المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عداء عداء بن خالد بن هوذه العامري · حديث 14722
16 - حدثنا أحمدبن عبد الله بن مهدي أبو عبد الله القاضي الرامهرمزي حدثني محمد بن محمد بن مرزوق ثنا فهد بن البختري بن شعيب بن عمر الأزرق حدثني شعيب بن عمر قال Y خرجت إلى مكة فلما صرب بالضربة قال لي بعض أخواني : هل لك في رجل له صحبة من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قلت : نعم قال : صاحب القبة المضروبة في موضع كذا وكذا فقلت لأصحابي قوموا بنا إليه فقمنا فلما انتهينا إلى صاحب القبة فسلمنا فرد اللام فقال : من القوم ؟ قلنا قوم من أهل البصرة بلغنا أن لك صحبة من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نعم صحبت رسول الله صلى الله عليه و سلم وقعدت تحت منبره يوم حجة الوداع فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ( إن الله عز و جل يقول ( يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم ) فليس لعربي على عجمي فضل ولا لعجمي على عربي فضل ولا لأسود على أبيض ولا لأبيض على أسود فضل إلا بالتقوى يا معشر قريش لا تجيئوني بالدنيا تحملونها على أعناقكم ويجيء الناس بالآخرةو فإني لا أغني عنكم من الله شيئا ) قلنا ما نسميك ( اسمك ) ؟ قال : أنا العداء بن عمرو بن عامر فارس الضحياء في الجاهلية
حضرت شعیب بن عمر فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف نکلا ‘پس جب ضریہ کے مقام پر پہنچا تو میرے کسی دوست نے سوال کیا: کیا تیرے لئے ایسے آدمی میں کوئی غرض ہے جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا شرف حاصل ہو؟ میں نے عرض کی : ہاں ! اس نے کہا: قبّے والے ہیں جو فلاں جگہ بنایا گیا ہے۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا: چلو! ہم وہاں چلیں۔ ہم چلے ‘جب قبّہ والے کے پاس پہنچے تو ہم نے سلام کیا ‘انہوں نے جواب دیا، فرمایا: یہ قوم کہاں سے آئی ہے؟ عرض کی : بصرہ والے ہیں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ فرمایا: ہاں! میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت اختیار کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے نیچے بیٹھا ہوا تھا ‘حجۃ الوداع کے دن ۔ پس آپ منبر پر آئے ‘اللہ کی حمد وثناء کی ۔ پھر فرمایا: بے شک اللہ تعالی ٰفرماتا ہے:”اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہارے قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے‘‘ (الحجرات:۱۳) پس کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے (محض عربی ہونے کے سبب ) اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ‘کسی کالے کو سفید پر یا سفید کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر تقوی ٰکے ساتھ۔ اے گردہِ قریش! (قیامت کے دن ) میرے پاس دنیا لے کر مت آیا (ایسا نہ ہو کہ )تم اسے اپنی گردنوں پر اُٹھائے ہوئے ہو جبکہ دیگر لوگ ‘آخرت لے کر آئیں کیونکہ میں تمہیں اللہ سے کوئی شی ( رعایت ) لے کر نہ دوں گا۔ ہم نے عرض کی: ہمیں آپ کا نام معلوم نہیں ہے؟ فرمایا: میں عداء بن عمرو بن عامر ہوں ‘زمانہ جاہلیت میں سفید سیاہی مائل گھوڑوں کا شہسوار تھا۔
شُعَيْبُ بْنُ عُمَرَ ← فهد بن البختري بن شعيب بن عمر الأزرق ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ← أحمد بن عبد الله بن مهدي أبو عبد الله القاضي الرامهرمزي
Hadith 14722
