ہوں ‘ اب مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ سو کھجوریں دو گے جو تیرے باغ سے مجھے پسند ہوں؟ اس نے کہا: ہاں! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول اٹھایا‘ پس باغ سیراب کر تے ہوئے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ اس آدمی نے کہا: میرا باغ تو ڈوب گیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کھجوروں میں سے سو پسند کر لیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے کھائیں یہاں تک کہ سیر ہو گئے ‘ پھر اسے سو کھجوریں لوٹا دیں جیسے اس سے لی تھیں ۔

أبو رجاء العطاردي ← أبو نصيرة ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15322

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عرباض بن سارية السلمي يكن أبا نجيح · حديث 15323

615 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن أبي الفيض قال : شهدت معاوية وأعطى المقداد بن الأسود حمارا Y فقام رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يقال له العرباض بن سارية فقال : مالك أن تأخذه ؟ وما لمعاوية أن يعطيك ؟ كأني أنظر إليك يوم القيامة تحمله على عنقك رأسه أسفله

حضرت ابوالفیض سے مروی ہے ‘ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ کو دیکھا اور انہوں نے حضرت مقداد بن اسود کو ایک گدھا دیا ‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام حضرت عرباض بن ساریہ تھا ‘ فرمایا: تم یہ کیوں لے رہے ہو ( کیا تم محتاج ہو؟) اور حضرت معاویہ تمہیں کیوں دے رہے ہیں (حالانکہ آپ حقدار نہیں ) گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لاؤ گے اور اس کا سر نیچے کی طرف ہوگا۔

أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15323

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عرباض بن سارية السلمي يكن أبا نجيح · حديث 15324

616 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح أنا سعيد بن عفير قال : وح \ ثني وهب عن سعيد بن مقلاص عن سعد بن إبراهيم عن عروة بن رويم عن العرباض بن سارية Y وكان شيخا كبيرا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان يحب أن يقبض إليه كان يدعو : اللهم كبرت سني ووهن عظمي فاقبضني إليك قال فبينا أنا يوما في مسجد دمشق إذا فتى شاب من أجمل الرجا لوعليه دواح أخضر فقال : ما هذا الذي تدعو به ؟ فقلت كيف أدعو يا ابن أخي ؟ قال : قل اللهم أحسن العمل وبلغ الأجل قلت من أنت يرحمك الله ؟ قال : أنا ريبائيل الذي يسل الحزن من قلوب المؤمنين

حضرت عروہ بن رویم سے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے بارے روایت ہے ‘ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھے اور عمر زیادہ ہوگئی تھی ‘ وہ پسند کرتے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی جائے ‘ وہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میری عمر بڑی ہوگئی ‘ میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں ‘ میری روح قبض کر لے۔ راوی کا بیان ہے: اسی دوران کہ میں ایک دن دمشق کی مسجد میں تھا جب خوبصورت لوگوں میں سے ایک جوان آدمی پر نگاہ پڑی ‘ اس نے کہا: یہ آپ کیسی دعا کرتے ہیں؟ کہا: تم یہ دعا کیا کرو: اے اللہ! میرے اعمال خوبصورت بنا اور اپنی انتہائی عمر کو (اسی حال میں ) پہنچا۔ میں نے عرض کی : آپ کون ہیں؟ اللہ آپ پر رحم کرے! اس نے جواب دیا: میں حضرت ریبائیل ہوں ‘ مسلمانوں کے دلوں سے غم کو کم کرنا میری ڈیوٹی ہے ۔

عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سعيد بن مقلاص ← وَھْبٍ ← وح ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← أبو الزنباع روح بن الفرح

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15324

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند العرباض بن سارية عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية · حديث 15325

617 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عاصم عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن عمرو السمي عن العرباض بن سارية السلمي قال Y وعظنا رسول الله صلى الله عليه و سلم موعظة ذرفت منها الأعين ووجلت منها القلوب قلنا : يا رسول الله هذه موعظة مودع فأوصنا قال : ( أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن كان عبدا حبشيا فإنه من يعش بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء بعدي الراشدين المهديين وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس سے دل ( ڈر گئے ) جوش میں آ گئے ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ ساعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا ‘ نئے نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر وہ چیز جو سنت کے مخالف ہوگی وہ بدعت و گمراہی شمار ہوگی۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← عبد الرحمن بن عمرو السمي ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15325

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند العرباض بن سارية عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية · حديث 15326

618 - حدثنا موسى بن المنذر الحمصي ثنا حيوة بن شريح ( ح ) وحدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا عمرو بن عثمان ثنا بقية بحير بن سعد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعظم يوما موعظة بعد صلاة الغداة فذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال رجل يا رسول الله إن هذه موعظة مودع فما تعهد إلينا ؟ قال : ( أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن عبدا حبشيا فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فإياكم ومحدثات الأمور فإنها ضلالة وعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي عضوا عليها بالنواجذ )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن صبح کی نماز کے بعد ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس سے دل ( ڈر گئے ) جوش میں آ گئے ‘ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ ساعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا ‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بقية بحير بن سعد ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← موسى بن المنذر الحمصي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15326

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند العرباض بن سارية عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية · حديث 15327

619 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح قالا : ثنا معاوية بن صالح عن ضمرة بن حبيب عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي أنه سمع عرباض بن سارية السلمي يقول Y وعظنا رسول الله صلى الله عليه و سلم موعظة ذرفت منه الأعين ووجلت منه القلوب قلنا : يا رسول الله هذه موعظة مودع فما تعهد إلينا ؟ قال : ( لقد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيع عنها بعدي إلا هالك ومن يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بما عرفتم من سنتي وسنة الخلفاء الراشدين وعليكم بالطاعة وأن عبدا حبشيا عضوا عليها بالنواجذ فإنما المؤمن كالجمل الأنف حيثما قيد انقاد )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس سے دل ( ڈر گئے ) جوش میں آ گئے ‘ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ ساعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا ‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا ‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا ‘ مومن نکیل والے اونٹ کی مانند ہے جدھر اسے مہار پکڑ کر چلاؤ ادھر ہی چل پڑتا ہے۔

عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ السُّلَمِيَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند العرباض بن سارية عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية · حديث 15328

620 - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن لعلاسء الحمصي حدثني جدي إبراهيم بن العلاء و محمد بن إبراهيم قالا : ثنا بقية بن الوليد عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية قال Y صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الفجر فذكر نحوه

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ‘ پھر اس کے بعد اس جیسی حدیث بیان کی ۔

نَحْوَهُ ← صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الفجر ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← جدي إبراهيم بن العلاء و محمد بن إبراهيم ← عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن لعلاسء الحمصي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15328

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند العرباض بن سارية عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية · حديث 15329

621 - حدثنا مصعب بن إبراهيم بن حمزة الزبيري حدثني أبي ثنا عبد العزيز بن أبي حازم ثنا يزيد بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن خالد بن معدان عن عمه عن العرباض بن سارية وكان عرباض رجلا Y من بني سليم قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فوعظ الناس ورغبهم وحذرهم وقال ما شاء الله أن الله أن يكون وقال : ( اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وأطيعوا من ولاه الله أمركم ولا تنازعوا الأمر أهله وإن كان عبدا أسود وعليكم بما تعرفون من سنة نبيكم والخلفاء الراشدين المهديين وعضوا عليها بالنواجذ )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا تعلق بنو سلیم قبیلے سے تھا ‘ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ‘ لوگوں کو وعظ فرمایا ‘ ان کو رغبت دلائی اور ڈرایا بھی اور فرمایا: جو اللہ چا ہے وہی ہوتا ہے اور فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ اطاعت کرو اس کی جس کو اللہ نے تمہارے امر کا والی بنایا ہے ‘ اس کے اہل لوگوں سے جھگڑانہ کرو‘ اگرچہ وہ سیاہ غلام ہو ‘ تم پرعمل کرنا لازم ہے ‘ جو تم اپنے نبی کی سنت جانتے ہو اور خلفاے راشدین کی سنت پر عمل کرنا ‘ اس کو مضبوطی سے پکڑنا ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ وَكَانَ عِرْبَاضٌ رَجُلاً مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← عَمِّہٖ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يحيى بن أبي المطاع عن العرباض بن سارية · حديث 15330

622 - حدثنا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي ثنا إبراهيم بن عبد الله بن العلاء بن زبر حدثني أبي عن يحيى بن أبي المطاع عن العرباض بن سارية السلمي قال Y قال فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات غداة فوعظنا موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منه العيون فقلنا يا رسول الله إنك وعظتنا موعظة مودع فأعهد إلينا فقال : ( عليكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن كان عبدا حبشيا فسيرى من بقي بعدي اختلافا شديدا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشد \ ين وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم والمحدثات فإن كل محدثة ضلالة )

حضرت عرباض بن سار یہ سلمی فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ دل جوش میں آ گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں ‘ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ ساعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر چہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا ‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا ‘ نئے نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر وہ چیز جو سنت کے مخالف ہوگی وہ بدعت و گمراہی شمار ہوگی ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← يحيى بن أبي المطاع ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ← أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15330

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ المهاصر بن حبيب عن العرباض · حديث 15331

623 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو ثنا أبو اليمان ثنا إسماعيل بن عياش عن أرطأة بن المنذر عن مهاصر بن حبيب عن العرباض بن سارية قال Y وعظنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ص2لاة الغداة موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال رجل من أصحابه : يا رسول الله أإن هذه موعظة مودع فقال : ( أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن كان عبدا حبشيا فإن من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا فإياكم ومحدثات الأمور فإنها بدعة فمن أدرك ذلك منكم فعليه بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس سے دل ( ڈر گئے ) جوش میں آ گئے ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ سماعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر چہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا ‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← مُهَاصِرِ بْنِ حَبِيبٍ ← أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15331

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الرحمن بن أبي بلال الخزاعي عن العرباض بن سارية · حديث 15332

624 - حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة الدمشقي ثنا حيوة بن شريح الحمصي ثنا بقية عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن أبي بلال عن العرباض بن سارية قال Y وعظنا رسول الله صلى الله عليه و سلم موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منها الأعين فقلنا يا رسول الله كنها موعظة مودع فأعهخد إلينا فقال : ( عليكم بتقوى الله والسمع والطغاعة وإن كان عبدا حبشيا فمن يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثنات اللأمور وكل محدثة ضلالة )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھوں سے آنسو آ گئے اور اس سے دل ( ڈر گئے ) جوش میں آ گئے ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ وعظ تو الوداعی معلوم ہوتی ہے ‘ پس ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔ فرمایا: میں تمہیں تقوی ٰ‘ سماعت اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر چہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ‘ پس جو میرے بعد زندہ رہا ‘ پس وہ اختلاف دیکھے گا ‘ پس تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلیفوں کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے ‘ ان کو مضبوطی سے تھامنا ‘ نئے نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر وہ چیز جو سنت کے مخالف ہو گی وہ بدعت و گمراہی شمار ہو گی ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عبد الرحمن بن أبي بلال ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15332

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الرحمن بن أبي بلال الخزاعي عن العرباض بن سارية · حديث 15333

625 - حدثنا موسى بن عيسى بن المنذر الحمصي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا أحمد بن داود المكي و الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر ( ح ) وحدثنا محمد بن زريق بن جامع المصري ثنا عبدة بن عبد الحيم المروزي ثقالوا : ثنا بقية بن الوليد عن يحيى بن سعيد عن خالد بن معدان عن ابن أبي بلال عن العرباض بن سارية أنه حدثهم Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقرأ المسبحات قبل أن يرقد وقالك ( إن فيهن آية أفضل من ألف آية )

حضرت ابن ابو بلال سے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے بارے مروی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو حدیث سنائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسبحات ( تسبیح والی سورتیں) کی سونے سے پہلے تلاوت فرمایا کرتے تھے ‘ اور فرماتے: بے شک ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں پر فضیلت رکھتی ہے ۔

العرباض بن سارية أنه ← ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عبدة بن عبد الحيم المروزي ثقالوا ← وحدثنا محمد بن زريق بن جامع المصري ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← وحدثنا أحمد بن داود المكي و الحسين بن إسحاق التستري ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15333

chevron_left Previous
1…52535455
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter