Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو قتادة واسمه تميم بن ندير عن عمران · حديث 15262

554 - حدثنا العباس بن حمدان الحنفي الأصبهاني ثنا محمد بن أبي صفوان الثقفي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي عن حميد بن هلال عن أبي قتادة عن عمران بن حصين قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( الحياء خير كله )

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حیاء ساری کی ساری بھلائی ہے۔

«الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← العباس بن حمدان الحنفي الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15262

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الملك بن يعلى القاضي عن عمران بن حصين · حديث 15263

555 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و عبدان بن أحمد قالا : ثنا إبراهيم بن الحسن العلاف ثنا بشير بن سريج البزار عن قبيصة بن الجعد السلمي عن ابي المليح عن عبد الملك بن يعلى عن عمران بن حصين قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما من عبد يبيع تالدا إلا سلط الله تعالى عليه تالفا )

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص اپنی پرانی جائیداد (یعنی ! باپ دادا کی اکٹھی کی ہوئی ) کوفروخت کرے (اور فضول اڑائے بغیر ضرورت کے بیچے) اللہ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ يَعْلَى، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَبِيصَةُ بْنُ الْجَعْدِ السُّلَمِيُّ، ← بشير بن سريج البزار ← إبراهيم بن الحسن العلاف ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و عبدان بن أحمد

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15263

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو الأسود الدؤلي عن عمران بن حصين · حديث 15264

556 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن مصفى ثنا محمد بن شعيب ثنا سعيد بن عبد الرحمن بن سعيد بن أقيش بن رباس الأسدي عن ابي الأسود الدؤلي أنه سأل عمران بن حصين و عبد الله بن مسعود و أبي بن كعب عن القدر Y فقال : إني قد خاصمت أهل القدر حتى أحرجوني فهل عندكم علم فتحدثوني ؟ فقالوا : لو أن الله عز و جل عذب أهل السماء والأرض عذبهم غير ظالم ولو أدخلهم في رحمته كانت رحمته أوسع من ذنوبهم ولكنه كما قضى يعذب من يشاء ويرحم من يشاء فمن عذب فهو الحق ومن رحم فهو الحق ولو كان لك مثل أحد تنفقه في سبيل الله ما قبل منك حتى تؤم بالقدر كله خيره وشره ثم قال عمران لأبي الأسود حين حدثه الحديث سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم وسمعه معي عبد الله و أبي بن كعب فسألهما أبو الأسود فحدثاه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت ابوالاسود الدؤلی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین‘ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہما سے تقدیر کے بارے سوال کیا۔ عرض کی: میں نے قدریہ کے ساتھ مناظرہ کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھے حرج میں مبتلا کر دیا‘ کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے ( جس کے ذریعے ) تم مجھ سے کلام کرو؟ انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کر دے تب بھی اسے ظالم نہ کہا جائے گا اور اگر وہ ان سب کو اپنی رحمت میں داخل فر ما دے تو اس کی رحمت ان سب کے گناہوں سے وسیع ہے‘ لیکن (ہوگا ایسے ہی )جیسے اس نے فیصلہ فرمایا ہے کہ جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور جس کو چاہے گا اس پر رحم فرمائے گا‘ جس کو اس نے عذاب دیا وہ بھی برحق ہوگا اور جس پر رحم فرمایا وہ بھی مبنی برحق ہو گا ‘اگر تیری ملکیت میں اُحد پہاڑ کے برابر مال ہو جسے تُو اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ تجھ سے اُس وقت تک قبول نہ کرے گا جب تک تُو تمام تقدیر پر ایمان نہ لائے ‘خواہ وہ خیر ہے یا شر ہے۔ پھر حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوالاسود سے فرمایا ‘جب انہوں نے حدیث بیان کی : میں نے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے ساتھ اسے حضرت عبداللہ اور حضرت اُبی بن کعب نے سنا۔ پس حضرت ابوالاسود نے اُن دونوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس حدیث کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر کے بیان کیا۔

أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ← سعيد بن عبد الرحمن بن سعيد بن أقيش بن رباس الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15264

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو الأسود الدؤلي عن عمران بن حصين · حديث 15265

557 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا عثمان بن عمر ثنا عزرة بن ثابت ( ح ) وحدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا عون بن عمارة ثنا عزرة بن ثابت عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر عن أبي الأسود الدؤلي عن عمران بن حصين Y أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أرأيت ما يعمل الناس اليوم ويكدحون فيه اشيء قضي عليهم أو مضى عليهم من قدر قد سبق أو فيما يستقبلونه مما أتاهم به نبيهم واتخذت عليهم الحدجة ؟ قال : ( بل شيء قضي عليهم ومضى عليهم ) قال : فلم يعملون إذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من خلقه الله لواحدة من المنزلتين وفقه لعملها قال : تصديق ذلك في كتاب الله { ونفس وما سواها * فألهمها فجورها وتقواها } )

حضرت ابوالاسود الدؤلی ‘حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کی : آج لوگ جواعمال کرتے ہیں ‘ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ہے ‘یا سبقت لے جانے والی تقدیران پرگزرچکی ہے ‘یا وہ مستقبل میں ہو گا جوان کے نبی لے کر آئے اور آپ نے ان پر حجت قائم کی ؟ فرمایا: ( نہیں ! ) بلکہ ان پر فیصلہ ہو چکا اور قلم چل چکی ہے۔ اس نے عرض کی : پھر لوگ عمل کس لیے کرتے ہیں؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس آدمی کو دو منزلوں میں سے جس ایک منزل کیلئے پیدا کیا ہو گا ‘اس کے مطابق اسے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔فرمایا: اس کی تصدیق ‘اللہ کی کتاب میں موجود ہے (اللہ کا فرمان ہے): ’’ونفس وما سواها الی آخرہ“۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15265

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو حرب بن أبي أسود الدؤلي عن عمران بن حصين · حديث 15266

558 - حدثنا محمد بن شعيب الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن سلمة الرازي ثنا أبو زهير عبد الرحمن بن مغراء قال : قال المفضل بن فضالة تذاكرنا البر عند أبي حرب بن ابي الأسود قال أبو حرب Y تذاكرنا البر عند عمران بن حصين فقال عمران بن حصين تذاكرنا البر عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنشأ يحدثنا فقال : ( إنه كان فيما قبلكم من الأمم رجل متعبد صاحب صومعة يقال له جريج وكانت له أم وكانت تأتهي فتناديه فيشرف عليها فيكلمها فأتته يوما وهو في صلاته مقبل عليها فنادته ) فحكاها رسول الله صلى الله عليه و سلم ووضع يده على جبهته ( فجعلت تناديه رافعة رأسها واضعة يدها على جبهتها أي جريج أي جريج ثث مرات كل مرة ثلاث مرات كل ذلك يقول جريج أي رب أمي أو صلاتي فغعضبت فقال : اللهم لا يموتن جريج حتى ينظر في وجوه المومساتت قال وبلغت بنت ملك القرية فحملت فولدت غلاما فقالوا لها من فعل هذا بك ؟ من صاحبك ؟ قالت : هو صاحب الصومعة جريج فما شعر حتى سمع بالفؤوس في أصل صومعته فجعل يسألهم ويلكم ما لكم ؟ فلم يجيبوه فلما رأى ذلك أخذ الحبل فتدلى فجعلوا يجرون أنفه ويضربونه ويقولون مراء تخادجع الناس بعملك قال لهم : ويلكم ما لكم ؟ قالوا : أنت صاحب القرية بنت الملك الي أحبلتها قال : فما فعلت ؟ قالوا : ولدت غلاما قال : الغلام حي هو ؟ قالوا : نعم قال : فتولوا عني فتولوا فصلى ركعتين ثم انتهى ثم مشى إلى شجرة فأخذ منها غصنا ثم أتى بالغلام وهو في مهده فضربه بذلك الغصن وقال : يا طاغية من أبوك ؟ قال : أبي فلان الراعي قالوا : إن شئت بتينا لك صومعتك بذهب وإن شئءت بفضة قال : أعيدوها كما كانت ) فزعم أبو حرب أنه لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة عيسى بن مريم وشاهد يوسف وصاحب جريج

حضرت مفضل بن فضالہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابوحرب بن ابواسود کے پاس نیکی کا تذکرہ کیا‘ حضرت ابوحرب نے فرمایا کہ ہم نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس نیکی کا ذکر کیا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نیکی کا تذکرہ کیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان کرنا شروع کیا‘فرمایا: تم سے پہلے جو اُمتیں گزری ہیں ‘ان میں سے ایک عبادت گزار آدمی تھا وہ گرجا کا مالک تھا اس کا نام جریج تھا ‘اس کی ایک ماں بھی تھی ‘وہ اس کے پاس آ کر اُسے نداء دیا کرتی تھی‘ پس وہ اس کی طرف جھانکتا اور اس کے ساتھ کلام کرتا تھا‘پس ایک دن وہ آئی اس حال میں کہ وہ (یعنی جریج) نماز میں مصروف تھا ‘پوری طرح نماز میں منہمک تھا ‘ماں نے اسے آواز دی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا۔ پس ماں اپنا سر اُٹھا کر اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر پکارتی رہی: اے جریج! اے جریج! تین بار ‘ہر بار تین مرتبہ ۔ ہر بار جریج نے کہا: اے میرے رب! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے؟ ( میں کیا کروں؟ ) پس ماں کو غصہ آیا ‘اُس نے کہا: اے اللہ! جریج کو مرنے سے پہلے مومسات کا منہ ضرور دکھانا۔ فرمایا: شہر کے بادشاہ کی بیٹی حمل کے ساتھ بالغ ہوئی ‘اس نے بچہ جنا تو لوگوں نے اس سے کہا: تیرے ساتھ یہ کام کس نے کیا؟ تیرا ساتھی کون ہے؟ اس نے کہا: وہ گر جے والا جریج ۔ پس اسے احساس تک نہ ہوا حتی ٰکہ گرجے کی بنیادوں میں بسولے چل گئے ۔ پس وہ ان لوگوں سے پوچھنے لگا :تم ہلاک ہو جاؤ تمہیں کیا ہے؟ پس انہوں نے اسے کوئی جواب نہ دیا‘پس جب جریج نے یہ صورت ِحال دیکھی تو رسّی کو پکڑ کر لٹک کر اُترا لوگوں نے اس کی ناک سے پکڑ کر کھینچا اور اسے مارنا شروع کر دیا۔ زبان سے کہتے تھے : دکھلاوا کرنے والے ‘لوگوں کو دھو کہ دیتا ہے اپنے ظاہری عمل کے ذریعے ۔ انہوں نے کہا: کیا تو بادشاہ کی بیٹی کا ساتھی ہے ‘اس کو تُو نے حاملہ کیا ہے؟۔ فرمایا: میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ( نہ میں اس کا ساتھی ہوں )۔انہوں نے کہا: اس نے بچہ جنا ہے ۔فرمایا: بتاؤ! وہ بچہ زندہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں ! فرمایا: مجھے چھوڑ کر لوٹ جاؤ ۔ پس وہ اسے چھوڑ کر چلے گئے تو جریج نے دو رکعت نماز پڑھی‘ پھر ختم کر کے درخت کی جانب چلا اور اس کی ایک شاخ لی پھر اس بچے کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ بچہ پنگھوڑے میں تھا۔ جریج نے اس بچے کو وہ چھٹری لگا کر فرمایا: اے طاغیہ ! تیرا باپ کون ہے؟ (اس کو اللہ نے زبان دی اور ) وہ بولا : میرا باپ فلاں چرواہا ہے ۔ لوگوں نے کہا: اگر تم چاہو تو ہم تمہارا گر جا سونے کا بنا دیتے ہیں اور اگر چاہو تو چاندی کا۔فرمایا جس حالت پر پہلے تھا اسی حالت پر بنا دو۔ حضرت ابوحرب کا گمان ہے کہ پنگھوڑے میں صرف تین نے کلام کیا ہے: حضرت عیسیٰ بن مریم‘ حضرت یوسف کے گواہ اور حضرت جریج کے ساتھی نے ۔

أبو حرب تذاكرنا البر عند عمران بن حصين ← المفضل بن فضالة تذاكرنا البر عند أبي حرب بن ابي الأسود ← أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15266

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عطاء مولى عمران بن حصين عن عمران · حديث 15267

559 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا أبو عاصم ثنا إبراهيم بن عطاء مولى عمران بن حصين عن ابيه أن عمران بن حصين Y استعمل على الصدقة فذهب ثم رجع فقالوا له : أين المال فقال : أللمال أرسلتموني ؟ أخذناه كما كنا نأخذه على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ووضعناه كما كنا نضعه

حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عمران بن حصین کو صدقہ پر عامل بنایا گیا‘ پس وہ گئے اور پھر لوٹ آئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا: مال کہاں ہے؟ فرمایا: کیا تم نے مجھے مال لانے کیلئے بھیجا تھا ؟ ہم نے اس کو اسی طریقے سے لیا جس طریقے سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لیا کرتے تھے اور اسی طرح تقسیم کر دیا جس طرح اس وقت تقسیم کیا کرتے تھے۔

لَهُ: أَيْنَ الْمَالُ؟ ← ابيه أن عمران بن حصين استعمل على الصدقة فذهب ثم رجع ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ، مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15267

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو قلابة عن عمران بن حصين · حديث 15268

560 - حدثنا ورد بن أحمد بن لبيد البيوتي ثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم ثنا محمد بن عبيد الله النصري أنه سمع المتوكل بن الليث يحدث عن أبي قلابة عن عمران بن حصين و سمرة بن جندب قالا Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( البسوا البياض وكفنوا فيها موتاكم )

حضرت عمران بن حصین اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفید کپڑے پہنو اور اس میں اپنے مر دوں کو کفن دو ۔

عمران بن حصين و سمرة بن جندب ← أَبِي قِلَابَةَ، ← الْمُتَوَكِّلِ بْنِ اللَّيْثِ، ← محمد بن عبيد الله النصري أنه ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← ورد بن أحمد بن لبيد البيوتي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15268

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو قلابة عن عمران بن حصين · حديث 15269

561 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا وكيع عن سفيان عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن عمران بن حصين Y أن رجلا أعتق ستة أعبد عند موته فأمره النبي صلى الله عليه و سلم فأعتق اثنين وأرق أربعة

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے مرتے وقت چھ غلام آزاد کیے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آزاد کر نے کا حکم دیا اور چار غلام رکھنے کا حکم دیا۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15269

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ السميط بن سمير عن عمران بن حصين · حديث 15270

562 - حدثنا بشر بن موسى ثنا محمد بن سعيد الصبهاني ثنا حفص بن غياث عن عاصم الأحول عن السميط بن سمير عن عران بن حصين قال Y بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية فحمل رجل على رجل من المشركين فلما غشيه بالرمح قال : إني مسلم فقتله ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أذنبت فاستغفر لي قال : ( وما ذاك ؟ ) قال : حملت على رجل من المشركين فلما غشيته بالرمح قال : إني مسلم فظننت أنه متعوذ فقتلته فقال : ( هلا شققت عن قلبه حتى يستبين لك قال : ويستبين لي يا رسول الله ؟ قال : ( قد قال لك بلسانه فلم تصدقه على ما قال في قلبه ) قال : فمات الرجل فدفناه فأصبح على وجه الأرض فأمرنا غلماننا فحرسوه فأصبح على وجه الأرض فقلنا غفلوا فحرسناه فأصبح على وجه الأرض فاتينا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرناه فقال : ( أما إنها تقبل من هو شر منه ولكن الله أراد أن يعلمكم تعظيم الدم ثم قال : اذهبوا به إلى سفح هذا الجبل فانضدوا عليه منالحجارة ففعلنا )

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا‘ پس ایک آدمی مشرکوں کے ایک آدمی پر حملہ آور ہوا۔ پس جب اس نے نیزہ کے ساتھ اس کو ڈھانپ دیا تو اس نے بولا: میں مسلمان ہوں ۔اس کے باوجود اس نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: میں نے گناہ کر لیا ہے ‘ میرے لیے استغفار کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا ہے؟ عرض کی : میں نے ایک مشرک پر حملہ کیا ‘ جب میں نے اپنا نیزہ اسے گھونپ دیا تو اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں ‘ پس میں نے گمان کیا کہ وہ جان بچانے کی خاطر کہہ رہا ہے ‘ پس میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا کہ تیرے لیے یہ بات واضح ہوئی ؟ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میرے لیے کیا واضح ہوسکتا تھا؟ فرمایا: اس نے تیرے سامنے اپنی زبان سے جو کہا تو نے اس کی تصدیق نہ کی ‘ اس پر جو اس کے دل میں تھا۔ راوی کا بیان ہے: (اسی حال میں ) وہ آدمی فوت ہو گیا‘ پس ہم نے اسے دفن کیا لیکن صبح کو پھر وہ زمین کے اوپر پڑا تھا ‘ ( پھر ہم نے اسے دفن کر کے ) اپنے جوانوں کو کہا کہ اس کی حفاظت کریں‘ لیکن زمین نے اسے باہر پھینک دیا۔ پس ہم نے کہا: جوانوں نے سستی کی ‘ ہم نے (اسے دفن کر کے ) خود اس کی حفاظت کی لیکن پھر بھی زمین نے اسے قبول نہ کیا۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی‘ فرمایا: اس سے زیادہ برے لوگوں کو بھی زمین قبول کر لیا کرتی ہے لیکن اللہ کا ارادہ ہوا کہ وہ تمہیں خون کی عظمت سکھائے ۔ فرمایا: اسے اس پہاڑ کی نچلی سخت جگہ پر لے جا کر اس کے اردگرد پتھر جوڑ دو۔ پس ہم نے ایسا ہی کیا۔

عران بن حصين ← السميط بن سمير ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← محمد بن سعيد الصبهاني ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15270

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ معاوية بن قرة عن عمران بن حصين · حديث 15271

563 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا زيد بن الحريش ثنا محمد بن الحسن الواسطي ثنا زياد الجصاص عن معاوية بن قرة عن عمران بن حصين قال Y لما ظهر علي على أهل البصرة جعل يصلي بهم صلاة نبينا صلى الله عليه و سلم التكبير إذا ركع وإذا رفع رأسه وإذا سجد وإذا قام من الركعتين

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ بصرہ والوں پر غالب آئے تو انہوں نے ان کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھانا شروع کی ‘ اللہ اکبر کہنا رکوع کے وقت اور جب اس سے سر اٹھانا اور جب سجدہ کرنا تو دونوں رکعتوں سے کھڑے ہو جانا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← زِيَادٍ الْجَصَّاصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15271

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ معاوية بن قرة عن عمران بن حصين · حديث 15272

564 - حدثنا عبدان بن أحمد و بكر بن مقبل البصري قالا : ثنا سلمة بن شبيب ثنا حسين الجعفي ثنا زائدة عن هشام بن حسان عن الخالد بن أيوب عن معاوية بن قرة عن عمرانبن حصين قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من سمع بالدجال فلينأ منه )

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دجال کے بارے سنے ‘ اسے چاہیے کہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرے ۔

عمرانبن حصين ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← الخالد بن أيوب ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عبدان بن أحمد و بكر بن مقبل البصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15272

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ معاوية بن قرة عن عمران بن حصين · حديث 15273

565 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا زهير ثنا الحسن بن دينار عن معاوية بن قرة أو حميد بن هلال عن عبد الله بن مغفل أو عمران بن حصين قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الحياء كله خير )

حضرت عبداللہ بن مغفل یا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا ء ساری کی ساری خیر ہے۔

عبد الله بن مغفل أو عمران بن حصين ← معاوية بن قرة أو حميد بن هلال ← الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15273

chevron_left Previous
1…474849…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter