المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عمران بن تيم أبو رجاء العطاردي مخضرم · حديث 15322
614 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا حشرج بن نباتة ثنا أبو نصيرة حدثنا أبو رجاء العطاردي قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى دخل حائطا لبعض الأنصار وإذا هو يسنو فيه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما تجعل لي إذا رويت حائطك هذا ؟ ) قال : إني أجهد أن أرويه فما أطيق ذلك قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( تجعل لي مائة تمرة أختارها من تمرك ) قال : نعم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الغرب فما لبث أن رواه حتى قال الرجل غرقت علي حائطي فأختار رسول الله صلى الله عليه و سلم من تمرة مائة تمرة فأكل هو وأصحابه حتى شبعوا ثم رد عليه مائة تمرة كما أخذها منه
حضرت ابورجاء عطاردی فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر ایک باغ میں داخل ہوئے جو ایک انصاری کا تھا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم میرے لیے کیا حصہ بناؤ گے جب میں تمہارے اس باغ کو سیراب کروں؟ اس نے کہا: میں تو اسے سیراب کرنے سے تھک چکا ہوں ‘ اب مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ سو کھجوریں دو گے جو تیرے باغ سے مجھے پسند ہوں؟ اس نے کہا: ہاں! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول اٹھایا‘ پس باغ سیراب کر تے ہوئے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ اس آدمی نے کہا: میرا باغ تو ڈوب گیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کھجوروں میں سے سو پسند کر لیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے کھائیں یہاں تک کہ سیر ہو گئے ‘ پھر اسے سو کھجوریں لوٹا دیں جیسے اس سے لی تھیں ۔
أبو رجاء العطاردي ← أبو نصيرة ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15322
