Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عكاشة عكاشة بن محصن الأسدي بدري نسبته · حديث 14746

39 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن ابي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( عرضت علي الأمم فجعل النبي والنبيين يمر معهم الرهط الحديث )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر اُمتیں پیش کی گئیں‘ پس نبی کو نبیوں کے ساتھ مقرر کیا ‘ان کے ساتھ ایک نیا گروہ گزر رہا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حُصَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 14746

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عكاشة عكاشة بن محصن الأسدي بدري نسبته · حديث 14747

40 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن عبد الله الرقاشي ثنا يزيد بن زريع عن محمد بن إسحاق حدثني أبو عبيد ة بن عبد الله رمعة عن أم قيس بنت محصن قالت Y خرج من عنذ ي عكاشة بن محصن في نفر من بني أسد عليهم قمصهم فلما صليت المغرب رجعوا وقمصهم على أيديهم يحملونها فقلت أي عكاشة امس رحتم متقمصين ورجعتم وقمصكم على أيديكم قالوا يا أم قيس إن هذا يوم رخص لنا إذا نحن رمينا الجمرة أن نحل مما يحل منه الحلال إلا النساء فإذا أمسينا ولم نقض صرنا حرما كهيئتنا قبل أن نرمي فخرجنا من عندك متقمصين فلما أمسينا ولم نقص رجعنا وقمصنا على أيدينا كما رأيت

حضرت اُم قیس بنت محصن رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ حضرت عکاشہ میرے پاس سے بنواسد کے ایک گروہ میں نکلے ‘ان پر ان کی قمیضیں تھیں‘پس جب میں نے مغرب کی نماز پڑھی تو وہ واپس آئے جبکہ ان کی قمیضیں ۔ ان کے ہاتھوں میں تھیں جن کو وہ اُٹھائے ہوئے تھے۔ پس میں نے کہا: اے عکاشہ! پہلے تم قمیضیں پہن کر گئے اور جب واپس آئے تو تمہاری قمیضیں تمہارے ہاتھوں میں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اے اُم قیس! بے شک یہ ایک ایسا دن ہے کہ ہمیں رخصت دی گئی ہے ‘جب ہم نے جمرہ پر رمی کر لی تو ہمارے لیے وہ چیز میں حلال ہوگئیں جو ایک غیر محرم کیلئے حلال ہوتی ہیں سوائے عورتوں کے۔ پس جب ہم نے شام کر لی لیکن اس کو پورا نہ کیا تو ہم احرام والے ہو جائیں گے۔ جس طرح رمی کرنے سے پہلے حالت میں تھے۔پس ہم تیرے پاس سے نکلے تو ہم نے قمیض پہن رکھی تھی ۔ پس جب ہم نے شام کر لی لیکن ان احکام کو پورا نہ کیا تو ہم اس حال میں واپس آئے کہ ہماری قمیضیں ہمارے ہاتھوں میں تھیں جیسے آپ نے دیکھا۔

أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← أبو عبيد ة بن عبد الله رمعة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 14747

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عتبان عتبان بن مالك الأنصاري ثم الخزرجي بدري · حديث 14748

41 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة في تسمية من شهد بدرا من الأنصار Y ثم من بني سالم بن عوف بن الخزرج ثم من بني العجلان بن زيد بن غانم بن سالم عتبان بن مالك بن عمرو بن عجلان بن زيد بن غنم بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن الخزرج

حضرت عروہ فرماتے ہیں: انصار اور بنی عالم بن عوف بن خزرج اور بنی عجلان بن زید بن غانم بن سالم سے جو بدر میں شریک ہوئے‘ اُن کے ناموں میں سے ایک نام عتبان بن مالک بن عمرو بن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن الخزرج کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 14748

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عتبان عتبان بن مالك الأنصاري ثم الخزرجي بدري · حديث 14749

42 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من شهد بد النبي صلى الله عليه و سلم را من الأنصار ثم من بني عوف بن الخزرج عتبان بن مالك بن عمرو بن عجلان

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی عون بن خزرج میں سے جو بدر میں شریک ہوئے ان کے ناموں میں سے ایک نام عتبان بن مالک بن عمرو بن عجلان کا بھی ہے۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 14749

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14750

43 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا شيبان بن فروخ ثنا سليمان بن المغيرة ثنا ثابت البناني عن أنس بن مالك حدثني محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك قال Y أصابني في بصري بعض الشيء فبعثت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أني أحب أن تأتيني تصلي في منزلي فاتخذه مصلى فأتاني النبي صلى الله عليه و سلم ومن شاء الله من أصحابه فدخل عليه وهو يصلي في منزلي وأصحابه يتحدثون بينهم ويتذاكرون المنافقين ثم أسندوا عظم ذلك وكبره إلى مالك بن الدخشم ودوا أنه دعا عليه فهلك ودوا أنه أصابه شر فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : ( أليس يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ ) قالوا : إنه يقول ذاك وما هو في قلبه قال : ( لا يشهد أحد أنه لا إله إلا الله وأني رسول الله فيدخل النار أو يطعمه النار )

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھ میں کوئی چیز لگی ( اور آنکھ چلی گئی) میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آدمی بھیجا کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ آ کر میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تا کہ میں اُس جگہ کو میں اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بھی جن کو اللہ نے چاہا(وہ آئے)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور آپ میرے گھر میں نماز پڑھنے لگے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپس میں باتیں کر رہے تھے اور منافقین کا تذکرہ کر رہے تھے۔ پھر انہوں نے اس کے بڑا ہونے کو مالک بن دخشم کی طرف منسوب کر کے اس بات کی خواہش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خلاف دعا کریں اور وہ ہلاک ہو جائے اور انہوں نے یہ بھی پسند کیا کہ اسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل فرما کر فرمایا: کیا وہ گواہی نہیں دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا سچا رسول ہوں؟ صحابہ نے عرض کی: وہ زبان سے کہتا ہے لیکن اس کے دل میں نہیں ہے۔ فرمایا: ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی اللہ کے سچا معبود ہونے اور میرے سچا رسول ہونے کی گواہی دے اور جہنم میں داخل ہو‘یا ( فرمایا: ) اسے جہنم کھائے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 14750

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14751

44 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا محمد بن بكير الحضرمي ثنا عامر بن يساف عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن النضر بن أنس عن أنس قال Y لما أصيب عتبان بن مالك في بصره بعث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أحب أن تأتيني فتصلي في بيتي وتدعو لنا بالبركة فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم في نفر من أصحابه فدلوا عليه فتحدثوا بينهم فذكروا مالك بن الدخشم فقال بعضهم يا رسول الله ذاك كهف المنافقين وماواهم فأكثروا فيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أو ليس يصلي ) قالوا : نعم يا رسول الله صلاة لا خير فيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نهيت عن ( قتل ) المصلين ) مرتين

حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی آنکھ مصیبت کا شکار ہوئی تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آدمی بھیجا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں‘میرے گھر میں نماز پڑھیں اور ہمارے لیے برکت کی دعا کریں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے جبکہ صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پس سب ان کے پاس گئے اور آپس میں ایک دوسرے کے درمیان باتوں کا ( حدیثوں کا )تبادلہ کیا۔ پس انہوں نے مالک بن دخشم کا تذکرہ بھی کیا۔ ان میں سے کسی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ منافقوں کی نماز اور ان کی پناہ گاہ ہے ۔ پس لوگوں نے اس میں خوب مبالغہ کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ( یہاں) نماز نہیں پڑھی جاتی ہے؟ انہوں نے عرض کی : ہاں! اے اللہ کے رسول! ایسی نماز پڑھی جاتی ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا: مجھے نمازیوں کوقتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Hadith 14751

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14752

45 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عازم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد ثنا علي بن زيد قال Y كنا عند أنس بن مالك فقال لابنه أبي بكر حدثهم حديث عتبان بن مالك الأنصاري فحدثنا أبو بكر و أنس شاهد فقال : خرجت مع أبي إلى الشام فلما أقبل من الشام مشى معنا محمود بن الربيع الأنصاري فشيعنا حتى إذا أراد أن يفارقنا قال : ألا أحدثكم بحديث عتبان بن مالك ؟ قلنا بلى قال : فإنه حدثني نه ذهب بصره على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله فلوا أتيت منزلي فبوأت لي فيه مسجدا وصليت فيه فاتخذه مسدجدا وأن بصري قد ذهب وضعفت عن الخروج إلى المسجد فوعده رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما يأتيه فيه فلما كان ذلك اليوم حشك له أصحابه فأجتمعوا في منزلي فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فسمعهم بتذاكرون أشد أهل المدينة على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ( وأعظمهم ) له عداوة فردوا ذلك إلى مالك بن الدخشم فسألهم النبي صلى الله عليه و سلم : ( ما يتذاكرون قال : ( أليس يشهد أن لا إله إلا الله وإني رسول الله ؟ قالوا : يا رسول الله إنه صاحب قال : ( أليس يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله ؟ ) قالوا : بلى قال : ( والذي نفسي بيده ( لئن كان ) يقولها صادقا من قلبه لا تأكله النار أبدا ) فقال لي أنس : احفظ هذا الحديث فإنه من كنوز العلم فلما أتينا المدينة وجدنا عتبان بن مالك حيا فقلت لأبي هل لك في عتبان تسأله عن الحديث الذي حدثناه محمود عنه ؟ فانطلقنا فسألناه عنه فحدثنا

حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد گرامی کے ساتھ شام گیا‘ پس جب وہ شام سے لوٹے تو ہمارے ساتھ حضرت محمود بن ربیع انصاری چلے ‘پس انہوں نے ہمیں الوداع کیا حتیٰ کہ جب ہم سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا: کیا میں تمہیں حضرت عتبان بن مالک والی حدیث نہ سناؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! فرمایا: انہوں نے خود میرے سامنے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کی آنکھیں ضائع ہوگئی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پس اگر آپ میرے گھر تشریف لا کر اس میں میرے لیے سجدہ گاہ مقرر کر دیں اور اس میں نماز ادا فرمائیں تو میں اُسے اپنی سجدہ گاہ ( جائے نماز ) بنالوں ‘میری آنکھیں چلی گئی ہیں اور میں مسجد نبوی تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمالیا کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں ضرور تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی آپ کی خاطرجمع ہو گئے ‘پس وہ سارے میرے گھر میں اکٹھے ہو گئے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی باتوں کو سماعت فرمایا ‘وہ اس آدمی کا ذکر کر رہے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا سخت اور بڑا دشمن ہے۔ پس وہ بات کو گھما کر مالک بن دخشم کی طرف لائے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: وہ کس بات کا ذکر کر رہے ہیں؟ فرمایا: کیا وہ آدمی گواہی نہیں دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا سچا رسول ہوں؟ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں! فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر وہ سچے دل سے یہ کہتا ہے کہ دوزخ کی آگ اسے کبھی بھی نہیں کھائے گی۔ پس حضرت انس نے مجھ سے کہا: اس حدیث کو اچھی طرح یاد کر لے کیونکہ علم کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ پس جب ہم مدینہ منورہ آئے تو ہم نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو زندہ پایا ‘پس میں نے اپنے والد سے عرض کی : جو حدیث محمود نے ہمیں عتبان کے بارے سنائی ہے ‘کیا اب وہ ان سے نہ پوچھیں! پس ہم نے جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے ہمیں وہی حدیث سنائی۔

أبو بكر و أنس شاهد ← حديث عتبان بن مالك الأنصاري ← لابنه أبي بكر ← كُنَّا عنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَازِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 14752

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14753

46 - حدثنا عبد الله بن علي الجارودي النيسابوري ثنا أحمد بن حفص حدثني أي ثنا إبراهيم بن طهمان عن الحجاج بن الحجاج عن قتادة عن أبي بكر بن أنس عن محمود قال Y ان عتبان بن مالك أصيب بصره في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني لا أستطيع أن أصلي معك في مسجدك وإني أحب أن تصلي معي في مسجدي فائتم بصلاتك فأتاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا مالك بن الدخشم فقالوا ذاك كهف المنافقين وملجؤهم الذي يلجأون إليه ومعقلهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أليس يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله ؟ ) قالوا : بلى ولا خير في شهادته فقال : ( لا يشهدها عبد صادق من قلبه فيموت إلا حرمه الله على النار )

حضرت محمود فرماتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی آنکھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مصیبت زدہ ہوگئی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اس چیز کی طاقت نہیں رکھتا ہوں کہ آپ کی مسجد میں آپ کے ساتھ نماز ادا کروں ۔ ہاں! اب میں اس کوپسند کرتا ہوں کہ آپ ( کم ازکم ایک بار ) میرے ساتھ میری مسجد میں نماز ادا فرمائیں۔ پس میں آپ کی نماز میں آپ کا مقتدی بنوں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔صحابہ کرام نے مالک بن دخشم کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا: یہ تو منافقوں کی نماز اور ان کا ایسا ٹھکانہ ہے جس میں آ کر وہ پناہ لیتے ہیں اور ان کے شہر نے کی جگہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ گواہی نہیں دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں؟ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں! لیکن اس کی گواہی میں بھلائی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ سچے دل سے اس کی گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد (اسی پر ) مر جا تا ہے تو اس پر اللہ نے دوزخ حرام فرمائی ہے۔

مَحْمُودٌ، ← أبي بكر بن أنس ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ

Hadith 14753

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14754

47 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري حدثني محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت إني قد أنكرت بصري وأن السيول تحول بيني وبين مسجد قومي ولوددت أنك جئت فصليت في بيتي مكانا أتخذه مسجدا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أفعل إن شاء الله ) فمر النبي صلى الله عليه و سلم على أبي بكر فاستتبعه فانطلق معه فاستأذن فدخل فقال وهو قائم : ( أين تريد أن أصلي ؟ ) فاشرت إليه حيث أريد قال : ثم حبسناه على خزيرة ضعناها له فسمع به أهل الوادي يعني أهل الدار فثابوا إليه حتى امتلأ البيت فقال رجل أين مالك بن الدخشن أو ابن الدخيش ؟ فققال رجل : ذلك رجل منافق لا يحب الله ولا رسوله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا تقوله وهو يقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله ) فقال : يا رسول الله أما نحن فنرى وجهه وحديثه في المنافقين فقال النبي صلى الله عليه و سلم أيضا : ( لا تقوله وهو يقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله ) قالوا : بلى يا رسول الله قال : ( فلن يوافي يوم القيامة يقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله إلا حرمه الله على النار ) قال محمود : فحدثت بهذا الحديث نفرا فيهم أبو أيوب الأنصاري فقال : ما أظن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ما قلت : فآليت أن رجعت إلى عتبان بن مالك أن أسأله فرجعت إليه فوجدته شيخا كبيرا قد ذهب بصره وهو إمام قومه فجلست إلى جنبه فسألته عن هذا الحديث فحدثنيه كما حدث به أول مرة قال معمر : كان الزهري إذا حدث بهذا الحديث قال : ثم نزلت بعد ذلك فرائض وأمور نرى أن الأمر انتهى إليها فمن استطاع أن لا يغير فلا يغير

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ‘میں نے عرض کی: میری بینائی جواب دے گئی ہے جبکہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان کئی سیلاب حائل ہیں‘ میری خواہش ہے کہ اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرما دیں تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر پر سے گزرے تو میں بھی پیچھے ہولیا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا تو میں نے اجازت مانگی ‘آپ نے کرم نوازی فرمائی‘تشریف لائے‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا:تُو کہاں چاہتا ہے کہ میں نماز پڑھوں؟ جہاں میں چاہتا تھا اس طرف میں نے اشارہ کیا۔ راوی کا بیان ہے: پھر ہم نے آپ کو کھانے (قیمہ اور آٹے کا حلوہ) پر روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کر رکھا تھا ‘اتنے میں وادی یعنی گھر والوں کو پتہ چل گیا‘وہ اُلٹ پڑے یہاں تک کہ گھر بھر گیا‘ پس ایک آدمی نے کہا: مالک بن دُخشن یا دخیش کا بیٹا کہاں ہے؟ تو دوسرے نے کہا: وہ تو منافق آدمی ہے نہ اللہ سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی بات نہ کہو ‘وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ ‘اللہ کی رضا چاہتے ہوئے پڑھتا ہے۔اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! لیکن ہم اس کی رضامندی اور بات چیت منافقین میں دیکھتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات مت کہو کیونکہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر لا الہٰ الا اللہ پڑھتا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول ! فرمایا: ہرگز پورانہیں ہو گا قیامت کے دن (اس کا اجر جو ) کہتا ہو گا: لا الہٰ الا اللہ ‘اللہ کی رضا کیلئے مگر اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو گی ۔ راوی حدیث حضرت محمود فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسے گروہ میں بیان کی جس میں حضرت ابوایوب بھی تھے۔ فرمایا: میرا گمان نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرمایا ہو جو تُو نے کہا ہے۔ پس میں نے قسم کھائی کہ میں حضرت عتبان بن مالک کی طرف لوٹوں گا تو ان سے پوچھوں گا ۔ پس میں ان کی طرف واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں ‘ان کی بینائی چلی گئی ہے ‘وہ اپنی قوم کے پیشوا ہیں۔ پس میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا‘ میں نے ان سے حدیث کے متعلق پوچھا ‘پس انہوں نے میرے سامنے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح پہلی بار بیان فرمائی تھی۔ حضرت معمر کا قول ہے: حضرت امام زہری نے جب یہ حدیث بیان کی تھی تو فرمایا: پھر اس کے بعد کئی فرائض اور احکام نازل ہوئے۔ہمارا خیال ہے کہ امر کی انتہاء یہاں پر ہوئی کہ جو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ نہ بدلے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 14754

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14755

48 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا القعنبي ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( حرم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله )

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن پر جہنم حرام کر دی گئی ہے جو لا الہٰ الا اللہ ‘اللہ کی رضا کے لیے پڑھتے ہیں ۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Hadith 14755

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14756

49 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن ابن شهاب عن محمود بن الربيع أن Y عتبان بن مالك كان يؤم قومه وهو أعمى وأنه قال يا رسول الله إنها تكون الظلمة والمطر والسيل وأنا رجل ضرير البصر فصل يا رسول الله في بيتي مكانا اتخذه مصلى فجاءه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( اين تحب أن أصلي بكم ؟ ) فأشار له إلى ناحية من البيت فصلى فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت محمود بن ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ قوم کی امامت کرواتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے ‘عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کبھی اندھیرا ‘کبھی بارش اور کبھی سیلاب ہوتا ہے جبکہ میں نابینا ہوں۔ پس آپ میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیں جس کو میں مصلّٰی ( نماز کی جگہ ) بنا لوں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے‘فرمایا: کہاں تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں؟پس انہوں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ‘پس اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Hadith 14756

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عتبان بن مالك · حديث 14757

50 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح أنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أن محود بن الربيع الأنصاري حدثه أن عتبان بن مالك Y وهو من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ممن شهد بدرا من الأنصار حدثه أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني قد أنكرت بصري وأنا أصلي لقومي وإذا كانت الأمطار سالت الوادي الذي بيني وبينهم ولم أستطع أن آتي مسجدهم فأصلي لهم ووددت يا رسول الله أنك تأتيني فتصلي في مصلى اتخذه مصلى فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( سأفعل إن شاء الله ) قال عتبان : فغذا رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر حين ارتفع النهار فاستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذنت له فلم يجلس حتى دخل البيت ثم قال : ( أين تحب أن أصلي من بيتك ؟ ) فأشرت إلى ناحية من البيت فقام فكبر فقمنا وراءه فصلى ركعتين ثم سلم وحبسناه على خزيرة صنعناها فنال رجال من أهل الدار حولنا حتى اجتمع في البيت رجال ذو عدد فقال قائل منهم أين مالك بن الدخشن ؟ فقال بعضهم ذاك منافق لا يحب الله ورسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا تفعل إلا تراه قد قال لا إله إلا الله يريد بذلك وجهه اله ؟ ) فقالوا الله ورسوله أعلم قال : فإنما وجهه ونصحته للمنافقين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( فإن الله قد حرم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله عز و جل ) قال ابن شهاب ثم سألت الحصين بن محمد الأنصاري وهو أحد بني سالم عن حديث محمود بن الربيع فصدقه بذلك قال أحمد بن صالح : أو تقولون الدخشم ؟ وهو الصواب

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت محمود بن ربیع انصاری نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت عتبان بن مالک کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھا۔ وہ ان حضرات میں سے تھے جو بدر میں حاضر ہوئے‘انصاری تھے۔ انہوں نے حدیث بیان کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بینائی کمزور ہوگئی ہے‘میں اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتا ہوں، لیکن جب بارشیں ہوتی ہیں تو وادی میں سیلاب آ جا تا ہے‘ جو میرے اور ان کے درمیان ہے‘ اس وقت ان کی مسجد میں آنا میری طاقت سے باہر ہوتا ہے کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر آ کر نماز ادا فرما دیں جسے میں مصلّی بنا لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ! میں ایسا کروں گا۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صبح کے وقت چلے جب سورج بلند ہو چکا تھا‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیار ہوا میں نے عرض کی: تیار ہوں ۔ پس آپ تشریف لائے‘ بیٹھنے سے پہلے ہی کمرے میں داخل ہوئے‘ پھر فرمایا: تُو کہاں پسند کرتا ہے کہ میں تیرے گھر کے اس حصے میں نماز پڑھوں۔ پس میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوئے‘ اللہ اکبر کہا تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے‘ پس آپ نے دو رکعت ادا فرمائیں پھر سلام پھیر دیا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیمے اور آٹے کے حلوے کے بہانے روک لیا جو ہم نے تیار کیا ہوا تھا۔ پس اہل دار کے کچھ لوگوں کو پتہ چل گیا جو ہمارے اردگرد رہتے تھے یہاں تک کہ وہ گھر میں کافی تعداد میں اکٹھے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک بولا : مالک بن دُخشن کہاں ہے؟ ان میں سے ایک نے جواب دیا: وہ تو منافق ہے ( اس کا ذکر کیوں کر تے ہو ) نہ وہ اللہ سے اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کر‘ کیا تُو دیکھتا نہیں کہ وہ لا الہ ٰالا اللہ پڑھتا ہے اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی رضا ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ اس آدمی نے پھر کہا: اس کا چہرہ اور خیر خواہی منافقوں کیلئے ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر اس آدمی کو حرام فرمایا ہے جو اللہ کی رضا کیلئے لا الہٰ الا اللہ کہے۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت حصین بن محمد انصاری سے سوال کیا جو کہ بنو سالم کے ایک فرد تھے ‘محمود بن ربیع کی حدیث کے بارے میں ۔ پس انہوں نے اس حدیث کے ساتھ ان کی تصدیق کی ۔ حضرت احمد بن صالح کا قول ہے: یا تم دُخشم کہتے ہو ‘یہی درست ہے ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Hadith 14757

chevron_left Previous
1…456…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter