المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ معاوية بن قرة عن عائذ · حديث 14734
28 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الحكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مماوية بن قرة عن عائذ بن عمرو Y أن أبا سفيان مر بسلمان و مهيب و بلال فقالوا ما أخذت سيوف الله من عنق هذا ما أخذها بعد فقال أبو بكر : تقولون هذا لشيخ قريش وسيدها ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بالذي قالوا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( يا أبا بكر لعلك أغضبتهم والذي نفسي بيده لئن كنت أغضبتهم لقد أغضبت ربك ) فرجع إليهم فقال : أي إخوتي لعلي أغضبتكم قالوا : لا يا أبا بكر يغفر الله لك
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوسفیان ‘حضرات سلیمان ‘صہیب اور بلال رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: اللہ کی تلواروں نے اس کی گردن سے نہیں جو اس کے بعد یہ ان کو پکڑے گا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریش کے شیخ اور ان کے سردار کے بارے تم یہ بات کہہ رہے ہو۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر اس کی خبر دی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! شاید تُو نے ان کو ناراض کر دیا‘ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر واقعی تُو نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو حقیقت میں تُو نے اپنے رب کو ناراض کیا ہے ۔ پس حضرت ابوبکر فورا ً ان کی طرف واپس آئے۔فرمایا: اے میرے بھائیو! شاید میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے؟انہوں نے کہا:نہیں!اے ابوبکر! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ۔
عائذ بن عمرو ← مماوية بن قرة ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الحكشي
Hadith 14734
